مذھب و ثقافت کے درمیان حد فاصل

مذھب و ثقافت کے فرق کو نظر انداز کرنے سے سماج کی بنت ادھڑ کر رہ جاتی ہے۔ ثقافتی مظاہر مقامی ہوتےہیں، ان کی تشکیل اور تعیین کسی آفاقی نظریے سے کرنا غیر فطری اور غیر عملی ہے جس کے نتائج منافرت کی صورت میں نکلتا ہے۔
ابتدائے اسلام کے مسلمان اتنے غیر متعصب بہرحال تھے کہ خالص مذھبی اصطلاحات جیسے صلوة اور صوم وغیرہ کے لیے بھی فارسی متبادلات، نماز اور روزہ اختیار کر لینے کو غلط نہیں سمجھتے تھے۔ مسلمان ہونے والوں کے ناموں اور لباس کو تبدیل نہیں کرتے تھے بلکہ اس کے برعکس اپنی مساجد کی تعمیر میں بھی ان کی عبادت گاہوں کے ڈیزائن سے استفادہ کرنا معیوب نہ سمجھتے تھے۔ مساجد کے مینار کا خیال گرجا گھروں کے میناروں سے لیا گیا تھا۔ مینار کا مقصد دیکھا گیا کہ وہ لوگوں کو عبادت گاہ کی موجودگی پر توجہ دلاتا ہے، یہ نہیں دیکھا گیا کہ یہ گرجا گھروں میں یہ استعمال ہوتا ہے تو مسجد کےلیے درست نہ ہوگا۔
مذھب سے ثقافت کو تبدیل نہ کرنے کا یہ نتیجہ تھا کہ لوگ تبدیلی مذھب کے باوجود اپنے سماج سے نہیں کٹتے تھے۔ وہ مندر کی بجائے مسجد جانے لگتے تھے مگر بولی وہی بولتے تھے جو ان کے لوگ بولتے تھے، لباس وہی پہنتے تھے جو ان کے لوگ پہنتے تھے، نام ان کے وہی رہتے تھے جو ان کا پیدایشی ہوتا تھا جس کے ساتھ ان کی ثقافتی اور نفسیاتی وابستگی ہوتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ برصغیر میں راجپوتوں کی ایک بڑی تعداد اسلام قبول کرنے کے باوجود وطن کی حفاظت میں ہندو راجپوتوں کے ساتھ مل کر بیرونی حملہ آوروں کے خلاف لڑا کرتے تھے۔ لیکن جب ثقافتی امتیازات برتے جانے لگے، نماز کو پوجا کہنے نہ دیا گیا، روزہ کو بھرت کہنے پر آمادہ نہ پائے، اپنا مذھب چھوڑ کر کےمسلمان ہونے والوں کے نام تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا گیا، بلکہ اس کے آگے بڑھ کر ان کے لیے مخصوص لباس اور حلیہ اختیار کرنے کی شرائط بھی عائد کر دی گئیں، تو لوگوں میں باہمی طور پر اجنبیت اور پھر نفرت پھیلی۔ ثقافت مقامی ہوتی ہے یہ اسلامی اور غیر اسلامی نہیں ہوتی۔ “اسلامی ثقافت “کے نام پر ہونے والی امتیازی کارروائیوں نے درحقیقت ایک سماج کے لوگوں کو علیحدہ کیا، جس نے آگے بڑھ کر سیاسیت کی سطح پر گروہ بندی اختیار کر لی۔ اقتدار کی رقابت، سیاسی گروہ بندی کا لازمہ ہے۔ سیاسی رقابت کی منافرت نے مذھبی منافرت کا عنوان اختیار کر لیا۔ الزام پھر مذھب پر آیا کہ مذاھب انسانوں کو لڑاتے ہیں۔ سیاسی رقابت بنام مذھب سے پھر وہ نفرت پید ہوئی جس کا ایک المناک نتیجہ تقسیمِ ہند اور اس دوران ہونے والے خون خرابے میں سامنے آیا، جس کے اثرات ایک صدی ہونے کو آئے ،اب بھی جاری ہیں۔
تاریخ سبق سیکھنے کے لیے ہوتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس بات کی یاد دہانی کراے جائے کہ مذھب، ثقافت کو تبدیل کرنے کا مطالبہ نہیں کرتا۔ پرویز، ڈیوڈ اور آکاش جیسے نام ایسے ہی قابل قبول ہے جیسے محمد یوسف، عبد اللہ ور عبد الرحمان؛ صلوۃ کے لیے ورشپ اور پوجا کا لفظ بھی ایسے ہی درست ہے جیسے نماز؛ کرتا پائے جامہ اور پینٹ شرٹ بھی ایسے ہی درست لباس ہیں جیسے عربی چغہ۔ ثقافتی اور موسمی تہوار بھی اسلامی اور غیر اسلامی نہیں ہوتے۔ دین میں ان چیزوں کو موضوع نہیں بنایا گیا۔ کسی مذھب کو اختیار کرنا کسی سیاسی پارٹی کو اختیار کرنے کی طرح نہیں ہے جس میں الگ بیج اور جھنڈے لگا کر اپنا امتیاز ظاہرکرنا ضروری ہو۔ مسلمان کی پہچان نماز اور زکوۃ کی ادائیگی بتائی گئی ہے نہ کہ کوئی مخصوص حلیہ۔ یہی وجہ ہے کہ ابتدائے اسلام کے دور میں کسی نامعلوم فرد کی میت دیکھ کر معلوم نہ ہوتا تھا کہ مسلمان تھا یا مشرک۔ یہ امتیازات کا تصور تب پیدا ہوا جب اہل مذھب نے خود کو سیاسی اور سماجی گروہوں میں سے ایک گروہ سمجھنا شروع کر دیا۔ ضروری ہے کہ مذھب و ثقافت کے درمیان حد فاصل کا شعور اجاگر کیا جایے اور لوگوں میں منافرت کی خود ساختہ بنیادوں کو ختم کیا جائے۔
اسی طرح ملک میں بسنے والی اقلیتوں کو چاہیے کہ اپنا مرکز اور وابستگی اپنے مقامی ثقافت سے پیداکریں۔ تاکہ وہ مذھب سے ہٹ کر سماجی طور پر الگ نہ سمجھیں جائیں۔ قوم پسندو ںکو اپنی قوم کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے کو غداری نہ سمجھا جائے ۔ فرد کو اہمیت دی جائے۔ اس کے مسائل حل کیے جائیں۔ سماجی انصاف کا قیام حقیقت میں عمل میں لایا جائے۔ فرد کو حقوق ملیں گے تو اسے حقوق کے نام پر ورغلا کر علیحدگی کی تحریکیں اٹھانا ممکن نہ ہوگا۔ لیکن اس کی حق تلفی کرکے اسے خاموش بٹھانا ممکن نہیں۔

اس تحریر كو شیئر كریں
Share on facebook
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on email
Dr Irfan Shehzad

Dr Irfan Shehzad

Dr Irfan Shehzad belongs to Rawalpindi, Pakistan. He holds a doctorate in Islamic Studies from National University of Modern Languages (NUML) Islamabad, Pakistan. He is working as a companion to Ghamidi Center of Islamic Learning Dallas, USA. He is an assistant research fellow with Al-Mawird Pakistan. He is the author of the book, “Qanoon-e-Itmam-e-Hujjat awr Us kay Itlaqaat: Janab Javed Ahmad Ghamidi ki Tawzihaat par Aetrazaat awr Ishkalaat ka Jaiza”, published by Almawrid Lahore Pakistan. Dr Irfan Shehzad writes and speaks on religious, social and sociopolitical issues. His articles are published in different scholarly journals including Ishraq, Lahore, Pakistan, Al-Shariah Gujranwala Pakistan and on social media.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *