اقدامِ حسین، اسوہ انبیا کی روشنی میں (مختصر)

انبیا کی دعوت اور اصلاحی تحریکوں کا مقصد ایمان باللہ اور آخرت کی جواب دہی کی بنیاد پر نفوس کا تزکیہ اور اصلاح ہوتا ہے جس کے نتیجے میں کبھی ایک صالح معاشرہ بھی وجود میں آ جاتا تھا، لیکن اپنے اس مقصد کے حصول کے لیے ہتھیار اٹھانا ان کی پالیسی میں شامل نہیں ہوتا۔ دعوتِ دین و اصلاح کے دوران جبر کے حالات میں بھی وہ خود ہتھیار اٹھاتے ہیں نہ اپنے پیروکاروں کو ایسا کرنے کی اجازت دیتے ہیں، حتی کے اپنے دفاع میں وہ ہجرت کر جانے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بتاتے۔ البتہ جب اپنی دعوت کے نتیجے میں کسی خطہ زمین پر انھیں ریاست و اقتدار کی طاقت حاصل ہو جاتی ہے تو ہتھیار اٹھاتے ہیں۔ ایسا وہ تب کرتے ہیں جب وہ باقاعدہ جنگ کرنے کی طاقت حاصل کر لیتے ہیں، اور اس کے لیے ایک ریاست اور اس کے وسائل ان کو دستیاب ہو جاتے ہیں۔

انبیا کی تاریخ میں دیکھیے کہ حضرت موسیؑ اور ان کی قریباً چھ لاکھ نفوس پر مشتمل قوم برسوں فرعون کے مظالم سہتے رہے، لیکن علَم بغاوت بلند کیا نہ ہتھیار اٹھائے۔ حضرت موسی فرعون کو تبلیغ و نصیحت اور بنی اسرائیل کی اصلاح کے کام سے آگے نہیں بڑھے، یہاں تک کہ خدا نے خود فرعون اور اس کی طاقت کو نابود کر دیا۔ پھر بنی اسرائیل پر ایک وقت آیا کہ فلتیوں کی جارحیت سے دفاع اور قومی آبرومندی کی حفاظت کے لیے بنی اسرائیل نے اس وقت کے نبی، سموئیل علیہ السلام سے خود درخواست کی کہ ان پر کوئی بادشاہ مقرر کیا جائے جس کے زیرِ قیادت وہ اللہ کی راہ میں جہاد کریں۔ اس پر بھی سموئیل نبی علیہ السلام نے ان کا مطالبہ فورا مان لینے کی بجائے فرمایا کہ بادشاہ مقرر ہو جانے کے بعد کہیں وہ اپنی بات سے پھر نہ جائیں۔ دیکھا جا سکتا ہے کہ جنگی مہم جوئی جیسے سنجیدہ معاملے میں ایک نبی اپنی قوم کے لیے کوئی جلد بازی اختیار نہیں کرتا، وہ انہیں دشمن کے خلاف جنگ کے لیے ابھارتا بھی نہیں، بلکہ ان کی اصلاح ہی کی کوشش میں لگا رہتا ہے۔ پھر جب وہ خود تنگ آ کر جنگ کا مطالبہ کرتے بھی ہیں تب بھی ان کی استقامت کے بارے میں اسے اطمینان اگر نہیں ہوتا تو پس و پیش کرتا ہے۔ جنگ جوئی کوئی معمولی چیز نہیں۔ اس میں بڑی احتیاطوں کو مد نظر رکھنے کا درس اس واقعہ میں ہمیں دیا گیا ہے۔

انبیائے بنی اسرائیل کی تاریخ میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جہاں کفار کے خلاف جہاد کیا گیا وہاں بنی اسرائیل کے اندر ان کے اپنے غیر صالح بادشاہوں کے خلاف عوام کو ہتھیار اٹھانے کی کوئی ترغیب کسی نبی نے نہیں دی۔ ان غیر صالح بادشاہوں کی اصلاح کے لیے ان کے انبیا وعظ و نصیحت اور کلمہ حق کی ادائیگی سے زیادہ کچھ نہیں کرتے تھے، چاہے اس میں ان کی جان ہی چلی جاتی، حضرت زکریا، یحیی، اور عیسیٰ علیھم السلام کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔ اپنے اندر کے مسلم سماج کی درستی کے لیے ہتھیار اٹھانے کی کوئی ایک بھی مثال انبیا کے اسوہ میں موجود نہیں ہے۔

رسول اللہ ﷺ کی طرف سے بھی یہی ہدایت ہم تک پہنچی ہے کہ جابر سلطان کے سامنے کلمہ حق کی ادائیگی کو ہی سب سے افضل جہادہے۔ فرد کا جہاد یہی ہے۔ آپ کی طرف سے یہ حکم بلکہ اجازت بھی نہیں دی گئی کہ فرد ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھالے۔عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
دعانا رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ، فکان فیما اخذ علینا ان بایعنا علی السمع والطاعۃ فی منشطنا ومکرھنا و عسرنا و یسرنا واثرۃ علینا. ان لا ننازع الامر اھلہ، قال: إلا ان تروا کفرا بواحا، عندکم من اللّٰہ فیہ برھان.(بخاری، کتاب الفتن۔ مسلم، کتاب الامارہ(
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بلایا تاکہ ہم ہر حالت کے لیے سمع و طاعت کی بیعت کریں کہ نرمی و جبر، تنگی و فراخی اور اپنے اوپر دوسروں کو ترجیح دیے جانے(کے باوجود بھی حکمران کی اطاعت سے نہیں نکلیں گے)، اور نہ ان سے جھگڑا کریں گے۔ فرمایا کہ صرف (اس صورت میں تم حکمران کی اطاعت سے نکل سکتے ہو) کہ تم کوئی صریح کفر اس کی طرف سے دیکھو، جس کے بارے میں تمھارے پاس اللہ کی واضح حجت ہو۔
یہاں کفر و عصیان کے معاملے میں ان کی اطاعت نہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے نہ کہ ان کے خلاف ہتھیار اٹھانے کی اجازت یا حکم۔
حضراتِ انبیا کی اصلاح و جنگ کے اس اسوہ کی روشنی میں حضرتِ حسین بن علی رضی اللہ عنھما کے اقدام کا تجزیہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے اموی خلیفہ یزید بن معاویہ کی خلافت کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ آپ کا موقف جو تاریخ سے معلوم ہوتا ہے یہ تھا کہ یزید کو ولی عہد اور اس کو اپنا جان نشین بنانے کا اختیار ان کے والد امیر معاویہ کو نہیں تھا۔ یزید ناہل تھا۔ خلافت کے لائق نہ تھا۔ بعض لوگوں کے نزدیک خلافت کو ملوکیت کی صورت دیے جانے کے خلاف آپ نے اقدام کیا۔ جب کہ بعض اہل علم کے نزدیک سماج میں دینی اقدار کی پامالی یزید کے خلاف آپ کے اقدام کی وجہ بنی۔
صورت حال یہ تھی کہ امت مسلمہ کے ایک حصے، اہل شام نے یزید کو خلیفہ تسلیم کر لیا تھا۔ لیکن ایک دوسرےحصے یعنی اہل عراق نے اسے ماننے سے انکار کر دیا تھا۔ اہل حجاز اس معاملے میں تردد کا شکار تھے۔ کچھ لوگوں نے یزید کو خلیفہ تسلیم کرلیا تھا اور کچھ لوگ ابھی گومگو کے عالم میں تھے۔ اہل عراق نے حضرت حسین کو عراق آنے اور یزید کے مقابل اپنی خلافت قائم کرنے اور یزید کو خلافت سے معزول کرنے کی دعوت دی تھی۔ اہل عراق نے انھیں یقین دہانی کرائی کے اس سلسلے میں ان کی تلواریں حضرت حسین کا ساتھ دیں گی۔ یہ تاریخ کے مسلّمات ہیں۔
اسوہ انبیا کی روشنی میں حضرت حسین کے اس اقدام، جس کے نتیجے میں اہل عراق اور اہل شام کے درمیان جنگ ہونا ناگزیر تھا ، کا کیا جواز ہے؟
حضرت حسین کے اس اقدام کا جواز صرف اس صورت میں بن سکتا ہے کہ یہ متحقق ہو کہ یزید، حکومت کی طاقت سے عقیدہ و عمل کی دینی آزادیوں پر پابندی عائد کر رہا تھا۔ وہ قرآن کی اصطلاح میں فتنہ برپا کر رہا تھا، یعنی اسلام قبول کرنے یا مسلم سماج کے اسلام پر عمل کرنے کی راہ میں رکاوٹ ڈال رہا تھا۔ اس لحاظ سے اس کی بیعت، کفر پر بیعت کرنے کے مترادف ہوتی۔ اسی بنا پر حضرت حسین سے بیعت لینے کے لیے اس کے جبریہ ہتھکنڈے بھی فتنہ یعنی persecution کے زمرے میں آ سکتے ہیں۔ دوسرے یہ کہ حضرت حسین انبیا نے کے اسوہ کے مطابق اسے انذار کیا ہو، برسوں اسے سمجھایا ہو اور اس کے بعد اس کی طرف سے مکمل مایوسی ہوگئی ہو۔ تیسرے یہ کہ اس صورت حال میں حضرت حسین کو اہل عراق کی حمایت کی صورت میں ریاست و اقتدار اگر مل جاتا، جس کی انھیں توقع تھی، تو ان کے اقدام کا جواز بن سکتا ہے۔
سوال مگر یہ ہے کہ بالفرض ایسا تھا بھی تو کیا حضرت حسین نے یزید کو سمجھانے اور نصیحت کرنے کی ذمہ داری ادا کی تھی اور کیا اس کے انکار کے بعد مایوس ہو کر وہ اس انتہائی اقدام کے لیے تیار ہوئے تھے؟ انبیا کا طریقہ تو یہی رہا ہے جیسے کہ حضرت موسی نے نے فرعون جیسے سرکش اور آمادہ فساد بادشاہ کو برسوں دعوت ایمان و اصلاح دی تھی۔ اور اتمام حجت ہو چکنے کے بعد جب انھیں مایوسی ہو گئی تو فرعون کی تباہی کی دعا کی تھی۔ حضرت حسین نے یزید کو سمجھانے میں کتنا وقت صرف کیا؟ معلوم تاریخ میں سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ اصلاح احوال کے لیے انھوں نے یزید کو ایک بار بھی مخاطب نہیں کیا۔
صورتِ حالات لیکن،درحقیقت یہ تھی کہ یزید کے تمام تر ظلم و جور کے باوجود، اس وقت کا سماج اپنی روایات اور رسوم میں اسلامی ہی تھا اور آئین و قوانین بھی اسلامی تھے، دینی شعار اور احکامات کی بجا آوری میں بھی کوئی رکاوٹ نہیں تھی۔ یزید کے بعد بھی آل امیہ تقریباً ایک صدی حکمران رہے، اس تمام عرصے میں اسلام کے تمام شعائر محفوظ رہے، لوگوں کو دین پر عمل کی مکمل آزادی رہی اور دین اپنے تمام متعلقہ علوم میں ترقی بھی کرتا رہا۔ یعنی مذھبی جبر کا کوئی مسئلہ درپیش نہیں تھا۔ معاملہ بس یہ تھا کہ حکومتی اشرافیہ طاقت کے زور پر قانون سے بالاتر ہو گئے تھے، اور اپنے خلاف بغاوتوں کو کچلنے میں وہ ہر حد پار کر جاتے تھے، نظام عدل کا وہ معیار باقی نہ رہا تھا جس کا نمونہ خلفائے راشدین نے قائم کیا تھا۔ حکومت پر ایک خاندان یعنی بنو امیہ کا قبضہ ہو گیا تھا۔ یہ مسلم سماج کا بگاڑ تھا اور خلافت کو ملوکیت میں بدلنے جیسے بگاڑ کے لیے ہتھیار اٹھانے کا کوئی دینی جواز موجود نہیں۔
ایسے بگاڑ میں کسی مسلح بغاوت یا مسلح اصلاحی کوشش اسوہ انبیا میں تلاش نہیں کی جا سکتی، اور نہ قرآن مجید اس کا کوئی حکم دیتا ہے۔ یہ صورت حال بالکل ایسے ہی تھی جیسے آج ہم اپنے ہاں کی اشرافیہ کو قانون سے بالا دیکھتے ہیں، ان کے خلاف احتجاج بھی اگر جارحانہ صورت اختیار کر جائے تو آج بھی وہ گولی چلانے سے دریغ نہیں کرتے، بعض جگہ ان کے ہاتھوں عزتیں بھی محفوظ نہیں ہوتیں، لیکن اشرافیہ کی اس تمام تر بد اخلاقی اور لاقانونیت کے باوجود سماج کا بنیادی ڈھانچہ آج بھی اسلامی ہی ہے، اور اسی بنا پر اس کے خلاف مسلح خروج کا جواز مہیا نہیں کیا جا سکتا۔ یزید بھی بس ایسا ہی ظالم ہو سکتا تھا۔ اس پر لیکن مذھبی جبر اور کفر کا کوئی الزام ثابت نہیں۔ اس پر کفر کا الزام حضرت زینب نے اس وقت بھی نہیں لگایا، جب سانحہ کربلا کے بعد یزید کے ساتھ ان کی تلخ کلامی ہوئی تھی۔
یزید کے خلاف حضرت حسین کا یہ اقدام ایک منفرد اقدام ہے،قرآن مجید کے دیے گے اصولوں اور ان کی روشنی اسوہ انبیا کے رو سے حضرت حسین کے اقدام کا کوئی دینی جواز نہیں بنتا۔ تاہم ان کی قائم کردہ یہ مثال آنے والے زمانوں کے حوصلہ مند مصلحین کے لیے غیر عادل مسلم حکومتوں کے خلاف مسلح خروج کی وجہ جواز ضرور بن گئی۔
اس معاملے کو ایک اور پہلو سے دیکھیے۔ وہ اصلاح جو بزور بازو، یا خونی انقلاب کی صورت میں لائی جائے، اوّل تو اس کے صالح ہونے کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی، کیونکہ اس کی ضمانت خدا کا کوئی فرستادہ ہی دے سکتا، جو خدا سے براہ راست ہدایت حاصل کرتا اور اس کی نگرانی میں خطا محفوظ رہتا ہے۔ اس سے کوئی خطا ہو جائے تو خدا اسے اس پر قائم نہیں رہنے دیتا۔ اس کے علاوہ یہ مقام اور اپنی حکمت عملی پر یہ اعتماد کسی اور کو حاصل نہیں ہو سکتا، پھر اگر کوئی کسی غیر نبی کو بھی اس مقام کا حامل سمجھتا ہے اس کا ثبوت اس کے ذمے ہے ۔ دوسرا یہ کہ ایسی اصلاح اگر صالح ہاتھوں میں ہو بھی تو اس کے صالح رہنے کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی، یعنی اس مصلح کے ساتھی اور اس کے جان نشین بھی اسی درجے کے صالح ہوں، اس کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی ۔ہمیشہ یہی دیکھا گیا کہ مسلح جدجہد یا انقلاب سے اصلاح لانے والوں کی اصلاح کرنی پڑ جاتی ہے، اور یہ بسا اوقات اور بھی مشکل ہو جاتی ہے، یہاں تک کہ انقلاب پر انقلاب لانے کی نوبت بھی آ جاتی ہے۔ اگر اس سب کے بعد بھی ان انقلابی مصلحین کے لیے بھی وعظ و نصیحت پر ہی آنا پڑتا ہے تو کس بھروسے پر انسانی خون بہا کر انقلابی اصلاح کی دعوت دی جا سکتی ہے؟
بگڑے ہوئے نظامِ حکومت میں کب رحمت کی بارش بن کر کوئی عمر بن عبد العزیز آ جائے یا کب صالحین کی حکومت یزید جیسوں کے ہاتھ آ لگے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ اصلاح کا معقول و مسنون راستہ دعوت، تذکیر و تلقین کی راہ ہے۔ درست اور دیرپا اصلاح سماج کی اصلاح سے ہوتی ہے۔ عوام کی اصلاح ہو جائے تو ایسے حساس صالح عوام کے سامنے کوئی بگاڑ ٹھیر نہیں سکتا۔ انبیا کا اسوہ اسی طریقہ کا شاہد ہے ۔اس کے سوا کوئی راستہ درست نہیں ہو سکتا، اس میں کامیابی ملے تو فبھا، نہ ملے تو مصلحین کو ان کے دین نے اس سے بڑھ کر ان کی کوئی ذمہ داری نہیں بتائی ہے۔ اپنی ذمہ داری سے تجاوز، خدا کی مقرر کردہ حدود سے تجازو ہے۔ مصلحین کے جنگی اقدامات کی تاریخ شاہد ہے کہ وہ جب بھی اپنے دارئرہ کار سے آگے بڑھے ہیں، فساد اور انارکی پھیلانے کے سوا ان سے کچھ نہیں بن پڑا۔ نظمِ حکومت کے استحکام کے ساتھ سماج و سیاست کے ذمہ داران کو وعظ و نصیحت اور ان کے کاموں پر اصلاحی تنقید ہی وہ مثبت اور نتیجہ خیز راستہ ہے جس سے سماج بتدریج بہتر ہوتے چلے جاتے ہیں۔ اور یہی انبیا کا اسوہ ہے۔

اس تحریر كو شیئر كریں
Share on facebook
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on email
Dr Irfan Shehzad

Dr Irfan Shehzad

Dr Irfan Shehzad belongs to Rawalpindi, Pakistan. He holds a doctorate in Islamic Studies from National University of Modern Languages (NUML) Islamabad, Pakistan. He is working as a companion to Ghamidi Center of Islamic Learning Dallas, USA. He is an assistant research fellow with Al-Mawird Pakistan. He is the author of the book, “Qanoon-e-Itmam-e-Hujjat awr Us kay Itlaqaat: Janab Javed Ahmad Ghamidi ki Tawzihaat par Aetrazaat awr Ishkalaat ka Jaiza”, published by Almawrid Lahore Pakistan. Dr Irfan Shehzad writes and speaks on religious, social and sociopolitical issues. His articles are published in different scholarly journals including Ishraq, Lahore, Pakistan, Al-Shariah Gujranwala Pakistan and on social media.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *