غامدی صاحب کے ترجمہ قرآن، ‘البیان’ کا مختصر تعارف اور چیدہ چیدہ خصوصیات

جاوید غامدی صاحب نے ‘البیان’ کے نام سے نظمِ قرآن کی روشنی میں قرآن مجید کا ایسا مربوط اور مسلسل ترجمہ کیا ہے، جس کی نظیر قرآن مجید کے لٹریچر میں موجود نہیں۔ یہ ترجمہ علامی حمید الدین فراہی کے اصول تفسیر کے تتبع میں اور مولانا امین احسن اصلاحی کی مایہ ناز تفسیر تدبر قرآن کے تفسیری نوٹس کی تلخیص اور قرآن مجید پر غامدی صاحب کے ذاتی تدبر کی نتیجے کی صورت میں سامنے آیا ہے۔
راقم الحروف نے برسوں قرآن سمجھنے کی کوشش کی، لیکن چند بہت واضح باتوں کے علاوہ قرآن مجید اپنی مجموعی حیثیت میں میرے لیے افکار پریشاں کا ایک مجموعہ ہی رہا۔ مجھے کبھی یہ گمان بھی نہ گزرا تھا کہ قرآن ایک نظم اور نظام کے تحت چلتا ہے، اور اس نظم کی کیا اہمیت ہو سکتی ہے۔ اس غلط فہمی کی وجہ وہی روایتی انداز تفسیر تھا کہ ہر آیت کو کسی خاص شان نزول کے تحت دیکھا جانا ضروری ہے، جس سے قرآن اپنی ترتیب توقیفی کے باوجود ترتیب نزولی کے تحت سمجھے جانے کوشش لگتی ہے جس سے قرآن نہ صرف ایک بے ربط کلام بن کر رہ جاتا ہے بلکہ وہ تفسیری روایات فہمِ قران کے لیے مدار کا درجہ پا لیتی ہیں، جن کا استناد اور صحت اہل علم کے نزدیک نہایت درجہ مخدوش ہے، یوں ایک غیر یقینی ظنی ذریعہ علم، قرآن پر حاکم بن جاتا ہے۔
فکر فراہی نے اس بات پر زور دیا کہ قرآن مجید کو اس کی زبان اور سیاق و سباق کی روشنی میں سمجھا جائے، اس فکر نے اصرار کیا کہ قرآن مجید ایک منظم اور مربوط کلام ہے، اور اس کا نظم، فہم قرآن کی شاہ کلید ہے۔ آخر کیا وجہ تھی رسول اللہ ﷺ نے قرآن مجید کو اس کی نزولی ترتیب کی بجائے، الگ سے ایک خاص ترتیب سے مرتب کرایا اور اس ترتیب کی خلاف ورزی کی اجازت مطلقا نہیں دی گئی۔ اگر کتابت میں اس ترتیب کا اتنا اہتمام کیا گیا ہے تو کیا وجہ ہے کہ فہم قرآن میں اس کی کوئی اہمیت تسلیم نہ کی جائے۔ شان نزول کی روایات سے ہی قرآن کو سمجھنا تھا تو قرآن جس ترتیب سے نازل ہوا تھا، ویسا ہی رہنے دیا جاتا۔ حقیقت یہ ہے کہ شان نزول کی رو سے قرآن مجید سمجھنے کا منھاج نہ صرف غیر ضروری بلکہ قرآن فہمی میں سد راہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس پر شاہ ولی اللہ کے موقف سے ہمیں اتفاق ہے جو انھوں نے اپنی کتاب الفوز اکبیر میں بیان کیا ہے۔
قرآن، البتہ اپنا ایک تاریخی پس منظر رکھتا ہے اور اس کی آگاہی ایسے ہی لازمی ہے جیسے کسی بھی تاریخی اہمیت کی حامل کتاب کے لیے ضروری ہوتی ہے جو کسی خاص تاریخی پس منظر میں وجود پذیر ہوئی ہو، تاکہ اس کے ماحول کے مطابق اس کے بیانات کے مفاہیم سمجھنے میں کوئی غلطی نہ ہو۔ مثلاً قرآن مجید کی آیات خود بھی کسی واقعہ کی طرف اشارہ کرتی ہیں، ان کا معلوم ہونا قرآن کے مدعا کو سمجھنے کے لیے ضروری ہوتا ہے۔
ہمارے ہاں عموماً قرآن کے تراجم کی زبان اور انداز ایسا ہوتا ہے کہ عام قاری کو کوئی دلچسپی پیدا نہیں ہو پاتی،بلکہ کچھ وحشت سی محسوس ہوتی ہے۔ ترجمہ کی زبان عموما نامانوس قسم کی ہوتی ہے جس سے مخصوص علمی حلقوں کے زبان و محاورہ کی عکاسی تو ہوتی ہے لیکن ابلاغ عام بے حد متاثر ہوتا ہے۔ معدودے چند تراجم ہی اس سے مستثنا ہے۔ پھر قرآن کی آیات کا ربط واضح نہ ہونے کی وجہ سے یہ سمجھ نہیں آتا کہ قرآن میں خطاب کا رخ کیسے اور کیوں بدل بدل جاتا ہے۔ اسی لیے جو لوگ ترجمہ پڑھنے کی ہمت بھی کرتے ہیں تو خود پر ایک جبر سے گزرتے ہیں۔
البیان میں ترجمے میں ہی آیات کا ربط واضح کر دیا گیا ہے۔ قاری جب قرآن کی آیات کے نظم اور ربط کے ساتھ پڑھتا ہے تو اسے سارا تسلسل سمجھ آنے لگتا ہے۔ معلوم ہونے لگتا ہے کہ ایک آیت دوسری آیت سے اور آیات کے پیراگراف ایک دوسرے سے کیسے متعلق ہیں، ایک سورت دوسری سورت سے اور سورتوں کا ایک گروپ دوسرے گروپ سے کیسے مربوط ہے، یوں پورا قرآن ایک وحدت کی شکل میں سامنے آ جاتا ہے، اور اس کا بنیادی پیغام بھی واضح ہو جاتا ہے۔
قران کا خاص اسلوب ایجاز یعنی بیان میں اختصار برتنا ہے۔ ایسا دو وجہ سے ہے۔ ایک یہ کہ خدا یہ توقع کرتا ہے کہ وہ ذی فہم قاری سے مخاطب ہے۔ جو باتیں خود بخود سمجھ آ جانی چاہییں ہو وہ قاری کی ذکاوت پر چھوڑ دی گئیں ہیں۔ دوسرا یہ کہ قرآن مجید کے اوّلین مخاطبین کے سامنے وہ سارے حالت اور سیاق و سباق موجود تھا جس میں قرآن نازل ہو رہا تھا اس لیے understood چیزوں کو مذکور کیے بغیر مخاطبین سے مخاطبت کی گئی ہے۔ وہ حالات چونکہ بعد کے لوگوں کے سامنے نہیں ہوتے، اس لیے ان کے لیے ضروری ہو جاتا ہے کہ ترجمہ میں ان محذوفات کا اظہار کر دیا جائے تاکہ عام قاری پورے پس منظر اور ربط کے ساتھ کلام کو سمجھ سکے۔ ہم یہی اسلوب اپنے روز مرہ انداز گفتگو میں اختیار کرتے ہیں۔ ہم اپنے براہ راست مخاطب سے بہت سی understood باتوں کو مذکور کیے بغیر ایجاز و اختصار کے اسلوب پر بات کرتے ہیں جو کسی دوسرے کے لیے مکمل طور پر قابل فہم نہیں ہو سکتیں جب تک ہم اسے اپنے بیان کے محذوفات سے بھی آگاہ نہ کریں۔ بعض تفاسیر میں نظم کا یہ بیان تفسیری نوٹس میں موجود ہوتا ہے جیسا کہ تدبر قرآن میں خصوصی اہتمام کیا گیا ہے، لیکن غامدی صاحب نے البیان کے ترجمے ہی ان محذوفات کو کھول کر لکھ دیا ہے جس سے محض ترجمے سے ہی قرآن کا مکمل مدعا سمجھنے کی راہ آسان ہو گئی ہے۔ مثلاً سورہ نمل کی یہ دو آیات دیکھیے:
ارْجِعْ إِلَيْهِمْ فَلَنَأْتِيَنَّهُم بِجُنُودٍ لَّا قِبَلَ لَهُم بِهَا وَلَنُخْرِجَنَّهُم مِّنْهَا أَذِلَّةً وَهُمْ صَاغِرُونَ ﴿٣٧﴾ قَالَ يَا أَيُّهَا الْمَلَأُ أَيُّكُمْ يَأْتِينِي بِعَرْشِهَا قَبْلَ أَن يَأْتُونِي مُسْلِمِينَ (سورہ نمل، 37-38)
پہلی آیت میں سلیمان علیہ السلام ملکہ سبا کے سفیروں کو حملے کی دھمکی دے رہے ہیں اور دوسرے میں ان کے مطیع ہو کر آنے سے پہلے ملکہ سبا کا تخت منگوانے کی بات کر رہیے ہیں۔ گویا درمیان کی بات قاری کی ذہانت پر چھوڑ دی گئی ہے کہ وہ سمجھ لے کہ سلیمان علیہ السلام کی دھمکی کے بعد ملکہ سے اطاعت کا فیصلہ کر لیا اور سلیمان علیہ السلام سے ملنے پر چل پڑی۔ تب سلیمان علیہ السلام نے اس کے تخت منگوانے کا حکم دیا۔
اس پر غامدی صاحب کا ترجمہ ملاحظہ کیجیے:
تم اپنے بھیجنے والوں کے پاس واپس جاؤ، اب ہم اُن پر ضرور ایسے لشکر لے کر آئیں گے کہ وہ اُن کے مقابلے کی تاب نہ لا سکیں گے اور ہم اُنھیں وہاں سے اِس طرح نکال دیں گے کہ وہ ذلیل و خوار ہو کر رہ جائیں گے۔ (ملکہ نے یہ سنا تو ملاقات کے لیے چل پڑی۔ چنانچہ قریب پہنچی تو ) سلیمان نے کہا: اے اہل دربار، تم میں سے کون اُس کا تخت میرے پاس لاتا ہے، اِس سے پہلے کہ وہ لوگ مطیع و فرماں بردار ہو کر میرے پاس حاضر ہو جائیں۔
قرآن مجید کا ایک خاص اسلوب تقابل کے الفاظ کا حذف ہے۔ یہ عربی کا خاص اسلوب ہے، جو کسی حد تک ہر زبان میں ہے لیکن عربی میں بہت زیادہ ہے اس کو نمایاں کرنا غیر عرب کے لیے جو اس اسلوب سے واقف یا عادی نہیں ناگزیر ضرورت بن جاتی ہے۔ مثلاً
وَمَا مِن دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا طَائِرٍ يَطِيرُ بِجَنَاحَيْهِ إِلَّا أُمَمٌ أَمْثَالُكُم (6.38)
زمین پر جتنے جانور )اپنے پاؤں سے چلتے ہیں( اور )فضا میں( جتنے پرندے اپنے دونوں بازوؤں سے اڑتے ہیں، سب تمھاری ہی طرح امتیں ہیں.
اس میں قوسین کے الفاظ دیکھیے۔ غامدی صاحب اس آیت کے تحت تقابل کے اسلوب کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں،
“اِن میں مقابل کے بعض الفاظ عربیت کے اسلوب پر حذف ہو گئے ہیں۔ مثلاً جملے کے پہلے حصے میں ’فِی الْاَرْضِ‘ (زمین میں) ہے تو دوسرے حصے میں ’فی السمآء‘ (فضا میں) کا لفظ نہیں آیا۔ اِسی طرح دوسرے حصے میں ’یَطِیْرُ بِجَنَاحَیْہِ‘ (اپنے دونوں بازوؤں سے اڑتے ہیں) کے الفاظ ہیں تو پہلے حصے میں ’تدب علی رجلیہا‘ یا ’أرجلہا‘ (اپنے پاؤں پر چلتے ہیں) کے الفاظ محذوف ہیں۔ ہم نے ترجمے میں اُنھیں کھول دیا ہے۔”
اسی طرح یہ آیت دیکھیے:
لِّيَسْأَلَ الصَّادِقِينَ عَن صِدْقِهِمْ ۚ وَأَعَدَّ لِلْكَافِرِينَ عَذَابًا أَلِيمًا (33:8)
تاکہ اللہ راست بازوں سے اُن کی راست بازی کے بارے میں سوال کرے (اور منکروں اور منافقوں سے اُن کے کفر و نفاق کے بارے میں)، اور منکروں کے لیے تو اُس نے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔
یہاں ‘منکروں اور منافقوں سے ان کے کفر و نفاق کے بارے میں سوال کرے’، محذوف تھا جس کی طرح اشارہ ‘اور منکروں کے لیے تو اس نے درد ناک عذاب تیار کر رکھا ہے’، سے ہو رہا تھا۔ اس کو ترجمہ میں بیان کر دیا گیا ہے۔ اس طرح قران کا مکمل مدعا قاری کے سامنے آ جاتا ہے۔
قرآن میں خطاب کا رخ کس طرف ہے یہ ہر دفعہ لفظوں میں بیان نہیں ہوا ہوتا۔ ہر آیات کا درست مفہوم جاننے کے لیے ان کے مخاطبین کا تعین کرنا ضروری ہے۔ قرآن کے مخاطبین میں سچے مومنین کے علاوہ یہود، نصاری، منافقین، کمزور ایمان والے مسلمان، اہل کتاب کے مذبذبین جیسے مختلف گروہ تھے۔ مومنین کے مختلف طبقات بشمول منافقین کو مومنین کہ کر مخاطب کیا گیا ہے۔ قرآن میں مومنین سے ہمیشہ سچے مومنین مراد نہیں ہوتے، کبھی بظاہر مومنین یعنی منافقین اور کبھی کمزور مسلمین بھی مراد ہوتے ہیں۔ ایک مخاطب کی جگہ دوسرا سمجھ لینے سے سخت غلطی لگتی ہے اور قران کا سارا مفہوم کی الٹ کر رہ جاتا ہے۔ قرآن کے اولین مخاطبین کو یہ سمجھنے میں دشواری نہ ہوتی تھی۔ کس آیت کا مخاطب کون ہے یہ محض لہجے کے فرق سے سمجھا جا سکتا ہے لیکن عام قاری کے لیے اس کی نشاندہی کرنا پڑتی ہے جو اس ماحول سے خود متعلق نہیں ہوتا اور قرآن کے اس اسلوب سے بھی واقف نہیں ہے۔ غامدی صاحب نے البیان کے ترجمے میں ہی ہر آیت کے مخاطبین کا تعین بھی کر دیا ہے، جس سے قاری کو بات اپنے درست تناظر میں سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ مثلاً سورہ احزاب میں ایک ہی واقعہ کے بارے میں مومنین کو خطاب کر کے دو مختلف طرز عمل کا بیان آیا ہے۔ یہاں دونوں جگہ ایک ہی طرح کے مومنین سمجھیں جائیں تو تضادِ بیان لازم آتا ہے۔ پہلی آیت کے مخاطب منافقین اور کمزور ایمان والے ہیں۔
{إِذْ جَاءُوكُمْ مِنْ فَوْقِكُمْ وَمِنْ أَسْفَلَ مِنْكُمْ وَإِذْ زَاغَتِ الْأَبْصَارُ وَبَلَغَتِ الْقُلُوبُ الْحَنَاجِرَ وَتَظُنُّونَ بِاللَّهِ الظُّنُونَا} [الأحزاب: 10]
یاد کرو، جب وہ تمھارے اوپر کی طرف سے بھی اور تمھارے نیچے کی طرف سے بھی تم پر چڑھ آئے تھے، جب (خوف کے مارے)آنکھیں بہک گئی تھیں اور کلیجے منہ کو آ گئے تھے اور اللہ کے بارے میں تم لوگ طرح طرح کے گمان کرنے لگے تھے۔
جب کہ اس کے مقابل اہل ایمان کا ردعمل یوں سامنے آتا ہے:
وَلَمَّا رَأَى الْمُؤْمِنُونَ الْأَحْزَابَ قَالُوا هَـٰذَا مَا وَعَدَنَا اللَّـهُ وَرَسُولُهُ وَصَدَقَ اللَّـهُ وَرَسُولُهُ ۚ وَمَا زَادَهُمْ إِلَّا إِيمَانًا وَتَسْلِيمًا (الأحزاب:22)
اور سچے اہل ایمان (کا حال اُس وقت یہ تھا کہ اُنھوں ) نے جب لشکروں کو دیکھا تو پکار اٹھے کہ یہ تو وہی چیز ہے جس کا اللہ اور اُس کے رسول نے ہم سے وعدہ کیا تھااور اللہ اور اُس کے رسول کی بات بالکل سچی تھی۔ اور (اُن کے اندر کوئی کمزوری پیدا کرنے کے بجاے) اِس چیزنے اُن کے ایمان و اطاعت ہی کو اور بڑھا دیا۔
اس کا ثبوت اس آیت سے بھی دیا جا سکتا ہے جو اسی موقع پر منافقین کے طرز عمل کو بیان کرتی ہے:
وَإِذْ يَقُولُ الْمُنَافِقُونَ وَالَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ مَّا وَعَدَنَا اللَّـهُ وَرَسُولُهُ إِلَّا غُرُورًا (الأحزاب:12)
اور جب منافقین کہتے تھے اور وہ بھی جن کے دلوں میں روگ ہے کہ اللہ اور اُس کے رسول نے جو وعدے ہم سے کیے تھے، وہ نرا فریب ہی تھے۔
اور اور اہم پہلو جس کا الترام البیان کے ترجمے میں کیاگیا ہے وہ ضمائر pronouns کا تعین ہے۔ قرآن مجید میں جب ضمائر کے مراجع کے بارے میں زبان سے واقف لوگوں کے لیے کسی کنفوژن پیدا ہونے کا اندیشہ نہ ہو تو ضمیریں منتشر ہو کر آتی ہیں، اور یہ کلام کی خوبی مانی جاتی ہے۔ تاہم اس اسلوب سے مانوسیت نہ ہونے کی وجہ سے قاری کے لیے ان کا مرجع بھی واضح کر دیا گیا ہے۔ مثلاً
{ حَتَّى إِذَا اسْتَيْأَسَ الرُّسُلُ وَظَنُّوا أَنَّهُمْ قَدْ كُذِبُوا جَاءَهُمْ نَصْرُنَا فَنُجِّيَ مَنْ نَشَاءُ وَلَا يُرَدُّ بَأْسُنَا عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِينَ} [يوسف: 110]
(یہ عذاب کے لیے جس طرح جلدی مچا رہے ہیں، اِن سے پہلے بھی اِسی طرح مچاتے رہے)، یہاں تک کہ جب (اُن کے) رسول (اُن سے) مایوس ہو گئے اور وہ بھی خیال کرنے لگے کہ اُن سے جھوٹ کہا گیا تھا (کہ اُن پر کوئی عذاب آنے والا ہے) تو ہماری مدد پیغمبروں کو پہنچ گئی۔ پھر اُن کو بچا لیا گیا جنھیں ہم چاہتے تھے (کہ بچا لیں) اور مجرم لوگوں سے ہمارا عذاب ٹالا نہیں جا سکتا۔
ترجمے میں خیال رکھا گیا ہے کہ عربی کے افعال کا ترجمہ فعل کے معنی کے مختلف مدارج کے لحاظ سے کیا جائے۔ یعنی کہیں فعل سے ارادہ فعل مراد ہے، کبھی اسی فعل کو اس کے کامل معنوں میں استعمال کیا جا رہا ہوتا ہے۔ مثلا یؤمنون کا ترجمہ کہیں ‘ایمان لانے والے’ کیا گیا ہے تو کہیں ‘جو ایمان لانا چاہتے ہیں، اور ‘جو ایمان کا دعوی رکھتے ہیں’، جیسے مختلف مطالب میں ادا کیا گیا ہے۔ اس سے قاری کو معلوم ہو جاتا ہے کہ کس گروہ کا ذکر ہو رہا ہے، یوں قرآن مجید کا مدعا خلط نہیں ہوتا۔ مثلا یہ آیت دیکھیے:
أَلَمْ يَرَوْا أَنَّا جَعَلْنَا اللَّيْلَ لِيَسْكُنُوا فِيهِ وَالنَّهَارَ مُبْصِرًا ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ (سورہ النمل، 27:86)
(یہ نشانیاں مانگتے ہیں)؟ کیا اِنھوں نے دیکھا نہیں کہ ہم نے رات کو تاریک بنایا کہ اُس میں آرام کریں اور دن کو روشن کر دیا کہ اُس میں کام کریں۔ حقیقت یہ ہے کہ اِس میں اُن لوگوں کے لیے بہت نشانیاں ہیں جو ماننا چاہیں۔
اس ایک آیت میں درج بالا مباحث کی ساری مثالیں موجود ہیں۔ اس میں فعل، ‘يُؤْمِنُونَ’ سے ارادہ فعل، یعنی ‘جو ماننا چاہیں’ مراد ہے۔ آیت کے شروع میں قوسین میں آیت کے ربط کو واضح کیا گیا اور تقابل کے حذف کا اسلوب بھی یہی موجود ہے۔ اس کی وضاحت غامدی صاحب کے الفاظ میں دیکھیے:
“آیت کے پہلے فقرے میں ’مظلمًا‘ اور دوسرے میں ’لتعملوا‘ یا اِس کے ہم معنی الفاظ عربیت کے اسلوب کے مطابق حذف کر دیے گئے ہیں۔ ہم نے ترجمے میں اُنھیں کھول دیا ہے۔”
قرآن مجید میں کسی فرد کا کوئی بیان نقل کرتے ہوئے، اللہ تعالی اس بیان کو جامع اور مطابق حال بنانے کے لیے اپنی بات بھی بیچ میں شامل کر دیتے ہیں۔ اسے تضمین کہتے ہیں، یعنی ضم کرنا۔ ترجمے میں اس کی رعایت کی گئی ہے کہ جہاں تضمین ہے وہاں واضح کر دیا جائے۔ اس بات کی رعایت کسی اور ترجمے میں کم ہی نظر آتی ہے۔ مثلا سلیمان علیہ السلام کے پرندے ہدہد کے بیان میں اللہ تعالی کی طرف سے تضمین کی یہ واضح مثال ملاحظہ ہے:
فَمَكَثَ غَيْرَ بَعِيدٍ فَقَالَ أَحَطتُ بِمَا لَمْ تُحِطْ بِهِ وَجِئْتُكَ مِن سَبَإٍ بِنَبَإٍ يَقِينٍإِنِّي وَجَدتُّ امْرَأَةً تَمْلِكُهُمْ وَأُوتِيَتْ مِن كُلِّ شَيْءٍ وَلَهَا عَرْشٌ عَظِيمٌ وَجَدتُّهَا وَقَوْمَهَا يَسْجُدُونَ لِلشَّمْسِ مِن دُونِ اللَّـهِ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطَانُ أَعْمَالَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ السَّبِيلِ فَهُمْ لَا يَهْتَدُونَ أَلَّا يَسْجُدُوا لِلَّـهِ الَّذِي يُخْرِجُ الْخَبْءَ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَيَعْلَمُ مَا تُخْفُونَ وَمَا تُعْلِنُونَ اللَّـهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ(سورہ النمل، 22-26)
سلیمان نے اپنے لشکر کے پرندوں کا جائزہ لیا تو کہا: کیا بات ہے، میں ہد ہد کو نہیں دیکھ رہاہوں۔ (وہ موجود ہے) یا کہیں غائب ہو گیا ہے؟میں اُس کو سخت سزا دوں گا یا ذبح ہی کر ڈالوں گا یا (اپنی اِس غیرحاضری کے لیے) وہ میرے سامنے کوئی واضح عذر پیش کرے گا۔پھر زیادہ دیر نہیں گزری کہ ہد ہد آ گیا اور اُس نے عرض کیا: مجھے وہ بات معلوم ہوئی ہے جو آپ کے علم میں نہیں ہے۔ میں سبا (کے ملک) سے ایک سچی خبر لایا ہوں۔ میں نے دیکھا کہ ایک عورت اُن پر حکمرانی کر رہی ہے، اُسے ہر طرح کا سازوسامان میسر ہے اور اُس کا بہت بڑا تخت بھی ہے۔ میں نے اُس کو اور اُس کی قوم کو دیکھا کہ وہ اللہ کے سوا سورج کو سجدہ کرتے ہیں۔ شیطان نے اُن کے اعمال اُن کے لیے خوش نما بنا دیے ہیں اور اُنھیں صحیح راہ سے روک دیا ہے، سو راستہ نہیں پا رہے ہیں۔ (یقیناً شیطان ہی نے روک دیا ہے) کہ وہ اللہ کو سجدہ نہ کریں جو زمین اور آسمانوں کی چھپی ہوئی چیزوں کو نکالتا ہے اور جانتا ہے جو کچھ تم چھپاتے اور جو کچھ ظاہر کرتے ہو۔ اللہ کہ اُس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہی عرش عظیم کا مالک ہے۔
ہدہد کی اس تقریر میں آخری دو آیات اللہ تعالی کا بیان ہے۔ غامدی صاحب کے الفاظ میں “اللہ تعالیٰ نے ہد ہد کی بات کے ساتھ اپنی بات کو ملا کر اُسے مطابق حال کر دیا ہے۔” ان دونوں آیات میں اسلوب بدل گیا ہے۔ پہلے قوم سبا کے لیے غائب کا صیغہ چلا آ رہا تھا، اور یہاں اچانک مخاطب کے صیغے آ گیے ہیں، ایک قوم کا خصوصی بیان ایک دم عام بیان میں تبدیل ہو گیا ہے۔ پھر انداز ایسا ہے جو ہدہد کے لیے مناسب نہیں جب کہ وہ سلیمان علیہ السلام سے مخاطب ہے۔ “استاذ امام (مولانا امین احسن اصلاحی) کے الفاظ میں، ’مَا تُخْفُوْنَ وَمَا تُعْلِنُوْنَ‘ کے صیغہ ہاے خطاب ہدہد کی زبان سے بالکل ناموزوں ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ ہی فرما سکتا ہے۔”
البیان کی ایک اور خصوصیت یہ ہے کہ ہر سورت کا زمانہ نزول سورت کے مضامین سے طے کر کے سورت کے آغاز میں تعارفی نوٹ میں لکھ دیاگیا ہے۔ یعنی ہر سورت کے آغاز میں وضاحت کی گئی ہے کہ یہ سورت رسول اللہ ﷺ کی دعوت انذار کے ابتدائی مرحلے میں نازل ہوئی، یہ کچھ عرصہ بعد جب مخالفت میں تیزی آ گئی، یہ ہجرت کےقریب اور یہ ہجرت کے بعد وغیرہ، اس کے لیے شان نزول کی روایت سے نہیں بلکہ سورت کے مضامین اور اس کے اسلوب سے مدد لی گئی ہے۔ اس سے سورت کا پس منظر ذہن میں رہنے سے قاری کے لیے مفاہیم کو درست تناظر میں سمجھنا آسان ہو جاتا ہے۔ اسی طرح ان روایات کی بنا پر اس بحث کی ضرورت ہی نہیں رہتی ہے کہ سورہ مکی یا مدنی۔ یہاں نہ صرف مکی اور اور مدنی کا تعین ہو جاتا ہے بلکہ یہ بھی کہ یہ مکی اور مدنی دور میں کس مرحلے میں نازل ہوئی ہے۔
سب سے اہم بات قرآن کے موضوع کا تعین ہے۔ مولانا مودودی نے قرآن کا موضوع انسان کو قرار دیا ہے۔ لیکن فکر فراہی نے قرآن مجید کو رسول اللہ ﷺ کی سرگزشت انذار قرار دیا ہے۔ جس کے نتائج اور اسباق انسانوں کے لیے ہدایت کا سامان ہیں۔ قرآن کا موضوع اگر انسان کو قرار دیا جائے تو پھر قاری قران کے ہر بیان کا مخاطب خود کو سمجھنے کی غلطی کر بیٹھتا ہے۔ وہ ہر بیان میں خود کو فٹ کرنے کی کوشش کرنے لگتا ہے۔ یہ منھاج قران فہمی کی بڑی رکاوٹ ہے۔
فکر فراہی نے قرآن کو رسول اللہ ﷺ کی سرگزشت انذار (یعنی آپؐ کی اپنی قوم کو دعوت و تبلیغ کی داستان) قرار دے کر قران فہمی کی کلید ہاتھ میں تھما دی ہے جو قاری کو کسی غلط تفہیم پر جمنے نہیں دیتی۔ رسول اللہ ﷺ کی دعوت و تبلیغ اور اس کے نتائج کی سرگزشت سنانے کا مقصد سامعین میں آخرت کی جواب دہی کا احساس بیدار کرنا ہے۔ یعنی جو کام رسول اللہ ﷺ اپنی قوم کے لیے قرآن کے ذریعے انذار کر کے کیا کرتے تھے، وہی کام قرآن مجید تاقیامت تمام انسانوں کے لیے انجام دیتا ہے۔ اسی تناظر میں وہ درست عقائد، اعمال اور قوانین (دین) بھی بتائے گئے ہیں جو دنیا میں خدا کی مرضی کے مطابق جینے کا طریقہ سکھاتے ہیں، جس کے مخاطب سارے انسان اور سارے مسلمان ہیں۔
قرآن کو رسول کی سرگزشت انذار سمجھ کر پڑھنے سے یہ سمجھ آنا شروع ہو جاتا ہے کہ کن آیات کا سکوپ ابدی ہے اور کون سی آیات مخصوص سکوپ کی حامل ہیں۔ ورنہ قرآن کے مطالعہ کے دوران ہوتا یہ ہے کہ مثلاً سیاسی غلبے کے یقینی وعدے جو صحابہ سے ہو رہے ہوتے ہیں، یہاں مسلمان ان وعدوں کا مخاطب خود کو بھی سمجھ لیتے ہیں ۔ خدا کہتا ہے کہ غالب تم ہی رہو گے اگر تم مومن ہو، اس ‘تم’ کو ‘ہم’ سمجھ لینے سے ہوتا پھر یوں ہے کہ جذبہ ایمانی سے سرشار مہم جوئیاں برپا کر دی جاتی ہیں، لیکن نتائج وہ نہیں نکلتے، جس سے تشکیک یا تاویل کا دروازہ کھل جاتا ہے۔
یہ دراصل ابراہیمؑ کی اولاد کے ساتھ خدا کا خصوصی معاملہ ہے کہ وہ اگر ایمان و عمل کے مطلوبہ معیار پر پورا اتریں گے تو اسی دنیا میں غلبہ پائیں گے، اور اگر کوتاہی کریں گے جو اسی دنیا میں ذلت اٹھائیں گے۔ اس کا واضح اعلان قرآن مجید اور بائیبل میں بھی موجود ہے:
إِنَّ اللَّـهَ اصْطَفَىٰ آدَمَ وَنُوحًا وَآلَ إِبْرَاهِيمَ وَآلَ عِمْرَانَ عَلَى الْعَالَمِينَ (سورہ آل عمران، 3:33)
{ أَمْ يَحْسُدُونَ النَّاسَ عَلَى مَا آتَاهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ فَقَدْ آتَيْنَا آلَ إِبْرَاهِيمَ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَآتَيْنَاهُمْ مُلْكًا عَظِيمًا } [النساء: 54]
کیا یہ لوگوں سے اللہ کی اُس عنایت پر حسد کر رہے ہیں جو اُس نے اُن پر کی ہے؟ (یہی بات ہے تو سن لیں کہ) ہم نے تو اولاد ابراہیم (کی اِس شاخ) کو اپنی شریعت اور اپنی حکمت بخش دی اور اُنھیں ایک عظیم بادشاہی عطا فرما دی ہے۔
آیت میں یہ سے مراد یہود ہیں اور لوگوں سے مراد بنی اسماعیل۔اس خاص سنن الہی کو عام قانون سمجھ لینے سے قرآن کی بہت سے آیات کا سکوپ غط سمجھ لیا جاتا ہے۔ البیان میں آیات کی تفہیم میں اس کا لحاظ رکھا گیا ہے، جس سے قرآن کی آیات کا درست تناظر اور سکوپ قاری کے سامنے آتا ہے۔
ایک اور ہم خصوصیت البیان کی یہ ہے کہ منکرینِ رسالت کو خدا کی طرف سے دنیا اور آخرت کے دو عذابوں کی وعید سنائی گئی ہے، ایک رسولوں کے اتمام حجت کے نتیجے میں دنیا میں آنے والا عذاب اور دوسرا آخرت کا عذاب:
لَّهُمْ عَذَابٌ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ۖ وَلَعَذَابُ الْآخِرَةِ أَشَقُّ ۖ وَمَا لَهُم مِّنَ اللَّـهِ مِن وَاقٍ (سورہ رعد، 13:34)
اُن (منکرین) کے لیے دنیا کی زندگی میں بھی عذاب ہے اور آخرت کا عذاب تو اِس سے کہیں سخت ہے اور اُنھیں کوئی اللہ سے بچانے والا نہ ہوگا۔
اسی بنا پر قوم نوح، قوم عاد و ثمود وغیرہ کو دنیا میں بھی عذاب ملا اور آخرت میں بھی ملے گا۔ البیان کے ترجمے میں اس کا التزام کیا گیا ہے کہ جہاں قاری کو اشتباہ ہو سکتا ہے کہ عذاب سے کون سا عذاب مراد ہے، دنیوی عذاب یا آخرت کا عذاب، اس پر واضح کر دیا جائے کہ کون سا عذاب مراد ہے۔
قرآن فہمی سے عمومی عدم رغبت اور علمی مباحث اور فتاوی میں قرآن سے استدلال نہ کرنے کی ایک بڑی وجہ یہ خیال ہے کہ قرآن کے الفاظ میں ایک سے زائد احتمالات ہوتے ہیں، ایک ہی بیان کے بیک وقت کئی مطالب ہوتے ہیں، اب کون سا مطلب مراد لینا ہے، اس کے تعین کا کوئی اصول، کوئی طریقہ طے نہیں، جو چاہے جس طرح چاہے مطلب نکال سکتا ہے، بس لغت میں اس کا معنی کسی نہ کسی طرح موجود ہونا چاہیے۔ قرآن کی یہ حیثیت اگر ہو تو نہایت غیر متاثر کن ہے کہ اس طرح حق و باطل، غط و درست کے درمیان وہ فیصلہ کن ہو سکتا ہے، جب کہ قرآن کا اپنے لیے دعوی یہی ہے کہ وہ میزان اور فرقان بنا کر نازل کیا گیا ہے تاکہ لوگ اپنے تنازعات میں اس کے ذریعے فیصلہ کریں۔ فکر فراہی کے اساتذہ نے ان احتمالات کو دور کیا ہے۔ ان کے مطابق قرآن مجید محتمل کلام نہیں۔ وہ اس طرح کہ لغت میں ہر لفظ کے متعدد معنی تو ہوتے ہیں، لیکن ایک مصنف جب انھیں اپنے کسی مضمون میں استعمال کرتا ہے اپنے مضمون کے سیاق و سباق کے لحاظ سے کوئی ایک ہی معنی اس کے پیش نظر ہوتا ہے، سوائے یہ کہ مصنف کا مقصد ہی ابہام پیدا کرنا یا ذو معنی کلام کرنا ہو، لیکن اگر مقصد اپنے مدعا اور مفہوم کو دوسروں کو سمجھانا اور پیغام کا واضح طور پر پہنچانا ہو تو مصنف کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ کلام کو ایسا بیان کرے کہ ایک سے زیادہ معنی مراد نہ لیے جا سکیں۔ قرآن کو محض لغت کی مدد سے حل کرنے کی روش قرآن کے امکانات کو وسیع نہیں کرتا، بلکہ اس کی فرقان اور میزان ہونے کی حیثیت کو کالعدم کر دیتا ہے۔
قرآن مجید کا سیاق و سباق، اور اس کا نظم، قطعی طور پر ایک ہی معنی متعین کرتے ہیں۔ احتمالات البتہ، قاری کے ذہن میں پیدا ہوتے ہیں یہ کلام کا نقص یا خوبی نہیں، ایسا ہر علم میں ہوتا ہے، کسی بھی علم کے بیان کے سمجھنے میں اختلاف فہم سے اختلاف آرا ہو جاتا ہے، لیکن پھر کوشش ہمیشہ یہ کی جاتی ہے کہ مختلف احتمالات کی صورت میں قطعی مرادی مطلب تک پہنچے کے لیے درست طریقے سے زیادہ سے زیادہ تدبر کیا جائے۔ یہی اصول قرآن کے بارے میں بھی برتا جائے گا۔ غامدی صاحب کا ترجمہ قرآن، ‘البیان’، یہ بات بالکل واضح کر کے دکھا دیتا ہے کہ قرآن ایک مربوط اور غیر محتمل، قطعی الدلالہ کلام ہے۔ قرآن مجید کے ترجمے میں کلام کے سیاق و سباق، اس کے نظم، ربط آیات، کلام میں مختلف مخاطبین کے تعین، محذوفات کے کھولنے اور عربیت کی باریکیوں کو مدنظر رکھا گیا ہے، اس نے قرآن فہمی کا دروازہ کھول دیا ہے۔ اس کی قدر کرنے والے تو کر ہی رہے ہیں، تاہم، اس کی قدر و قیمت آنے والے وقتوں میں سامنے آتی چلی جائے گی۔
اس پر مستزاد یہ ہے کہ غامدی صاحب کے اس عظیم الشان ترجمے پر خود غامدی صاحب اور ان کے اہل علم متعلقین کی طرف سے مسلسل نظر ثانی کی جاتی ہے اور کوئی معمولی سے معمولی سقم بھی اگر محسوس کیا جائے تو اسے دور کر کے اسے مزید بہتر بنایا جاتا ہے۔ تراجم کی تاریخ میں ایسی علمی روش کہیں کم ہی ملے گی۔

اس تحریر كو شیئر كریں
Share on facebook
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on email
Dr Irfan Shehzad

Dr Irfan Shehzad

Dr Irfan Shehzad belongs to Rawalpindi, Pakistan. He holds a doctorate in Islamic Studies from National University of Modern Languages (NUML) Islamabad, Pakistan. He is working as a companion to Ghamidi Center of Islamic Learning Dallas, USA. He is an assistant research fellow with Al-Mawird Pakistan. He is the author of the book, “Qanoon-e-Itmam-e-Hujjat awr Us kay Itlaqaat: Janab Javed Ahmad Ghamidi ki Tawzihaat par Aetrazaat awr Ishkalaat ka Jaiza”, published by Almawrid Lahore Pakistan. Dr Irfan Shehzad writes and speaks on religious, social and sociopolitical issues. His articles are published in different scholarly journals including Ishraq, Lahore, Pakistan, Al-Shariah Gujranwala Pakistan and on social media.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *