حالتِ مظلومیت کا قرآنی ضابطہ

حالتِ کمزوری، محکومی اور مظلومی میں مسلمانوں کے لیے قرآن مجید ہماری کیا رہنمائی کرتا ہے؟
یہ وہ موضوع ہے جسے عصرِ حاضر میں تقریباً مکمل طور پر نظر انداز کر دیا گیا ہے۔کمزور اور مظلوم مسلم اقوام میں اپنے سے کئی گنا طاقت ور مقابل کو للکارنا، جدید ٹیکنالوجی کی محیّر العقول طاقتوں سے لیس دشمن کو اپنے کم تر ہتھیاروں سے تباہ کرنے کا عزم رکھنا ، ممولے کو شہباز سے لڑانا اور مسلسل شکست و ہزیمت کے باوجود اپنی اسی روش پر اصرار کرنا غیرت اور ایمان کا مترادف ٹھیرا دیا گیا ہے۔ قرآن اور احادیث سے اس پر استشہادات پیش کیے جاتے ہیں اور یوں اس رویے پر گویاخدائی سند بھی پیش کر دی جاتی ہے۔
قرآن مجید میں اس قسم کی بے ضابطہ غیرت و حمیت کا کوئی تصور موجود نہیں۔ کمزور اور مظلوم مسلمانوں کے لیے قرآن مجید ایک مکمل ضابطہ دیتا ہے، جو نہایت معقول بنیادوں پر کھڑا کیا گیا ہے۔ اس ضابطہ کو یہاں پیش کیا جاتا ہے، جس کے نعد یہ فیصلہ کیا جا سکتا ہے کہ دنیا کے متعدد حصوں میں خود سے کئی گنا زیادہ طاقتور دشمنوں سے مسلمانوں کی عسکری جدوجہد قرآن کی تعلیمات کے مطابق ہے یا نہیں۔
سب سے اہم اور بنیادی اصول یہ ہے کہ کسی فریق نے جو اقدام بھی کرنا ہے، اس کے لیے اس کے پاس اخلاقی جواز ہونا ضروری ہے۔ یہ بات بھی مد نظر رکھنا ضروری ہے کہ دو متحارب گروہوں، جن میں ایک طاقت ور اور دوسرا کمزور ہے، میں اخلاقی جواز کس فریق کے پاس ہے۔ ضروری نہیں کہ ہمیشہ کمزور فریق ہی حق پر ہو۔ یوں بھی ہوتا ہے کہ مثلاً کسی ریاست میں چند باغی عناصر ریاست کے ساتھ اپنے معاہدے کی خلاف ورزی کے مرتکب ہو جاتے ہیں اور اپنی کمزور پوزیشن کے باوجود ریاست سے لڑائی چھیڑ دیتے ہیں۔ ایسے معاملات کے تجزیے کے بعد ہی کوئی فیصلہ کیا جا سکتا ہے کہ کمزور فریق حق پر ہے یا نہیں۔
دوسری بات یہ ہے کہ قرآن مجید کی نظر میں مظلومیت وہ ہے جو دینی جبر کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہے۔ یعنی جب کوئی طاقت عقیدہ اور دین کے اختیار کرنے میں آزادی دینے پر تیار نہ ہو۔ قرآن کی اصطلاح میں اسےفتنہ کہا گیا ہے اور قرآن میں یہی صورت حال زیرِ بحث ہے۔ انسان سے متعلق دیگر مظالم، مثلا دیگرانسانی حقوق کی پامالی وغیرہ، ضمناً فتنے کے اس مفہوم میں شامل ہیں۔ اس فتنے کے خلاف لڑنے کا حکم مسلم حکومت کو دیا گیا ہے لیکن خود مظلوموں کو نہ صرف ان کے خلاف لڑنے کا حکم نہیں دیا گیا بلکہ اجازت بھی نہیں دی گئی:
وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّىٰ لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ (سورہ الانفال، 8:39)
(ایمان والو)، تم اِن سے برابر جنگ کیے جاؤ، یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے۔
عہدِ رسالت کے مکی دور میں مسلمان حالتِ کمزوری میں تھے۔ ان کو ان کے دین کی وجہ سے ستایا جا رہا تھا۔ اس وقت ان کا جہاد کفار کے ظلم و ستم کے مقابلے میں صبر کے ساتھ اپنے عقائد پر جمے رہنا تھا۔ مسلح جہاد کا حکم تو ایک طرف، اس وقت کے مسلمانوں کو جہاد کی اجازت بھی نہیں دی گئی۔ جہاد کا حکم ریاستِ مدینہ کے قیام کے بعد ہی آیا اور مسلمانوں کو پہلی بار ہتھیار اٹھانے کی اجازت دی گئی:
{أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقَاتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَإِنَّ اللَّهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرٌ الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ بِغَيْرِ حَقٍّ إِلَّا أَنْ يَقُولُوا رَبُّنَا اللَّهُ وَلَوْلَا دَفْعُ اللَّهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لَهُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَبِيَعٌ وَصَلَوَاتٌ وَمَسَاجِدُ يُذْكَرُ فِيهَا اسْمُ اللَّهِ كَثِيرًا وَلَيَنْصُرَنَّ اللَّهُ مَنْ يَنْصُرُهُ إِنَّ اللَّهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزٌ} [الحج: 39، 40]
جن سے جنگ کی جائے، اُنھیں جنگ کی اجازت دے دی گئی ہے، اِس لیے کہ اُن پر ظلم ہوا ہے اور اللہ یقیناً اُن کی مدد پر قادر ہے۔وہ جو ناحق اپنے گھروں سے نکال دیے گئے، صرف اِس لیے کہ وہ کہتے ہیں کہ ہمارا رب اللہ ہے۔ (یہ اجازت اِس لیے دی گئی کہ) اگر اللہ لوگوں کو ایک دوسرے کے ذریعے سے دفع نہ کرتا رہتا تو خانقاہیں اور گرجے اور کنیسے اور مسجدیں جن میں کثرت سے اللہ کا نام لیا جاتا ہے، سب ڈھائے جا چکے ہوتے۔
یہاں دو نکات قابِل غور ہیں ۔ پہلا یہ کہ الفاظ، ‘اجازت دی گئی’ سے صاف ظاہر ہے کہ پہلے اجازت نہیں تھی، یعنی صرف یہ نہیں کہ ہتھیار اٹھانے کا کوئی حکم نہیں تھا، بلکہ ہتھیار اٹھانے کی اجازت بھی نہیں تھی۔ اب جب کہ مسلمان مدینہ میں ایک منظم حکومت قائم کرنے میں کامیاب ہو گئے تھے، اس لیے اجازت دی گئی۔ دوسرے یہ کہ صرف ان کو یہ اجازت دی گئی جن کے خلاف باقاعدہ جنگ شروع کردی گئی تھی، یعنی ریاستِ مدینہ کے مسلمان، نہ کہ وہ جن پر ظلم کیا جا رہا تھا۔ غور کیجیے کہ جہاد کا حکم نازل ہونے کے بعد بھی مکہ کے مظلوم مسلمانوں پر یہ جہاد فرض نہیں کیا گیا۔ ان کے لیے دو ہی راستے بتائے گئے: ایک یہ کہ وہ مکہ سے ہجرت کر جائیں، یہ ہجرت ان پر فرض قرار دی گئی تھی، حتی کہ بلا عذر ہجرت نہ کرنے والے مجرم قرار پائے کہ انھوں نے اپنے دین کو اتنی اہمیت نہ دی کہ اسے بچانے کے لیے ہجرت کر جاتے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
إِنَّ الَّذِينَ تَوَفَّاهُمُ الْمَلَائِكَةُ ظَالِمِي أَنفُسِهِمْ قَالُوا فِيمَ كُنتُمْ ۖ قَالُوا كُنَّا مُسْتَضْعَفِينَ فِي الْأَرْضِ ۚ قَالُوا أَلَمْ تَكُنْ أَرْضُ اللَّـهِ وَاسِعَةً فَتُهَاجِرُوا فِيهَا ۚ فَأُولَـٰئِكَ مَأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ ۖ وَسَاءَتْ مَصِيرًا (سورہ النساء آیت 97)
جو لوگ اپنے نفس پر ظلم کر رہے تھے اُن کی روحیں جب فرشتوں نے قبض کیں تو ان سے پوچھا کہ یہ تم کس حال میں مبتلا تھے؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہم زمین میں کمزور و مجبور تھے فرشتوں نے کہا، کیا خدا کی زمین وسیع نہ تھی کہ تم اس میں ہجرت کرتے؟ یہ وہ لوگ ہیں جن کا ٹھکانا جہنم ہے اور بڑا ہی برا ٹھکانا ہے ۔”
دوسرا یہ کہ اگر ہجرت کرنا ان کے بس میں نہیں تو صبر کے ساتھ کسی بیرونی طاقت کا انتظار کریں جو انہیں اس ظلم سے نجات دلائے، انھیں خود سے کوئی اقدام کرنے کی اجازت یا حکم نہیں دیا گیا۔ ارشاد ہوتا ہے:
“وَمَا لَكُمْ لَا تُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّـهِ وَالْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ وَالْوِلْدَانِ الَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْ هَـٰذِهِ الْقَرْيَةِ الظَّالِمِ أَهْلُهَا وَاجْعَل لَّنَا مِن لَّدُنكَ وَلِيًّا وَاجْعَل لَّنَا مِن لَّدُنكَ نَصِيرًا (سورہ النساء، آیت 75)
آخر کیا وجہ ہے کہ تم اللہ کی راہ میں اُن بے بس مردوں، عورتوں اور بچوں کی خاطر نہ لڑو جو کمزور پاکر دبا لیے گئے ہیں اور فریاد کر رہے ہیں کہ خدایا ہم کو اس بستی سے نکال جس کے باشندے ظالم ہیں اور اپنی طرف سے ہمارا کوئی حامی و مدد گار پیدا کر دے۔”
اس وقت یہ بیرونی طاقت ریاستِ مدینہ تھی۔ چنانچہ ریاستِ مدینہ کا یہ فرض قرار دیا گیا کہ اپنے مجبور مسلمان بھائیوں کی مدد کو آئے۔
تیسری بات یہ ہے کہ ریاستِ مدینہ پر ان مظلوم مسلمانوں کی مدد کرنے کے لیے ایک شرط یہ بھی عائد کی گئی کہ ان کا کفارکے ساتھ کوئی معاہدہ نہ ہو۔ اگر معاہدہ ہے، تو وہ اپنے مظلوم بھائیوں کی مدد کرنے کی اجازت بھی نہیں دی گئی:
إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَهَاجَرُوا وَجَاهَدُوا بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ فِي سَبِيلِ اللَّـهِ وَالَّذِينَ آوَوا وَّنَصَرُوا أُولَـٰئِكَ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ ۚ وَالَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يُهَاجِرُوا مَا لَكُم مِّن وَلَايَتِهِم مِّن شَيْءٍ حَتَّىٰ يُهَاجِرُوا ۚ وَإِنِ اسْتَنصَرُوكُمْ فِي الدِّينِ فَعَلَيْكُمُ النَّصْرُ إِلَّا عَلَىٰ قَوْمٍ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُم مِّيثَاقٌ ۗ وَاللَّـهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ (سورہ الانفال، آیت72)
“رہے وہ لوگ جو ایمان تو لے آئے مگر ہجرت کر کے (دارالاسلام میں) آ نہیں گئے تو ان سے تمہارا ولایت کا کوئی تعلق نہیں ہے جب تک کہ وہ ہجرت کر کے نہ آ جائیں ہاں اگر وہ دین کے معاملہ میں تم سے مدد مانگیں تو ان کی مدد کرنا تم پر فرض ہے، لیکن کسی ایسی قوم کے خلاف نہیں جس سے تمہارا معاہدہ ہو جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اسے دیکھتا ہے۔”
چوتھی بات یہ ہے کہ یہ ہدایت بھی دی گئی کہ ریاستوں کے باہمی ٹکراؤ کے وقت بھی مخالف قوت کے ساتھ طاقت کا تناسب بھی مد نظر رکھا جائے۔ دیکھا جا سکتا ہے کہ خدا کی طرف سے سندِ ایمان کے حامل صحابہ کو بھی اپنے دشمنوں کے خلاف پہلے ایک اور دس کی نسبت سے لڑنے کا حکم دیا گیا تھا لیکن بعد میں مزید مختلف قسم کے لوگوں کے شامل ہو جانے کے بعد جو لازمی کمزوری ان میں در آئی اس کے بعد یہ نسبت ایک اور دو کی کر دی گئی:
يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ حَرِّضِ الْمُؤْمِنِينَ عَلَى الْقِتَالِ ۚ إِن يَكُن مِّنكُمْ عِشْرُونَ صَابِرُونَ يَغْلِبُوا مِائَتَيْنِ ۚ وَإِن يَكُن مِّنكُم مِّائَةٌ يَغْلِبُوا أَلْفًا مِّنَ الَّذِينَ كَفَرُوا بِأَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا يَفْقَهُونَ الْآنَ خَفَّفَ اللَّـهُ عَنكُمْ وَعَلِمَ أَنَّ فِيكُمْ ضَعْفًا ۚ فَإِن يَكُن مِّنكُم مِّائَةٌ صَابِرَةٌ يَغْلِبُوا مِائَتَيْنِ ۚ وَإِن يَكُن مِّنكُمْ أَلْفٌ يَغْلِبُوا أَلْفَيْنِ بِإِذْنِ اللَّـهِ ۗ وَاللَّـهُ مَعَ الصَّابِرِينَ (سورہ انفال، 65،66)
اے پیغمبر، اِن مومنوں کو (اُس ) جنگ پر ابھارو (جس کا حکم پیچھے دیا گیا ہے)۔ اگر تمھارے بیس آدمی ثابت قدم ہوں گے تو دو سو پر غالب آئیں گے اور اگر تمھارے سو ہوں گے تو ہزار منکروں پر بھاری رہیں گے، اِس لیے کہ یہ ایسے لوگ ہیں جو بصیرت نہیں رکھتے۔ اب اللہ نے تمہاری ذمہ داری ہلکی کر دی اور اس نے جان لیا کہ تم میں کچھ کمزوری ہے۔ سو تمہارے سو ثابت قدم ہوں گے تو دو سو پر غالب رہیں گے اور اگر ہزار ہوں گے تو اللہ کے حکم سے دو ہزار پر بھاری ہوں گے اور اللہ ثابت قدموں کے ساتھ ہے۔
ملحوظ رہنا چاہیے کہ یہ اس وقت کی ہدایت ہے جب فریقین کے پاس ہتھیار ایک ہی نوعیت کے ہوتے تھے، اس لیے عددی برتری ہی موثر ہوا کرتی تھی۔ آج جدید ٹیکنالوجی کی حامل اقوام کے پاس کم تر ٹیکنالوجی رکھنے والی اقوام کے مقاملے میں ہتھیاروں کی نہ صرف تعداد بلکہ نوعیت میں بھی بہت بڑا فرق پایا جاتا ہے، آج ہم ایک اور دو کی نسبت سے نہیں، ہتھیاروں کی نوعیت سے طے کرتے ہیں کہ کس میں مقابلے کی کتنی سکت ہے۔ صورت حال جب یہ ہے تو کس بل بوتے پر کمزوروں کو خود سے کئی گنا طاقت ور افواج کے آگے گاجر مولی کی طرح کٹ مرنے کے لیے دھکیلا جا سکتا ہے؟
اسوہ انبیا انھی خدائی ضوابط کی نظیریں بن کر ہمارے سامنے کھڑا ہے۔ صلح حدیبیہ کے موقع پر زنجیروں سمیت بھاگ کر آنے والے حضرت ابو جندل کو معاہدہ امن برقرار رکھنے کی خاطر صبر کی تلقین کے ساتھ واپس کفار کے حوالے کر دیا گیا تھا۔ مزید یہ کہ کفارِ مکہ کے ظلم سے تنگ آ کر جب مکے کے کچھ مسلمانون نے حضرت ابو بصیر کی قیادت میں ہتھیار اٹھا لیے تھے تو ریاستِ مدینہ نے معاہدہ حدیبیہ کی پاسداری کی خاطر اپنے مظلوم مسلمان بھائیوں کی مسلح مدد تو کجا اخلاقی حمایت بھی نہیں کی۔
موسیؑ کا اسوہ بھی اسی ضابطے ایک نمایاں مثال ہے۔ بنی اسرائیل کی رہائی کے لیے آپؑ فرعون سے برسوں تک مسلسل مذاکرات کرتے رہے لیکن لاکھوں بنی اسرائیل کے ہوتے ہوئے بھی کبھی مسلح جنگ کی ترغیب و اجازت نہیں دی۔ اس معاملے میں کسی ایک نبی کی مثال پیش نہیں کی جا سکتی جس نے مظلوموں کو حالت کمزوری میں جنگ پر ابھارا ہو۔ اس کے برعکس مثالیں البتہ موجود ہیں کہ مظالم سے تنگ آ کر بنی اسرائیل نے جب اپنے نبی سیمیوئیلؑ سے اپنے دشمنوں کے خلاف جنگ کرنے کے لیے بادشاہ مقرر کرنے کی فرمایش کی تو انھوں نے اس کی مخالفت کی اور انھیں سمجھایا کہ ایسا مت کریں، ان کے اجتماعی رویے ابھی اس قابل نہیں ہوئے تھے:
أَلَمْ تَرَ إِلَى الْمَلَإِ مِن بَنِي إِسْرَائِيلَ مِن بَعْدِ مُوسَىٰ إِذْ قَالُوا لِنَبِيٍّ لَّهُمُ ابْعَثْ لَنَا مَلِكًا نُّقَاتِلْ فِي سَبِيلِ اللَّـهِ ۖ قَالَ هَلْ عَسَيْتُمْ إِن كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِتَالُ أَلَّا تُقَاتِلُوا ۖ قَالُوا وَمَا لَنَا أَلَّا نُقَاتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّـهِ وَقَدْ أُخْرِجْنَا مِن دِيَارِنَا وَأَبْنَائِنَا ۖ فَلَمَّا كُتِبَ عَلَيْهِمُ الْقِتَالُ تَوَلَّوْا إِلَّا قَلِيلًا مِّنْهُمْ ۗ وَاللَّـهُ عَلِيمٌ بِالظَّالِمِينَ (سورہ البقرہ، 2:246)
تم نے موسیٰ کے بعد بنی اسرائیل کے سرداروں کو نہیں دیکھا، جب اُنھوں نے اپنے ایک نبی سے کہا : آپ ہمارے لیے ایک بادشاہ مقرر کر دیں تاکہ ہم (اُس کے حکم پر) اللہ کی راہ میں جنگ کریں۔ اِس پر نبی نے کہا: ایسا نہ ہو کہ تم پر جہاد فرض کیا جائے اور پھر تم جہاد نہ کرو؟ وہ بولے : ہم کیوں اللہ کی راہ میں جہاد نہ کریں گے ، جبکہ ہمیں ہمارے گھروں اور ہمارے بچوں سے دور نکال دیا گیا ہے ۔ لیکن (ہوا یہی کہ) جب اُن پر جہاد فرض کیا گیا تو اُن میں سے تھوڑے سے لوگوں کو چھوڑ کر باقی سب پھر گئے ، اور (حقیقت یہ ہے کہ ) اللہ اِن ظالموں سے خوب واقف تھا۔
حالت مظلومیت اور کمزوری کا جہاد، کلمہ حق ادا کرنا بتایا گیا ہے، ہتھیار اٹھانا نہیں، اور یہ جہاد افضل ترین جہاد قرار دیا گیا ہے۔
تاہم، اگر کوئی جارح یا جابر قوت، پر امن مظلوموں کی جان کے درپے ہو جائے تو ان کے لیے ہجرت کے علاوہ اپنے جان ، مال اور آبرو کے دفاع کے لیے اضطراری طور پر ہتھیار اٹھا لینے کا فطری حق اسلام تسلیم کرتا ہے۔ جیسا کہ حدیث نبوی میں ہے کہ جو اپنی جان و مال کی حفاظت کرتے ہوئے مارا گیا وہ شہید ہے۔
ایک معروضی حقیقت یہ ہے کہ عوامی سطح پر برپا کی جانے والی جنگِ آزادی یا حقوق کی جنگ کم ہی کبھی کامیاب ہوئی ہے، اور یہ نادر کامیابی بھی تب ملی ہے جب عوام کسی ایک قیادت پر متفق ہو گئے۔ لیکن عموما ہوتا یہ ہے کہ بے قاعدہ عوامی مسلح جدوجہد جان و مال کے بے حساب نقصانات پر ختم ہوتی ہے۔ غاصب یا جابر قوت اگر اپنے مقبوضات سے رخصت ہوئی بھی ہے تو اپنی اندرونی کمزوریوں کی وجہ سے، نہ کہ کمزوروں کی جدوجہد کی وجہ سے۔ عوام کی ان رائیگاں قربانیوں کو بعد میں تاریخی حقائق مسخ کر کے وجہ آزادی بتا دیا جاتا ہے۔ برطانیہ ہو یا روس، دونوں اپنی داخلی کمزوری کی بنا پر اپنے مقبوضہ جات سے رخصت ہوئے تھے، امریکہ کو ویت نام سے میڈیا کے دباؤ کے ذریعے سے امریکی عوام کی مخالفت نے نکالا تھا ورنہ ویت نامیوں کی کمزور سی مزاحمت امریکہ کو ویت نام سے بے دخل نہیں کیا تھا؟ کسی بھی عوامی تحریکِ آزادی کا مطالعہ کر کے دیکھا جا سکتا ہے کہ یا تو وہ ناکام ہوئی، اور جب کبھی وہ کامیاب ہوئی اس کی اصل وجہ سے غاصب قوت کی داخلی کمزوریاں تھیں نہ کہ عوام کی جدوجہد۔
حقیقت یہ ہے کہ دورِ حاضر میں ریاستی ظلم یا قبضے کے خلاف مسلم عوام کی مسلح جدوجہد کا ماخذ اسلام نہیں، بلکہ یورپی اقوام کے نو آبادیاتی نظام کے دور میں انیسویں صدی کے آخر اور بیسویں صدی کے اوئل میں ابھرنے والا تصور قومیت ہے۔ جس کے زیرِ اثر ان کے مقبوضہ علاقوں میں اٹھنے والی مسلح عوامی تحریکوں کے ہیرو ازم نے مقبوضہ خطوں کے محکوم مسلمانوں کو ان کے نقشِ قدم پر چلنے پر ابھارا۔ جہاد کا عنوان اس پر بعد میں قائم ہوا۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ قرآن مجید کی روشنی میں مظلوم و محکوم مسلمانوں کی داد رسی کا طریقہ بس یہی کہ اگر ان کا کیس اخلاقی اصولوں پر درست ثابت ہوتا ہے تو مسلم ممالک اپنی طاقت اور وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے، عالمی اداروں کی مدد یا اپنے بل بوتے پر ان مدد کو آئیں۔ یہ اصل حل ہے۔ اس اصل حل کی بجائے کمزور مسلمانوں کو معمولی سے ہتھیار تھما کر اور ہلاشیری دے کر اپنے سے کئی گنا طاقت ور دشمنوں کے مقابلے میں دھکیل دینا اور پھر ان کی مظلومیت کا ڈھنڈورا پیٹ پیٹ کر سیاست کرنا درحقیقت ان کے ساتھ مزید ظلم کرنا ہے۔ کمزور مسلمانوں کی کمزور سی مسلح جدوجہد مخالف برتر قوت کو طیش دلانے اور ان کے کیس اخلاقی بنیادوں پر کمزور کرنے کے سوا کوئی مفید کام سر انجام نہیں دیتی۔ اگر اس کی بجائے پر امن احتجاج اور مذاکرات کے طریقے پر اکتفا کیا جائے تو ان محکوم مظلوموں کے مصائب میں کافی کمی آ سکتی ہے۔

اس تحریر كو شیئر كریں
Share on facebook
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on email
Dr Irfan Shehzad

Dr Irfan Shehzad

Dr Irfan Shehzad belongs to Rawalpindi, Pakistan. He holds a doctorate in Islamic Studies from National University of Modern Languages (NUML) Islamabad, Pakistan. He is working as a companion to Ghamidi Center of Islamic Learning Dallas, USA. He is an assistant research fellow with Al-Mawird Pakistan. He is the author of the book, “Qanoon-e-Itmam-e-Hujjat awr Us kay Itlaqaat: Janab Javed Ahmad Ghamidi ki Tawzihaat par Aetrazaat awr Ishkalaat ka Jaiza”, published by Almawrid Lahore Pakistan. Dr Irfan Shehzad writes and speaks on religious, social and sociopolitical issues. His articles are published in different scholarly journals including Ishraq, Lahore, Pakistan, Al-Shariah Gujranwala Pakistan and on social media.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *