عہد رسالت میں مرد اورخواتین کے سماجی اختلاط اور روابط کی جہات ڈاکٹر محمد یسین مظہر صدیقی کی کتاب “رسول اکرم اور خواتین ایک سماجی مطالعہ” کے تناظر میں

ہمارے ہاں مسلم ذہن علمی سے زیادہ تاریخی، بلکہ شخصی واقع ہوا ہے۔ یہ علم کو استدلال سے زیادہ، شخصی مثال سے سمجھتا ہے۔ علمی بنیادوں پر استوار نتائج اس کے ہاں وہ پذیرائی نہیں پاتے، جو شخصی مثالوں کے ذریعے سےقبولیت پاتے ہیں۔ ایسے علمی نتائج جن کا پیش کار قابل گردن زنی قرار پاتا ہے، وہی نتائج شخصی مثالوں سے حرزِ جاں بنائے جا سکتے ہیں۔ شخصی مثالوں میں موجود غیر مطلوب افعال اور رویے بھی محل استدلال اور وجہ تقلید اور ذوقی معاملات دین کے مطالبات بن جاتے ہیں۔ یہ رجحان عوامی حلقوں میں ہی نہیں، اہل علم کے ہاں بھی پوری شدت کے ساتھ پایا جاتا ہے۔
اس کی ایک نمایاں مثال جناب جاوید احمد غامدی اور مولانا ڈاکٹر محمد یسین مظہر صدیقی صاحب کا مر ددوں اور عورتوں کے اختلاط سے متعلق دینی تصور ہے، جو روایتی دینی طبقات کے ہاں پائے جانے والے تصور سے مختلف ہے۔ غامدی کے استدلال کی بنیاد قرآن مجید کی نصوص ہیں، جب کہ صدیقی صاحب اسے سیرت نبوی سے اخذ کرتے ہیں۔ غامدی صاحب نے مرد و زن کے اختلاط کے بارے میں جس متوازن موقف کو علمی استدلال سے پیش کر کے روایتی دینی طبقے سے طعن وصول کیے، مظہر صدیقی صاحب نے اسی تصور کو سیرت کی مثالوں سے مزین کرکے پیش کر کے انھیں روایتی دینی طبقات سے خراج تحسین وصول کیا۔
غامدی صاحب نے سورہ نور کی آیات 30 اورر 31 سے استدلال کیا کہ یہاں مردو زن کے اختلاط کے آداب بیان کیے گئے ہیں۔ اس سے پہلی بات یہ معلوم ہوئی ہے کہ مرد و زن کا اختلاط اصلاً اور مطلقاً ممنوع نہیں ، بلکہ آداب کے ساتھ روا ہے۔سورہ میں یہ ہدایات دی گئی ہیں کہ
{قُلْ لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ ذَلِكَ أَزْكَى لَهُمْ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا يَصْنَعُونَ وَقُلْ لِلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَى جُيُوبِهِنَّ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا لِبُعُولَتِهِنَّ أَوْ آبَائِهِنَّ أَوْ آبَاءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ أَبْنَائِهِنَّ أَوْ أَبْنَاءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ إِخْوَانِهِنَّ أَوْ بَنِي إِخْوَانِهِنَّ أَوْ بَنِي أَخَوَاتِهِنَّ أَوْ نِسَائِهِنَّ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُنَّ أَوِ التَّابِعِينَ غَيْرِ أُولِي الْإِرْبَةِ مِنَ الرِّجَالِ أَوِ الطِّفْلِ الَّذِينَ لَمْ يَظْهَرُوا عَلَى عَوْرَاتِ النِّسَاءِ وَلَا يَضْرِبْنَ بِأَرْجُلِهِنَّ لِيُعْلَمَ مَا يُخْفِينَ مِنْ زِينَتِهِنَّ وَتُوبُوا إِلَى اللَّهِ جَمِيعًا أَيُّهَ الْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ} [النور: 30، 31]
(اے پیغمبر)، اپنے ماننے والوں کو ہدایت کرو کہ (اِن گھروں میں عورتیں ہوں تو) اپنی نگاہیں بچا کر رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں۔ یہ اُن کے لیے زیادہ پاکیزہ طریقہ ہے۔ اِس میں شبہ نہیں کہ جو کچھ وہ کرتے ہیں، اللہ اُس سے خوب واقف ہے۔ اور ماننے والی عورتوں کو ہدایت کرو کہ وہ بھی اپنی نگاہیں بچا کر رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں اور اپنی زینت کی چیزیں نہ کھولیں، سواے اُن کے جو اُن میں سے کھلی ہوتی ہیں اور اِس کے لیے اپنی اوڑھنیوں کے آنچل اپنے گریبانوں پر ڈالے رہیں۔ اور اپنی زینت کی چیزیں نہ کھولیں، مگر اپنے شوہروں کے سامنے یا اپنے باپ، اپنے شوہروں کے باپ، اپنے بیٹوں، اپنے شوہروں کے بیٹوں، اپنے بھائیوں، اپنے بھائیوں کے بیٹوں، اپنی بہنوں کے بیٹوں، اپنے میل جول کی عورتوں اور اپنے غلاموں کے سامنے یا اُن زیر دست مردوں کے سامنے جو عورتوں کی خواہش نہیں رکھتے یا اُن بچوں کے سامنے جو عورتوں کی پردے کی چیزوں سے ابھی واقف نہیں ہوئے۔ اور اپنے پاؤں زمین پر مارتی ہوئی نہ چلیں کہ اُن کی چھپی ہوئی زینت معلوم ہو جائے۔ ایمان والو، (اب تک کی غلطیوں پر) سب مل کر اللہ سے رجوع کرو تاکہ تم فلاح پاؤ۔
{يَانِسَاءَ النَّبِيِّ لَسْتُنَّ كَأَحَدٍ مِنَ النِّسَاءِ إِنِ اتَّقَيْتُنَّ فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَيَطْمَعَ الَّذِي فِي قَلْبِهِ مَرَضٌ وَقُلْنَ قَوْلًا مَعْرُوفًا وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَ
مرد اور خواتین کے اختلاط کے موقع پردونوں کو اپنی نظروں اور اندیشے کی جگہوں کی حفاظت کرنی چاہیے۔ خواتین نے اگر بناؤ سنگھار (زینت) کر رکھا ہو تو انھیں چاہیے کہ اسے ڈھانپ لیں، البتہ اس زیب و زینت میں سے جو عموماً ظاہر اور کھلارہتا ہے اس کے کھلا رہنے میں کوئی حرج نہیں (الا ماظھر منھا)۔ یہ اسی اصول پر ہے کہ دین میں کوئی تنگی نہیں ہے۔ اس کھلا رہنے میں چہرے اور ہاتھوں کا کھلا رہنا تمام مفسرین کے نزدیک مسلّم ہے۔ اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ اختلاط کے اس موقع پر چہرہ زیب و زینت کے ساتھ بھی کھلا رہ سکتا ہے، چہ جائیکہ چہرے کے پردے کو مسلمہ اسلامی حکم کے حیثیت سے پیش کیا جائے، بلکہ اس سے بھی آگے بڑھ کر ہاتھوں اور آنکھوں تک کو چھپانا مطلوب و مستحسن باور کرایا جائے، بلکہ مرد و خواتین کے اختلاط کو مطلقا ممنوع اور حرام سمجھا جائے۔ سورہ میں خواتین کو مزید یہ ہدایت بھی دی گئی پاؤں میں اگر کوئی بجنے والا زیور انھوں نے پہن رکھا ہو تو اسے اتارنا ضروری نہیں، البتہ پاؤں اتنے زور سے مار کر نہ چلیں کہ مرد حضرات متوجہ ہوں۔
وحی کا نزول اسی لیے ہوا ہے کہ جن معاملات میں انسان درست نتیجے پر نہیں پہنچ پاتا، وحی اس کی رہنمائی کرتی ہے۔ عورت ہر دور میں مردانہ تعصبات کا نشانہ رہی ہے۔ اس کے پردے کا معاملے جس افراط و تفریط کا ہدف اب تک ہے وہ معلوم حقیقت ہے۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ قرآن مجید میں مرد و زن کے اختلاط سے متعلق یہ متوازن اور معتدل ہدایات خود خدا نے جاری کرنا ضروری سمجھا ہے۔ مختلف تاریخی اور تہذیبی عوامل کے تحت مدتوں میں تشکیل پا جانے والے روایتی مسلم ذہن کے لیے یہ علمی استدلال اور اس پر مبنی نتائج قابل قبول نہ ہوئے۔ ان کے خلاف سورہ احزاب کی آیات 33 اور 59 سےاستدلال کیا گیا ۔ غامدی صاحب نے آیت 59 کے بارے میں توجہ دلائی کہ اس آیت کا سیاق و سباق بتارہا ہے کہ یہ خواتین کے لیے ایک احتیاطی و انتظامی تدبیر اختیار کرنے کی ہدایت تھی اور اس کی وجہ ،
{يَانِسَاءَ النَّبِيِّ لَسْتُنَّ كَأَحَدٍ مِنَ النِّسَاءِ إِنِ اتَّقَيْتُنَّ فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَيَطْمَعَ الَّذِي فِي قَلْبِهِ مَرَضٌ وَقُلْنَ قَوْلًا مَعْرُوفًا وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَى وَأَقِمْنَ الصَّلَاةَ وَآتِينَ الزَّكَاةَ وَأَطِعْنَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا} [الأحزاب: 32، 33]
تم اپنے گھروں میں ٹک کر رہو اور اگلی جاہلیت کی سی سج دھج نہ دکھاتی پھرو۔ اور نماز کا اہتمام رکھو اور زکوٰۃ دیتی رہو اور اللہ اور اُس کے رسول کی اطاعت پر قائم رہو۔ اللہ تو یہی چاہتا ہے، اِس گھر کی بیبیو کہ تم سے (وہ) گندگی دور کرے (جو یہ منافق تم پر تھوپنا چاہتے ہیں) اور تمھیں پوری طرح پاک کر دے۔ نبی کی بیویو، تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو۔ اگر تم خدا سے ڈرو تو (اِن لوگوں کے ساتھ) نرمی کا لہجہ اختیار نہ کرو کہ جس کے دل میں بیماری ہے، وہ کسی طمع خام میں مبتلا ہو جائے اور معروف کے مطابق بات کرو۔
{وَالَّذِينَ يُؤْذُونَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ بِغَيْرِ مَا اكْتَسَبُوا فَقَدِ احْتَمَلُوا بُهْتَانًا وَإِثْمًا مُبِينًا يَاأَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِنْ جَلَابِيبِهِنَّ ذَلِكَ أَدْنَى أَنْ يُعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَحِيمًا } [الأحزاب: 58، 59]
(اِن کی شرارتوں سے اپنی حفاظت کے لیے)، اے نبی، تم اپنی بیویوں اور اپنی بیٹیوں اور سب مسلمانوں کی عورتوں کو ہدایت کر دو کہ (اندیشے کی جگہوں پر جائیں تو) اپنی چادروں میں سے کوئی بڑی چادر اپنے اوپر ڈال لیا کریں۔ اِس سے امکان ہے کہ الگ پہچانی جائیں گی تو ستائی نہ جائیں گی۔ اِس کے باوجود (کوئی خطا ہوئی تو) اللہ بخشنے والا ہے، اُس کی شفقت ابدی ہے۔ اور جو مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں کو (اِسی طرح اُن پر تہمتیں لگا کر)، بغیر اِس کے کہ اُنھوں نے کچھ کیا ہو، اذیت دے رہے ہیں، اُنھیں بھی معلوم ہونا چاہیے کہ اُنھوں نے بڑے بہتان اور صریح گناہ کا بوجھ اپنے سر لے لیا ہے۔
جیسا کہ سورہ کا سیاق و سباق بتا رہا ہے، یہ تھی کہ اُس وقت مدینہ میں منافقین نے مختلف حیلوں، بہانوں سے مسلم خواتین کی اذیت رسانی، بہتار طرزای اور چھیڑ چھاڑ کی مہم شروع کر رکھی تھی۔ ان کے قطع عذر کے لیے یہ ہدایت دی گئی کہ مسلم خواتین ایک اضافی چادر لے کر گھروں سے نکلیں جو ان کے معزز گھرانے کی خاتون ہونے کی پہچان بن جائے تاکہ منافقین انھیں چھیڑنے کی جرات نہ کریں اور اگر پھر بھی باز نہ آئیں تو ریاستی طاقت سے انھیں سزا دی جائے۔ یہ گھر سے باہر اوباشوں کی موجودگی کی بنا پر دیا جانے والا حکم تھا۔ جب کہ اسی سورہ کی آیات 32 اور 33 میں انھیں منافقین کی ازواج نبی کے خلاف ریشہ دوانیوں اور شرارتوں کی وجہ سے ازواج نبی کو یہ حکم دیا گیا تھا کہ وہ چونکہ عام خواتین کی طرح نہیں ہیں، اس لیے ان کے لیے حجاب کے خصوصی احکام دیے جا رہے ہیں، جس میں یہ بھی تھا کہ وہ گھروں میں ٹک کر رہیں اور عام خواتین کی طرح باہر کی چلت بھرت ترک کردیں۔ سیرت سے مطالعہ سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ ازواج نبی کا خصوصی حجاب عام خواتین استعمال نہیں کرتی تھیں۔ جس خاتون سے رسول اللہ ﷺ نکاح فرماتے اس کو ازواج نبی میں تب ہی شمار کیا جاتا جب یہ معلوم ہوتا کہ رسول اللہ ﷺ نے اسے خصوصی حجاب کرایا دیا ہے ۔ حضرت ریحانہ بنت شمعون نے اسی بنا پر رسول اللہ ﷺ کے حبالہ عقد
حضرت صفیہ جوغزوہ خیبر میں بطور قیدی آئی تھیں، ان کے بارے میں مسلمانوں میں کنفیوژن پیدا ہوئی کہ رسول اللہ ﷺ ان کو کس حیثیت سے رکھیں گے۔ اس پر کہا گیا کہ اگر آپؐ نے انھیں حجاب کرایا تو وہ رسول اللہ ﷺ کی ام المومنین ہوں گی ورنہ آپؐ کی باندی ۔ آپؐ جب کوچ کرنے لگے تو آمؐ نے اپنی سواری کے پیچھے ان کی جگہ بنائی اور انھیں حجاب کرا دیا۔ (بخاری، 3122)
عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا نکاح اسماء بنت نعمان رضی اللہ عنہا سے ہوا، لیکن رخصتی سے قبل علیحدگی ہو گئی۔ آپ کی وفا ت کے بعد اسماء نے مہاجر بن ابی امیہ سے نکاح کر لیا تو سیدنا عمر نے اس پر انھیں سزا دینا چاہی (کیونکہ امہات المومنین کے لیے کسی اور سے نکاح کرنا ممنوع تھا)۔ اس پر اسماء بنت نعمان نے یہ دلیل پیش کی:
واللہ ما ضرب علی حجاب ولا سمیت بام المومنین (الاصابہ، ترجمہ اسماء بنت النعمان)
’’بخدا، نہ تو مجھ پر حجاب کا حکم نافذ کیا گیا اور نہ مجھے ام المومنین قرار دیا گیا)۔‘‘
مراد یہ تھی کہ چونکہ رخصتی سے قبل ہی علیحدگی ہو گئی تھی، اس لیے مجھ پر امہات المومنین کے مخصوص شرعی احکام لاگو نہیں ہوتے۔ چنانچہ سیدنا عمر نے انھیں سزا دینے کا فیصلہ واپس لے لیا۔
قیلہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کا نکاح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بالکل آخری دنوں میں ہوا، لیکن رخصتی سے قبل آپ کا انتقال ہو گیا۔ بعد میں عکرمہ رضی اللہ عنہ نے ان سے نکاح کر لیا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میرا یہ جی چاہتا ہے کہ ان دونوں کو ان کے گھر سمیت جلا دوں۔ لیکن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ
ما ھی من امھات المومنین ولا دخل بہا ولا ضرب علیہا الحجاب (الاصابہ، ترجمہ قیلہ بنت قیس)
’’وہ امہات المومنین میں سے نہیں۔ اس کی رخصتی نہیں ہوئی اور نہ اس پر حجاب عائد کیا گیا۔‘‘
حجاب امہات المومنین کے لیے خاص تھا : امام طحاوی رحمہ اللہ کی توضیح ملاحظہ ہو:
أَنَّ قَوْلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي ذَكَرُوا فِي حَدِيثِ أُمِّ سَلَمَةَ «إِذَا كَانَ لِإِحْدَاكُنَّ مُكَاتَبٌ , وَكَانَ عِنْدَهُ مَا يُؤَدِّي فَلْتَحْتَجِبْ مِنْهُ», لَا يَدُلُّ عَلَى مَا قَالَ: أَهْلُ تِلْكَ الْمَقَالَةِ , لِأَنَّهُ قَدْ يَجُوزُ أَنْ يَكُونَ أَرَادَ بِذَلِكَ حِجَابَ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ , فَإِنَّهُنَّ قَدْ كُنَّ حُجِبْنَ عَنِ النَّاسِ جَمِيعًا , إِلَّا مَنْ كَانَ مِنْهُمْ ذُو رَحِمٍ مَحْرَمٍ. فَكَانَ لَا يَجُوزُ لِأَحَدٍ أَنْ يَرَاهُنَّ أَصْلًا إِلَّا مَنْ كَانَ بَيْنَهُنَّ وَبَيْنَهُ رَحِمٌ مَحْرَمٌ , وَغَيْرُهُنَّ مِنَ النِّسَاءِ , لَسْنَ كَذَلِكَ لِأَنَّهُ لَا بَأْسَ أَنْ يَنْظُرَ الرَّجُلُ مِنَ الْمَرْأَةِ الَّتِي لَا رَحِمَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا , وَلَيْسَتْ عَلَيْهِ بِمَحْرَمَةٍ إِلَى وَجْهِهَا وَكَفَّيْهَا (شرح معاني الآثار (4/ 332)) (تحقیق ڈاکٹر عمار خان ناصر)
الاصابہ، ترجمہ ریحانہ بنت شمعون
میں آنے سے معذرت کر لی تھی کہ وہ اس خصوصی حجاب کی پابندی اختیار نہیں کرنا چاہتی تھی ۔ حجاب کا یہ خصوصی حکم ازواج نبی کے لیے اس لیے بھی قابل عمل تھا کہ ان کے معاش اور دیگر ضروریات کا بندوبست فے کی زمینوں کی آمدنی سے کر دیا گیا تھا۔ مدینے کی عام خواتین نے کبھی حجاب کے ان خصوصی احکامات کو نہیں اپنایا جن پر عمل کا حکم ازواج نبی کو دیا گیا تھا۔ وہ اپنی علمی، معاشی ضرورتوں اور سماجی روابط کے تقاضوں سے گھروں سے باہرآتی جاتی رہیں جیسے پہلے آتی جاتی تھیں۔
قرآن مجید سے معلوم کیے گئے یہی نتائج فکر، سیرتِ رسول اللہ ﷺ کے عملی نمونوں سے ڈاکٹر مظہر یسین صدیقی صاحب نے اپنی کتاب، “نبی اکرم اور خواتین ایک سماجی مطالعہ” (شائع کردہ: نشریات لاہور) ، میں سیرت رسول اور سیرت صحابیات کی مثالوں پیش کیے ہیں، جنھیں خاصی پذیرائی ملی اور یہ اس کے مستحق بھی ہیں۔ اپنے ان تحقیقی مضامین کو انھوں نے “گمشدہ اوراق سیرت” کا عنوان دیا ہے، جس کا ایک حصہ یہ کتاب ہے۔ انھوں نے سیرت کے وہ پہلو نمایاں کیے ہیں جو اس سے پہلے اس طرح نمایاں ہو کر سامنے نہ آسکے حالانکہ یہ سب مواد سیرت کے بڑے بڑے واقعات کے پہلو بہ پہلو موجود تھا مگر یک گونہ اوجھل تھا۔
یہاں ان کی کتاب سے چند اقتباسات پیش کیے جاتے ہیں۔ کتاب کے ابتدائیہ میں لکھتے ہیں:
“اختلاط مردو زن کے باب میں باب میں ہماری سوچ بالعموم منفی رہتی ہے اور اس کے لیے ہماری ناقص تربیت اور ناقص تر معلومات ذمہ دار ہیں جو صدیوں کے مردانہ توہمات کی پیدا کردہ ہیں۔” (XI)
مظہر صدیقی صاحب نے نہایت باادب، پروقار اور پر اعتماد انداز میں رسول اللہ ﷺ کی خواتین سے ملاقاتوں کا ڈیٹا اکھٹا کر کے بیان کیا ہے۔ مکی دور کےایسے متعدد واقعات نقل کر نے کے بعد وہ لکھتے ہیں:
“مکی خواتین کی زیارات نبوی کا ایک فقہی اور قانونی نکتہ یہ ہے کہ ان میں محرم اور غیر محرم دونوں قسم کی خواتین طاہرات شامل تھیں۔ محرمات میں پھوپھیاں، رضاعی بہنیں، اور بھانجیاں بھتیجیاں وغیرہ شامل تھیں۔ غیر محرم خواتین پھوپھی زاد، خالہ زاد، چچا زاد بہنیں اور بعض دوسری رشتہ دار جیسے سالیاں اور غیر رشتہ دار خواتین شمار کی جا سکتی ہیں۔” (12)
“انصاری خواتین کے گھروں میں” عنوان سے بھی متعدد واقعات نقل کرنے کے بعد ان کا خلاصہ یوں بیان کیا ہے:
“رسول اکرم ﷺ ان کے گھروں میں بکثرت جایا کرتے تھے۔ ان کے علاوہ ان کی خواتین مطہرات سے بھی ملتے، ان سے کلام و گفتگو فرماتے تھے، ان کے ساتھ کھاتے پیتے، ان کی میزبانی اور مدارات قبول فرماتے تھے۔ دوپہر سر پر آ جاتی تو ان ہی کے گھروں میں قیلولہ فرماتے تھے۔ رات چھا جاتی تو کبھی کبھی شب بسری بھی فرماتے تھے۔ خواتین انصار اور خاتونان مدینہ مہر و محبت کی پتلیاں تھیں اور اسلامی عقیدت اور نبوی محبت سے سرشار بھی۔ وہ آپﷺ کا سر دباتی تھیں، بالوں میں چمپی
الاصابہ، ترجمہ ریحانہ بنت شمعون
عقیدت اور نبوی محبت سے سرشار بھی۔ وہ آپﷺ کا سر دباتی تھیں، بالوں میں چمپی کرتی تھیں اور دوسری خدمات انجام دیتی تھیں۔ آپﷺ کے وجود مسعود اور پاکیزہ جسم اطہر کا گلاب جیسا پسینہ جمع کر لیتی تھیں، موئے مبارک ہاتھ آ جاتے تو سنبھال کر تبرک جان کر سینت لیتی تھیں۔ انصاری خواتین سے رسول اکرم ﷺ کے سماجی روابط پر ایک تحقیقی کتاب لکھی جا سکتی ہے۔” ( 23)
صدیقی صاحب نے بخاری شریف کی ایک روایت کا ذکر بھی کیا ہے، جس کا متن حضرت اسماء بنت ابو بکر رضی اللہ عنھا، زوجہ حضرت زبیر بن العوام رضی اللہ عنہ ،کی زبانی یہ ہے:
زبیر رضی اللہ عنہ کی وہ زمین جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دی تھی، اس سے میں اپنے سر پر کھجور کی گٹھلیاں گھر لایا کرتی تھی۔ یہ زمین میرے گھر سے دو میل دور تھی۔ ایک روز میں آ رہی تھی اور گٹھلیاں میرے سر پر تھیں کہ راستے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات ہو گئی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قبیلہ انصار کے کئی آدمی تھے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا۔ پھر ( اپنے اونٹ کو بٹھانے کے لئے ) کہا: “اخ اخ”۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم چاہتے تھے کہ مجھے اپنی سواری پر اپنے پیچھے سوار کر لیں، لیکن مجھے مردوں کے ساتھ چلنے میں شرم آئی اور زبیر رضی اللہ عنہ کی غیرت کا بھی خیال آیا۔ زبیر رضی اللہ عنہ بڑے ہی باغیرت تھے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی سمجھ گئے کہ میں شرم محسوس کر رہی ہوں۔ اس لئے آپ آگے بڑھ گئے۔ پھر میں زبیر رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور ان سے واقعہ کا ذکر کیا کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم سے میری ملاقات ہو گئی تھی۔ میرے سر پر گٹھلیاں تھیں اور آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کے چند صحابہ بھی تھے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا اونٹ مجھے بٹھا نے کے لئے بٹھایا لیکن مجھے اس سے شرم آئی اور تمہاری غیرت کا بھی خیال آیا۔ اس پر زبیر نے کہا کہ اللہ کی قسم ! مجھ کو تو اس سے بڑا رنج ہوا کہ تو گٹھلیاں لانے کے لئے نکلے اگر تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سوار ہو جاتی تو اتنی غیرت کی بات نہ تھی۔ ( کیونکہ اسماء رضی اللہ عنہا آپ کی سالی اور بھاوج دونوں ہوتی تھیں ) (بخاری 5224)
مدینے کے مخلوط سماجی اجتماعات کے بارے میں صدیقی صاحب لکھتے ہیں:
“شادی بیاہ، عقیقہ اور وفات وغیرہ پر صحابہ اور صحابیات کے مخلوط اجتماع ہوتے تھے۔” (169)
صدیقی صاحب،کسب معاش کے ہر شعبہ میں خواتین کی آزدانہ اور بھرپور شمولیت کا ذکر تے ہیں۔ تجارت و کاروبار سے لے کر مزدوری اور بازار میں خرید و فروخت سے لے کر گھر گھر جا کر اشیاء کی خرید و فروخت کرنے والی خواتین کے بارے میں معلومات فراہم کی ہیں۔ حضرت شفاء کو آپؐ نے بازار کی نگران افسر کے طور پر تعینات کیا تھا۔ (156)
گانے بجانے والی خواتین کا ایک طبقہ بھی تھا جو لوگوں کو اپنے گانے سے لطف اندوز کرتا اور پیسے کماتا تھا ( عورتوں کا حق خرید و فروخت اور کسب معاش، 139- 154)۔ انھیں میں میت پر ماتم و نوحہ کر کے پیسے کمانے والیاں بھی تھیں۔ اس طبقے کا البتہ خاتمہ کر دیا گیا (154، بحوالہ بلاذری 1/360- 361)، کیونکہ نوحہ گری کی مذمت کی گئی ہے، مگر گانے بجانے والیوں کو گوارا کیا گیا۔ ان میں سے بعض خواتین نے خود بلاذری 1/360- 361)، کیونکہ نوحہ گری کی مذمت کی گئی ہے، مگر گانے بجانے والیوں کو گوارا کیا گیا۔ ان میں سے بعض خواتین نے خود رسول اللہ ﷺ کے سامنے کئی بار اپنے فن کا مظاہرہ بھی کیا۔ تاہم جن صحابہ کے مزاج میں سختی تھی جیسے حضرت عمر رضی اللہ عنہ، ان کے سامنے وہ گانے بجانے سے جھجھکتی تھیں۔ ایک روایت جس کا ذکر صدیقی صاحب کی کتاب میں نہیں ملا یہ ہے ناچنے والے حبشیوں کا ایک تماشا بھی رسول اللہ ﷺ نے حضرت عائشہ کو دیر تک کرایا۔
حضرت رفیدہ یا کعیبہ رضی اللہ تعالی عنھا کے بارے میں لکھتے ہیں کہ وہ مستقل جراح و طبیب نبوی تھیں۔ مسجد کے صحن میں ان کا خیمہ مستقل طور پر لگا رہتا تھا جہاں وہ علاج کیا کرتی تھیں اور آپؐ ان سے مسلسل ملاقاتیں فرماتے تھے۔ (118)
صدیقی صاحب ذکر کرتے ہیں کہ جنگوں میں نہ صرف خواتین زخمیوں کو سنبھالتیں بلکہ ان کو ان کے گھروں تک پہنچانے کی مشقت بھی کرتی تھیں۔اپنے اہل تعلق مرد و خواتین کی بیماری میں دونوں طبقات ایک دوسری کی عیادت کیا کرتے تھے۔ امام بخاری نے کتاب المرضی میں ایک باب، “عیادۃ النسا الرجال” کا باب باندھا ہے۔ جس میں وہ ام درداء کا ایک انصاری جو مسجد میں رہتے تھے، کی عیادت کا ذکر کرتے ہیں۔
نکاح و طلاق میں خواتین کی آزادیء انتخاب کے متعدد واقعات کے حوالے دے کر لکھتے ہیں:
نہ صرف ثیبہ (شوہر دیدہ) بلکہ کنوری لڑکیوں کے نکاح جو ان کی پسند کے خلاف کیے گئے، رسول اللہ کی عدالت سے رد کروائے گئے (174) اسی طرح خواتین کی شکایت معقول پا کر آپ نے ان کے مطالبے پر ان کے شوہروں سے ان کے نکاح فسخ کروا دیے۔
معاش اور کاروبار کے سلسلے میں مرد اور خواتین تعامل کے بارے میں مظہر صدیقی صاحب لکھتے ہیں:
“خواتین مرد و تاجروں، خوردہ فرشوں سے خریداری کرتی تھیں اور مرد حضرات متعدد تاجر بی بیوں سے ان کا سامان تجارت خریدتے تھے۔ متعدد مردوں نے خاتون تاجرات سے مضاربت، اجرت اور اشتراک کی بنیاد پر کاروبار کیا اور ان کے گماشتے تک بننے کی جرات کی۔ باغات، کھیتوں اور اموال میں دونوں شانہ بشانہ کام کرنے اور زرعی پیداوار بڑھانے کے کاموں میں حصہ لینے کا پکا ثبوت ہے۔” (170)
صدیقی صاحب علامہ ابن حجر عسقلانی کے حوالے سے باصراحت لکھتے ہے کہ حجاب کے حکم کے بعد بھی ایسے واقعات ملتے ہیں۔ (167) حقیقت یہ ہے کہ حجاب کا کوئی ایسا عمومی حکم کبھی نازل نہیں ہوا جو مردوں اور عورتوں کی ایک دوسرے سے معروف و پر وقار انداز کی سماجی ملاقاتوں کو بھی ممنوع ٹھراتا ہو۔ حجاب کا خصوصی حکم ازواج نبی کے لیے ان کے خصوصی مقام و مرتبے کی وجہ سے دیا گیا تھا اور عام خواتین کو گھر سےنکلتے وقت ایک اضافی چادر ان کی پہچان قائم لینے کا حکم تھا تاکہ منافقین کے پاس یہ عذر نہ رہے کہ انھوں نے انھیں عام خاتون یا لونڈی وغیرہ سمجھ کر ہلکا لے لیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ مظہر صدیقی صاحب کو حجاب کے حکم سے پہلے اور بعد میں صحابیات کی سرگرمیوں میں کوئی فرق نہیں ملا، بلکہ بقول ان کے آیت حجاب کے بعد ان کی سرگرمیوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔
ہر قسم کے لوگوں سے تشکیل پایا ہوا ایک زندہ سماج انسانی کمزوریوں سے مبرا نہیں ہوتا۔ صدیقی صاحب نے اس پہلو کو بھی خوبی سے نمایاں کر کے بتایا ہے کہ اس سے بھی دین و شریعت کی رہنمائی کا کیا خیر برآمد ہوا ہے۔ تاہم، زنا اور ریپ کے واقعات پر سیرت کے باب میں جو رہنمائی ملتی ہے وہ اس کتاب میں نظر نہیں آئی۔ اس موضوع زیر بحث سے متعلق ایک اہم اور چشم کشا واقعہ ایک خاتون کے ریپ کا ہے جو نماز فجر کو جاتے ہوئے ان کے ساتھ پیش آیا۔ خاتون کی تنہا گواہی پر ایک شخص کو مجرم ٹھہرا کر رسول اللہ ﷺ کی عدالت سے اس کی سزا کا فیصلہ بھی صادر ہوا۔ اس پر مجمع میں سے ایک شخص کھڑا ہوا اور اعتراف جرم کرتے ہوئے بتایا کہ اصل مجرم وہ ہے، ایک بے گناہ کو اس کے جرم کی سزا نہ دی جائے۔ خاتون اندھیرے کے باعث اصل مجرم کو پہچان نہ پائی تھی۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ واقعاتی شھادت اگر ایک عورت کی گواہی پر مشتمل ہو تو وہ بھی عدالت کے لیے قابل قبول ہو سکتی ہے۔ دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ اس گھناؤنے حادثے کے باوجود خواتین کے لیے مسجد میں نماز کے لیے آنے پر کسی پابندی کا اعلان نہیں کیا گیا۔ ریاست نے مجرم کو سزا دی مگر مرد کی جارحیت کی سزا عورت کو محبوس یا دفاع پر مجبور کر کے نہیں دی۔ اس موقع پر دفاعی نفسیات اختیار کرنا متاثرہ فریق میں خوف اور عدم اعتماد پیدا کرتے اور مجرموں کی حوصلہ افزائی کا سبب بنتے ہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں اس دفاعی نفسیات کے تحت مردوں کی ہر زیادتی اور جارحیت کے مقابلے میں عورت کو تہہ در تہہ دفاع پر مجبور کیا جاتا ہے۔
ڈاکٹر یسین مظہر صدیقی نے عہد رسالت کے مسلم سماج جو تصویر روایات کی روشنی میں پیش کی ہے وہ ایک زندہ، متحرک اور فطری سماج کا نمونہ ہے، جس پر بعد کے ادوار کی وہ قانونی ، فقہی اور ثقافتی پابندیاں نظر نہیں آتیں جن پرہمارے روایتی دینی طبقے کی طرف سے اصرار کیا جاتا ہے۔
یہ بھی ایک تناقض ہے ہمارا روایتی دینی طبقہ اس لحاظ سے “روایتی دینی” کی تعریف پر بھی پورا نہیں اترتا کہ دور رسالت کی سماجی دینی روایت سے اس کا کوئی حقیقی تعلق نہیں ہے۔ یہ جن دیرینہ روایات کو “اسلامی” سمجھ کر سینے سے لگائے ہوئے ہے وہ درحقیقت جاگیردار اشرافیہ کی روایات ہیں۔ ہندوستان کی جاگیردار اشرافیہ میں بھی ان روایات پر شد ت سے عمل کیا جاتا رہا ہے۔ یہ ان کی تہذیبی اقدار تھیں کہ اشراف کی خواتین کا گھروں سے باہر نکلنا، غیر مردوں سے کسی بھی لحاظ سے ملاقات کرنا سخت معیوب سمجھا جاتا تھا۔ ان کا بازاروں میں جانا ممنوع تھا۔ خریداری کے لیے تجار ان کی دہلیز پر آتے اور اشیاء خدام کے ہاتھوں ان کے سامنے رکھی جاتیں جن سے انھیں انتخاب کرنا ہوتا تھا۔ ان کےخدام خواتین ہوتی یا خواجہ سرا، جب کہ عرب اشراف کی خواتین مرد غلام بھی رکھتی تھیں اور مزدور بھی۔ اپنے کاروبار کے لیے انھیں مضاربت اور شراکت پر شریکِ کاروبار بھی کرتی تھیں ۔ یہ معاملات وہ خود طے کرتی تھیں۔ جاگیردار اشرافیہ کی خواتین آنے جانے کے لیے پالکی استعمال کی جاتی تھی جس کو چاروں طرف سے ڈھانپا جاتا تھا۔ عرب کے گھروں میں زنانہ اور مردانہ بھی الگ الگ نہیں ہوتے تھے، مگر ہندوستان میں یہ الگ الگ ہیں۔ سورہ احزاب میں جہاں ازواج مطہرات کو منافقین کے پروپیگنڈے اور سکینڈل سازی کی مہم کی وجہ سے حجاب کے خصوصی احکامات دیے گئے، وہاں بھی عام مردوں کے لیے یہ گنجایش تھی کہ وہ آپؐ کے گھر میں جب کھانے کے لیے آتے تھے تو پردے کی اوٹ سے ازواج سے کوئی چیز مانگ سکتے تھے ۔ مگر ہندوستانی جاگیردار اشرافیائی سماج میں اس قسم کی حرکت پر لڑائی بلکہ قتل بھی متوقع تھا۔ عورت کی کمائی کو چھوٹے طبقے والوں کی مجبوری گردانتے ہوئے اسے معیوب سمجھنا اسی طبقے کی ذہنیت ہے۔ اسی ذہنیت نے خواتین کا مسجد آنا ممنوع اور معیوب قرار دیا۔ رسول اللہ ﷺ کے صریح حکم کہ خدا کی بندیوں کو مسجد آنے سے مت روکو، اور سیرت کی مثالوں کے برخلاف کچھ صحابہ کی طرف سے سرسری تبصروں سے اس ممانعت کا پورا جواز پیدا کر لیا گیا، حالانکہ خود صحابہ نےخواتین کے مسجد جانے پر پابندی عائد نہیں کی تھی۔ اب خواتین کا مسجد میں آناحرام نہیں تو کم از کم مکروہ تحریمی کے درجے میں سمجھا جاتا ہے۔ عورت پر عدم اعتماد جو اس طبقے کی خصوصیت ہے، اس کا برملا اظہار فتاوی میں یوں کیا گیا ہےکہ عورت کا دل رقیق ہوتا ہے وہ قاری کی آواز پر فدا ہو سکتی ہے، اس فتنے کے ڈر سے اس کے لیے گھروں میں نماز ادا کرنا ہی بہتر ہے۔ جاگیردارانہ کلچر کی اس روایت میں اس بات پر فخر کیا جاتا ہے کہ ان کی عورتوں نے تمام عمر کسی نامحرم کا چہرہ نہیں دیکھا اور ان کی آواز کسی نامحرم نے کبھی نہیں سنی۔ عورت کی آواز کے پردے کی بدعت اسی تہذیب کا شاخسانہ ہے۔ ان کے نزدیک عورت کا وجود ایک چلتا پھرتا فتنہ ہے جسے سات پردوں میں چھپا کررکھنا ضروری ہے۔
ہر دور میں ہر سماج کے اشراف اور عوام کا کلچر مختلف رہا ہے۔ عورت کے معاملے میں یہ فرق بہت نمایاں ہو کر سامنے آتا ہے۔ قدیم یونان اور روم کے اشراف کی خواتین کا پبلک میں آنا، غیر مرد سے بات کرنا سخت معیوب سمجھا جاتا تھا۔ یونانی قانون دان سولن نے خواتین کے لباس کی لمبائی چوڑائی کے قوانین تک وضع کیے تھے۔ لیکن کسی بھی دور میں کسی بھی سماج میں عام عورتوں نے اشرافیہ کی خواتین کا مذکورہ کلچر نہیں اپنایا۔ وہ ایسا کر ہی نہیں سکتے تھے۔ ان کے کم وسائل، ضروریات اور سماجی روابط اس قسم کے پردے کی گنجایش نہیں رکھتےتھے۔ عام عوام کی عورتیں ہمیشہ بازاروں میں آتی جاتی، کھیتوں میں کام کرتی،محنت مزدوری اور دیگر معاشی سرگرمیوں میں مصروف رہیں ہیں۔
رسول اللہ ﷺ کے سماج میں بھی کلچر کی یہ دونوں سطحیں موجود تھیں۔ اس فرق کے ساتھ کہ اشرافیہ کی خواتین زیادہ آزاد اور خود مختار تھیں۔ اور ان کے سماجی روابط بھی اپنے طبقے تک محدودنہیں تھے۔جب کہ عام خواتین کے کلچر کی تفصیل اوپر گزر چکی۔ بعد میں علما نے اس فرق کو نظر انداز کر کے جاگیردارانہ اشرافیہ کے زنانہ کلچر کو اسلامی کلچر کے طور پر متعارف کرا دیا۔
یہ اشرافیائی روایات، اقدار اور تصورات خدا کے دین اور عہد رسالت کے سماج کے لیے محض اجنبی ہیں۔ہمارا دینی روایتی طبقہ درحقیقت اس لحاظ سے روایتی ہے کہ یہ ہندوستان کی جاگیردارانہ اشرافیائی روایات کا امین ہے۔ اسے اسلام یا عہد رسالت اور صحابہ کی روایت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔
مرد و خواتین کے اختلاط کے مسئلے پر غامدی صاحب کا اسلوب مسئلے کو علمی اور معروضی انداز میں پیش کرنے کا ہے، جب کہ مظ
وَإِذَا سَأَلْتُمُوهُنَّ مَتَاعًا فَاسْأَلُوهُنَّ مِن وَرَاءِ حِجَابٍ ۚ ذَٰلِكُمْ أَطْهَرُ لِقُلُوبِكُمْ وَقُلُوبِهِنَّ (سورہ احزاب، 33: 53)
اور تمھیں جب نبی کی بیویوں سے کوئی چیز مانگنی ہو تو پردے کے پیچھے سے مانگو۔ یہ تمھارے دلوں کے لیے بھی زیادہ پاکیزہ طریقہ ہے اور اُن کے دلوں کے لیے بھی۔
مرد و خواتین کے اختلاط کے مسئلے پر غامدی صاحب کا اسلوب مسئلے کو علمی اور معروضی انداز میں پیش کرنے کا ہے، جب کہ مظہر صدیقی صاحب کی تحریر سیرت کے اسلوب میں محبت و عقیدت کی چاشنی لیے ہوئے ہے۔ محبت رسول میں وہ اگر یہ بھی لکھ جائیں کہ گزشہ سیرت نگاروں نے خواتین سے متعلق معلومات کو مردانہ تعصب کی بناپر نظر انداز کیا جسے وہ اب سامنے لا رہے ہیں تو اسے سیرت کی گراں قدر خدمت سمجھتے ہوئے، ان کی قدر میں مزید اضافہ ہوتا ہے کہ رسول اللہ کی سیرت کے یہ پہلو بھی انھوں نے نمایاں کیے۔ یہ سوال پھر نہیں پوچھا جاتا کہ چودہ سو سال میں کسی کو یہ سب نظر نہیں آیا تو انھیں کیسے نظر آ گیا۔مردو زن کے اختلاط کے حوالے سے جمہور کا اختیار کردہ موقف کس طرح غلط ہو سکتا ہے۔یہ اس لیے نہیں ہوا کہ پہلے جو مانا گیا تو وہ بھی شخصی بنیادوں پر مانا گیا تھا اور اب جو باور کرایا جا رہا ہے وہ بھی شخصی بنیاد پر باور کرایا جا رہا ہے۔اس بار چونکہ شخصیت خود رسول اللہ ﷺ کی ہے اور معلومات بھی درست تر ہیں، اس لیے وہی موقف جو غامدی صاحب کی طرف سے قرآن کی بنیاد پیش کرنے کے باوجود رد ہوا، وہ سیرت کی بنیاد پر پذیرائی پا گیا۔
اپنی نہایت وقیع کتاب کا اختتام صدیقی صاحب نے جن ان الفاظ پر کیا ہے، اس مضمون کا اختتام بھی انھیں الفاظ پر کیا جاتا ہے:
“سیرت و حدیث اور تاریخی واقعات بلکہ قرآنی آیات سے بھی یہ حقیقت ثابت ہوتی ہے کہ اسلامی حدود و شرعی قیود کے ساتھ مردوزن کے ارتباط اورصنفی اختلاط کی پوری اجازت تھی اور نہ صرف اجازت تھی بلکہ وہ ایک سماجی روایت بھی تھی جسے رسول کرم ﷺ اور صحابہ کرام کی متواتر سنت کا پشتہ حاصل تھا۔ مردو زان کے اختلاط و ارتباط کا اصل اصول اور صحیح طریقہ یہی طریق نبوی اور انداز صحابہ تھا، نہ بعد کے خود پسند اور دقت پرست علما ءو فقہاء کا طریقہ اور نہ ہی اور نہ جدت طراز اور اباحت پسند سماجی دانشوروں کا بے محابا اور بے سلیقہ فکر و عمل۔دنیاوی فلاح و مسرت اور اخروی بہبود و نجات صرف سنت نبوی اور تعامل صحابہ میں ہے۔” (205)

اس تحریر كو شیئر كریں
Share on facebook
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on email
Dr Irfan Shehzad

Dr Irfan Shehzad

Dr Irfan Shehzad belongs to Rawalpindi, Pakistan. He holds a doctorate in Islamic Studies from National University of Modern Languages (NUML) Islamabad, Pakistan. He is working as a companion to Ghamidi Center of Islamic Learning Dallas, USA. He is an assistant research fellow with Al-Mawird Pakistan. He is the author of the book, “Qanoon-e-Itmam-e-Hujjat awr Us kay Itlaqaat: Janab Javed Ahmad Ghamidi ki Tawzihaat par Aetrazaat awr Ishkalaat ka Jaiza”, published by Almawrid Lahore Pakistan. Dr Irfan Shehzad writes and speaks on religious, social and sociopolitical issues. His articles are published in different scholarly journals including Ishraq, Lahore, Pakistan, Al-Shariah Gujranwala Pakistan and on social media.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *