میسح کیا تھے، کیوں تشریف لائے تھے؟

مسیح علیہ السلام کا جنم دن ان سب کو مبارک ہو جو خود کو مسیح کا پیروکار کہتے ہیں۔
مسیح کیا تھے کیوں آئے تھے اور ان کے ساتھ کیا ہوا؟ اس کا جاننا ہر دور میں ضروری تھا مگر اب تو بے حد ضروری ہے۔ انجیل کا پڑھنا ہر شخص کے لیے لازم ہونا چاہیے۔
مسیح عام رسولوں کی طرح توحید کی دعوت دینے نہیں آئے تھے۔ وہ ایسی قوم میں مبعوث ہوئے تھے جو خدا اور اس کی شریعت پر ایمان رکھتی تھی۔ مسیح کی دعوت خدا ہر ایمان لانے کی نہیں، خدا پر ایمان لانے کی حقیقت یاد دلانے کی دعوت تھی۔ وہ شریعت کے عالموں کو فقہ کی ظاہر پرستی سے حقیقتِ دین کی طرف متوجہ کرنے آئے تھے۔ شریعت کے یہ عالم و فقیہ وہ لوگ تھے جو یہ نہیں دیکھتے تھے کہ مسیح علیہ السلام نے خدا کی مدد سے کسی مزمن مریض کو صحت یاب اور کسی مردہ کو زندہ کر دیا ہے، وہ یہ دیکھتے کہ انھوں نے ایساسبت کے دن کیوں کی،ے جس دن ایساکوئی کام کرنا بھی ان کے فہم شریعت نے حرام قرار دے رکھا تھا۔ وہ یہ اس پر نہیں سوچتے تھے کہ مسیح کسب حلال پر کتنا ضرور دیتے ہیں، بلکہ یہ دیکھتے تھے کہ وہ اور ان کے پیروکار کھانے سے پہلے ہاتھ کیوں نہیں دھوتے تھے۔ وہ یہ نہیں سمجھتے تھے کہ مسیح کے اعلی اخلاق کس طرح دین سے دور لوگوں کو ان کا گرویدہ اور دین دار بنا رہے تھے وہ یہ دیکھتےتھے کہ وہ گناہ گار سمجھے جانے والوں کے ساتھ کھانا کیوں کھاتے ہیں۔
یہ وہ لوگ تھے جنھیں مسیح کے اخلاق موم کر سکے نہ ان کے مسلسل معجزات۔ انھیں خدا سے زیادہ اپنا مذہب عزیز تھا۔ ان کا مذہب ان کا خدا تھا، بلکہ ان کا فہم مذہب ان کا خدا تھا۔ اس کے خلاف جب خود خدا بول پڑا تو انھوں نے اسے بھی خاموش کرا دینا چاہا۔ اسی سبب سے انھوں نے مسیح علیہ السلام پر توہین مذہب اور کفر کے الزام لگا دیے۔ اپنا تصوراتی کفر وہ ان کے منہ میں ڈالنے لگے۔ یہ کفر ان کے دماغ میں تھا جسے وہ ہر حال میں مسیح علیہ السلام کی زبان سے سننا چاہتے تھے۔ عدالت لگوائی تو مسیح سے صفائی طلب کرنے کے لیے نہیں، بلکہ مزعومہ کفر کے الزام کا اقرار کروانے کے لیے۔یہ عالم و فقیہ اپنے گواہ بنا کر لے آئے، مسیح علیہ االسلام کی بات اس انداز میں پیش کی کہ وہ کفر لگے، توہین مذہب لگے۔ عدالت کو وہ پھر بھی کفر اور توہین نہ لگی۔ خود مسیح علیہ السلام کی وضاحت لینے کو وہ تیار نہ تھے۔ مسیح علیہ السلام نے بھی ان کو ان کی مرضی کا بیان دینے سے انکار کر دیا۔
عدالت کا پس و پیش دیکھ کردین کے ان بزعم خود محافظوں نے عدالت پر دباؤ ڈالنے کے لیے ہنگامہ کھڑا کر دیا گیا۔ان کے سب سے بڑے پیشوا نے جوش میں آکر اپنے کپڑے پھاڑ دیے کہ ہم نے جان لیا ہے کہ مسیح نے کفر بکا ہے اس کو مصلوب کرنے سے کم پر ہم راضی نہ ہوں گے۔ عدالت پر اتنا دباؤ تھا کہ رومی گورنر نے پانی میں ہاتھ دھو کر کہا اس بے گناہ کے خون سے میں بری ہوں ۔جاؤ جو کرنا ہے کرو۔ یوں خدا کے پیغمبر کے خلاف جھوٹا مقدمہ جیت لینے کی خوشی میں اہل مذہب اور ان کے اندھے بہرے پیروکار نعرے لگاتے اور مسیح علیہ السلام کا ٹھٹھا اڑاتے، انھیں لے کر نکلے اور بھرے مجمع میں انھیں اپنے تیئں مصلوب کر دیا۔
دین کے دفاع کے نام پر دین داری کے پندار میں ان خباثتوں کے نتیجے میں خدا کی طرف سے ذلت و نکبت کا عذاب ان پر آن پڑا۔ ان کے ملک کی اینٹ سے اینٹ بج گئی۔قتل و غارت ہوئے۔ غلام بنا لیے گئے۔ دربدر ہو گئے۔
یہ ہر دور کی کہانی ہے اور اسی لیے برپا کر کے کتابوں میں محفوظ کر دی گئی کہ ہر نسل کے لیے آئینے کا کام دے جس میں دیکھ کر وہ معلوم کر سکیں کہ یہ کہانی جب ان کے دور میں برپا ہوئی تو انھوں نے اپنے لیے کون سے کردار کا انتخاب کیا ۔ وہ مسیح وقت کے ساتھ تھے یا مذہبی اشرافیہ کے ساتھ، وہ اس حق کے ساتھ تھے جو ان کے دل و دماغ کو قائل کر گیا تھا یا سٹیٹس کو کے علم برداروں کےساتھ،وہ دلیل کے ساتھ تھے یا جمہور کے ساتھ۔
سر محشر ہر دور کے ہر کردار کا انجام اپنے جیسے کرداروں کے ساتھ ہوگا۔

اس تحریر كو شیئر كریں
Share on facebook
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on email
Dr Irfan Shehzad

Dr Irfan Shehzad

Dr Irfan Shehzad belongs to Rawalpindi, Pakistan. He holds a doctorate in Islamic Studies from National University of Modern Languages (NUML) Islamabad, Pakistan. He is working as a companion to Ghamidi Center of Islamic Learning Dallas, USA. He is an assistant research fellow with Al-Mawird Pakistan. He is the author of the book, “Qanoon-e-Itmam-e-Hujjat awr Us kay Itlaqaat: Janab Javed Ahmad Ghamidi ki Tawzihaat par Aetrazaat awr Ishkalaat ka Jaiza”, published by Almawrid Lahore Pakistan. Dr Irfan Shehzad writes and speaks on religious, social and sociopolitical issues. His articles are published in different scholarly journals including Ishraq, Lahore, Pakistan, Al-Shariah Gujranwala Pakistan and on social media.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *