والدین کی غلامانہ فرماں برداری اور اسلام

والدین اور بزرگوں کی غلامانہ فرماں برداری کا تصور مشرقی ممالک، خصوصا برصغیر میں پائے جانے والی تمام مذاہب کے پیروکاروں اور ان کے کلچر کا حصہ ہے، یہ صرف مسلمانوں کے ساتھ مخصوص نہیں ہے۔ یہ تصور، اسلام سے نہیں، بلکہ جاگیر دارانہ معاشرت سے پیدا ہوا ہے۔ ہمارے سماج میں نہ صرف جاگیرداری زندہ ہے، بلکہ جہاں یہ عملا موجود نہیں ہے، وہاں بھی اس کا پیدا کردہ کلچر اب بھی اتنا ہی توانا ہے۔
جاگیردارانہ معاشرت میں ہر ماتحت چیز کو جاگیر سمجھا جاتا ہے۔ عورت کو بھی ملکیت میں آئی ہوئی ایک چیز کی طرح برتا جاتا ہے، اور اولاد تو ہوتی ہی اپنی ہے، جس کی پرورش پر خرچ بھی کیا گیا ہوتا ہے، اس کے پراپرٹی ہونے میں تو کوئی شبہ ہی نہں ہوتا۔
جاگیردارانہ مزاج کے مطابق ماں باپ اور برزگوں کی ایسی عزت و فرماں برداری کرنا لازمی سمجھا جاتا ہے جس میں ان کے ڈر کا عنصر موجود ہو۔ اس ڈر کو والدین اور بزرگوں کی عزت و احترام کا معیار سمجھا جاتا ہے۔ جو اپنے بڑوں سے جتنا زیادہ ڈرتا ہے اتنا ہی سعادت مند سمجھا جاتا ہے۔ کچھ خاندانوں میں جدید تعلیم یا بیرونی کلچر کے اثر سے والدین یا بزرگوں سے ڈر کے رویے میں کمی آئی ہے، اس تبدیلی کو روایتی کلچر میں اچھا نہیں سمجھا جاتا، اسے بڑوں کے احترام میں کمی گردانا جاتا ہے۔ والدین اور بڑے بوڑھے جب اپنی اولاد کی ان کے اپنے بچوں سے بے تکلفی دیکھتے ہیں تو ناگواری محسوس کرتے ہیں اور سمجھاتے ہیں کہ اس طرح والدین کا رعب ختم ہوتا ہے۔ والدین کے رعب کا یہ تصور جاگیردارانہ معاشرے کی خصوصیت ہے۔ یہ خصوصیت ایک روایت بن کر اب تک چلی آ رہی ہے۔
اس آمرانہ رویے کا اظہار ہماری زبان کے ان محاروں اور تعبیرات میں بھی بہت نمایاں ہے جو اولاد کی مثالی فرماںبرداری کے لے وضع کیے گئے ہیں، مثلاً، کھلاؤ سونے کا نوالہ اور دیکھو شیر کی آنکھ سے، تاکہ باپ کو دیکھتے ہی بچے کا دم نکل جایا کرے۔ فرماں بردار بیٹی کے لیے بڑے فخر سے بتایا جاتا ہے کہ ہم نے اسے جس کھونٹے سے باندھا وہ بندھ گئی، گویا بیٹی نہ ہوئی کوئی گائے یا بکری ہوئی۔ جس عورت، بیوی یا بیٹی کی اپنی کوئی رائے نہ ہو، وہ مثالی سمجھی جاتی ہے اور وہ دیگر لڑکیوں کے لیے اسے رول ماڈل بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔
اس جاگیردارنہ فرماں براری میں ضروری سمجھا جاتا ہے کہ اولاد اپنی رائے، خواہشات اور خوشی کو والدین کے لیے قربان کر دیا کرے۔ اس بات کا خصوصی اہتمام کیا جاتا ہے کہ اولاد خصوصًا بیٹی کی شادی وہاں نہ کی جائے جہاں اس کی مرضی کا اظہار ہو گیا ہو۔ والدین کو یہ احساس طمانیت اور افتخار دیتا ہے کہ ان کی اولاد اپنی خواہش کو قربان کر کے ان کے ناگوار فیصلوں کے آگے سر تسیم خم کر دے۔ انھیں یہ دیکھ کر ایک چھپا ہوا فخر محسوس ہوتا ہے کہ ان کے کسی ٖغلط فیصلے کے زبردستی مسلط کیے جانے سے ان کی کوئی اولاد ایک بے چین اور بے سکون زندگی، صبر و شکر کے ساتھ سے گزار رہے ہیں، وہ ان کے لیے دکھ بھی محسوس کرتے ہیں کہ لیکن کبھی نہیں چاہتے کہ ان کے فیصلے کو ریورس کر دیا جائے۔ لیکن دین نے ایسی کسی فرماں برادری کا تصور نہیں دیا جس میں اپنی جائز خواہشات کو بزرگوں کے لیے قربان کرنا ضروری یا اچھا سمجھا گیا ہو۔
طرّہ اس پر یہ ہوا کہ اس غلامانہ فرماں برداری کے تصو کو مذہبی طبقے کی طرف سے اسلام کا لبادہ بھی پہنا دیا گیا۔ والدین کے ساتھ حسن سلوک سے متعلق اسلامی ہدایات کو اس غلامانہ اطاعت پر منطبق کر دیا گیا۔ اولاد کے حقوق سے متعلق اسلامی تعلیمات پر زور بھی اسی وجہ سے نہیں دیا گیا۔ قرآن کی اس ہدایت کے باوجود کہ اولاد کو بھوک کے ڈر سے قتل نہ کرو، کم وسائل رکھنے والے والدین کو زیادہ بچے پیدا کرنے کی ترغیب دی گئی۔ اسے خدا پر توکل بتایا گیا۔ حالانکہ مذکورہ آیت پیدا شدہ بچوں کے قتل سے روک رہی تھی، نہ کہ یہ کہ رہی تھی کہ اپنے حالات کو نظر انداز کر کے خدا کے بھروسے پر بچے پیدا کرتے چلے جائیں اور پھر انھیں مناسب خوراک اور مناسب علاج معالجہ مہیا نہ کر سکنے کے باعث جلد یا بدیر بیماری یا موت کے منہ میں دھکیل کر اسی آیت میں دی گئی ہدایت کی خلاف ورزی کرکے اپنی اولاد کے قاتل اور مجرم بن جائیں۔
سماج کے جبری ارتقا کے نتیجے میں اس غلامانہ فرماں برداری کا خاتمہ ہوا چاہتا ہے، مگر اس میں سب سے بڑی رکاوٹ ہمارے روایتی مذہبی طبقے کی طرف سے پیدا ہو رہی ہے، جو اس کو مذہبی جواز عطا کرتا ہے۔ قرآن و حدیث سے تو والدین کے ساتھ عمومی حسن سلوک اور اجمالی فرماں برداری کی ہدایت ہی نکل سکتی ہے، جس سے غلامامہ ذہنیت پیدا کرنا پوری طرح ممکن نہیں، چنانچہ اس کے لیے مذہبی نوعیت کے قصے کہانیوں سے مدد لی جاتی ہے۔ مثلا بتایا جاتا ہے کہ ایک والدہ یا والد نے رات کو پانی مانگا۔ بیٹا یا بیٹی پانی پلانے کو اٹھی لیکن والدہ سو چکی تھی۔ وہ ساری رات پانی لیے سرہانے کھڑی رہی۔ اس پر اسے جنت کی بشارت ملی۔ فرماں برداری کا یہ یہ مثالی کوہ ہمالیہ اس لیے پیش کیا جاتا ہے تاکہ اس کو سر کرنے کی کوشش میں اولاد زیادہ سے زیادہ فرماں بردار بنائی جا سکے۔
معلوم ہونا چاہیے کہ دین اسلام جو والدین کی نافرماںی سے منع کرتا ہے اور اسے کبیرہ گناہوں میں سے شمار کرتا ہے اس سے مراد معروف اخلاقی تقاضوں میں والدین کی نافرماںی ہے۔ یعنی والدین کسی ایسی بات کا حکم دیتے ہیں جس کا بجا لانا اخلاقی لحاظ سے مسلّمہ اور ضروری ہو یا وہ کسی ایسے حق کا مطالبہ کرتے ہیں جو اخلاقی لحاظ سے اور جائز طور پر ان کا بنتا ہو، ایسے بدیہی حق سے انکار اولاد کو گناہ گار کرتا ہے۔ دین یہ بتاتا ہے کہ والدین کو جب ان کے بڑھاپے میں خدمت کی ضرورت ہو تو ناگواری کے مواقع پر ناگواری کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہییے اور صبر اور شفقت کے ساتھ ان کی خدمت کرنی چاہیے۔ لیکن اسلام کہیں یہ نہیں کہتا کہ والدین کو اپنی والدینی کے زعم پر اولاد کے حقوق اور رائے پر کوئی مطلق برتری حاصل ہے، اور اولاد کی جنت تب ہی ممکن ہے جب وہ والدین کے ناجائز مطالبات کے سامنے اپنے جائز حقوق سے بھی دست برادر ہو جائیں۔ اسلام انسان کو بطور انسان کبھی کسی کا غلام بننے کا حکم نہیں دیتا بلکہ اس کی اجازت بھی نہیں دیتا۔ یہاں مائیں، اپنا دودھ نہ بخشنے کی دھمکی دے کر بیٹے سے اس کی بیوی کو نا حق طور پر طلاق تک دلوا دیتی ہیں، اور اولاد اس ڈر سے کہ گناہ گاہ نہ ہو جائیں، اپنی جنت نہ کھو بیٹھیں جو ماؤں کے قدموں تلے ہے، ایسے ظلم کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں، اور پھر قصور اور اطمینان کی ملی جلی کیفیت میں زندگی گزار دیتے ہیں۔
معلوم ہونا چاہیے کہ خدا کی نافرماںی میں کسی کی اطاعت جائز نہیں ہے۔ خدا نے ظلم و زیادتی کو حرام قرار دیا گیا ہے، اور کسی کے بھی حکم پر اس پر عمل کرنا انسان کو خدا کی نظر میں الٹا مجرم بنا دیتا ہے۔
تاہم، والدین اپنے تجربے کی بنا پر ناتجربہ کار اولاد کا کوئی مطالبہ تسلیم نہ کریں تو یہ ان کی بطور والدین خیر خواہی کا تقاضا ہے۔ لیکن والدین کے اس انکار کی وجہ کوئی مصلحت ہونی چاہیے نہ کہ محض اپنی انانیت۔ اس کا فیصلہ البتہ ان کا اپنا ضمیر ہی کر سکتا ہے۔
یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ والدین کی ہر نافرماںی کبیرہ گناہ نہیں۔ ان کی معمولی قسم کی باتوں میں نافرماںی کر جانا کبیرہ گناہوں میں شامل نہیں، یہ البتہ ناپسندیدہ ہو سکتا ہے۔ والدین اگر کسی غلط بات کا حکم دیتے ہیں، کوئی ایسی بات منوانا چاہتے ہیں جو ان کا حق نہیں، کسی ایسی بات کا مطالبہ کرتے ہیں جس سے اولاد کی حق تلفی ہوتی ہے تو ایسے حکم سے انکار گناہ بھی نہیں ہے۔ خدا نے ہر انسان کو حق دیا ہے کہ وہ اپنے حق کا مطالبہ اور اس پر اصرار کر سکتا ہے۔
والدین کو چاہیے کہ اولاد کو دین کے نام پر بلیک میل نہ کریں اور ہمارے مذہبی پیشواؤں کو بھی چاہیے کہ دین کے کسی بھی حکم کے اطلاق میں یہ مد نظر رکھیں کہ کسی فریق کے ساتھ زیادتی یا اس کی حق تلفی تو نہیں ہو رہی۔ انھیں سمجھنا چاہیے کہ حق تلفی اور زیادتی کو دین سے جواز مہیا کرنا کبیرہ گناہ البتہ ہو سکتا ہے۔
زیادتی یا حق تلفی جس فریق کی طرف سے ہو، اسی فریق کو سمجھانے کی ضرورت ہے کہ اس کے دین کا اس سے کیا تقاضا ہے، چاہے وہ والدین ہوں یا اولاد۔

اس تحریر كو شیئر كریں
Share on facebook
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on email
Dr Irfan Shehzad

Dr Irfan Shehzad

Dr Irfan Shehzad belongs to Rawalpindi, Pakistan. He holds a doctorate in Islamic Studies from National University of Modern Languages (NUML) Islamabad, Pakistan. He is working as a companion to Ghamidi Center of Islamic Learning Dallas, USA. He is an assistant research fellow with Al-Mawird Pakistan. He is the author of the book, “Qanoon-e-Itmam-e-Hujjat awr Us kay Itlaqaat: Janab Javed Ahmad Ghamidi ki Tawzihaat par Aetrazaat awr Ishkalaat ka Jaiza”, published by Almawrid Lahore Pakistan. Dr Irfan Shehzad writes and speaks on religious, social and sociopolitical issues. His articles are published in different scholarly journals including Ishraq, Lahore, Pakistan, Al-Shariah Gujranwala Pakistan and on social media.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *