مذہبی پیشوائیت اور مذہبی جبر

تاریخ اورردعمل کی نفسیات کے واقف لوگ اس بات کا انکار نہیں کر سکتے کہ قادیانیت کو برقرار رکھنے اور پھیلانے میں جتنی محنت ان کے مخالف مسلمانوں نے اپنی ستم کیشی سے کی ہے اتنی خود قادیانیوں نے نہیں کی۔ ایک عام احمدی جب دیکھتا ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی نےمسیح ہونے کا دعوی کیا ہے اورپھر یہ دیکھتا ہے کہ ان کےاور ان کے پیروکاروں کے ساتھ مذہبی جبر، ظلم و زیادتی کا وہی وتیرہ مسلم پیشوا ؤں اور عوام نے اختیار کر رکھا ہے جو یہود کی مذہبی پیشوائیت اور عوام نے ان کے ایما پر مسیح علیہ السلام اور ان کے پیروکاروں کے خلاف اختیار کیا تھا تو یہ مماثلت اور مظلومیت کا احساس اس میں اپنے ایمان و عقیدے پر وہ پختگی پیداکردیتا جسے پھر کسی دلیل کی ضرورت نہیں رہتی۔
ظلم وستم کے نتیجے میں پیدا ہونے وا لامزاحمت کا نفسیاتی ردعمل ایک بالکل معمولی چیز کو بھی ضد میں آکر عقیدے جیسی پختگی دے دیتا ہے، لوگ خود ساختہ نظریات پر جان دینے کو تیار ہو جاتے ہیں۔ یہاں تو پھر احمدیوں کے سامنے مسیح علیہ السلام اور ان کےپیروکاروں کی مثال میں ا ن کے تئیں دینی سند بھی موجود ہے۔ اس ستم کی ستم ظریفی یہ ہے کہ مسلمانوں نے “دین کے تحفظ” کے نام پر اپنے لیے یہودی پیشواؤں اور ان کے اندھےمقلدین کے کردار کو اختیار کر نا پسند کیا ہے۔
یہود نے مسیح علیہ السلام کو سولی چڑھانے کی سر توڑ کوشش اور ان کے پیروکاروں کا ناطقہ بند کرنے کی سعی اپنے تئیں “دین کے تحفظ” کے نام پر کی تھی۔ ان کی بے قابو “غیرتِ دین” کا حال جاننا ہو تو انجیل کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ پھر جب مسیحی پیشوائیت نے جب طاقت و اقتدار حاصل ک لیاتو اس نے بھی مسیحیت کی مروجہ تعلیمات کے خلاف یا مختلف بات کہنے پر ویسے ہی جبر سے کام لیا جیسا خودان کے اسلاف کے ساتھ بیتا تھا۔ ظلم و ستم کا وہ بازار گرم کیا کہ خود یہود کی مسیحیوں پر ستم کشی کی تاریخ شرما گئی۔
مسلم پیشوائیت جب موقع ملا تو اس سے بھی کسی مختلف رویے کی توقع نہیں کی جا سکتی تھی۔ اس کا بس بھی جہاں چلا اس نے کمی نہیں کی۔ معتزلہ کے خلاف جبر اور پھر معتزلہ کا دیگر مسلمانوں کے خلاف جبر تاریخ کا حصہ ہے۔ شیعہ اور سنی فرقوں نے بھی جتنا ممکن ہوا ایک دوسرے کودبانے، مٹانے کی خوب کوشش کی۔ اب جا کر ایک حد تک سمجھوتہ ہوا ہے۔
تاہم، حقیقت یہ ہے کہ دین پر اتنا برا وقت کبھی نہیں آ سکتا ہے کہ اس کی حفاظت کے لیے خدا کو کسی کی ضرورت پڑ جائے۔دین تب بھی محفوظ تھا جب حقیقی مسیح علیہ السلام تبلیغ رسالت کے لیے آئے تھے اور اب محفوظ ہے جب ایک نام نہاد مسیح موعود ہونے کا دعو ی مرزا صاحب نےکیا۔ نہ قرآن کبھی گم ہوا ہےنہ اس کو سمجھنے والے، نہ عوام اتنے سادہ ہیں کہ جس نے انگلی پکڑ لی اس کے ساتھ چل پڑیں گے اور نہ یہ ناممکن ہے کہ انھیں دین کی تعلیمات سے روشناس کرا کے شعوری طور پر ایسے کسی انحراف سے روکا جا سکے۔
اپنے عقائد و نظریات کے خلاف یا مختلف بات کے کہنے سننے پر پابندی لگانا یہ در حقیقت مذہبی پیشوائیت کےسٹیٹس اور سٹیٹس کو کے دفاع کے لیے کیا جاتا ہے نہ کہ دین کے تحفظ کے نام پر مگر اسے دین کے دفاع کے عنوان پیش کیا جاتا ہے۔
مسلم پیشوائیت نے اگر قادیانیت پر دست ستم دراز نہ کیا ہوتا تو یہ مسئلہ سماجی سطح کوئی خاص تلاطم برپا نہ کر پاتا ،ایسے ہی جیسے اور بہت سے ایسے فرقے اور مکاتب موجود ہیں جن کے نظریات و عقائد قادیانیت سے کم انحرافات نہیں رکھتےمگر ان کی موجودگی سے نہ دین کو خطرہ پیش آ رہا ہے اور نہ مذہبی پیشوائیت کا سٹیٹس کو خطرہ میں پڑا ہے۔ جب تک کوئی مسئلہ مسلم پیشوائیت کے سٹیٹس کو چیلنج کرنے کی پوزیشن میں نہیں آ جاتا اس وقت تک کسی ماتھے پر بل نہیں پڑتا۔ ہندوستان میں ڈاکٹرذاکر نائیک اور پاکستان میں جاوید احمد غامدی صاحب کی مخالفت درحقیقت ان کے نظریات کی وجہ سے نہیں، اس وجہ سے ہے کہ ان کی وجہ سے اس سٹیٹس کو کے بدلنے کاخطرہ ہے جس پر مسلم روایتی پیشوائیت کی اجارہ داری چلی آ رہی ہے۔ ورنہ ان کا معاملہ زیادہ سے زیادہ علمی اختلافات کا تھا اور یہ ہر دور میں ہوتا آیا ہے۔ مگر شدیدمخالفت کی وجہ سٹیٹس کو کو درپیش چیلنج تھا جس کا حل گالی اور گولی کی صورت میں دیا گیا۔ یعنی کسی مسئلے کو دین کے تحفظ کے لیے خطرہ بنانا یا نہ بنانا مذہبی پیشوائیت کاانتخاب ہے۔ جسے مختلف سیاسی اور سماجی عوامل کی بنا پر امت کا مسئلہ بنا دیا جاتا ہے۔
یہ بات پیش نظر رہنی چاہیے کہ دین اور عقائد کے معاملے میں جبر کرنا، سراسرخلافِ اسلام ہے۔ اسلام مذہبی جبر کو “فتنہ” قرار دیتا ہے اور مسلم اہل حل و عقد کی ذمہ داری قرار دیتا ہے کہ وہ اس فتنے کے خلاف اس وقت تک لڑیں جب تک یہ ختم نہ ہو جائے۔ یہ فتنہ (مذہبی معاملات میں جبر) غیر مسلموں کی طرف سے ہو یا خود مسلمانوں کی طرف سے دوسرے مسلمانوں یا غیر مسلموں پر ، یہ “فتنہ” ہے جس کے خلاف حکومت کولڑنے کا حکم ہے۔
یہ فتنہ برپا کرنے والے یہود کے کاہنان اعظم ہوں ، مکے کے ابو لہب و ابو جہل ہوں، مسیحیوں کے پوپ ہو یا مسلم مقتدرہ، یہ سب ظلم و ستم سٹیٹس کو کی حفاظت کے لیے دین کے تحفظ کے عنونا سے کرتے ہیں، مگر خدا کو یہ منظور نہیں ہے۔خدا انسان کو ارادے کی آزادی دے کر، کفر و ایمان میں اختیار دے کر کسی کی یہ اجازت ہرگز نہیں دیتا کہ اب اس کے انتخاب کی آزاد ی کا گلہ گھونٹ دیا جائے۔ یہ تو اس کی اسکیم کے ہی خلاف ہے۔
عقیدوں کے معاملے قانون سازیوں سے حل نہیں ہوتے، صدیوں کی تاریخ یہی بتا رہی ہے۔مسئلہ آپ کے سٹیٹس کے تحفظ کا ہے اور یہ دین کا مسئلہ نہیں ہے۔

اس تحریر كو شیئر كریں
Share on facebook
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on email
Dr Irfan Shehzad

Dr Irfan Shehzad

Dr Irfan Shehzad belongs to Rawalpindi, Pakistan. He holds a doctorate in Islamic Studies from National University of Modern Languages (NUML) Islamabad, Pakistan. He is working as a companion to Ghamidi Center of Islamic Learning Dallas, USA. He is an assistant research fellow with Al-Mawird Pakistan. He is the author of the book, “Qanoon-e-Itmam-e-Hujjat awr Us kay Itlaqaat: Janab Javed Ahmad Ghamidi ki Tawzihaat par Aetrazaat awr Ishkalaat ka Jaiza”, published by Almawrid Lahore Pakistan. Dr Irfan Shehzad writes and speaks on religious, social and sociopolitical issues. His articles are published in different scholarly journals including Ishraq, Lahore, Pakistan, Al-Shariah Gujranwala Pakistan and on social media.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *