اصلاح احوال کے لیے اقدامِ حسین کا تجزیہ اسوہ انبیا کی روشنی میں

دین میں ایمان و عمل کا حتمی معیار وحی الہی ہے۔ کسی شخص کا کوئی عمل جو دینی استناد کا مدعی اور مقتضی ہو اسے وحی کی کسوٹی پر پرکھ کرقبول یا رد کرنا ضروری ہے۔ وحی، انبیا علیھم السلام کے اعمال پر بھی نگران ہے جو ان کی اعمال کا محاکمہ کرتی ہے۔ اس کسوٹی پر پورا اترنے کی وجہ سے ہی انبیا کا اسوہ مکمل دینی استنا کا حامل اور ہمارے لیے اسوہ حسنہ قرار پاتا ہے۔
اسوہ انبیا:
انبیا کی دعوت اور ان کی اصلاحی تحریکوں کا مقصد ایمان باللہ اور آخرت کی جواب دہی کی بنیاد پر نفوس کا تزکیہ اور اصلاح ہوتا ہے جس کے نتیجے میں افراد کی تربیت ہوتی ہے اور ان کی بدولت ایک صالح معاشرہ بھی وجود میں آ جاتا ہے، لیکن اپنے اس مقصد کے حصول کے لیے ہتھیار اٹھانا ان کی پالیسی میں شامل نہیں ہوتا۔ دعوتِ دین و اصلاح کے نتیجے میں ہونے والے پیدا ہونے والے مذھبی جبر کے دوران میں وہ خود ہتھیار اٹھاتے ہیں نہ اپنے پیروکاروں کو ایسا کرنے کی اجازت ہی دیتے ہیں، حتی کہ آخری درجے میں اپنے دفاع کے لیے وہ مقام جبر سے ہجرت کر جانے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں پاتے۔ تاہم، جب اپنی اس دعوت کے نتیجے میں کسی خطہ زمین پر انھیں ریاست و اقتدار کی طاقت حاصل ہو جاتی ہے تو دین کے مخالفین اور منکرین کے خلاف وہ جنگی اقدام بھی کرتے ہیں۔ تاہم اس کے لیے ان کی جنگی طاقت بھی ممکنہ طور پر فتح پانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
انبیا کےاس لائحہ عمل میں آپ کوئی استثنا نہیں دیکھیں گے۔ دعوت ِایمان و اصلاح کے لیے یہ حتمی دینی لائحہ عمل ہے جو قرآن مجید میں بہت واضح طور پر بار بار بتایا گیا ہے۔
مثلاً حضرت موسیؑ اور ان کی قریباً چھ لاکھ نفوس پر مشتمل قوم برسوں فرعون کے مظالم صبر سے سہتے رہے۔ اس سارے عرصے کے دوران میں حضرت موسی علیہ السلام، فرعون کو تبلیغ اور بنی اسرائیل کی اصلاح کے کام سے آگے بڑھ کر کسی قسم کے جنگی یا مسلح اقدام کی طرف ملتفت نہیں ہوئے، یہاں تک کہ خدا نے خود فرعون اور اس کی طاقت کو نابود کر دیا۔ تاہم، جب صحرائے سینا میں بنی اسرائیل کا آزاد نظم قائم ہوگیا تو بنی اسرائیل کے نہ چاہتے ہوئے بھی ان پر جہاد کرنا فرض قرار دے دیا گیا جس پر عمل نہ کرنے کی پاداش میں وہ صحرائے سینا میں 40 برس بھٹکتے رہے۔
بنی اسرائیل پر ایک وقت آیا کہ فلستیوں کی جارحیت سے دفاع اور قومی آبرومندی کی حفاظت کے لیے انھیں حضرت سموئیل نبی علیہ السلام سے خود درخواست کرنا پڑی کہ ان پر کوئی بادشاہ مقرر کیا جائے جس کے زیرِ قیادت وہ فلستیوں کی جارحیت سے اپنا دفاع کر سکیں۔ اس پر بھی سموئیل نبی علیہ السلام نے ان کا مطالبہ فوراً مان لینے کی بجائے ان کے عزم و استقامت پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے اپنے خدشات پیش کیے جس پر بنی اسرائیل نے اپنی صبر و استقامت اور اطاعت کی یقین کی دہانی انھیں کرائی۔ تب جا کر وہ ان کے لیے ایک بادشاہ مقرر کرنے پر راضی ہوئے۔ اہم بات یہ ہے کہ اُن حالات میں بھی سیموئیلؑ نے بذات خود بنی اسرئیل کو دشمنوں کے خلاف جنگ کرنے کے لیے نہ صرف یہ کہ ابھار نہیں بلکہ ان کے مطالبے کو بھی فورا نہیں مانا۔
دیکھا جا سکتا ہے کہ جنگی مہم جوئی جیسے سنجیدہ معاملے میں ایک نبی اپنی قوم کے لیے کوئی جلد بازی اختیار کرنے سے اجتناب کرتا ہے، بلکہ وہ اگر یہ دیکھتا ہے کہ قوم پوری طرح تیار معلوم نہیں ہوتی تو غیر مسلم جارح قوم کے خلاف بھی اقدام کرنے میں پس و پیش کرتا ہے۔ اس کی ساری کوشش ان کی اصلاح کرنے میں ہی صرف ہو رہی ہوتی ہے۔ جنگ جوئی کوئی معمولی چیز نہیں۔ اس میں بڑی احتیاطوں کو مد نظر رکھنے کا درس اس واقعہ میں ہمیں دیا گیا ہے۔
دوسرے پہلو سے دیکھیے کہ انبیائے بنی اسرائیل نے جہاں کفار کے خلاف جہاد بھی ان احتیاطوں کو مد نظر رکھ کرنے کی اجازت دی، وہاں بنی اسرائیل کے اندر کےسماج میں در آنے والے سماجی اور سیاسی بگاڑ کے سدھار کے لیے کسی درجے میں بھی ہتھیار نہیں اٹھائے۔ اپنے غیر صالح مومن بادشاہوں کے خلاف عوام کو ہتھیار اٹھانے کی کوئی ترغیب کبھی نہیں دی ۔ ان غیر عادل مومن بادشاہوں کی اصلاح کے لیے یہ انبیا وعظ و نصیحت اور کلمہ حق کی ادائیگی سے زیادہ کچھ نہیں کرتے تھے، چاہے اس راہ میں ان کی جان ہی چلی جاتی۔ حضرت زکریا، یحیی، اور عیسیٰ علیھم السلام کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔ پہلے دو انبیا تو شھید کر دیے گئے اور مسیح علیہ السلام کو بنی اسرئیل اپنے طور پر صلیب دینے تک لے آئے لیکن ان انبیا نے اپنے داخلی مومن سماج کی درستی کے لیے ہتھیار اٹھانے کی کوئی تحریک نہ چلائی۔
آخری نبی، محمد رسول اللہ ﷺ کا اسوہ بھی یہی رہا۔ مکی دور کی حالت مظلومیت میں ہتھیار اٹھانے کی کوئی مثال یہاں بھی موجود نہیں۔ تمام تر جنگی اقدامات مدینہ پہنچ کر کیے گئے یعنی اس وقت جب مدینہ کے ریاستی وسائل اور مناسب افرادی قوت پر آپؐ کو اختیار و اقتدرحاصل ہو گیا تھا۔
رسول اللہ ﷺ نے اسوہ انبیا کے طے شدہ لائحہ عمل کے عین مطابق، اپنے پیروکاروں کو دو ہدایات فرمائیں:
1۔ عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
دعانا رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ، فکان فیما اخذ علینا ان بایعنا علی السمع والطاعۃ فی منشطنا ومکرھنا و عسرنا و یسرنا واثرۃ علینا. ان لا ننازع الامر اھلہ، قال: إلا ان تروا کفرا بواحا، عندکم من اللّٰہ فیہ برھان.(بخاری، کتاب الفتن۔ مسلم، کتاب الامارہ(
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بلایا تاکہ ہم ہر حالت کے لیے سمع و طاعت کی بیعت کریں کہ نرمی و جبر، تنگی و فراخی اور اپنے اوپر دوسروں کو ترجیح دیے جانے(کے باوجود بھی حکمران کی اطاعت سے نہیں نکلیں گے)، اور نہ ان سے جھگڑا کریں گے۔ فرمایا کہ صرف (اس صورت میں تم حکمران کی اطاعت سے نکل سکتے ہو) کہ تم کوئی صریح کفر اس کی طرف سے دیکھو، جس کے بارے میں تمھارے پاس اللہ کی واضح حجت ہو۔
یہاں کفر و عصیان کے معاملے میں غیر عادل مسلم حکم ران کی عدم اطاعت کا حکم دیا گیا ہے، لیکن ان کے خلاف ہتھیار اٹھانے کی اجازت یا حکم پھر بھی نہیں دیا گیا۔
2۔ دوسری ہدایت آپؐ نے یہ فرمائی کہ جابر سلطان کے سامنے کلمہ حق کی ادائیگی ہر قیمت پر کی جائے۔ فرد کا جہاد یہی ہے اور یہ اس کے لیے افضل ترین جہاد ہے۔
آپ کی طرف سے یہ حکم بلکہ اجازت بھی نہیں دی گئی کہ کوئی فرد، ریاست کے خلاف کسی صورت میں ہتھیار اٹھا سکتا ہے۔
اسوہ حسین:
اسوہ انبیا ،جوان معروضات کی روشنی میں واضح ہوتا ہے، کی رو سے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنھما کے اموی خلیفہ، یزید بن معاویہ کی خلافت کے خلاف اقدام کا تجزیہ کیا جائے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ایک مسلم حکومت کے خلاف آپ کا یہ اقدام کسی بھی دینی جواز سے محروم ہے۔ یزید کی بیعت سے انکار آپ کا حق تھا، مگر اس پر جبر کے نتیجے میں حکومت کےخلاف جنگی اقدام آپ کا حق تھا نہ کوئی دینی فریضہ۔ یزید کی حکومت کے خلاف آپ کے جنگی اقدام کا جواز صرف ایک ہی صورت میں پیدا ہو سکتا تھا وہ یہ کہ یہ متحقق ہوتا کہ یزید، حکومت کی طاقت سے مسلم عوام کے عقیدہ و عمل کی آزادیوں پر پابندی عائد کر رہا تھا۔ یعنی قرآن کی اصطلاح میں وہ فتنہ برپا کر رہا تھا، یعنی اسلام قبول کرنے یا مسلم سماج کے اسلام پر عمل کرنے کی راہ میں رکاوٹ ڈال رہا تھا۔ اس لحاظ سے اس کی بیعت، کفر پر بیعت کرنے کے مترادف ہوتی اور اس حقیقت کو جان کر بھی اس کی بیعت کرنے والے کافر قرار پاتے۔ اگر اس فرضی صورت حال کو درست مان لیا جائے تو اسوہ انبیا کی روشنی میں ضروری تھا کہ حضرت حسین حکومت کو مخاطب کرتے اور ایک مناسب مدت تک سمجھانے اور انذار کرنے کا فریضہ انجام دیتے، پھر اس کی طرف سے مکمل مایوس ہو جانے کے بعد بشرط ریاست اور مناسب افرادی قوت اس کے خلاف جنگی اقدام کرتے۔تاہم، تاریخ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یزید کی حکومت نہ تو مسلم عوام کے ایمان و عمل کے سلسلے میں کسی جبر کی مرتکب ہوئی اور نہ حضرت حسین نے اصلاحِ احوال کے لیےیزید اور اس کی حکومت کو مخاطب نہیں کیا۔ حکومت کا جبر تھا بھی تو یزید کی بیعت کے لیے تھا اور یہ ایک سیاسی معاملہ تھا۔ یزید کے برسر حکومت ہونے سے دین کو خطرہ پیش آ جانے میں کوئی حقیقت نہ تھی۔حکومت اگر حضرت حسین کی جان کے درپے ہو گئی تھی، جیسا کہ بعض حضرات کا خیال ہے کہ یزید کی بیعت سے انکار پر آپ کو قتل کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا تھا، تواس صورت میں اسوہ انبیا کی رو سے آپ کو ہجرت کر جانا چاہیے تھا، لیکن جنگی اقدام کا حق پھر بھی آپ کو حاصل نہیں تھا۔ معاملہ فرد واحد کی جان کے دفاع کا اگر تھا تو یہ بہرحال ا نفرادی معاملہ ہے، کوئی فرد اپنے بچاؤ کے لیے دوسرے لوگوں کو خطرے میں نہیں ڈال سکتا۔ انبیا کو اگر ایسی صورت حال کا سامنا کرنا پڑا تو یا تو انھوں نے ہجرت کی یا اپنی گردن کٹا دی لیکن اپنے دفاع کے لیے عوام کو کسی جنگ میں نہیں جھونکا۔
تاریخ سےحضرت حسین کا جو موقف معلوم ہوتا ہے وہ یہ تھا کہ یزید کو ولی عہد اور اس کو اپنا جان نشین بنانے کا اختیار ان کے والد امیر معاویہ کو نہیں تھا۔ بعض لوگوں کے نزدیک، شورائی نظامِ خلافت کو نظام ملوکیت کی صورت دیے جانے پر آپ نے حکومت کے خلاف اقدام کیا؛ جب کہ بعض دیگر اہل علم کے نزدیک سماج میں دینی اقدار کی پامالی، یزید کے خلاف آپ کے اقدام کی وجہ بنی؛ کچھ اور لوگوں کے نزدیک معاملہ یہ تھا کہ یزید کی خلافت ابھی متفقہ طور پر منعقد نہیں ہوئی تھی، اس بنا پر حضرت حسین اپنے لیے حصول حکومت کی کوشش کو درست سمجھ رہے تھے۔ ان سب صورت حالات میں بھی جنگی اقدام کا بہرحال کوئی جواز دین اور اسوہ انبیا سے مہیا نہیں کیا جا سکتا۔
اس وقت کی سیاسی صورت حال یہ تھی امتِ مسلمہ کے ایک حصے یعنی اہل شام نے یزید کو خلیفہ تسلیم کر لیا تھا، لیکن ایک دوسرےحصے یعنی اہل عراق نے اسے حاکم ماننے سے انکار کر دیا تھا۔ اہل حجاز کی اکثریت نے بھی بیعت کر لی تھی تاہم چند اکابر اس کے خلاف تھے۔ ادھر اہل عراق نے حضرت حسین کو عراق آنے اور یزید کے مقابل اپنی خلافت قائم کرنے کی دعوت دی تاکہ بنو امیہ کی طوق سے گردن چھڑائی جا سکے۔ یوں اہل شام اور اہل عراق میں یزید اور حضرت حسین کی قیادت میں جنگ ہونا ناگزیر ہو تھا۔سوال یہاں یہ ہے کہ اسوہ انبیا کی روشنی میں ایسی جنگ کا کیا جواز ہے؟ ہمارے نزدیک دین اور اسوہ انبیا سے اس کی کوئی تائید پیش نہیں کی جا سکتی۔
حقیقی صورتِ حالات یہ تھی کہ اس وقت کا سماج اپنی روایات اور رسوم میں اسلامی ہی تھا۔آئین و قوانین بھی اسلامی تھے، دینی شعار اور احکامات کی بجا آوری میں بھی کوئی رکاوٹ نہیں تھی۔ یزید کے بعد بھی آل امیہ تقریباً ایک صدی حکمران رہے، اس تمام عرصے میں اسلام کے تمام شعائر محفوظ رہے، لوگوں کو دین پر عمل کی مکمل آزادی رہی اور دین اپنے تمام متعلقہ علوم میں ترقی بھی کرتا رہا۔ یعنی مذھبی جبر کا کوئی مسئلہ درپیش نہیں تھا۔ معاملہ بس یہ تھا کہ حکومتی اشرافیہ طاقت کے زور پر قانون سے بالاتر ہو گئے تھے۔ حکومت پر ایک خاندان یعنی بنو امیہ کا قبضہ ہو گیا تھا۔ اقتدار میں دیگر گروہوں کی شراکت کا کوئی نظام موجود نہ تھا، چناں چہ اقتدار کے حصول کے لیے بغاوتیں ہوتیں اور حکومت کو ان سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنا پڑتا تھا، نظامِ عدل کا وہ معیار باقی نہ رہا تھا جس کا نمونہ خلفائے راشدین نے قائم کیا تھا۔ یہ مسلم سماج و سیاست کے بگاڑ کا معاملہ تھا۔ تاہم دین اپنے تصورات اور رسوم کے ساتھ اپنی جگہ محفوظ تھا۔ یزید پر مذھبی جبر اور کفر کا کوئی الزام ثابت نہیں۔ اس پر کفر کا الزام حضرت زینب نے اس وقت بھی نہیں لگایا، جب سانحہ کربلا کے بعد یزید کے ساتھ ان کی تلخ کلامی ہوئی تھی۔ سماج کےایسے بگاڑ میں اسوہ انبیا کی روشنی میں کسی مسلح بغاوت یا مسلح اصلاحی کوشش کی مثال تلاش نہیں کی جا سکتی اور نہ قرآن مجید اس کا کوئی حکم دیتا ہے۔
یزید کی حکومت کے خلاف حضرت حسین کا یہ اقدام ذاتی نوعیت ایک منفرد اقدام ہے، جو بغیر کسی دینی استناد کے حوصلہ مند مصلحین کے لیے محض اپنے طور پر ایک نمونہ عمل بن گیا ہے۔ دین اور اسوہ انبیا میں ایسے کسی اقدام کی کوئی گنجایش نہیں ملتی۔
مسلح اصلاحی انقلاب کی خامی کا ایک اور پہلو:
اس معاملے کو ایک اور پہلو سے دیکھیے۔ وہ اصلاح جو بزور بازو، یا خونی انقلاب کی صورت میں لائی جائے، اوّل تو اس کے صالح ہونے کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی، کیونکہ اس کی ضمانت خدا کا کوئی فرستادہ ہی دے سکتا، جو خدا سے براہ راست ہدایت حاصل کرتا اور اس کی نگرانی میں خطا سے محفوظ رہتا ہے۔ اس سے کوئی خطا سرزد ہو جائے تو خدا اسے اس پر قائم نہیں رہنے دیتا۔ نبی کے علاوہ یہ مقام اور اپنی حکمت عملی پر یہ اعتماد کسی اور کو حاصل نہیں ہو سکتا، تاہم، کوئی اگر کسی غیر نبی کو بھی اس مقام کا حامل سمجھتا ہے تو اس کا ثبوت اس کے ذمے ہے ۔ دوسرا یہ کہ ایسی اصلاح اگر صالح ہاتھوں میں ہو بھی تو اس کے صالح رہنے کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی، یعنی اس مصلح کے ساتھی اور اس کے جان نشین بھی اسی درجے کے صالح ہوں، اس کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی ۔ہمیشہ یہی دیکھا گیا کہ مسلح جدجہد یا انقلاب سے اصلاح لانے والوں کی بھی اصلاح کرنی پڑ جاتی ہے، اور یہ بسا اوقات اور بھی مشکل ہو جاتی ہے، کیوں کہ جن کی اصلاح مقصود ہوتی ہے وہ تو بزعم خود مصلحین ہوتے ہیں۔ اگر اس سب کے بعد ان انقلابی مصلحین کے لیے بھی وعظ و نصیحت پر ہی آنا پڑتا ہے تو کس بھروسے پر انسانی خون بہا کر انقلابی اصلاح کی دعوت دی جا سکتی ہے؟
اصلاح کا مسنون طریقہ:
اصلاح کا معقول و مسنون راستہ دعوت، تذکیر و تلقین کی راہ ہے۔ درست اور دیرپا اصلاح ہی سماج کی اصلاح سے ہوتی ہے۔ عوام کی اصلاح ہو جائے تو ایسے حساس صالح عوام کے سامنے کوئی بگاڑ ٹھیر نہیں سکتا۔ انبیا کا اسوہ اسی طریقہ کا شاہد ہے ۔اس کے سوا کوئی راستہ درست نہیں ہو سکتا، اس میں کامیابی ملے تو فبھا، نہ ملے تو مصلحین کو ان کے دین نے اس سے بڑھ کر کوئی ذمہ داری نہیں بتائی۔ اپنی ذمہ داری سے تجاوز، خدا کی مقرر کردہ حدود سے تجازو ہے۔ مصلحین کے جنگی اقدامات کی تاریخ شاہد ہے کہ وہ جب بھی اپنے دارئرہ کار سے آگے بڑھے ہیں، فساد اور انارکی پھیلانے کے سوا ان سے کچھ نہیں بن پڑا۔ نظمِ حکومت کے استحکام کے ساتھ سماج و سیاست کے ذمہ داران کو وعظ و نصیحت اور ان کے کاموں پر اصلاحی تنقید ہی وہ مثبت اور نتیجہ خیز راستہ ہے جس سے سماج بتدریج بہتر ہوتے چلے جاتے ہیں۔ اس راستے میں چاہے ان کی جان ہی کیوں نہ چلی جائے۔ یہی اسوہ انبیا ہے۔
خلاصہ بحث
اسوہ انبیا کی روشنی میں یہ متعین طور پر دکھایا گیا ہے کہ جبر و ظلم کے خلاف انبیا کا جہاد کلمہ حق کہنے تک محدود ہے،اس راہ میں چاہے ان کی جان چلی جائے۔ اپنی انفرادی حیثیت میں اصلاح احوال کے لیے مسلح جدوجہد ان کے اسوہ میں کبھی شامل نہیں رہی۔
البتہ جب نبی اہل طاقت و ریاست ہوئے تو انھوں نے جنگی اقدامات کیے۔ داؤد و سلیمان علیھما السلام صاحبان حکومت تھے تو جنگی اقدامات بھی کیے اور زکریا، یحیی اور عیسیٰ علیھم السلام انفرادی حیثیت میں تھے تو ان کی مظلومانہ جدوجہد بھی ہمارے سامنے ہے۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں اسوہ انبیا کے یہ دونوں ہی پہلو موجود ہیں جنھیں ہم مکی اور مدنی ادوار میں دیکھ سکتے ہیں۔
اسوہ انبیا کے ان واضح خطوط کی روشنی میں یہ طے ہو جاتا ہے کہ حکومت کی جانب سے مبینہ جبر و ظلم کے خلاف یا اصلاح سماج و سیاست کے لیےحضرت حسین کے پاس جنگی اقدام کا جواز موجود نہیں تھا۔ اگر یہ اقدام آپ نے اپنے دفاع میں اٹھایا تھا تو یہ اور بھی غلط ہے کہ فرد اپنے ذاتی دفاع کے لیے دو اقوام ( اہل عراق اور اہل شام) کو جنگ کی بھٹی میں جھونک دے۔
اصلاح احوال کے لیے کلمہ حق کی ادائیگی سے زیادہ کوئی اقدام مصلحین کے لیے روا نہیں رکھا گیا۔

اس تحریر كو شیئر كریں
Share on facebook
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on email
Dr Irfan Shehzad

Dr Irfan Shehzad

Dr Irfan Shehzad belongs to Rawalpindi, Pakistan. He holds a doctorate in Islamic Studies from National University of Modern Languages (NUML) Islamabad, Pakistan. He is working as a companion to Ghamidi Center of Islamic Learning Dallas, USA. He is an assistant research fellow with Al-Mawird Pakistan. He is the author of the book, “Qanoon-e-Itmam-e-Hujjat awr Us kay Itlaqaat: Janab Javed Ahmad Ghamidi ki Tawzihaat par Aetrazaat awr Ishkalaat ka Jaiza”, published by Almawrid Lahore Pakistan. Dr Irfan Shehzad writes and speaks on religious, social and sociopolitical issues. His articles are published in different scholarly journals including Ishraq, Lahore, Pakistan, Al-Shariah Gujranwala Pakistan and on social media.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *