مذہبی اشرافیہ اور جمہور کا اسٹیٹس کو

عقائد، نظریات اور اقدار پر جب ایک عرصہ گزرتا ہے تو ان کی اصل صورت و کیفیت میں ارتقا ، اضافوں اور تبدیلیوں کے ساتھ وہ ایک نئی اور مختلف صورت میں اسٹیٹس کو (status quo) بن جاتے ہیں، جس کی نمایندگی اور حفاظت جمہور کرتے ہیں۔ روایت پرستی کے نام پر اسٹیٹس کو کا تحفط ہر دور کے جمہور کا مذہب ہوتا ہے، جس کی وہ پرستش کرتے ہیں ۔ انقلابی عقائد، نظریات اور فلسفے بھی جو اپنے دور کے اسٹیٹس کو کو چیلنج کرتے ہیں، اگلے دور میں خود اسٹیٹس کو بن کر نئے نظریات، عقائد اور فلسفوں کا گلا گھونٹنے کی دیرینہ روایت نبھاتے ہیں۔ ہر دور کے جمہور جمود کا شکار ہوتے ہیں، خواہ یہ جمود خود کسی وقت متحرک اور انقلابی ہی کیوں نہ رہا ہو۔
اسٹیٹس کو کو چیلنج کرنے والی ہر آواز کو دبانے کی کوشش ضرور ہوتی ہے خواہ یہ آواز کسی حقیقی اور مضبوط استدلال پر کھڑی ہو یا محض روایت بیزاری کی بنیاد پر۔ جمہور، بہرحال، اس میں فرق نہیں کرتے۔ دلائل اس ذہنیت کے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتے۔ پہلا ردعمل انکار اور آخری اس کےاستیصال کی کوشش ہوتی ہے۔ کوئی دعوت، فکر اور تحریک کوئی معنی اور افادیت رکھتی ہے یا نہیں، اس کا فیصلہ، البتہ، وقت کا صرّاف کرتا ہے اور یہ اکثر جمہور کی تمناؤں کے خلاف ہوتا ہے اس لیے کہ ارتقا کا سفر کسی کے روکے نہیں رکتا۔
فطری اور عقلی بنیادوں پر دی جانے والی انبیا کی دعوت کا انکار اور ان کی مخالفت اسی اسٹیٹس کو کی برقراری کی خاطر عمل میں آتی تھی۔”وجدنا علیہ اباءنا” (ہم نے اپنے آباؤاجداد کو اسی پر پایا ہے)، درحقیقت اسٹیٹس کو سے اپنی وابستگی کا اظہار ہے،جس کے خلاف کوئی بات اور جس کے کے سامنے کوئی دلیل قابل سماعت قرار نہیں پاتی۔ یہی معاملہ سیاسی اور تہذیبی اقدار کے خلاف عقل و فطرت کی بنیاد پر کوئی معقول بات پیش کرنے والوں کے خلاف سیاسی و حکومتی اشرافیہ بھی کرتی چلی آتی ہے۔
ہر دور کی سیاسی اور مذہبی مقتدرہ اور اشرافیہ، اسٹیٹس کو چیلنج کردینے والی ایسی کسی مثبت یامنفی مگر اجنبی آواز کی مخالفت مذہبی، وطنی اور تہذیبی روایات کی پاسداری کے نام کرتی ہے اور بڑی ذمہ داری سے انجام دیتی ہے۔ عام آدمی کو چونکہ اپنی روایات سے طبعی لگاؤ ہوتا ہے اس لیے وہ عموما ہر دفعہ مقتدرہ اور اشرافیہ کے دھوکے اور دباؤ میں آ کر اسٹیٹس کو کو چیلنج کر دینے والی دعوت اور تحریک کی مخالفت میں اپنا حصہ بلا سوچے سمجھے ڈالنا اپنا فرض سمجھتا ہے۔
قرآن مجید سے معلوم ہوتا ہے کہ فرعون اور اس کے اہل دربار کی مذہبی سیاسی اشرافیہ نے موسی علیہ السلام کی دعوت کے مقابلے کے لیے یہی حربہ اختیار کیا تھا۔ موسی علیہ السلام کی دعوت سادہ توحید اور اخلاقی مسلمات پر مبنی تھی۔ ایک خدا کے مقابلے میں خود ساختہ معبودوں کی نفی اور بنی اسرائیل پر حکومت کے مظالم کے خلاف انھوں نےصدائے احتجاج بلند کی تھی۔ وہ چند دینی رسوم کی ادائیگی کے لیےاپنی قوم کو چند دن کے لیے صحرا میں لے جانا چاہتے تھے۔ یہ دونوں باتیں عقل عام اور ضمیر کے لیے کوئی اچنبھے یا توحش کی بات نہ تھی۔ مگر فرعون اور اس کی مذہبی سیاسی اشرافیہ نے اسے اسٹیٹس کو کا مسئلہ بنا دیا اوراپنے لوگوں کو باور کرایا کہ:
{إِنْ هَذَانِ لَسَاحِرَانِ يُرِيدَانِ أَنْ يُخْرِجَاكُمْ مِنْ أَرْضِكُمْ بِسِحْرِهِمَا وَيَذْهَبَا بِطَرِيقَتِكُمُ الْمُثْلَى} [طه: 63]
“یہ دونوں یقیناً بڑے ماہر جادوگر ہیں۔ یہ چاہتے ہیں کہ اپنے جادو کے زور سے تم کو تمھارے ملک سے نکال دیں اور تمھارے اِس مثالی طریق زندگی کا خاتمہ کر دیں۔”
سقراط اور مسیح علیہ السلام کی کہانی اس لحاظ سے ایک ہی کہانی ہے کہ ہر ایک نے اپنے دور کے اسٹیٹس کو کو چیلنج کر دیا تھا۔ حریت فکر کی ایک کہانی فکر و فلسفہ کے میدان میں برپا ہوئی تو دوسری مذہب کے میدان میں، دونوں کا مخالف مگر وہی اسٹیٹس کو کا محافظ، اس کا علم بردار اور اس کی بنا پر تفوق اور اختیار کا حامل سیاسی اور مذہبی اشرافیہ کاطبقہ تھا۔ سقراط و مسیح کی کہانی ہر دور کی کہانی ہے، اور ہر دور میں اپنے لیے کردار چنتی ہے۔
مسیح علیہ السلام
مسیح علیہ السلام کا معاملہ دیگر انبیا سے اس لحاظ سے مختلف ہے کہ ان کے مخالف مشرکین نہیں، توحید پرست ، بلکہ شریعت پرست اور فقہ پرست مذہبی اشرافیہ تھی، جنھوں نے دینی فرائض کی انجام دہی کے بدلے اور اپنی فقہی تعبیرات سے دین پر اپنی مذہبی اجارہ داری قائم لی تھی اور وہ اسے مسیح علیہ السلام کے حوالے کرنے اور ان کی تعلیمات کو جگہ دینے کو تیار نہ تھے۔
مسیح علیہ السلام کی تعلیمات میں کوئی بات بھی قابل اعتراض نہ تھی۔ وہ ان کے ہی مذہب کی تبلیغ فرما رہے تھے۔ اخلاقیات اور مانے ہوئے مقدمات اور حقائق پر مبنی ان کی تعلیمات سے انکار اور ان کی تردید ممکن نہ تھی۔ اس پر بھی مذہبی اشرافیہ نےاجماعی طور پر ان کی شدید مخالفت اور مذمت کی اور اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ خدا کے دین اور اس کے بندوں کوقانون و فقہ کی انسان ساختہ جکڑ بندیوں سےآزاد کرانے اور دین کی حقیقی روح: ایما ن و اخلاقیات کی تجدید کرنے آئے تھے۔
یہود کی اس مذہبی اشرافیہ کے لیے ان کا فہمِ مذہب ان کا خدا تھا۔ اس فہم و تعبیر کے خلاف جب خدا خود بول پڑا تو انھوں نے اسے بھی خاموش کرا دینا چاہا۔ اس کے لیے انھوں نے مسیح علیہ السلام پر توہین مذہب اور کفر کے الزام لگائے۔ مسیح علیہ السلام نے بیماروں کو معجزانہ طور پر شفایاب اور مردوں کو زندہ کر کے دکھایاتو بجائے متاثر ہو کر تسلیم کی روش اختیار کرنے کےانھوں نے یہ اعتراض جڑ دیا کہ مسیح علیہ السلام نے یہ سب سبت کے دن کیوں کیا کہ اس دن ہر کام کی شرعا ممانعت ہے۔مسیح نے حلال کھانے پر زور دیا مگر ان کی توجہ اس پر تھی کہ مسیح علیہ السلام گناہگاروں اور حرام کمانے والوں کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کیوں کھاتے ہیں۔ انھیں مسیح علیہ السلام کے شاگردوں کا تقوی اور پرہیزگاری دکھائی نہیں دیتی تھی، انھیں اعتراض تھا تو یہ کہ یہ کھانا کھانے سے پہلے ہاتھ کیوں نہیں دھوتے اور سبت کے دن کھیتوں سے بالیاں توڑ کر کیوں کھا لیتے ہیں۔ غرض فقہی ذہن ، خدائی ذہن کے مقابل آ کھڑاہوا تھا۔ اخلاق اور تقوی سے عاری ان ظاہر پرستوں کو مسیح علیہ السلام نے چونا پھری سفید قبروں سے تشبیہ دی،یہ وہ تھے جو اونٹ نگل جاتے اور مچھروں کو چھانتے تھے۔
ان فقیہوں نے خود کو دین موسوی کا محافظ قرار دے کردین کی حفاظت کی ذمہ داری اٹھا رکھی تھی، جسے ان کی نظر میں مسیح علیہ السلام کی باتوں سے خطرہ لاحق ہو گیا تھا۔ یہ دین کی حفاظت نہیں، اپنے اسٹیٹس کو کا تحفظ تھا جس کے خلاف جب خدا بھی آ گیا تو اسے بھی قربان کرنا لازم ٹھرا۔ انھوں نے قاتلوں کو انگیخت کیا کہ چھپ کر مسیح علیہ السلام پر وار کر کے انھیں قتل کردیں۔یہ نہ ہو سکاتو وہ خود انھیں پکڑ کر عدالت میں لے گئے۔ ان پر توہین مذہب اور کفر کے الزامات لگائے۔ اپنا مزعومہ کفر ان کے منہ میں ٹھونسنے لگے۔ کفر و ایمان کی سند یہود کی مذہبی اشرافیہ جاری کرتی تھی، چنانچہ عدالت سے ان کا اصرار تھا کہ جسے وہ کافر قرار دے رہے ہیں اسے کافر سمجھا جائے، بلکہ ملزم کو بھی کفر کا اقرار کرنا چاہیے ۔
عدالت کے سامنے جرثابت نہیں ہو رہا تھا۔ عدالت کا پس و پیش دیکھ کردین کے ٹھیکیداروں نےعدالت پر دباؤ ڈالنے کے لیے ہنگامہ کھڑا کر دیا گیا۔ ان کے سب سے بڑے پیشوا نے مسیح علیہ السلام سے کچھ بات کی اور پھر جوش میں آکر اپنے کپڑے پھاڑ دیے کہ ہم نے جان لیا ہے مسیح نے کفر بکا ہے اس کو مصلوب کرنے سے کم پر ہم راضی نہ ہوں گے۔ سب نے ہاں میں ہاں ملا دی اور ہنگامہ کھڑا کر دیا۔ مجبور ہو کر رومی عدالت نے ان کی بات مان لی اور مسیح علیہ السلام کی موت کا فیصلہ سنا دیا۔خدا کے پیغمبر کے خلاف جھوٹا مقدمہ جیت لینے کی خوشی میں اہل مذہب اور ان کے اندھے بہرےپیروکار دیوانوں کی طرح نعرے لگاتے عدالت سے نکلے۔ مسیح علیہ السلام کا ٹھٹھا اڑاتے، انھیں لے کر نکلے اور بھرے مجمع میں انھیں اپنے تیئں انھیں مصلوب کر دیا۔
یہ محض مسیح و فقیہ کی لڑائی نہیں تھی، یہ اسٹیٹس کو اور حق کی جنگ تھی۔ یہ معقولیت اور روایت پرستی کا نزاع تھا۔ یہ جمہور اور حق پرستوں کی لڑائی تھی۔ اس لڑائی نے ہر دور میں برپا ہونا تھا۔
سقراط نے صرف حریت فکر کی طلب کی تھی، مگر اس کا یہ ایک مطالبہ سارے اسٹیٹس کو کی بنیادیں ہلا دے رہا تھا۔ چنانچہ اسے بھی عدالت میں بلوا کر محض اس پربنا پر زہر کا پیالہ پلوایا گیا کہ وہ آزادی سے سوچنے کو دعوت کیوں دیتا ہے۔
یورپ کی مذہبی اشرافیہ کی تاریخ کے ان تاریک پہلوؤں سے ہم اچھی طرح واقف ہیں کہ اپنے دور کے سائنس دوانوں اور دین میں کوئی نئی فکر پیش کرنے والوں کے ساتھ انھوں نے کیا اذیت ناک سلوک کیے۔ ان سے ہم اس لیے واقف ہیں کہ ان کے ہاں ان کی تاریخ کے ان شرم ناک واقعات کو چھپایا نہیں گیا، بلکہ اسٹیٹس کوکے علم برداروں ہی کو ہدف ملامت بنا دیا گیا ۔ اس زندہ تاریخ نےآنے والی نسلوں کو وہ حوصلہ دیا کہ انھوں نے پاپائیت کی مذہبی اشرافیہ کو بالآخر شکست دی اور حریت فکر کی بنیا د مستحکم ہوئی۔ اس کے کچھ منفی نتائج اباحیت کی صورت میں بھی نکلے مگر انسانی فکر منفی اثرات سے مکمل طور پر کب محفوظ رہ سکی ہے۔ یہ ناگزیت کا مسئلہ ہے۔ حریت فکر نے انسان کی تخلیقی صلاحیتوں کو سراہا اور علم و ہنر کا وہ انقلاب برپا ہوا جس کا مشاہدہ ہر آنکھ دیکھتی ہے۔
ادھر مسلم مذہبی اشرافیہ کی کی تاریخ بھی مسیحی مذہبی اشرافیہ کی تاریخ سے کسی طرح مختلف نہیں، لیکن جہالت و جبرکے ان شرم ناک پہلوؤں پر تغافل کاپردہ ڈال کر رکھا جاتا ہے۔ یعقوب ابن اسحاق الکندی، محمد ابن زکریا الرازی ،ابو علی الحسین ابن سینا وغیرہ جیسے نامور فلسفی سائنس دانوں، جن کو آج سرمایہ افتخار سمجھا جاتا ہے، کو اپنے دور میں مذہبی اشرافیہ کے ہاتھوں شدید دق کیا گیا ہے۔ ان پر کفر، زندقہ اور الحاد کے فتوے لگائے گئے۔انھیں قید، کوڑوں اور جلاوطنی کی سزائیں سہنا پڑیں۔ ان کی کتب ضائع کی گئیں۔ الرازی سزا سے نابینا ہوگئے۔ بو علی سیناکو بار بار روپوشی اختیار کرنا پڑی، کندی کی لائبریری جلا ڈالی گئی اور بڑھاپے میں کوڑے بھی کھانے پڑے۔ ان مظلوموں کو سزا سائنس مخالفت کی وجہ سے نہیں، بلکہ فلسفیانہ خیالات پالنے کی پاداش میں ملی۔ ان کے خیالات مذہبی اشرافیہ کی تعبیرات اور اصطلاحات سے مطابقت نہیں رکھتے تھے اور وہ ان افراد کو مختلف خیالات رکھنے کی اجازت دینے پر تیار نہ تھے۔ یہ مسلم تاریخ کے سقراط اور گیلیلیو تھے۔
تاریخ پر تغافل کے پردے ڈالنے کا سارا فائدہ مذہبی اور سیاسی اشرافیہ کو جاتا ہے۔ انھیں ہر دور میں مسیح و سقراط کو مصلوب اور مقہور کرنے کا موقع بلا تنقید ہاتھ آجاتا ہے۔ تاریخ خود کو دہراتی چلی جاتی ہے مگر سماج دائروں کا سفر کرتا ہر بار ایک ہی جرم باربار کرتا ہے تاریخ کو چھپانے کا یہ خمیازہ نسلیں مسلسل بھگتتی ہیں۔
یہاں مسیح و وسقراط کی کہانی کے چند ری میکس (Remakes) مسلم تاریخ سے پیش کیے جاتے ہیں۔ یہاں فقط چند معروف نمایندہ افراد کے واقعات کو چنا گیا ہے جو آج مسلم سماج اور مذہبی اشرافیہ کے ہاں مسلّمہ طور پر عزت و احترام کے مستحق مانے جاتے ہیں مگر اپنے دور میں یہ مذہبی اشرافیہ کے ہاتھوں ذلت، رسوائی اور اذیت شکار ہو کر کسی نہ کسی درجے میں مسیح اور سقراط کے انجام کو پہنچے۔
امام ابو حنیفہ (وفات 150 ھجری)
امام ابو حنیفہ مذہبی اشرافیہ کے ہاتھوں دق ہونے والوں میں اولین نمایاں مثال ہیں۔ان کی علمیت آج ایک مسلّم حقیقت ہے، مگر اپنے وقت میں وہ تقریباً تمام ائمہ کبار کی شدید مخالفت و مذمت کا ہدف بنے رہے۔ ان ائمہ نےان پر کفر، گمراہی، فسق اور بے دینی کے فتاوی لگائے۔ دو یا دو سے زائد دفعہ بر سر عام ان کے “کفر” سے انھیں توبہ پر مجبور کیا گیا۔ الزام یہ تھا کہ ایمان کے گھٹنے بڑھنے کے وہ قائل نہ تھے۔ معاملہ قانونی دائرے کا ایک سادہ مسئلہ تھا کہ مسلمانیت کے لحاظ سے فرق نہیں کیا جائے گا ،مگر اہل علم اسے ایمانی دائروں میں لے گئے اور اس بنا پر کفر کا فتوی جڑ دیا کہ وہ ابلیس اور ابوبکر کے ایمان کو برابر قرار دیتے ہیں۔ قانونی اور معروضی زبان میں مسائل پیش کرنا ایک نسبتا اجنبی منہج تھا جسے امام ابو حنیفہ نے متعارف کروایا تھا۔ معاصرین اس کی اہمیت اور حقیقت باور نہ کر سکے، چنانچہ امام صاحب کے اس قسم کے مسائل سے وہ کفر اخذ کر لیا کرتے تھے۔ چنانچہ ان پر الزام لگایا گیا کہ انھوں نے زنا اور سود کو حلال کر دیا ہے۔ ان پر انکار حدیث کا الزام بڑی شدومد سے لگایا گیا۔ حدیث کے استخفاف کے بارے میں ان سے ایسے جملے منسوب کیے گئے جو صریح توہین رسالت کے زمرے میں آتے ہیں۔
ان کی شدید مذمت کرنے والوں میں امام سفیان ثوری، امام سفیان بن عیینہ، عبد اللہ بن مبارک، امام شافعی، امام مالک، امام احمد بن حنبل، امام اوزاعی، امام حماد بن سلمہ، امام حسن بن صالح، امام ابوبکر بن ابو داؤد سجستانی رحمھم اللہ جیسے اکابرین اور اساطین امت شامل ہیں۔
امام صاحب کو اپنے دور کے جلیل القدر اہل علم سے جو القابات اور خطابات ملے، ان میں لونڈی کی اولاد، بد شگون، فاسق بلکہ دجال تک شامل ہیں۔انھیں گمراہ فرقوں مرجیہ اور جہمیہ سے منسوب کر کے اس کی اس قدرتشہیر کی گئی کہ کسی کو کم شبہ تھا کہ یہ ان میں سے نہیں اور آج کم ہی کسی کو یقین ہے کہ وہ ان میں سے تھے۔
امام اوزاعی امام ابو حنیفہ کا نام تک سننا پسند نہیں کرتے تھے۔عبد اللہ بن مبارک کو اس کا شدید قلق تھا کہ انھوں نے امام سے روایات کیوں لی تھیں۔ اس خطاپر وہ روتے ،پھر انھوں نے وہ صحائف پھاڑ دیے جن میں ان سے روایات لی تھیں۔ ان کی فقہ کو اونٹ کی مینگنی اور گندے پانی کے برابر کہا گیا۔ یہ سب بیانات عوام کے نہیں، بلکہ جلیل القدر ائمہ سے منقول ہیں۔ امام مالک سمیت متعدد ائمہ کبار سے اس مفہوم کے جملے مروی ہیں کہ اسلام میں کوئی بچہ ابو حنیفہ سے زیادہ نقصان پہنچانے والا اور بد شگون پیدا نہیں ہوا۔ وہ انھیں مہلک بیماری کا نام دیتے تھے۔ا ئمہ نے قرار دیا کہ اسلام میں ان سے بڑا فتنہ پیدا نہیں ہوا۔ امام سفیان ثوری سے منسوب ہے کہ ابوحنیفہ خود بھی گمراہ ہیں اور دوسروں کو بھی گمراہ کرنے والے ہیں۔ امام شافعی فرماتے ہیں کہ مسلمانوں پر کوئی شخص برائی لانے میں ابو حنیفہ سے بڑھ کر نہیں ہوا۔ امام حماد بن سلمہ اور امام حمیدی امام ابو حنیفہ کا نام بگاڑ کر ابوجیفہ کہتے تھے۔ابوبکر بن عیاش دعا کرتے تھے کہ امام ابو حنفیہ کا منہ کالا ہو۔ خلیفہ منصور کی جانب سے بار بار عہدہ قضا قبول کرنے کے اصرار کے باوجود انکار کرنے پر امام کو کوڑوں اور قید کی سزا ملی اور اسی قید وبند میں ان کا انتقال ہو گیا۔ امام کی یہ استقامت اور حریت بھی ان کے نزدیک امام کے اعلی کردار کو ظاہر نہیں کرتی بلکہ انھیں علم کے میدان میں چودھری بننے کی سزا ملی تھی۔
ان کے بعض شرکا نے انھیں اس بنا پر چھوڑ دیا کہ وہ ہر بات دلیل اور بیان کے زور سے ثابت کر لیتے تھے ، خواہ غلط ہی کیوں نہ ہو اور کچھ نے اس بنا پر کہ وہ اپنی کسی بات پر جزم کا اظہار نہیں کرتے تھے اور کہتے تھے کہ میری بات درست بھی ہو سکتی ہے اور غلط بھی، اور وہ کبھی ایک بات کرتے تھے اور کبھی اس کے خلاف دوسرا موقف بیان کر دیتے تھے۔ اس ذہنی ارتقا کوکچھ حضرات مذہبی ارتقا سمجھ کر متوحش ہوجاتے اور کچھ ان کے علم کی کمزوری پر محمول کرتے۔ بعض ائمہ اہل علم ان لوگوں سے بھی قطع تعلق تک کر لیتے تھے جو امام ابو حنیفہ سے استفادے کا جرم کرتے تھے۔
امام صاحب کی مزعومہ بد بختی پر مزید استشہاد حسب معمول صالحین کے خوابوں سے لایا گیا جن میں رسول اللہ ﷺ کی طرف سے بھی ان کی مذمت بیان کی گئی مثلا یہ کہ اس بد بخت نے میرے دین کو بدل دیا ہے، یعنی وہی جو ائمہ کا خیال تھا۔
امام ابو حنیفہ کی وفات پر ائمہ کبار نے شکر کے کلمات ادا کیے۔امام اوزاعی نے ان کی موت کی خبر سن کر کہا:
“اللہ کا شکر آج وہ مر گیا جو اسلام کے شیرازے کو بکھیر رہا تھا۔” ایسا ہی جملہ امام سفیان ثوری سے بھی منقول ہے ۔
امام سفیان ثوری نے کہا:
“اللہ تعالی کا شکر ہے جس نے اس چیز سے ہمیں بچا لیا جس میں وہ مبتلا تھے”، پھر عبد الصمد بن حسان سے کہا کہ جا کر یہ “خوش خبری” ابراہیم بن طہمان کو سنا دو۔
امام بخاری نے بھی امام سفیان سے امام ابو حنیفہ کی وفات پر خوشی کے اظہار کی روایت اپنی کتاب، “تاریخ صغیر” میں نقل کی ہے۔ امام بخاری جو راویوں کی جرح و تعدیل میں نہایت دقت نظری سے کام لیتے تھے، لیکن امام ابو حنیفہ کی شہرت بد ان کے نزدیک ایسے تواتر کا درجہ رکھتی تھی کہ اس بارے میں انھوں نے کسی تفتیش کی ضرورت محسوس نہ کی۔
بشر بن ابو الازہر نیساپویر فرماتے ہیں:
“میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک جنازے پر کالا کپڑا پڑا ہوا ہے اور اس کے ارد گرد پادری لوگ ہیں۔ میں نے پوچھا یہ کس کا جنازہ ہے؟ لوگو ں نے کہا ابو حنیفہ کا۔”(ماخوذ تاریخ بغداد، از علامہ خطیب بغدادی)
علم الرجال کے ماہر حافظ ذہبی، جن کا تخصص ہی افراد کے بارے میں جانکاری حاصل کرنا اور ان کے مقام و مرتبہ کا تعین کرنا تھا، انھوں نے امام صاحب کے کردار، دین داری، تقوی اور درست عقائد کے بارے میں بڑی وضاحت سے لکھ کر اپنی گواہی ثبت کی ہے۔ امام صاحب کے مخالفین کے اسباب کا انھوں نے دو لفظوں میں خلاصہ کر دیا ہے۔ لکھتے ہیں:
“الناس فی ابی حنیفہ حاسد او جاہل”
یعنی امام کے بارے میں بری راے رکھنے والے یا حسد کے مرض میں مبتلا ہیں یا ان سے ناواقف ہیں۔
یہ کلیہ ہر دور کے امام ابو حنیفہ پر صادق آتا ہے۔
مولانا سرفراز خان صفدر اپنی کتاب مقام ابی حنیفہ میں امام صاحب کی مخالفت پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
“حضرت امام ابوحنیفہ کے بارے میں جن جن حضرات نے کلام کیا ہے یا تو وہ محض تعصب اور عناد وحسد کی پیداوار ہے، جس کی ایک پرکاہ کی حیثیت بھی نہیں ہے اور بعض حضرات نے اگرچہ دیانةً کلام کیا ہے، مگر اس رائے کے قائم کرنے میں جس اجتہاد سے انہوں نے کام لیا ہے وہ سرسرا باطل ہے، کیوں کہ تاریخ ان تمام غلط فہمیوں کو بیخ وبن سے اکھاڑ رہی ہے، اس لیے ان حوالجات سے مغالطہ آفرینی میں مبتلا ہونا یا دوسروں کو دھوکہ دینا انصاف ودیانت کا جنازہ نکالنا او رمحض تعصب اور حسد وغیبت جیسے گناہ میں آلودہ ہونا ہے۔” ( مقام ابی حنیفہ ص:272)
اس بلا تحقیق دیانت دارانہ مخالفت میں ائمہ کبار کا شامل ہونا یہ ظاہر کرتاہے کہ علم و فضل کے باوجود یہ ہمیشہ ممکن ہوتا ہے کہ عام چلن سے مختلف اگر کوئی بات سامنے آ جائے اور خصوصا اگر وہ دین سے متعلق ہو تو اس سے ایسا توحش پیدا ہوتا ہے جو بلا تحقیق مخالفت و مذمت پر آمادہ کرتا ہے۔ جھوٹ سچ کی تمیز نہیں رہتی بلکہ تحقیق و تفتیش کرنا بھی اس معاملے میں مداہنت سمجھا جاتا ہے۔ تاہم، یہ دینی غیرت،درحقیقت، اسٹیٹس کو کی انسیت ہوتی ہے، اپنی دستیاب روایت، جس کی اجارہ داری مذہبی اشرافیہ کے ہاتھ میں ہوتی ہے، کو برقرار رکھنے کی شدید خواہش ہوتی ہے، جو ایسی ہر آواز کا گلہ گھونٹ دینا چاہتی ہے جو اسے چیلنج کر دے چاہے یہ آواز مسیح علیہ السلام کے گلے سے ہی کیوں نہ آ رہی ہو۔
امام صاحب کی مخالفت ان کے اصول فقہ اور اصول استدلال سے عدم واقفیت اور ان کےقانونی اور معروضی منہج سے اجنبیت کی بنا پر تھی۔ اس لحاظ سے امام صاحب اپنے دور سے آگے کے آدمی تھی جو حسب دستور اپنے زمانے کی ناقدری کا شکار ہوئے۔
اس قضیے سےیہ معلوم ہوا کہ مخالفت میں بد اخلاقی اور ہلکا پن پیدا ہوجانا محض عوام کاخاصہ نہیں یہ اہل علم کو بھی لاحق ہوتا ہے جیسا کہ ہم نے ائمہ کبار کی طرف سے امام صاحب کو دیے جانے والے قبیح القابات ، نام بگاڑنے اور ان کی موت پر شکر ادا کرنے جیسے رویوں میں دیکھا۔
یہ معاملہ ایک تاریخی مسلمہ کی حیثیت سے سامنے آتا ہے کہ ہر دور کے ابو حنیفہ سے اس کے معاصر اہل علم یہی سلوک کرتے ہیں۔ وہ لوگ بھی جو ان ائمہ کی طرف سے امام کی مخالفت اور مذمت میں برتی جانے والی بد اخلاقی پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں، وہ بھی اپنے دور میں اسٹیٹس کو کے علم بردار بن کر ایسی ہی کسی آواز کو دبانے میں کوئی پشیمانی محسوس نہیں کرتے۔ یوں یہ سلسلہ جاری رہتا ہے۔ یہ لوگ اپنے اسلاف کے علم ہی کے نہیں، ان کے اخلاق کے بھی وارث ثابت ہوتے ہیں۔
یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ یہ ایک متھ ہے جس کی کوئی بنیاد نہیں کہ ماضی کا دور اخلاص اور تقوی کے اعتبار سے کوئی مثالی دور تھا۔ مثالی کردار کا معاملہ ہمیشہ سے انفرادی رہا ہے۔ سماجی سطح پر ہر قسم کےرویے ہر دور میں موجود رہے ہیں۔ ماضی کی پرستش ہر قوم کا نفسیاتی مسئلہ ہے، اس سے وہ تسکین حاصل کرتی ہیں مگر انسانی سماج کا مطالعہ بتاتا ہے کہ انسانی سماج کبھی مثالی صورت میں موجود نہیں رہا۔ اعلی اخلاق کےانفرادی واقعات کو اجتماعی رویہ سمجھ لینا نادرست استقرا پر مبنی محض خوش عقیدگی ہے۔
علم کلام اور فلسفہ :کفر سےاعتقاد تک کا سفر:
دوسری صدی ہجری سے لے کر ایک زمانہ تک فلسفہ اور علم کلام سے اشتغال رکھنا جمہور علما کے نزدیک کفر، زندقہ اور ضلالت تھا۔ پھر وہ وقت آیا کہ بقول مقریزی کے، ایوبی اور موحدین کی حکومتوں کی طرف سے لوگوں کو اشعری کلامی مذہب قبول کرنے پر مجبور کیا جاتا اور اس کے مخالفین کو قتل کر دیا جاتا تھا۔ چنانچہ اشعری مذہب ہر طرف پھیل گیا اور علما و فقھا نے اسے تسلیم کر لیا اور اس کی ترویج کی۔ محدث ابن حبان کو صرف اتنی بات پر جلا وطن کر دیا گیا تھا کہ انھوں نے کہا تھا کہ خدا محدود نہیں ہے۔ قدما محدثین کے زمانہ تک یہ کہنا کہ خدا ہر جگہ ہے، خاص فرقہ جہمیہ کا مذہب اور کفر کے ہم پلہ سمجھا جاتا تھا ابن القیم نے اجماع الجیوش الاسلامیہ میں کثرت سے ان محدثین کے اقوال ان کی تصنیفات سے نقل کیے ہیں مگر اب ایک مدت سے قریبا تمام مسلمانوں کا یہی اعتقاد ہے۔ ( ماخوذعلم الکلام اور الکلام، شبلی نعمانی،ص26) اشعری علم کلام سے جمہورمیں پھر وہ اعتقاد پیدا ہوا کہ امام رازی، امام غزالی جیسے ائمہ کلام،جو خود بھی اشعری علم کلام کے وکیل تھے، چند پہلوؤں سے اس سے اختلاف کرنے پر جمہور علما نے ان کی ان کی گمراہی اور ضلالت پر متفقہ فتاوی جاری کیے گئے بلکہ انھیں جلا وطن کرنے پر تلے رہے۔
جب تک فلسفہ و کلام اسٹیٹس کو کے لیے خطرہ سمجھے گئے، مذہبی اشرافیہ کے نزدیک یہ حرام او ر اس کے ساتھ اشتغال رکھنے والا حرام کار تھا، جب فلسفہ و علم کلام خود اسٹیٹس کو بن گئے، یہ سابقہ حرام جب سب کا مشغلہ بن گیا تو اب اس سے محض جزوی اختلاف کرنے والا کافر اور زندیق اور قابل گردن زنی قرار پایا۔
امام ابن حزم (وفات 456 ھجری)
امام ابن حزم غیر معمولی علم و ذہانت ااور مجتھدانہ بصیرت کے حامل تھے۔ یہی خوبیاں ان کے لیے وبال جان بنا دیں گئیں۔کسی کامقلد نہ ہونا اور ائمہ مجتھدین پر نہایت آزادی اور بے باکی سے تنقید کرنا اسٹیٹس کو کے خلاف ان کی بغاوت شمار ہوئی۔ چنانچہ ان کے معاصر جمہورفقھا ان کے دشمن ہوگئے اور ان کا سماجی مقاطعہ کرادیا۔ اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ انھیں شہر بدر بھی کرا دیا۔ اسی بے چارگی کے عالم میں ایک صحرا میں انھوں نے وفات پائی۔
شیخ الاشراق (وفات 587/586 ہجری)
شیخ الاشراق فلسفہ و کلام کے اتنے بڑے ماہر ہوئے کہ تمام ممالک اسلامیہ میں ان کے پائے کا عالم اور فلسفی نہ تھا۔ انھوں نے ارسطو اور افلاطون پر نقد لکھا۔ فلسفے میں اپنے خاص مکتب، مکتب اشراق کے بانی تھے۔ ایک بار حلب چلے گئے تووہاں سلطان صلاح الدین ایوبی کے فرزند الملک الظاہر غازی نے ان کی بہت قدر منزلت کی۔ شام کے علما سے مباحثے ہوئے اور یہ ان پر غالب آئے۔ علما ان کے دشمن ہو گئے۔ اس پر بادشاہ نے ایک مجلس مناظرہ منعقد کی جس میں تمام اکابر علما شریک ہوئے۔ شیخ الاشراق نے اس محفل میں دقائق فن پر ایسی تقریر کی کہ تمام معاصر ماند پڑ گیے۔ علما نے سلطان صلاح الدین ایوبی سے جا کر شکایت کی یہ شخص اگر زندہ رہا تو آپ کے خاندان کو بلکہ تمام مسلمانوں کو گمراہ کر دے گا۔ ان کے قتل کا فتوی تیار کیا گیا۔ اپنی کتاب حکمۃ الاشراق میں انھوں نے زرتشت کو پیغمبر لکھا اور حکمائے یونان کو مقربان بارگاہ الہی شمار کیا تھا۔ اس سے زیادہ کفر کے لیے کیا چاہیے۔ اس پر سلطان صلاح الدین ایوبی نے الملک الظاہر کو ان کے قتل کا فرمان بھیجا۔ 586 ھجری میں بعمر 36 سال وہ قتل کر دیے گئے۔ (علم الکلام اور الکلام، شبلی نعمانی ص 149)
علامہ ابن رشد (وفات 595 ھجری)
علامہ ابن رشد فقید المثال فقیہ اور فلسفی تھے۔ علم و فضل میں معاصرین سے بہت بڑھے ہوئے تھے۔ اندلس کے چیف جسٹس بھی تھے، اس لیےحکومت میں خاصا اثر و رسوخ رکھتے تھے۔ان کے زمانے میں جمہور علما و فقھا نے فلسفہ کی تعلیم و اشتغال کو حرام قرار دے رکھا تھا۔ ابن رشد نے نہ صرف فلسفہ کی ترویج کی بلکہ اشاعرہ کے علم کلام پر نقد کی جسارت بھی کر ڈالی، یعنی بیک وقت اسٹیٹس کو پر کئی پہلوؤں سے حملہ ہو گیا،جس پر علما و فقھا ان کے خلاف ہوگئے۔ صورت حال یہاں تک پہنچی کہ ملک میں ہنگامے پھوٹ پڑے اورامن و امان کا خطرہ پیدا ہوگیا۔ حاکم وقت منصور نے مجبورا ابن رشد کو مع دیگر فلاسفہ اور حکما (علم کلام کے ماہرین) ایک جزیرہ میں نظر بند کر دیا اور اس کی کتب جلانے کا حکم دے دیا۔ کچھ عرصہ بعد ابن رشد سے بظاہر “توبہ” کروا کے ان کو واپس بلایا اور دربار میں جگہ دی۔ علم الکلام اور الکلام، شبلی، 95)
امام غزالی (وفات 505 ھجری)
امام غزالی خدا کی نشانیوں میں سے ایک نشانی تھے۔ تاریخ انسانیت میں ان جیسے غیر معمولی لوگ کم ہی پائے گئے ہیں۔ آپ کی زندگی میں ہی پورے عالم اسلام میں آپ کے علم و فضل کا شہرہ تھا۔ بادشاہان وقت بھی ان کے معتقد تھے۔ اس کے باوجود اپنے دور کے اہل مذہب کی مخالفت کے خیال سے امام صاحب اپنی کتابوں میں اپنے خیالات کا اظہار کھل کر کرنے سے گریز پا رہے، مگر معاصر علما و فقھا اور مشائخ کی مخالفت سے پھر بھی بچ نہ سکے۔
اسٹیٹس کو کے محافظ جمہور اہل علم یہاں بھی اپنے “منصب کی ذمہ داریوں” سے نہ چوکے اور اپنے جمود کے استھان پر امام صاحب کو قربان کرنے کی پوری کوشش کی۔ ان پر ضلالت اور زندقہ کے فتوے لگائے۔ ان میں محدث ابن جوزی، قاضی عیاض اور بعد کے دور میں ابن قیم بھی شامل تھے، جن کے استاد ابن تیمیہ خود یہ سب بھگت چکے تھے۔ قاضی عیاض کے حکم سے اندلس میں امام صاحب کی کتب جلا ڈالیں گئیں۔امام صاحب کی مخالفت اتنی بڑھی کہ کہ علما کے مطالبے پر بادشاہ (ملک سنجر) نے آپ کو طلب کر لیا، مگر وہ خود آپ سے متاثر ہوگیا، ورنہ امام صاحب کا حال بھی ان اہل علم سے مختلف نہ ہوتا جنھوں نے اپنے دور کے اہل مذہب کے اسٹیٹس کو اپنے علم و تحقیق سے چیلنج کر دیا اور صلے میں قید و بند کی صعوبتیں بردشت کیں۔ امام صاحب آخری عمر میں گوشہ نشین ہوگئے۔ ان کا قول ہے:
“جب تم دیکھو کہ کوئی فقیہ آدمی جس کا سرمایہ علم صرف فقہ ہے، کسی کی تکفیر و تضیل کرتا ہے تو اس کی کچھ پروا نہ کرو۔” (علم الکلام اور الکلام ص 196)
امام فخر الدین رازی (وفات 606 ھجری)
اشعری علم کلام امام فخر الدین رازی کے دور کے اسٹیٹس کو کی علامت تھا۔ امام رازی علم کلام کے ذروۃ السنام تھے۔ انھوں نے علم کلام میں اپنی بے نظیر مہارت کے ذریعے سے معتزلہ کا رد کیا اور اہل سنت کے مذہب کی تائید کی، لیکن اشعری علم کلام سے کچھ پہلوؤں سے اختلاف کرنے کی جسارت بھی کر ڈالی، جس کی پاداش میں محدثین اور فقھا کی مخالفت اور داروگیر کا سامنا کرنا پڑا۔ امام رازی کےسلطان غوری کے ساتھ بہت اچھے تعلقات تھے۔ انھوں نے اسے قرض بھی دیا تھا۔ اس وجاہت کے باوجود جمہور علما کی مخالفت اس حد کو پہنچی کہ انھیں روپوش اور پھر جلا وطن ہونا پڑا۔ کہا جاتا ہے ان کو اسماعیلی فرقے قرامطیہ کے لوگوں نے زہر دے کر مار ڈالا کیونکہ وہ ان کی فکر اور اقدامات پر بھی اعتراضات کرتے تھے۔
علامہ محمد بن سالم آمدی (وفات: 631 ھجری)
علامہ آمدی کا علمی قد اپنے معاصرین سے بہت بلند تھا۔ ابن خلکان انھیں اپنے زمانے کا ذہین ترین انسان قرار دیتا ہے۔فقہ اور کلام دونوں میں مطابقت پیدا کرنے کے قائل تھے۔ ان کے علم و فضل کا شہرہ جب ہر طرف پھیل گیا تو حسب دستور زمانہ ان کے معاصر جمہور علما و فقھا ان کی مخالف ہوگئے۔ ان پر الحاد اور زندقہ اور فلسفہ پرستی کے الزامات پر مشتمل فتوی تیار کیا گیا۔ جمہور اہل علم نے اس پر دستخط کیے۔ طرّہ یہ کہ اس فتوی کو علامہ آمدی کے پاس بھی دستخط کرنے کے لیے بھیج دیا۔علامہ آمدی نے اس پر ایک شعر لکھ کر واپس کیا جس کا مفہوم تھا کہ لوگ جب کسی کے کارناموں کا مقابلہ نہیں کر پاتے تو حسد کا شکار ہو کر اس کے دشمن ہو جاتے ہیں۔
علامہ کی علمی خدمات کا صلہ یہ دیا گیا کہ انھیں مصر سے نکل جانا پڑا۔ آخر یہ عالم بے بدل دیار غیر میں خانہ نشین ہو گیا اور اسی حالت میں وفات پائی۔
امام ابن تیمیہ (وفات 774 ھجری)
امام ابن تیمیہ کی شخصیت کی ہر پرت اتنی غیر معمولی ہے کہ اس کا احاطہ یہاں کرنا ناممکن ہے۔ ان کی صلاحیتوں کے بیان کے لیے فوق الفطرۃ Super natural کا لفظ بولا جاتا ہے۔
21 سال کی عمر میں ان کی مجتھدانہ تصنیفات ان کے معاصرین کو مبتلائے حیرت کر چکی تھیں۔ فقہ میں مجتھد تھے۔ ان کے وقت میں فلسفہ و کلام اسٹیٹس کو کا حصہ بن چکا تھا۔ اب اس کے خلاف بات کرنا گستاخی قرار پایا تھا۔ ابن تیمیہ نے علم کلام اور فلسفہ پر زور دار نقد لکھا۔ اشعری علم کلام کی کمزوریاں واضح کیں۔ یہی کافی تھا کہ اسٹیٹس کو کے علمبردار ان کا ناطقہ بند کردیتے، تس پرقلم بھی بے باک پایا تھا۔انداز تحریر بھی کافی سخت تھا۔ اس نے جلتی پر تیل کا کام کیا اور جمہور اہل علم ان کے شدید مخالف ہوگئے۔ ان کے قتل کے فتوے جاری ہوئے اور حاکم وقت پر زور دے کر کئی بار انھیں جیل میں ڈلوایا گیا۔
طبیعت میں استقلال اس قدر تھا کہ بادشاہ کو بھی خاطر میں نہ لاتے تھے۔ مسلمانوں کے ساتھ ملّی ہمدردی اور حمیت کا یہ عالم تھا کہ تاتاریوں کے ہیبت ناک حملوں کے دفاع کے لیے سہمے ہوئے حکام کو انھوں نے ہی تیار کیا تھا۔ نہ صرف یہ بلکہ کئی برس تک میدان جنگ میں عملاً شریک رہے اور تاتاری جیسی ہیبت ناک قوم کے خلاف تلوار بھی چلاتے رہے۔
جیل میں بھی امام صاحب جیل میں بھی تحریر و تصنیف کا سلسلہ جاری رکھتے۔ علما سے یہ بھی برداشت نہ ہوا۔ آخر جیل میں ان سے لکھنے پڑھنے کا سامان چھین لیا گیا۔ امام فرماتے تھے کہ اصل سزا انھیں اب دی گئی ہے۔ اس کے بیمار بعد پڑ گئے مگر جیل سے رہائی پھر بھی نہ دی گئی۔ بیس دن بیمار رہ کر انتقال کر گئے۔
نتائج:
جمہور مذہبی اشرافیہ نے ہر دور میں دین کی “حفاظت” کی بھرپور کوشش کی، مگر خدا نے ہر بار ان کی محافظانہ کوششوں سے اپنے دین کو محفوظ رکھا ہے۔ یہ ہمیشہ خدا کی قدرت اور حکمت کے خلاف سینہ سپر ہوئے، مگر خدا کی چال ہر بار ان کے خلاف رہی۔ یہ ہر مسیح کو قتل کرنے کے درپے رہے، مگر ہر مسیح کو مصلوب کر کے بھی ہارتے رہے۔ انھوں نے جس کے افکار کو روندا، آنے والے وقت نے اسی کو سر کا تاج بنایا، انھوں نے جس آواز کا گلا گھونٹا، وہ لسان عصر کہلائی، یہ جن اذہان کو حرف غلط کی طرح مٹانے پر تلے، اگلے زمانوں میں وہی نشان علم قرار پائے۔ انھوں نے جس کو گمراہ قرار دیا، وہی زمانوں کا امام قرار پایا۔ انھوں نے جس کو کافر اور زندیق قرار دے کر امت سے خارج کیا، وہ امت کا سرخیل قرار پایا۔
مسیح و فقیہ کی جنگ ہر دور میں جاری رہی اور جاری رہے گی۔ خدا کی قدرت کی نشانیوں کے ظہور کا سلسلہ نہ پہلے کبھی رکا اور نہ کبھی رکےگا۔ جمود کے سکوت میں ‘کل یوم ھو فی شان’ کی نشانیوں سے پیدا ہونے والی ہلچل اسٹیٹس کو کے علمبرداروں کو ہمیشہ کی طرح اب بھی متوحش کرتی رہے گی اور یہ جواب میں وہی کچھ کرتے رہیں گے جو ان کے روحانی آباء و اجداد کا وتیرہ رہا ہے۔
قرآن مجید نے نزول قرآن کے وقت کے یہود کو ان کے آباء واجداد کےجرائم کا وارث اسی لیے ٹھہرایاکہ وہ اپنے آباء کے انبیا کے قتل اوران کے انکار کی روش کی مذمت کرنے کے باوجود انھی کی روش پر قائم تھے۔ ہر دور کے اسٹیٹس کو کے علمبردارں کا یہی حال ہوتا ہے۔ وہ اسٹیٹس کو کے گزشتہ علمبرداروں کی وحشت کی مذمت کرتے ہیں، مگر اپنے اسٹیٹس کو کو چیلنج کرنے والوں سے وہی سلوک کرتے ہیں۔ وہ جو خود اسٹیٹس کو کے ستم کا شکار ہوئے، اگلے زمانوں میں خود اسٹیٹس کو بن کر دوسروں پر یوں ہی دست ستم دراز کرتے ہیں۔ تشابہت قلوبھم کی یہ زندہ مثالیں ہر دو ر میں دیکھی جا سکتی ہیں۔ آپ انھیں ان کے جبہ و دستار اور جوش طبیعت سے صاف پہچان سکتے ہیں۔یہ آج بھی مسیح کے مخالف فقیہ اعظم کی طرح گریبان چاک کر کے چلاتے ہیں کہ دین کی لٹیا ڈوب رہی ہے اسے بچانے کےلیے مسیح وقت کو پھانسی پر چڑھایا جائے۔ یہ وہ ہیں جنھیں خدا سے زیادہ خدا کے دین کی حفاظت کی فکر لاحق ہوتی ہے۔
تاریخ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ جمہور ہمیشہ جمود کے علم بردار ہوتے ہیں۔دوسری حقیقت یہ معلوم ہوتی ہے کہ دلیل کے میدان میں افراد کی عددی برتری فیصلہ کن نہیں ہوتی۔ رسول اللہ ﷺ سے مروی روایت جس میں بتایا گیا ہے کہ میری امت گمراہی پر جمع نہیں ہو سکتی، اس کا مفہوم درحقیقت یہ نہیں کہ اکثریت حق پر قائم رہےگی، بلکہ تاریخی حقائق کی رو سے اس کا درست مفہوم یہ ہے کہ ساری کی ساری امت گمراہ نہ ہو جائے گی، بلکہ چند حق پرست حق پر قائم رہیں گے۔ بالکل ایسے ہی جیسے بنی اسرائیل میں یہ کئی بار ہوا کہ پوری کی پوری امت ہی گمراہ ہوگئی، شرک اور فسق کا شکار ہو گئی مگر چند انبیا اور ان کے قلیل پیروکار حق پر قائم رہ جاتےتھے۔ جمہور کے حق ہونے کا دعوی حقائق کے یکسر برعکس ہے۔ یہ حقائق صاف طور پر یہ ثابت کرتے ہیں کہ جمہور ہی ناحق پر ہوتے ہیں۔ ان کا مذہب حق پرستی نہیں، اسٹیٹس کو کی پرستش ہوتا ہے۔
انسان کی خواہش ہوتی ہے کہ زندگی اسے دوربارہ جینے کا موقع ملتا تو وہ اپنے تجربات کی روشنی میں زیادہ بہتر طریقے سے زندگی گزارسکتا۔تاریخ انسان کو درحقیقت یہی موقع فرہم کرتی ہے۔ بار بار جنم لینا تو ممکن نہیں، مگر گزشتہ نسلوں کےتجربات جان کر انسان گویا کئی جنم جی لیتا ہے۔ پھر جب تاریخ خود کو دہراتی ہے تو آدمی کو درست پوزیشن کیا ہے، یہ جاننے میں غلطی نہیں لگتی۔ جمہور اور حق پرستوں کے مناقشے میں کس فریق کا ساتھ دینا ہے، یہ انتخاب بے غبار ہو کر سامنے آ جاتا ہے۔تاریخ کبھی پرانی نہیں ہوتی، ماضی میں آپ کے حال کی کہانی درج ہوتی ہے اور حال ماضی کا قصہ ہوتا ہے جو دہرایا جا رہا ہوتا ہے۔ ہر دور میں انسانی رویوں ہمیشہ ایک سے رہتے ہیں ۔تاریخ سماج کا آئینہ ہے جس میں ہر کوئی اپنا کردار دیکھ کر فیصلہ کر سکتا ہے کہ اسے کیا کردار ادا کرنا ہے۔، تاہم، اس کے لیےضمیر زندہ اور حوصلہ بلند ہونا لازم ہے۔

اس تحریر كو شیئر كریں
Share on facebook
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on email
Dr Irfan Shehzad

Dr Irfan Shehzad

Dr Irfan Shehzad belongs to Rawalpindi, Pakistan. He holds a doctorate in Islamic Studies from National University of Modern Languages (NUML) Islamabad, Pakistan. He is working as a companion to Ghamidi Center of Islamic Learning Dallas, USA. He is an assistant research fellow with Al-Mawird Pakistan. He is the author of the book, “Qanoon-e-Itmam-e-Hujjat awr Us kay Itlaqaat: Janab Javed Ahmad Ghamidi ki Tawzihaat par Aetrazaat awr Ishkalaat ka Jaiza”, published by Almawrid Lahore Pakistan. Dr Irfan Shehzad writes and speaks on religious, social and sociopolitical issues. His articles are published in different scholarly journals including Ishraq, Lahore, Pakistan, Al-Shariah Gujranwala Pakistan and on social media.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *