مشرکین کے حق میں حضرت ابراہیم اور حضرت عیسی علیھما السلام کی دعاؤں کا اسلوب

کسی مجرم کو صاحبان اختیار (مثلا عدالت، پولیس وغیرہ) کے حوالے کرتے ہوئے، اگر ہمارے الفاظ یوں ہوں کہ صاحب، مجرم حاضر ہے۔ آپ مہربان شخصیت اور معاف کرنے والے ہیں۔ یا اس موقع پر یوں کہا جائے صاحب، آپ کا اختیار ہے۔ ان کے ساتھ جو چاہے سلوک کریں، اگر معاف کر دیں آپ کو اس کا بھی اختیار حاصل ہے۔
یہ انداز، مجرم کو صاحب اختیار کے محض حوالے کرنے کا اسلوب ہے یا سفارش کا پہلو بھی رکھتا ہے؟
اس کے برعکس جب آپ کسی عادی مجرم مثلا کسی عادی چور یا خون خوارقاتل کو پکڑ کر پولیس کے حوالے کرتے ہیں جس سے کوئی ہمدردی آپ کو نہیں، تو انداز کیا ہوتا ہے؟ کیا اس موقع پر ہمدردی، بخشش، مہربانی جیسےالفاظ اختیار کیے جاتے ہیں؟ یقینا نہیں۔
اب حضرت ابراہیم اور حضرت عیسی علیھما السلام کی دعاؤں کے الفاظ اور اسلوب ملاحظہ کیجیے:
وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ رَبِّ اجْعَلْ هَـٰذَا الْبَلَدَ آمِنًا وَاجْنُبْنِي وَبَنِيَّ أَن نَّعْبُدَ الْأَصْنَامَ رَبِّ إِنَّهُنَّ أَضْلَلْنَ كَثِيرًا مِّنَ النَّاسِ ۖ فَمَن تَبِعَنِي فَإِنَّهُ مِنِّي ۖ وَمَنْ عَصَانِي فَإِنَّكَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ (ابرہیم، 35-36)
پروردگار، اِن بتوں نے بہت لوگوں کو گم راہی میں ڈال دیا ہے۔ (یہ میری اولاد کو بھی گم راہ کر سکتے ہیں )، اِس لیے جو (اُن میں سے) میری پیروی کرے، وہ تومیرا ہے اور جس نے میری بات نہیں مانی، اُس کا معاملہ تیرے حوالے ہے، پھر تو بخشنے والا ہے، تیری شفقت ابدی ہے۔
اللہ تعالی اور عیسی علیہ السلام درمیان تثلیت یعنی تین خداؤں کو ماننے والوں کا مقدمہ قرآن نے بیان کیا ہے:
وَإِذْ قَالَ اللَّـهُ يَا عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ أَأَنتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُونِي وَأُمِّيَ إِلَـٰهَيْنِ مِن دُونِ اللَّـهِ ۖ قَالَ سُبْحَانَكَ مَا يَكُونُ لِي أَنْ أَقُولَ مَا لَيْسَ لِي بِحَقٍّ ۚ إِن كُنتُ قُلْتُهُ فَقَدْ عَلِمْتَهُ ۚ تَعْلَمُ مَا فِي نَفْسِي وَلَا أَعْلَمُ مَا فِي نَفْسِكَ ۚ إِنَّكَ أَنتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ ﴿١١٦﴾ مَا قُلْتُ لَهُمْ إِلَّا مَا أَمَرْتَنِي بِهِ أَنِ اعْبُدُوا اللَّـهَ رَبِّي وَرَبَّكُمْ ۚ وَكُنتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَّا دُمْتُ فِيهِمْ ۖ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنتَ أَنتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ ۚ وَأَنتَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ(مائدہ 116-117)
پھر ان کے حق میں یہ الفاظ اختیار کرتے ہیں:
إِن تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ ۖ وَإِن تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ (مائدہ، 118)
اب اگر آپ اُنھیں سزا دیں تو وہ آپ کے بندے ہیں اور اگر معاف کر دیں تو آپ ہی زبردست ہیں، بڑی حکمت والے ہیں.
دعاؤں کا یہ اسلوب محض خدا کی قدرت اور اختیار کا اظہار ہے یا اس کی رحمت کی وسعت کا بھی؟ کیا یہ محض خدا کے اختیار کے حوالے کرنا ہے یا خدا کی رحمت اور مغفرت کے دامن کے حوالے کرنا ہے؟
اب حضرت عیسی علیہ السلام کی دعا کے جواب میں خدا کا فرمان دیکھیے جس سے معاملہ واضح ہو جاتا ہے:
قَالَ اللَّـهُ هَـٰذَا يَوْمُ يَنفَعُ الصَّادِقِينَ صِدْقُهُمْ ۚ لَهُمْ جَنَّاتٌ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ۚ رَّضِيَ اللَّـهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ ۚ ذَٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ (مائدہ 1119)
اللہ فرمائے گا: یہ وہ دن ہے جس میں سچوں کی سچائی اُن کے کام آئے گی۔ اُن کے لیے باغ ہوں گے جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں، وہ اُن میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ اُن سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے۔ یہی بڑی کامیابی ہے۔ زمین و آسمان اور اُن کے اندر تمام موجودات کی بادشاہی اللہ ہی کے لیے ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔
درج بالا آیات اپنے مدعا اور مفہوم کے بیان میں بالکل واضح ہیں۔
اللہ تعالی نے قرآن مجید میں جہاں کفار کو عذاب کی وعیدیں سنائی ہیں یا جن مشرکین اور کفار کے حق میں دعا کرنے سے منع کیا ہے، یہ وہ لوگ تھے جو نبیوں کی تبلیغ دین و حق کے جواب میں سرکشی دکھا رہے تھے۔ یہ وعیدیں ان کو سنائی گئی ہیں نہ کہ ہر اس شخص کو جو اتفاقا غیر مسلم واقع ہوا ہے یا کسی غلط فہمی کا شکار ہو کر دین حق قبول نہیں کرتا۔ وعید سرکشی پر ہے، لا علمی اور غلط فہمی پر نہیں۔
اسلام کو جب یہودیت کی طرح ایک Sociopolitical شناخت، اور مسلمانوں کو ایک Sociopolitical اکائی تصور کر لیا گیا تو اس کے بعد یہ بھی ضروری ہوگیا کہ خدا اور اس کی رحمت کو بھی قومِ یہود کی طرح ہی قومیا لیا جائے۔ مگر خدا تو خدا ہے۔ جہاں اسے یہ اصرار ہے کہ اس کا بھیجا ہوا دین اسلام ہی اصل دین حق ہے، وہاں وہ یہ بھی جانتا ہے کہ اس کے حالات اور صلاحیتیں ایک جیسی نہیں ہیں۔ ایک ہی لاٹھی سے ہانکنا خدا کے علم و عدل کے منافی ہے۔ چنانچہ وہ فرق کرتا ہے کہ اس کے دین کو تسلیم نہ کرنے والوں میں سرکش کون ہیں ،جان بوجھ کر غفلت پر مصر کون ہیں اور کون ہیں جو علم کی غلطی، سادہ دلی اور دیانت داری سے گمراہ ہو گئے۔ ایسے لوگوں کے اعذار قابل قبول ہو سکتے ہیں اسی امکان کے پیش نظر انبیا نے بھی ان کی سفارشیں کیں۔
قرآن مجید میں ایسے مخلص سادہ دل شخصیات کی مثال بھی موجود ہے جو ایک غلط عقیدے کو پوری دیانت داری سے حق جان کر مانتے رہے۔پھر جب معلوم ہوا کہ حق یہ نہیں کچھ اور ہے تو اسے چھوڑ کر حق کو اپنا لیا۔ یہ ان سادہ دل جنوں کا قصہ ہے جو سورہ جن میں بیان ہوا ہے۔ ان سادہ دل جنوں کی شخصیت انھیں کے الفاظ میں ملاحظہ کیجیے:
قُلْ أُوحِيَ إِلَيَّ أَنَّهُ اسْتَمَعَ نَفَرٌ مِّنَ الْجِنِّ فَقَالُوا إِنَّا سَمِعْنَا قُرْآنًا عَجَبًا يَهْدِي إِلَى الرُّشْدِ فَآمَنَّا بِهِ ۖ وَلَن نُّشْرِكَ بِرَبِّنَا أَحَدًا وَأَنَّهُ تَعَالَىٰ جَدُّ رَبِّنَا مَا اتَّخَذَ صَاحِبَةً وَلَا وَلَدًا وَأَنَّهُ كَانَ يَقُولُ سَفِيهُنَا عَلَى اللَّـهِ شَطَطًا وَأَنَّا ظَنَنَّا أَن لَّن تَقُولَ الْإِنسُ وَالْجِنُّ عَلَى اللَّـهِ كَذِبًا۔(سورہ جن 1-5)
اِنھیں بتاؤ، (اے پیغمبر) کہ مجھے وحی کی گئی ہے کہ جنوں کی ایک جماعت نے اِس کو سنا تو اپنی قوم سے (جا کر) کہا: ہم نے ایک بڑا ہی دل پذیر قرآن سنا ہے جو ہدایت کا راستہ دکھاتا ہے، سو ہم اُس پر ایمان لے آئے ہیں اور اب ہم ہرگز کسی کو اپنے پروردگار کا شریک نہ ٹھیرائیں گے۔اور یہ بھی کہ ہمارے رب کی شان بہت اونچی ہے، اُس نے اپنے لیے کوئی بیوی بنائی ہے نہ اولاد۔اور یہ بھی کہ ہمارا یہ احمق (سردار) اللہ کے بارے میں بالکل حق سے ہٹی ہوئی باتیں کہتا رہا ہے۔اور یہ بھی کہ ( ہم اِس کے پیچھے صرف اِس لیے چلتے رہے کہ) ہم نے سمجھا تھا کہ کیا جن اور کیا انسان، اللہ پر کوئی بھی جھوٹ نہیں باندھ سکتا۔
جنوں کے افراد کےان الفاظ پر غور کیجیے:
” اور یہ بھی کہ ہمارا یہ احمق (سردار) اللہ کے بارے میں بالکل حق سے ہٹی ہوئی باتیں کہتا رہا ہے۔اور یہ بھی کہ ( ہم اِس کے پیچھے صرف اِس لیے چلتے رہے کہ) ہم نے سمجھا تھا کہ کیا جن اور کیا انسان، اللہ پر کوئی بھی جھوٹ نہیں باندھ سکتا۔”
اگر دینِ حق ان کے سامنے نہ آتا تو یہ اسی سادہ دلی کے ساتھ اپنے پہلے عقیدے کو ہی حق مان کر چلتے رہتے۔ تو کیا یہ اس بنا پر مستحق عذاب ہوتے کہ ایک غلط عقیدے کو کیوں اختیار کیے رہے؟
ایسے لوگوں کی تعداد ہمیشہ بہت کم ہوتی ہے جو خود سے تجزیہ کر کے کسی نتیجے پر پہنچتے ہیں۔ زیادہ تر لوگ مان کر چلنے والے ہوتےہیں۔ تاہم یہ مطلقا بری الذمہ نہیں ہیں۔ ایسے لوگوں کی آزمایش کا وقت تب آتا ہے جب حق بات ان کے سامنے آ جائے پھر دیکھا جاتا ہے کہ ان کا رویہ کیا ہوگا۔ ان میں سے فلاح وہی پائے گا جو حق بات جان لینے کے بعد اسے تسلیم کر لے، انکار نہ کرے۔لیکن ایسے کسی شخص پر حق واضح ہی نہیں ہوا اوروہ ماحول سے متاثر ہو کر چلتا جا رہا ہے اور وہ خود اتنا باصلاحیت نہیں کہ کسی نتیجے تک پہنچ جائے، تو ایسے لوگ ہیں جو خدا کی رحمت کے مستحق ہیں اور اسی لیے دعائے رحمت کے مستحق بھی۔
قوم پرستوں کے ہاں دین اور ہدایت کو قومیانے کی نفسیات اپنے اندر کے فرقوں اور مکاتب فکر کو تو ان کے صریح شرک اور کفر کے باوجود رعایت دینے کو تیار ہے لیکن یہ رعایت وہ اسلام کے دائرے سے باہر غیر مسلموں کو دینے کو تیار نہیں ہوتی۔ ان سادہ فکر مسلمانوں کے لاعلم دینی اور روحانی رہنما جنوں کے سرداروں کی طرح انھیں بھی قصے کہانیاں اور بے بنیاد منطقیانہ دلائل سے گمراہ کرتے ہیں اور وہ بھی ان جنوں کے ان عوام کی طرح ہی یہ گمان کر لیتے ہیں کہ ان کے یہ رہنما خدا پر جھوٹ نہیں باندھ سکتے، جو بتا رہے ہیں سچ ہی بتا رہے ہوں گے، لیکن ایسے مسلمانوں پر کفر کا فتوی نہیں لگایا جاتا اور ان کے حق میں دعائے خیر نہ کرنے کا حکم بھی نہیں دیا جاتا، یہ صرف اس لیے کہ ان کی مذہبی شناخت مسلم ہے۔ لیکن یہی رعایت ایک غیر مسلم کو محض اس بنا پر نہیں دی جاتی کہ وہ مسلم نہیں ہے۔ حقیقت کے اعتبار سےان دونوں میں بنیادی فرق نہیں ۔ یہ قوم پرستی کا مرض ہے، اسے حق پرستی سے بدلنا لازم ہے۔
دین، ہدایت اور خدا اور اس کی رحمت کو یہود کی طرح قومیانے کی اس نفسیات کے لیے دین،عبودیت سے زیادہ شناخت کا مسئلہ ہوتا ہے۔ جس طرح اسلام کی شناخت غیر مسلم سے شیئر نہیں کی جا سکتی، قوم پرست خدا اور اس کی رحمت کو بھی شیئر نہیں کرنا چاہتے۔
جن محققین اور اہل علم کے ہاں خدا کی رحمت کا امکان ایسے غیر مسلم تک ممتد مانا گیا ہے جن کو معرفت حق اور قبول حق میں اعذار لاحق ہوئے، تو ان کے لیے دعائے رحمت و مغفرت کرنا بھی درست تسلیم کرنا بدیہی نتیجہ ہے اور اس کے لیے ہمارے پاس پیغمبروں کا اسوہ موجود ہے۔ تاہم، راقم کی راے میں کفر و حق پرستی کا رویہ مسلم اور غیر مسلم میں یکساں نوعیت رکھتا ہے۔یہ ممکن ہے کہ یہ مسلم شناخت رکھنے والا شخص حق کے انکار میں ویسا ہی رویہ دکھائے جسے کفر کہا جا سکتا ہے۔ تاہم، بندوں کے کفر و ایمان کا فیصلہ کرنا خدا کا کام ہے۔
یہ دین حق اور غیر دین کو خلط اور دونوں کو جائز کرنے کا مسئلہ نہیں، انسانوں کو لاحق ہونے والے اعذار کا مسئلہ ہے۔ خدا کی رحمت جہاں مسلم و غیر مسلم تمام مستحق رحمت انسانوں کو محیط ہے، اس کے مقابل اس کے بندوں کی دعائے رحمت بھی ان سب کو محیط ہونی چاہیے۔

اس تحریر كو شیئر كریں
Share on facebook
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on email
Dr Irfan Shehzad

Dr Irfan Shehzad

Dr Irfan Shehzad belongs to Rawalpindi, Pakistan. He holds a doctorate in Islamic Studies from National University of Modern Languages (NUML) Islamabad, Pakistan. He is working as a companion to Ghamidi Center of Islamic Learning Dallas, USA. He is an assistant research fellow with Al-Mawird Pakistan. He is the author of the book, “Qanoon-e-Itmam-e-Hujjat awr Us kay Itlaqaat: Janab Javed Ahmad Ghamidi ki Tawzihaat par Aetrazaat awr Ishkalaat ka Jaiza”, published by Almawrid Lahore Pakistan. Dr Irfan Shehzad writes and speaks on religious, social and sociopolitical issues. His articles are published in different scholarly journals including Ishraq, Lahore, Pakistan, Al-Shariah Gujranwala Pakistan and on social media.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *