محکوم اور مظلوم مسلم اقوام کے لیے قرآنی لائحہ عمل

حالتِ کمزوری، محکومی اور مظلومی میں مسلمانوں کے لیے قرآن کی کیا ہدایات ہیں، یہ وہ موضوع ہے جسے عصرِ حاضر میں تقریباً مکمل طور پر نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ اپنے سے کئی گنا طاقت ور مقابل کو للکارنا، جدید ٹیکنالوجی کی محیّر العقول طاقتوں سے لیس دشمن کو اپنے فرسودہ ہتھیاروں سے تباہ کرنے کے عزم کا اظہارکرتے رہنا، اور شکست پر شکست کھا کر بھی دشمن کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے دعاوی کرنا، غیرت اور ایمان کا مترادف اور عین جہاد ٹھیرا دیا گیا ہے۔
دوسری طرف حقائق یہ ہیں کہ ایک جائزے کے مطابق صرف 2014 میں اسرائیل فلسطین تنازع میں 2314 فلسطینیوں کے مقابلے میں صرف 39 اسرائیلی مارے گئے تھے، کشمیر میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 40،000 اور غیر سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 80،000 سے ایک لاکھ سے زائد کشمیری جاں بحق ہو چکے ہیں، ان کے مقابلے میں بھارتی آرمی کے ہلاک شدگان کی تعداد چند ہزار بھی نہیں۔ افغانستان میں افغان ہلاکتوں اور اس کے مقابلے میں امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کے تناسب کا فرق اس سے بھی زیادہ ہے، یہی حال دنیا کے دیگر علاقوں میں ہے جہاں مسلمان کسی برتر طاقت سے برسرپیکار ہیں۔
ادھر جب ہم قرآن کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں یہ جان کر حیرت ہوتی ہے اس قسم کی بے ضابطہ غیرت و حمیت کا کوئی سبق مسلمانوں کو نہیں پڑھایا گیا ہے۔ کمزور اور مظلوم مسلمانوں کے لیے قرآن ایک مکمل لائحہ عمل دیتا ہے، جو نہایت معقول اور حقائق پر مبنی ہے۔ ہم وہ لائحہ عمل ہم آپ کے سامنے پیش کرتے ہیں، آپ خود فیصلہ کر سکتے ہیں کہ خود سے کئی گنا زیادہ طاقتور دشمنوں سے مسلمانوں کی یہ موجودہ مسلح جدوجہد قرآن کی تعلیمات کے مطابق ہے یا نہیں۔
پہلی بات یہ ہے کہ قرآن مجید نے دین کے معاملے جبر یعنی persecution کو فتنہ کہا ہے جس کے خلاف جہاد کا حکم مسلم ریاست کو دیا ہے۔ دیگر قسم کے مظالم جو مثلا انسانی حقوق اور انسانی آزادیوں سے متعلق ہیں، وہ ضمنا اس ظلم میں شامل ہیں، تاہم اس میں یہ دیکھنا ضروری ہے کہ اخلاقی جواز کس فریق کے پاس ہے۔ ضروری نہیں ہوتا کہ ہمیشہ کمزور فریق ہی حق پر ہو۔ ایسے بھی معاملات ہوتے ہیں جیسے مثلا کسی ریاست میں چند باغی عناصر ریاست کے ساتھ اپنے معاہدے کی خلاف ورزی کے مرتکب ہو جاتے ہیں اور اپنی کمزور پوزیشن کے باوجود ریاست سے لڑائی چھیڑ دیتے ہیں۔ ایسے معاملات کے تجزیے کے بعد ہی کوئی فیصلہ کیا جا سکتا ہے کہ کمزور فریق حق پر ہے یا نہیں۔
عہدِ رسالت کے مکی دور میں مسلمان حالتِ کمزوری میں تھے۔ ان کو ان کے دین کی وجہ سے ستایا جا رہا تھا۔ ان کا جہاد کفار کے ظلم و ستم کے مقابلے میں صبر کے ساتھ اپنے عقائد پر جمے رہنا تھا۔ مسلح جہاد کا حکم تو ایک طرف، اس وقت کے مسلمانوں کو جہاد کی اجازت بھی نہیں دی گئی۔ جہاد کا حکم ریاستِ مدینہ کے قیام کے بعد ہی آیا، ملاحظہ کیجیے سورہ حج کی آیت 39 جس میں مسلمانوں کو پہلی بار ہتھیار اٹھانے کی اجازت دی گئی:
“اجازت دے دی گئی اُن لوگوں کو جن کے خلاف جنگ کی جا رہی ہے، کیونکہ وہ مظلوم ہیں، اور اللہ یقیناً ان کی مدد پر قادر ہے۔”
یہاں دو نکات قابِل غور ہیں ۔ پہلا یہ کہ الفاظ، ‘اجازت دی گئی’ سے صاف ظاہر ہے کہ پہلے اجازت نہیں تھی، یعنی صرف یہ نہیں کہ ہتھیار اٹھانے کا کوئی حکم نہیں تھا، بلکہ ہتھیار اٹھانے کی اجازت بھی نہیں تھی۔ اب جب کہ مسلمان مدینہ میں ایک منظم حکومت قائم کرنے میں کامیاب ہو گئے تھے، اس لیے اجازت دی گئی۔ دوسرے یہ کہ صرف ان کو یہ اجازت دی گئی جن کے خلاف باقاعدہ جنگ شروع کردی گئی تھی، یعنی ریاستِ مدینہ کے مسلمان، نہ کہ وہ جن پر ظلم کیا جا رہا تھا۔ غور کیجیے کہ جہاد کا حکم نازل ہونے کے بعد بھی مکہ کے مظلوم مسلمانوں پر یہ جہاد فرض نہیں کیا گیا۔ ان کے لیے وہی دو راستے تھے: ایک یہ کہ مکہ سے ہجرت کر جائیں، یہ ہجرت ان پر فرض قرار دی گئی تھی، حتی کہ بلا عذر ہجرت نہ کرنے والے مجرم قرار پائے کہ وہ اپنے دین کو اتنی اہمیت نہ دی کہ اسے بچانے کے لیے ہجرت کر جاتے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
“جو لوگ اپنے نفس پر ظلم کر رہے تھے اُن کی روحیں جب فرشتوں نے قبض کیں تو ان سے پوچھا کہ یہ تم کس حال میں مبتلا تھے؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہم زمین میں کمزور و مجبور تھے فرشتوں نے کہا، کیا خدا کی زمین وسیع نہ تھی کہ تم اس میں ہجرت کرتے؟ یہ وہ لوگ ہیں جن کا ٹھکانا جہنم ہے اور بڑا ہی برا ٹھکانا ہے ۔”( سورہ النساء آیت 97)
دوسرا یہ کہ اگر ہجرت کرنا ان کے بس میں نہیں تو صبر کے ساتھ کسی بیرونی طاقت کا انتظار کریں جو انہیں اس ظلم سے نجات دلائے، انھیں خود سے کوئی اقدام کرنے کی ضرورت نہیں: ارشاد ہوتا ہے:
“آخر کیا وجہ ہے کہ تم اللہ کی راہ میں اُن بے بس مردوں، عورتوں اور بچوں کی خاطر نہ لڑو جو کمزور پاکر دبا لیے گئے ہیں اور فریاد کر رہے ہیں کہ خدایا ہم کو اس بستی سے نکال جس کے باشندے ظالم ہیں اور اپنی طرف سے ہمارا کوئی حامی و مدد گار پیدا کر دے۔”( سورہ النساء، آیت 75)
اس وقت یہ بیرونی طاقت ریاستِ مدینہ تھی۔ چنانچہ ریاستِ مدینہ کا یہ فرض قرار دیا گیا کہ اپنے مجبور مسلمان بھائیوں کی مدد کو آئے۔
یہاں مزید ایک بات قابل لحاظ ہے، اور وہ یہ کہ ریاستِ مدینہ پر ان مظلوم مسلمانوں کی مدد کرنے کے لیے ایک شرط یہ بھی عائد کی گئی کہ ان کا کفارکے ساتھ کوئی معاہدہ نہ ہو۔ اگر معاہدہ ہے، تو وہ اپنے مظلوم بھائیوں کی مدد کرنے کی اجازت بھی نہیں دی گئی، ملاحظہ کیجیے یہ ارشادِ ربانی:
“رہے وہ لوگ جو ایمان تو لے آئے مگر ہجرت کر کے (دارالاسلام میں) آ نہیں گئے تو ان سے تمہارا ولایت کا کوئی تعلق نہیں ہے جب تک کہ وہ ہجرت کر کے نہ آ جائیں ہاں اگر وہ دین کے معاملہ میں تم سے مدد مانگیں تو ان کی مدد کرنا تم پر فرض ہے، لیکن کسی ایسی قوم کے خلاف نہیں جس سے تمہارا معاہدہ ہو جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اسے دیکھتا ہے۔”(سورہ الانفال، آیت72)
نیز ایک ہدایت یہ بھی دی گئی ہے مخالف قوت کے ساتھ طاقت کا تناسب بھی مد نظر رکھا جائے۔ دیکھیے کہ خدا کی طرف سے سند ایمان کے حامل صحابہ کو بھی اپنے دشمنوں کے خلاف پہلے ایک اور دس کی نسبت سے لڑنے کا حکم تھا جو بعد میں ایک اور دو کر دیا گیا:
اے پیغمبر، اِن مومنوں کو (اُس ) جنگ پر ابھارو (جس کا حکم پیچھے دیا گیا ہے)۔ اگر تمھارے بیس آدمی ثابت قدم ہوں گے تو دو سو پر غالب آئیں گے اور اگر تمھارے سو ہوں گے تو ہزار منکروں پر بھاری رہیں گے، اِس لیے کہ یہ ایسے لوگ ہیں جو بصیرت نہیں رکھتے۔ اب اللہ نے تمہاری ذمہ داری ہلکی کر دی اور اس نے جان لیا کہ تم میں کچھ کمزوری ہے۔ سو تمہارے سو ثابت قدم ہوں گے تو دو سو پر غالب رہیں گے اور اگر ہزار ہوں گے تو اللہ کے حکم سے دو ہزار پر بھاری ہوں گے اور اللہ ثابت قدموں کے ساتھ ہے۔ (سورہ انفال، 65،66)
یہ اس وقت کی ہدایت ہے جب ہتھیار ایک ہی نوعیت کے ہوتے تھے، اور عددی برتری موثر ہوا کرتی تھی۔ مسلمانوں میں در آنے والی کمزوری کا لحاظ خدا نے کیا اور حکم میں نرمی پیدا کر دی۔ جنگ سے پہلے تیاری کے مراحل میں دیکھا جا سکتا ہے کہ خدا کی حکمت کیسے کام کر رہی ہے۔
آج جدید ٹیکنالوجی کی حامل اقوام کے پاس کم تر ٹیکنالوجی رکھنے والی اقوام کے مقاملے میں ہتھیاروں کی نہ صرف تعداد بلکہ نوعیت میں بھی بہت بڑا فرق پایا جاتا ہے، آج ہم ایک اور دو کی نسبت نہیں، ہتھیاروں کی نوعیت سے طے کرتے ہیں کہ مقابلے کی سکت کتنی ہے۔ صورت حال جب یہ ہے تو کس بل بوتے پر ان کمزوروں کو کئی گنا طاقت ور فوجوں کے آگے گاجر مولی کی طرح کٹ مرنے کے لیے ڈال دیا جاتا ہے؟ ہمارا جوش ایمان کیا صحابہ کے جوش ایمان سے بھی بڑھ گیا ہے یا ہم کسی غلط فہمی کا شکار ہوئے ہیں؟
قرآن مجید اور اسوہ انبیا سے حاصل ہونے والی یہ وہ ہدایات ہے جو آج مکمل طور پر نظر انداز کر دی گئی ہے۔ مکہ اور دیگر علاقون کے مظلوم مسلمانوں کو خود سے ہتھیار اٹھا لینے کا کوئی حکم آخر تک نہیں دیا گیا۔ ہم جانتے ہیں کہ صلح حدیبیہ کے موقع پر زنجیروں سمیت بھاگ کر آنے والے حضرت ابو جندل کو معاہدہ امن برقرار رکھنے کی خاطر صبر کی تلقین کے ساتھ واپس کفار کے حوالے کر دیا گیا تھا۔ مزید یہ کہ کفارِ مکہ کے ظلم سے تنگ آ کر جب مکے کے کچھ مسلمانون نے حضرت ابو بصیر کی قیادت میں ہتھیار اٹھا لیے تھے تو ریاستِ مدینہ نے معاہدہ حدیبیہ کی پاسداری کی خاطر اپنے مظلوم مسلمان بھائیوں کی مسلح مدد تو کجا اخلاقی حمایت بھی نہیں کی۔
آپ دیکھ سکتے ہیں کہ مظلوم مسلمانوں کے لیے قرآن کیا لائحہ عمل دیتا ہے۔ اس بارے میں قرآن کی تعلیمات کس قدر واضح ہیں۔ اس کے باوجود غاصب یا جابر قوتوں کے خلاف کمزور مسلمانوں کی مسلح جدوجہد کی کیا شرعی پوزیشن رہ جاتی ہے۔ ان محکوم اور کمزور اقوام کی یہ مسلح جدوجہد ان کا جذباتی رد عمل تو کہا جا سکتا ہے لیکن اسلام کا منشاء ہرگز قرار نہیں دیا جا سکتا۔
اپنے کسی حق کے لیے آواز بلند کرنے سے اسلام منع نہیں کرتا۔ موسیؑ نے بنی اسرائیل کی رہائی کے لیے فرعون سے مسلسل مذاکرات کرتے رہے جو قرآن میں تفصیل سے موجود ہیں، نیز، رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ ظالم حکمران کے سامنے کلمہ حق کہنا افضل جہاد ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ دورِ حاضر میں ریاستی ظلم یا قبضے کے خلاف مسلم عوام کی مسلح جدوجہد کا ماخذ اسلام نہیں، بلکہ یورپی اقوام کے نوآبادیاتی نظام کے دور میں انیسویں صدی کے آخر اور بیسویں صدی کے اوئل میں ابھرنے والا تصور قومیت ہے۔ جس کے زیرِ اثر ان کے مقبوضہ علاقوں میں اٹھنے والی مسلح عوامی تحریکوں کے ہیروازم نے مقبوضہ خطوں کے محکوم مسلمانوں کو ان کے نقشِ قدم پر چلنے پر ابھارا۔ جہاد کا عنوان اس پر بعد میں قائم ہوا۔
اس سے ہٹ کر اگر کوئی جارح یا جابر قوت، پر امن مظلوموں کی جان کےدرپے ہو جائے تو ان کے لیے ہجرت کے علاوہ اپنی جان بچانے کے لیے اضطراری طور پر ہتھیار اٹھا لینے کا فطری حق اسلام تسلیم کرتا ہے۔ جیسا کہ حدیث نبوی میں ہے کہ جو اپنی جان و مال کی حفاظت کرتے ہوئے مارا گیا وہ شہید ہے۔
ایک معروضی حقیقت یہ ہے کہ عوامی سطح پر برپا کی جانے والی جنگِ آزادی یا حقوق کی جنگ کم ہی کبھی کامیاب ہوئی ہے، اور یہ نادر کامیابی بھی تب ملی ہے جب وہ کسی وہ کسی ایک قیادت پر متفق ہو گئے ہوں۔ لیکن عموما ہوتا یہ ہے کہ بے قاعدہ عوامی مسلح جدوجہد جان و مال کے بے حساب نقصانات پر ختم ہوتی ہے۔ غاصب یا جابر قوت اگر رخصت ہوتی بھی ہے تو اپنی اندرونی کمزوریوں کی وجہ سے ہوتی ہے نہ کہ کمزوروں کی جدوجہد کی وجہ سے۔ عوام کی ان رائیگاں قربانیوں کو بعد میں تاریخی حقائق مسخ کر کے وجہ آزادی بتا دیا جاتا ہے۔ برطانیہ ہو یا روس، دونوں اپنی داخلی کمزوری کی بنا پر اپنے مقبوضہ جات سے رخصت ہوئے تھے، امریکہ کو ویت نام سے میڈیا کے اثر سے امریکی عوام کی مخالفت نے نکالا تھا، فرض کیجئے کہ میڈیا اگر ویت نام میں امریکہ کے مظالم کی رپورٹنگ نہ کر پاتا، اور امریکی عوام اصل صورتِ حال سے بے خبر رہتے، تو کیا محض ویت نامیوں کی کمزور سی مزاحمت امریکہ کو ویت نام سے بے دخل کر سکتی تھی؟ کسی بھی عوامی تحریک آزادی کا نام لیجئے، یا تو وہ ناکام ہوئی، اور اگر کامیاب ہوئی بھی تو اس تحریک کا مطالعہ صاف بتاتا ہے کہ اس کے حقیقی عوامل غاصب قوت کی داخلی کمزوریاں تھیں نہ کہ عوام کی جدوجہد۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ مظلوم و محکوم مسلمانوں کی داد رسی کا طریقہ بس یہی کہ اگر ان کا کیس اخلاقی اصولوں پر درست ثابت ہوتا ہے تو مسلم ممالک اپنی طاقت اور وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے، عالمی اداروں کی مدد یا اپنے بل بوتے پر ان مدد کو آئیں۔ یہ اصل حل ہے۔ اس اصل حل کی بجائے کمزور مسلمانوں کو معمولی سے ہتھیار تھما کر اور ہلاشیری دے کر اپنے سے کئی گنا طاقت ور دشمنوں کے مقابلے میں دھکیل دینا اور پھر ان کی مظلومیت کا ڈھنڈورا پیٹ پیٹ کر سیاست کرنا درحقیقت ان کے ساتھ مزید ظلم کرنا ہے۔ کمزور مسلمانوں کی کمزور سی مسلح جدوجہد مخالف برتر قوت کو طیش دلانے کے سوا کوئی مفید کام سر انجام نہیں دیتی۔ اگر اس کی بجائے پر امن احتجاج اور مذاکرات کے طریقے پر اکتفا کیا جائے تو ان محکوم مظلوموں کے مصائب میں کافی کمی آ سکتی ہے۔ غاصب قوتیں بھی درحقیقت پر امن ہی رہنا چاہتی ہیں۔ چاہے پر امن طریقے سے معاشی اور سیاسی استحصال کرنا ہی ان کا مقصود کیوں نہ ہو۔ ان کو آمادہ ستم کرنے میں مسلمانوں کے مسلح جتھوں کا بہت کردار ہے۔
مسلح جدوجہد کا فرض مسلم ریاستوں کا ہے۔ وہ اگر یہ فرض ادا کریں تو نتیجہ آور ہو سکتا ہے، ورنہ انفرادی جتھوں کی کارروائیاں دہائیاں گرزنے کے بعد بھی خون بہانے کے سوا کوئی نتیجہ پیدا نہیں کر سکیں ہیں۔

اس تحریر كو شیئر كریں
Share on facebook
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on email
Dr Irfan Shehzad

Dr Irfan Shehzad

Dr Irfan Shehzad belongs to Rawalpindi, Pakistan. He holds a doctorate in Islamic Studies from National University of Modern Languages (NUML) Islamabad, Pakistan. He is working as a companion to Ghamidi Center of Islamic Learning Dallas, USA. He is an assistant research fellow with Al-Mawird Pakistan. He is the author of the book, “Qanoon-e-Itmam-e-Hujjat awr Us kay Itlaqaat: Janab Javed Ahmad Ghamidi ki Tawzihaat par Aetrazaat awr Ishkalaat ka Jaiza”, published by Almawrid Lahore Pakistan. Dr Irfan Shehzad writes and speaks on religious, social and sociopolitical issues. His articles are published in different scholarly journals including Ishraq, Lahore, Pakistan, Al-Shariah Gujranwala Pakistan and on social media.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *