دین کا غلبہ یا مسلمانوں کا غلبہ

مسلمانوں کا غلبہ اور دین کا غلبہ یہ دو الگ حقائق ہیں۔ ان کو ایک ہی حقیقت سمجھ لینا بہت سے مسائل کا سبب ہے۔ اس مسئلے کو سمجھنے کے لیے سورہ توبہ آیت 33 پر تدبر کی نظر ڈالتے ہیں۔ اللہ فرماتا ہے:
وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا ہے تاکہ (اِس سرزمین کے) تمام ادیان پر اُس کو غالب کر دے، خواہ مشرکین اِسے کتنا ہی نا پسند کریں۔
یہ آیت انہی الفاظ میں سورہ صف میں اور معمولی تغیرِ الفاظ کے ساتھ سورہ فتح میں بھی آئی ہے۔
غور کرنے کی بات یہ ہے کہ یہ آیت دینِ حق کو غالب کرنے کے معاملے میں صرف رسول اللہ ﷺ کا ذکر کرتی ہے، کسی اور کا ذکر نہیں کرتی، بلکہ پورے قرآن مجید میں ایک بھی آیت نہیں ہے جو غلبہ دین کا ذمہ دار رسول اللہ ﷺ کے علاوہ کسی اور کو بناتی ہو۔ اس کی کیا وجہ ہے؟ وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ دین کا غلبہ صرف رسول کے ہاتھوں ہی ممکن تھا، اس لیے کہ رسول اللہ ﷺ اللہ کی طرف سے براہ راست ہدایت یافتہ تھے۔ آپؐ اسی حیثیت سے دین کاغلبہ کرنے کے اہل تھے، دینی معاملات میں آپ کا ہر فعل اور ہر فہم عین دین تھا۔ لیکن آپ کے بعد کوئی اور شخص یا جماعت یہ دعوی نہیں کر سکتی کہ اس کا ہر فعل اور فہم عین دین ہے، اس لیے ان میں سے کسی کے غلبے کو اسلام کا غلبہ کہنا درست نہیں ہو سکتا۔
رسول اللہ ﷺ کے براہ راست تربیت یافتہ صحابہ کے سیاسی غلبے کو بھی قرآن مجید میں صحابہ کا غلبہ کہا گیا، اسے علی الاطلاق دین کا غلبہ نہیں کہا گیا، چنانچہ انہیں بھی یہ حکم دیا گیا ہے کہ وہ اپنے غلبے اور حکومت میں اسلام کے احکامات اور ہدایات پر عمل کریں۔
“یہ لوگ ہیں کہ اگر ہم ان کو سرزمین میں اقتدار بخشیں گے تو وہ نماز کا اہتمام کریں گے، زکوٰۃ ادا کریں گے، معروف کا حکم دیں گے اور منکر سے روکیں گے۔ اور انجام کار کا معاملہ اللہ ہی کے اختیار میں ہے۔” (سورہ الحج، 22:41)
اگر کسی ریاست میں کوئی جماعت شریعتِ اسلامیہ کا نفاذ کرتی ہے تو شریعت کے اطلاقات میں بھی انسانی اجتہاد کا دخل ہوگا۔ مثلًا چور کا ہاتھ کاٹنے کی سزا تو منصوص ہے لیکن کسی کیس میں ایک ملزم کو یہ سزا دینی ہے یا حالات اس کے لیے کسی رعایت کا تقاضا کرتے ہیں، یہ انسانی اجتہاد ہی سے طے ہوگا، یہ فیصلہ درست بھی ہو سکتا ہے اور غلط بھی، جیسا کہ حضرت عمر نے قحط کے دوران چوری کی سزا معطل کر دی تھی۔ رہے فروعی مسائل تو وہ ہیں ہی انسانی عقل کے نتائج۔ تو جہاں انسانی عقل و فہم داخل ہو جائے اس کی بنیاد خواہ دین ہی کیوں نہ ہو، اسے عین دین قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اس لیے مسلمانوں کے غلبے کو دین کا غلبہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ مسلمانوں کا غلبہ جب بھی ہوگا وہ مسلمانوں کا غلبہ ہوگا، جس کا اچھا یا برا ہونا، دینی تقاضوں اور عقل و فطرت میں موجود عدل و انصاف کے تقاضوں کے معیارات کے مطابق پرکھا جائے گا۔
یہ منصب رسول اللہ ﷺ کے بعد کسی کو حاصل نہیں ہے کہ اس کے ہر دینی عمل کو عین دین سمجھا جائے۔ رسول کے اجتھاد کو بھی خدا کی تصویب حاصل ہوتی ہے اس میں کوئی کوتاہی ہو جائے تو فورا خدا کی طرف سے اس کی اصلاح کر دی جاتی ہے۔ رسول اللہ ﷺکے بعد ہر شخص کے اجتہاد، دینی فہم اور عمل میں خطا کا امکان ہے، جس سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، اس لیے اب کوئی بھی فرد یا جماعت یہ دعوی نہیں کر سکتی کہ اس نے دین کو غالب کر دیا ہے یا ایسا وہ کر سکتی ہے یا یہ کہ اس کا کوئی عمل عین دین ہے۔
رسول اللہﷺکے بعد، مسلمانوں کا جو بھی غلبہ ہوا یا مستقبل میں ہوگا، وہ مسلمانوں کی ایک جماعت کا غلبہ ہوا تھا یا ہوگا، پھر یہ مسلم خلفاء اور حکمران جتنا اچھی یا بری طرح دین پر عمل پیرا ہوئے یا ہوں گے اتنا اچھا یا برا دین پر عمل سامنے آیا تھا یا آئے گا۔ صحابہ کے دور کا غلبہ البتہ اس معاملے میں ممکنہ حد تک بہترین نمونہ پیش کرتا ہے۔
قرآن مجید میں مسلمانوں کو دین کو غالب کرنے کا کوئی حکم نہیں دیا گیا۔ یہ اس لیے کہ دین کو غالب کرنا ان کی استطاعت ہی نہیں ہے۔ انہیں تو بس اچھا انسان اور اچھا مسلمان بننے کے احکامات اور ہدایات دیئے گیے ہیں، تاکہ وہ جس حالت میں بھی ہوں دین کے تقاضے اچھے سے اچھے طریقے سے ادا کریں، چاہے وہ حکومت میں ہوں یا کسی کی رعایا ہوں۔
مسلمانوں کو دین نے جو ذمہ داری دی ہے وہ یہ ہے کہ خود بھی اپنا ایمان و عمل صالح بنائیں، اپنے اخلاق کا تزکیہ کریں اور دوسروں تک یہی پیغام پہنچائیں۔ اس میں اگر انہیں حکومت ملنے کے امکانات بھی پیدا ہو جاتے ہیں، یا حالات کا تقاضا ہوتا ہے کہ انہیں حکومت میں آنا چاہیے تو انہیں اسے خدا کی امانت سمجھ کر قبول کرتے ہوئے حتی الا مکان اپنے علم و فہم کے مطابق دین پر عمل کرنا لازم ہو جاتا ہے۔ لیکن وہ اپنے غلبے کو دین کا غلبہ قرار نہیں دے سکتے۔
سورہ توبہ کی مذکورہ بالا آیت (وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا ہے تاکہ (اِس سرزمین کے) تمام ادیان پر اُس کو غالب کر دے، خواہ مشرکین اِسے کتنا ہی نا پسند کریں۔) میں غلبہ دین کا کوئی عمومی حکم بیان نہیں ہوا ہے، بلکہ اللہ کی ایک سنت کا بیان ہے کہ وہ اپنے رسولوں کو دنیا میں ان کے مخالفین پر غالب کر کے ہی رہتا ہے۔ سورہ مجادلہ میں یہ سنت بیان ہوئی ہے:
“اللہ نے لکھ دیا ہے کہ میں اور میرے رسول غالب ہو کر رہیں گے فی الواقع اللہ زبردست اور زور آور ہے۔” (سورہ مجادلہ 21)
اور اس غلبے سے بھی یہاں سیاسی غلبہ مراد ہی نہیں ہے، کیوںکہ یہ معلوم ہے کہ تمام رسولوں کو سیاسی غلبہ نہیں ملا تھا۔ اس غلبے سے مراد، رسولوں کے مخالفین کا مغلوب ہو جانا ہے۔ اور یہ وہ حقیقت ہے جو دنیا میں ہر بار رسول کی دعوت کے انکار کے بعد پیش آئی۔ نوحؑ سے لے کر محمد رسول اللہ ﷺ تک یہی داستاں بار بار قرآن میں سنائی گی ہے۔
سورہ توبہ کی آیت 33 سے مسلمانوں کے غلبے کے عمومی حکم کا کوئی حکم مستنبط نہیں ہوتا۔ اس آیت کا مصداق یعنی غلبہءِ دین، رسول اللہﷺکے اپنے دور میں آپ ﷺ کے لیے پورا ہو گیا تھا۔ اس آیت کے آخری الفاظ، “خواہ مشرکوں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو۔” سے آیت میں بیان ہونے والے غلبے کا دائرہ مشرکینِ عرب تک محدود ہو جاتا ہے، جن پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اتمامِ حجت فرمایا تھا، نیز رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں جو غلبہ ہونا تھا وہی یہاں مراد ہے کیونکہ یہ غلبہ رسول کے ذریعے سےہونا ہی بتایا گیاہے۔
اس کا یہ مطلب نہیں کہ مسلمانوں کو حکومت حاصل نہیں کرنی چاہیے۔ حکومت کے حصول کا معاملہ سماج کی سیاسی و سماجی حرکیات کے تحت ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں سے غلبہءِ دین کا کوئی مطالبہ نہیں کیا گیا کیونکہ ایسا کرنا ان کے لیے ممکن ہی نہیں۔ البتہ انہیں جب بھی حکومت ملے اس میں بساط بھر وہ دینی احکامات اور عدل و انصاف کے تقاضوں کے پورا کرنے کے پابند ہوں گے۔ کسی مسلمان یا مسلم جماعت کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اپنے غلبے کو دینی غلبہ قرار دے یا اپنے سیاسی غلبے کی جدوجہد کو دین کے غلبے کی جدوجہد قرار دے دے۔

اس تحریر كو شیئر كریں
Share on facebook
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on email
Dr Irfan Shehzad

Dr Irfan Shehzad

Dr Irfan Shehzad belongs to Rawalpindi, Pakistan. He holds a doctorate in Islamic Studies from National University of Modern Languages (NUML) Islamabad, Pakistan. He is working as a companion to Ghamidi Center of Islamic Learning Dallas, USA. He is an assistant research fellow with Al-Mawird Pakistan. He is the author of the book, “Qanoon-e-Itmam-e-Hujjat awr Us kay Itlaqaat: Janab Javed Ahmad Ghamidi ki Tawzihaat par Aetrazaat awr Ishkalaat ka Jaiza”, published by Almawrid Lahore Pakistan. Dr Irfan Shehzad writes and speaks on religious, social and sociopolitical issues. His articles are published in different scholarly journals including Ishraq, Lahore, Pakistan, Al-Shariah Gujranwala Pakistan and on social media.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *