ہم جنس پرستی اور جنسی زیادتی: دینی اورسماجی تناظر میں متعلقہ مسائل کا جائزہ اور تجاویز

رضامندی سےہم جنس پرستی ، جنسی زیادتی اور جنسی زیادتی کے بعد قتل: ہم جنس پرستی سے متعلق یہ تین صورتیں ملک میں گزشتہ کچھ برسوں میں رپورٹ ہونے والے واقعات کے تناظر میں بہت نمایاں ہو کر سامنے آئی ہیں ۔اس کی دو وجوہات ہیں: آبادی میں اضافہ اور سوشل میڈیا کا پھیلاؤ۔ آبادی میں بڑھوتری کے ساتھ ایسے واقعات کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔دوسرے یہ کہ ہر معلوم واقعہ کا سوشل میڈیا پر چرچااسے زبان زدعام کر دیتا ہے جس سے ان واقعات کے کثرت وقوع کا تاثر مزید مضبوط ہوتا ہے۔ تاہم، آبادی کے تناسب کے لحاظ سے دیکھا جائے اس کی مظہر کی شرح کم و بیش وہی ہے جو سماج میں ہمیشہ سے رہی ہے۔ سوشل میڈیا کے اس دور سے پہلے ایسے واقعات کی رپورٹنگ محدود اور آبادی کم ہونے کی وجہ سے ان کی تعداد بھی کم تھی، اس لیے سماج میں کوئی وسیع اور موثر ارتعاش برپا کرنے کی بجائے یہ اپنے دائرے میں ہی معدوم ہوجایا کرتے تھے۔ تاہم، اب ان واقعات کے خلاف سماج کی بڑھتی حساسیت سماجی سطح پر ایک اہم پیش رفت ہے، جس سے متعلقہ قانونی،سماجی اور ذہنی ڈھانچے میں بہتری آنے کی امید کی جا سکتی ہے۔
ہم جنس پرستی اور جنسی زیادتی سے متعلق یہ واقعات سماج کے مختلف طبقوں کی طرف سے سامنے آئےہیں۔جنسی زیادتی کے بعد قتل کے جرم کے علاوہ، مدارس دینیہ کا حصہ اس معاملے میں تناسب کے اعتبار سے سب سے زیادہ ہے ۔ جب کہ جنسی زیادتی کے بعد قتل کے واقعات زیادہ تر مدارس کے باہر کے جارحین کی طرف سے صادر ہوئے ہیں۔
اس مسئلے کا درست تجزیہ کرنے کے لیے چند اصولی باتیں باور کرنا ضروری ہیں۔اس کے ساتھ اپنے سماج کے حقیقت پسندانہ تجزیے کو بھی گوارا کر لیا جائے توان مسائل کے ممکنہ قانونی اور سماجی حل میں یقیناً مدد مل سکتی ہے ۔
اس مسئلے کے تین فریق ہیں: بچے، والدین اور فاعل (بچے کے ساتھ جنسی عمل کرنے والا)، جس کی ایک صورت اس کاجارح (زیادتی کرنے والا) ہونا بھی ہے۔
ہم جنس پرستی کے ایسےواقعات کیوں ہوتے ہیں؟ اس مضمون میں اس مسئلے کا دینی اور سماجی پس منظر میں جائزہ لیا گیا ہے۔ جارح کو زیادتی کا موقع کیسے ملتا ہے؟ اس تناظر میں والدین اور تعلیم گاہوں خصوصاً دینی مدارس، جہاں یہ واقعات تسلسل سے پیش آتے ہیں، کے کردار پر بحث کی گئی ہے ۔ اس مضمون میں ہم ان جرائم کی پیدایش کے مذہبی، سماجی،،معاشی اور قانونی ذرائع اور منابع کو نمایاں اور ان کی روک تھام کی تجاویز پیش کریں گے۔
جنسی زیادتی کے بعد قتل کی وارداتوں میں اضافہ یقیناً تشویش ناک ہے، لیکن یہ اس جرم کی انتہائی صورت ہے ۔ جنسی زیادتی کے اصل جرم کے حجم کے مقابلے میں یہ Tip of Iceberg ہے۔ یہ پکتے ہوئے لاوے کی سطحی پھنکار ہے۔ اصل جرم کیفیت کے اعتبار سے اگرچہ کم شدید مگر حجم کے اعتبار سے کئی گنا زیادہ ہے۔ قتل کا خون کو توپکار اٹھتا ہے، مگر آہوں اور سسکیوں کی آوازیں کم ہی سنائی دیتی ہیں۔آنسو جب تک خون بن کر آنکھوں سے بہہ نہیں پڑتے دکھائی نہیں دیتے۔ آہ جب تک کسی مردہ جسم میں سرد نہ ہو جائے، سنائی نہیں دیتی۔
چند اصولی باتیں:
معاملے کی درست تفہیم کے لیے چند اصولوی باتیں طے کرنا ضروی ہیں۔
پہلی بات یہ کہ طاقتور ہمیشہ کمزور کے استحصال کی طرف مائل رہتا ہے۔ استحصال کی روک تھام قانون اور اخلاق کے موثر نظام کے بغیر ناممکن ہے۔ طاقتور اور کمزور کے تعامل میں جہاں کہیں قانون غیر موجود یا غیر موثر ہوگا اور کمزور کی حمایت میں سماجی شعور اور دباؤ کم ہو گا، وہاں طاقتور، کمزور کا استحصال کرنا چاہے گا۔ اس صورت میں کسی ذاتی اخلاقی قوت کے علاوہ کوئی چیز اس سے مانع نہیں ہوسکتی اور یہ اخلاقی قوت عملاً کم ہی موثر ہو پاتی ہے۔زیر بحث معاملہ میں کمزور فریق کم سن بچہ ہے، جو اپنے سے طاقت ور افراد (استاد، ہم سبق/ہم مکتب، قریبی رشتہ دار، محلے داروغیرہ)کی حراست میں آ جاتا ہےاور استحصال سے مراد جنسی زیادتی ہے۔
دوسرے یہ کہ طویل یا معتد بہ اوقات کے لیے کم سن بچوں کا متعلقہ طاقتور اور باختیارافراد کو دستیاب ہونا انھیں بچوں کے استحصال پر ابھارتا ہے۔ جسمانی تشدد اور جنسی زیادتی کے واقعات کا تناسب وہاں زیادہ ہوگا جہاں یہ امکانات زیادہ ہوں گے۔
اپنے فطری اورحقیقی نگہبانوں (والدین) کی عدم نگرانی میں دستیاب کم سن بچے، کسی قریبی رشتہ یا محلے دار کو دستیاب ہوجائیں یا اپنے سے بڑی عمر کے ہم سبق، ہم مکتب لڑکوں یا بااختیار استاد کو، انھیں استحصال کرنے کا میدان میسر آ جاتا ہے۔ اس اصول کے تحت دیکھا جا سکتا ہے کہ یہ امکانات گھر، اسکول یا محلے میں ٹیوشن کے دوران میں ایک محدود وقت کے لیے میسر ہیں، اسی وجہ سے یہاں پیش آنے والے واقعات کا تناسب بھی نسبتاً کم ہے۔ یہاں ایسے حادثات کی روک تھام آسان بھی ہے۔ کم سن بچوں کو اوّل تو ٹیوشن کی ضرورت نہیں۔ سکول کے بعد انھیں پڑھانا کسی وجہ سے ضروری ہوتو گھر میں اور ٹیوشن سنٹر میں تدریس کی جگہ ایسی ہونی چاہیے کہ مختلف اطراف سے نظر رکھی جا سکے۔ چونکہ یہاں تعلیم کا معاوضہ دیا جاتا ہے اس لیے ایک ممکنہ فاعل اور جارح بھی اپنےمالی نقصان سے بچنے کے لیے بھی ایسی کسی حرکت سے بچنے کو ترجیح دیتا ہے۔
بچے سے زیادتی سے متعلق مذکورہ بالا امکانات سب سے زیادہ دینی مدارس کے ماحول میں میسر ہیں ، یعنی قانون اورجواب دہی کے نظام کا کم موثر یاغیر موثر ہونااور سماجی دباؤ کم ہونا، بچے کا طویل اوقات کے لیے مدارس میں موجود ہونا۔چنانچہ یہاں اس جرم اور گناہ کے وقوع کا تناسب دوسری جگہوں کے مقابلے میں زیادہ ہوناتعجب انگیز نہیں ہے۔
کم سن بچےسکولوں میں بھی طویل اوقات کے لیے موجود ہوتے ہیں مگر وہاں اس قسم کے واقعات کاپیش آنا تقریباًنہ ہونے کے برابر ہے۔ اس کی وجوہات ہیں اور وہ یہ کہ یہاں کاروباری نفسیات کارفرما ہے۔ تعلیم کا معاوضہ دیا جاتاہے ۔ بچے گویا گاہک ہوتے ہیں، جنھیں خوش اور راضی رکھنا سکول انتظامیہ کی ترجیح ہوتی ہے۔ جنسی زیادتی تو درکنار کوئی اور حادثہ بھی پیش آ جائے تو سکول کی شہرت داؤ پر لگ سکتی ہے، ان کاکاروبار متاثر ہو سکتا ہے۔ ان وجوہات کی بنا پر بچوں سے جنسی زیادتی کے مواقع اور امکانات پیدا نہیں ہونے دیے جاتے:کم سن بچوں کو پڑھانے کے لیے عموماً خواتین اساتذہ رکھی جاتی ہیں، ہم سن بچوں کے کمرہ ہائے جماعت الگ الگ ہوتےہیں،اس عمر کے بچوں کے سکول رہایشی نہیں ہوتے۔ سکولوںمیں تنہائی (Privacy) کے مواقع کم یاب ہوتے ہیں۔
اس کے برعکس مدارس کاروباری نفسیات سے آزاد ہوتے ہیں۔ عطیات اور چندے کے پیسوں سے مدراس کے اخراجات چلائے جاتے ہیں۔تعلیم مفت ہے۔ مفت میں دی چیز احسان مندی کا تقاضا کرتی ہے اور احسان مند کا استحصال کرنا زیادہ آسان ہوتا ۔ یہاں بچے کو خوش اور راضی رکھنا مجبوری یا ترجیح نہیں ہوتا ۔ چنانچہ یہاں تشدد سے لے کر ہم جنس پرستی اور جنسی زیادتی کے قبل از وقوع روک تھام پر کوئی موثر توجہ نہیں ہوتی۔ مدارس میں اس بات کا کوئی خاص اہتمام نہیں ہوتا اور نہ یہ ممکن ہوتا ہے کہ مختلف عمروں کے بچوں کو الگ الگ جماعتوں میں بانٹ کر پڑھایا جائے۔ مدراس کا بجٹ اس کی اجازت نہیں دیتا۔ چھوٹے بڑے سب بچے ایک چھت کے نیچے ایک ہی ہال میں قرآن ناظرہ و حفظ کرتے اور دیگر درسی جماعتوں میں بیٹھتےہیں۔ ان کی مختلف ٹکڑیوں میں بھی مختلف عمروں کے بچے ملے جلے ہوتے ہیں۔ یوں بڑے لڑکوں کی چھوٹے بچوں تک رسائی آسان ہو جاتی ہے۔استاد مرد ہوتے ہیں، اور مدرسے کے اندر اساتذہ کے حجرےہوتے ہیں جہاں بغیر اجازت آنا منع ہوتا ہے۔ معیاری سکولوں میں کیمرے نصب ہوتے ہیں جب کہ مدارس میں یہ رجحان اب تک نہ ہونے کے برابر ہے بلکہ اس کی مخالفت بھی کی جاتی ہے۔
قرآن مجید کا استاد ہونے کی بنا پر مدرسہ اور قاری صاحب کے ساتھ جڑے خصوصی تقدس اور احترام کا رشتہ استاد کو زیادہ باختیار اور بے خوف بنا دیتا ہے۔ استاد کی شکایت کرنے پر خود بچے کو ہی بے ادب قرار دے دیے جانے کا رجحان مضبوط ہے۔ بچے پر تشدد کے معاملے میں استاد کو مطلق اختیار والدین کی طرف سے دیا جاتا ہے۔ یہاں ظالم و مظلوم کا رشتہ سماجی طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔اختیارات کی یہ وسعت جسمانی تشدد اورجنسی استحصال کےلیے بھی ممد ہو جاتی ہے۔
جہاں تک مدارس میں ہم جنس پرستی اور جنسی زیادتی کے بارے میں فاعل کے خلاف ضابطہ کی کاررائی کا تعلق ہےتو رجحان یہ ہے کہ جب تک پکا ثبوت ہاتھ نہ آئے یا معاملہ مدرسے کی بدنامی کو پہنچ نہ جائے،مدارس کی انتظامیہ عموماً اس معاملے میں صرف نظر سے کام لینا پسند کرتے ہیں۔ کسی فاعل کے خلاف کارروائی ہو بھی تو خود احتسابی کے اندرونی نظام کے تحت ہوتی ہے۔پولیس اور سماج کو شامل نہیں کیا جاتا تاکہ مدرسے کی بدنامی نہ ہو۔ اس طرح فاعل کی سماجی حیثیت میں کوئی فرق نہیں آتا۔ اسے مدرسے، مسجد سے نکال بھی دیا جائے تو کسی دوسرے مدرسےیا مسجد میں باآسانی شمولیت اختیار کر لیتا ہے۔ کردار کی سند (character certificate) کا کوئی تصور نہیں۔ یوں ایسے شخص کواپنے رجحان کی تسکین کے مواقع تلاش کرنے میں زیادہ دقت پیش نہیں آتی۔ اہل مدارس میں فاعل کی جنسی بے راہروی کی تشہیر نہ کرنا عیوب پر پردہ ڈالنے کے دینی مثبت تصورسے تعبیر کیا جاتا ہے۔ جس طالب علم یا استاد کی جڑیں اور تعلقات زیادہ مضبوط ہوں اس کے خلاف بولنا یا کارروائی کرنا عموما احاطہ امکان سے باہر رہتا ہے۔ فاعل اگر مہتمم ہو تو اسے مستقل مامونیت حاصل ہوتی ہے۔ ایسے رجحانات فاعل اور جارح کے لیے حوصلہ افزا ہوتے ہیں۔
یہاں دو سوال قابل غور ہیں:
پہلا یہ کہ بچوں سے جنسی تعلق اور زیادتی کرنے پر مائل ہونے کے کیا عوامل کیا ہیں؟
دوسرا یہ کہ مدارس میں کم سن بچوں کو داخل کرانے کی رجحان کی وجوہات کیا ہیں؟ یہ داخلہ والدین کی رضامندی بلکہ ان کی خواہش پر ہوتا ہے۔ اس پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس رضامندی اور خواہش کے پیدا کرنے کے محرکات کیا ہیں جو والدین کو اپنے بچوں کے لیے یہ خطرات مول لینے پر مجبور کرتے ہیں؟ یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ مدارس کی طرف سے جنسی زیادتی کے واقعات تسلسل سے رپورٹ ہونے کے باوجود کم سن بچوں کے مدارس میں نئے داخلوں میں کوئی محسوس کمی آئی ہے اور نہ پہلے سے موجود بچو ں کو نکال لیا گیا ہے۔ہمارے نزدیک اس کے دو عوامل ہیں: دینی اور سماجی۔
پہلے ہم دوسرے سوال کی طرف متوجہ ہوں گے کہ کم سن بچوں کو مدراس میں داخل کرانے کا رجحان اتنا مضبوط کیوں ہے؟
دینی عامل
مذہبی طبقات کی طرف سے مسلم سماج کو ایک طویل عرصے سے مسلسل یہ باور کرایا گیا ہے حفظ قرآن ایک بہت بڑی سعادت ہے جس کے حصول کے لیے بہترین عمر بچپن کی ہے؛گھرانے کا ایک حافظ بچہ پورے خاندان کو، جن پر جھنم واجب ہو چکی ہوگی، جنت میں لے جانے کا سبب بنے گا ، حافظ کے والدین کو قیامت کے روز ایسا تاج پہنایا جائے گا جس کی چمک سورج کی اس روشنی سے بھی زیادہ ہو گی ، وغیرہ۔یہ اور اس قسم کی دیگر ضعیف روایات کے ذریعے سےوالدین کے دینی جذبات کو انگیخت کیا جاتا ہے۔ جھنم کی آگ کا خطرہ دنیا کے کسی بھی خطرے کے مقابلے میں کم ہوتا ہے، اس لیے والدین ہر خطرہ مول لے کر بچےکو حفظ کرانے پر تُل جاتے ہیں۔ جھنم سے تحفظ اور جنت کی طلب کی یہ خواہش اس قدر شدید ہوتی ہے حفظ کے لیے کم سن بچوں کو اپنے گاؤں ، محلے اور شہر سے دور کے مدرسے میں داخل کرانا بہتر سمجھا جاتا ہے۔اس کا سبب یہ بیان کیا جاتا ہے کہ اپنے علاقے کے مدرسے میں بچے کی توجہ اپنے گھر، والدین، بہن بھائیوں، رشتہ داروں اور کزنز ومقامی دوستوں، غیرہ کی یاد اور ملن کی تڑپ میں بھٹکتی ہے،اس لیے بچے کوان تمام رشتوں ناتوں سے دور کسی باہر کے مدرسے میں بھیجا جائے، جہاں وہ کوئی شناسا نہ پائے اور یوں مختلف عمر اور مختلف علاقوں کے لڑکوں اور اساتذہ کےاجنبی ماحول میں وہ پوری توجہ سے قرآن مجیدحفظ کرنے پر مجبور ہو جائے۔ یوں بچے کا پچپن تو تباہ ہو ہی جاتا ہے، اس کی معصومیت بھی ہمہ وقت خطرے میں رہتی ہے۔ بچہ جتنا کم عمر اور خوش شکل ہوتا ہے، اس کے استحصال کے امکانات اتنے زیادہ ہوتے ہیں۔
والدین کی آخرت سے متعلق یہ لالچ اس قدر بڑھی ہوئی ہے کہ حفظ قرآن کی اس غیر واجب رسم کے لیے وہ بچے پر نہ صرف خودتشدد کرتے ہیں بلکہ اساتذہ کو بھی اس کی کھلی اجازت دیتے ہیں۔ اس پر یہ بے بنیاد روایت بھی مشہور کرارکھی ہے کہ جسم کے جس حصے پر استاد کی مار پڑے گی اس پر جھنم کی آگ حرام ہے۔ یہ معاملہ یہاں تک بڑھا ہوا ہے کہ تشدد کی صورت میں بچہ اگر شدید زخمی ہو جائے یا اس کی موت واقع ہو جائے تو والدین استاد کو معاف کر دیتے ہیں کیونکہ ان کے مطابق بچہ خدا کی راہ میں شہید ہوا ہے اور والدین کے لیے جنت میں داخلے اور جھنم سے دفاع کی جس ضمانت کے لیے اسے برسوں محنت کرنا تھی وہ سفر جلد طے ہوگیا، بچہ ان کے لیے آخرت کا ذخیرہ بن گیا۔ استاد کی “خدمت” کے لیے استاد کو سزا کیوں دی جائے۔ قانون اور سزا سے یہ بے خوفی تشدد پر آمادہ طبائع کی کتنی حوصلہ افزائی کرتی ہیں اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ اختیار کی یہ بے قیدی اور سزا سے کم خوفی بچے کے جنسی استحصال کی طرف مائل طبائع کے لیے بہت حوصلہ افزا ہے۔
جہاں بچوں کے بارے میں والدین کی حساسیت کا یہ عالم ہو، وہاں بچے کے لیے جنسی زیادتی کا خطرہ جانتے بوجھتے مول لینا والدین کے لیےکم اہم ہو جاتا ہے۔ راقم کو ایسے والدین دیکھنے کا موقع ملا جن کے بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی ہوئی، انھیں خبر کی گئی اور وہ بچے کو تسلی دے کر پھر اسی مدرسے میں ہی چھوڑ کر چلے گئے۔ بہت ہوا تو ایسے ہی کسی دوسرے مدرسے میں اسے داخل کرا دیا، مگر حفظ مکمل کرائے بناوہ اسے واپس لے جانے پر تیار نہ ہوئے۔ ایسے طلبہ دیکھنے کا بھی المناک اتفاق ہوا جو ذہنی طور پر حفظ کی صلاحیت سے عاری تھے۔ ان کی یاداشت اس درجہ کی نہ تھی کہ حفظ کر سکتے۔ ان کو بھی لیکن والدین کے اصرار پر برسوں اس چکی میں پیسا جاتا اور تشدد اور ذلت کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ بہت سے طلبہ کے ذہنوں انھیں وجوہات سے قرآن مجید سے بد مزگی پیدا ہو اجاتی ہے، جو تاعمر دور نہیں ہو پاتی۔
سماجی عوامل:
اس میں درج ذیل عوامل شامل ہیں:
غربت:
گھرانے کی کم آمدنی اور مفلسی بچوں کو مدارس میں داخل کرانے کی ایک بڑی وجہ ہے۔ مدارس میں طلبہ کو رہایش، کھانا اور کپڑے وغیرہ مفت ملتے ہیں۔ دوسرا فائدہ دینی تعلیم کا ہوتا ہے۔ امکان ہوتا ہے کہ مفت پرورش کے ساتھ بچہ اگر حافظ، قاری اور عالم بھی بن جائے تو نہ صرف سماج میں عزت ملتی ہے بلکہ امکان ہوتا کہ وہ برسرروزگار بھی ہو جائے گا۔ کسی مدرسے یا مسجد میں ملازمت مل جائے گی یا اپنا مدرسہ یا مسجد کھول سکتا ہے۔ لیکن بچہ اگر کچھ بھی نہ بن پائے تو اسے اس وقت تک مدرسے میں پھر بھی رکھوایا جاتا ہے جب تک وہ کمائی کر کے والدین کا سہارابننے کے قابل نہیں ہو جاتا۔ جب وہ اس قابل ہو جاتا ہے تو اسے مدرسے سے اٹھوا کر کام پر ڈال دیا جاتا ہے۔
کثیر العیال ہونا:
کثیر العیال ہونا نہ صرف مذہبی طور پر مستحسن سمجھا جاتا ہے بلکہ سماجی لحاظ سے ایسا گھرانہ ایک طاقت ور گھرانہ سمجھا جاتا ہے۔ ہمارے دیہی اور قبائلی ماحول میں اس کی اہمیت اور بھی زیادہ ہے۔ قانون کی بالادستی سے محروم سماج میں کثیر العیال ہونا ذاتی تحفظ کے لیے ضروری سمجھا جاتا ہے۔ کثیر العیال والدین دینی اور سماجی دونوں لحاظ سےیہ بہتر سمجھتے ہیں کہ اپنےایک یا ایک سے زائد بچوں کو مدرسے میں داخل کرا کر سماجی اور اخروی عزت و وقار حاصل کریں۔ کثیر العیال والدین اگر کم آمدنی کے حامل ہوں تو مدرسہ میں داخلہ ان کی ترجیح ہی نہیں مجبوری بھی بن جاتی ہے۔
کثیر العیال والدین کی اپنے بچوں سے عمومااتنی گہری جذباتی وابستگی نہیں ہوتی جو شہروں کے ماحول میں کم بچوں والے گھرانوں کے والدین میں دیکھی جاتی ہے۔ اس وجہ سے بھی بچوں کے جذبات، ان کی شکایات اور ان کو کم سنی میں پیش آنے والے خطرات کے بارے میں وہ غیر حساس یا کم حساس ہوتے ہیں۔ مدارس میں یہ کئی کئی ماہ اپنے بچوں کی خبر نہیں لیتے۔ بعض بچوں کی تو اپنے والدین سے سال میں ایک یا دو بار ہی ملاقات ہو پاتی ہے۔ والدین اور بچوں کے درمیان باہمی گفتگو کا خلا اتنا زیادہ ہوتا ہے کہ بچےکا والدین سےاپنے ساتھ بیتی کسی زیادتی کا ذکر کرنا بھی مشکل بلکہ اکثر ناممکن ہوتا ہے۔ ایسے تقریبا لاوارث قسم کےبچے جنسی زیادتی کے شوقین فاعلین اور جارحین کے لیے تر نوالہ ہوتےہیں۔
بچوں کی طرف جنسی میلان کی وجوہات:
اب پہلے سوال کہ بچوں سے جنسی تعلق اور زیادتی پر کرنے پر مائل ہونے کے کیا عوامل اور وجوہات ہیں، پر بات کی جاتی ہے:
ایک المیہ یہ ہے کہ مدارس میں طلبہ کو جن چیزوں یا اقدار کے لیے حساس بنایا جاتا ہے ان میں بچوں کے ساتھ جنسی افعال کرنے کے خلاف حساسیت پیدا کرنا شامل نہیں ہے۔ یہاں زور حساس بنانے پر ہے۔ کسی مسئلے کی محض آگاہی دینا یا مذمت کرنا الگ چیز ہے اور اس کے بارے میں حساس بنانا الگ بات ہے۔اہل مدارس ناموس رسالت، ناموس صحابہ، مسلکی شناخت ظاہر کرنے والی علامات اور مذہبی سیاسی نظریات کے بارے میں شدید حساس ہوتےہیں، ان کے بارے میں وہ سرمو انحراف برداشت کرنے کو تیار نہیں ہوتے، یہاں تک کہ اس معاملے میں تشدد پر بھی اتر آتے ہیں، لیکن ہم جنس پرستی کے خلاف صرف یہ کہ ان میں حساسیت نہیں پائی جاتی بلکہ اس بارے میں ان کا رویہ دفاعی بلکہ جارحانہ حد تک دفاعی ہو تا ہے۔ مدراس سے متعلق ایسی خبروں اور واقعات کو قالین کے نیچے دبانے، مدارس و مساجد سے وابستہ ایسے ملزمان کا دفاع کرنے، انھیں قانون کی پکڑ سے بچانے اور ان کی حیثیت عرفی کی بحالی میں مصروف رہتے ہیں۔ اس معاملے میں وہ دوسرے فرقے کے اہل مذہب کے خلاف یہ الزامات سننے کو تیار نہیں ہوتے ۔ اس بارے میں ایک خاموش اتحاد ہے جو مختلف مسالک اور فرقوں کے درمیان پایا جاتا ہے۔
جنسی خواہش پوری کرنے کے لیے بچوں کی طرف متوجہ ہونا کسی نام نہاد جین کی وجہ سے ہو یانہ ہو، سماج میں پائے جانے والے رجحان کے زیر اثر البتہ ضرور ہوتا ہے۔جن سماجوں میں عورت سماج سے غائب ہے، گھروں میں محدودہے، اور ان سے تعامل کے مناسب اور جائزذرائع بھی مفقود ہیں، نکاح و شادی کے علاوہ مرد و عورت کے کسی بھی قسم کے تعلق پر سماج شدید ردعمل دکھاتا ہے، سماجی مقاطعہ سے لے کر کاروکاری، اور غیرت کے نام پر قتل کرنا معمول کی بات ہے ،وہاں جنسی داعیات ہم جنس پرستی کے کم خطرناک مصرف کی طرف مائل کر دیتے ہیں کہ” جب راہ نہیں پاتے تو چڑ ھ جاتے ہیں نالے” ۔چنانچہ ہمارے ملک کے وہ علاقے جہاں عورت کو پردے کے نام پر سماج سے غائب رکھا گیا ہے، ہم جنس پرستی میں زیادہ بری شہرت کے حامل ہیں۔
جہاں تک مدارس کا تعلق ہے تو یہاں بھی عورت سرے سے غائب ہوتی ہے۔ بلکہ عورت کو دیکھنے، اس کے بارے میں گفتگو کرنے حتی کہ اس کو سوچنے پر بھی گناہ گاری کے احساس کو بڑی شدت سے اجاگر کیا جاتا ہے۔ ادھر ہر عمر کے لڑکوں کے ساتھ تعامل کے ان گنت مواقع میسر ہوتے ہیں۔ چنانچہ جنسی داعیات ہم جنس پرستی کی طرف مائل ہو جاتے ہیں۔ جہاں کہیں مقصد براری سہولت سے ممکن نہ ہو وہاں جبر بھی در آتا ہے اور انتہائی صورت میں معاملہ جنسی زیادتی کے ساتھ قتل کرنے تک بھی پہنچ جاتا ہے۔ ایسا نہیں کہ مدارس میں اس کام کی کھلی چھٹی ہے، پکڑے جانے پر سخت سزااور سرزنش کی جاتی ہے، لیکن اس معاملہ میں حد درجہ کم حساس ہونے کی بنا پر وہ اس ایسے اقدامات کی طرف متوجہ نہیں ہوتے جو ایسے واقعات کی روک تھام ممکن بنا سکیں۔
مدارس میں بچہ جہاں والدین کی نگرانی سے دور اجنبی لوگوں کے درمیان رہتا ہے، اس کے لیے استاد کی خوش نودی حاصل کرنے اور ہم مکتب بڑے لڑکوں کی دھمکیوں (Bullying)کے خوف سے نجات حاصل کرنے کا یہی راستہ رہ جاتا ہے کہ وہ ان کی بات مان لے اور کسی کو شکایت بھی نہ کرے۔ ایک بار عادی ہوجانے کے بعد اس کا پلٹنا مشکل بھی ہوجاتا ہے۔ بڑا ہو کر وہ خود بھی شکاری بنتا ہے یوں ایک تسلسل قائم ہوجاتا ہے۔
معلوم ہوتا ہے کہ زیادتی کے بعد بچوں کے قتل کرنے کے پیچھے ایک محرک اس فعل کا قانونی سزا کے زمرے میں آ جانا ہے۔ قانون کی پکڑ کے ڈر سے بچوں کو قتل کیا جاتا ہے۔
ہم جنس پرستی سماج کی طرح مدارس میں بھی ایک ہنسی مزاح کا موضوع ہے، ایسے قصوں اور کہانیوں کو مزے سے بیان کیا جاتا ہے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مذہبی طبقے نے اس معاملے میں مذہب کے بیانیے کو کوئی اہمیت نہیں دی۔ قرآن مجید میں قوم لوط کا قصہ بے سمجھ تلاوت تک محدود ہے۔ حتی کہ روزانہ جہری نمازوں میں قوم لوط کے عمل اور ان کے عبرت ناک انجام سے متعلق قرآن کی آیات کی تلاوت کا معمول بھی کہیں دیکھنے میں نہیں آتا۔
اس بارے میں کم حساسیت کا ایک نمونہ مدارس کے متعلقہ مذہبی بورڈز کا مدارس میں پیش آنے والےجنسی زیادتی کے مسلسل واقعات پر خاموشی کا رویہ ہے۔ وہ مسئلے کی سنگینی کوتسلیم اور اعتراف کرنے پر بھی تیار نہیں، چہ جائیکہ وہ اس کے خلاف کوئی کارروائی کرنے کا ارادہ رکھتے ہوں۔ اس کے برعکس ایک بورڈ نے اپنے ایک ہم مسلک مدرسےکے طلبہ کے سالانہ نتائج اس بنا پر روک لیے تھےکہ مدرسے سے وابستہ کچھ شخصیات کے نظریات اور رجحانات ان کے مطابق ان کے مسلک سے ہم آہنگ نہیں تھے۔ اس غیر قانونی حرکت پر جب قانونی چارہ جوئی کا عندیہ دیا گیا تو نتائج جاری کیے گئے۔ مگر آج تک ان کی طرف سےکسی مدرسے سے رپورٹ ہونے والے کسی انتہائی واقعہ میں بھی کہ جس میں بچے قتل بھی ہوئے، کوئی ردعمل نہیں دیا گیا۔ ہم جنس پرستی کی یہ خاموش حمایت عادی اور ممکنہ فاعلین اورجارحین کے لیے حوصلہ افزا ہے۔
ہم جنس پرستی ایک تہذیبی قدر:
ایک سماجی حقیقت یہ ہے کہ ہم جنسی پرستی دنیا کی قدیم اور جدید تہذیبوں کی طرح انڈو پاکستانی تہذیب کی بھی ایک منفی تہذیبی قدر رہی ہے۔ بادشاہان، امراء کے ہاں علی الاعلان لڑکوں اور خواجہ سراؤں کو رکھا جاتا تھا۔ ان میں سےکئی نے اپنے مربی بادشاہوں کو قتل بھی کیا اور ان کے بعد ان کے تخت پر بھی بیٹھے۔ لکھنو اور دہلی کے دبستا نوں کی شاعری تو اس سے بھری ہوئی ہے۔ جوش ملیح آبادی نے اپنی آپ بیتی ‘یادوں کی برات” میں بڑے فخر کے ساتھ اپنی اس “خوش ذوقی” کے ثبوت کے طور پر اپنے اور دوستوں کے ہم جنس پرستی کے قصوں کو بیان کیا ہے۔سعادت حسن منٹو اور عصمت چغتائی وغیرہ نے اپنے افسانوں میں اس مسئلے کو موضوع بنایاہے۔
میر تقی میر کو تو معلوم ہوتا ہے اس میں خاص دل چسپی تھی ، کہتے ہیں:
چشمک کرے ہے میری طرف کو نگاہ کر
وہ طفل شوخ چشم قیامت شریر ہے
ہجر میں اس طفل بازی کوش کے رہتا ہوں جب
جا کے لڑکوں میں ٹک اپنے دل کو بہلاتا ہوں میں
ترک بچے سے عشق کیا تھا ریختے کیا کیا میں نے کہے
رفتہ رفتہ ہندستاں سے شعر مرا ایران گیا
وزیر علی صبا لکھنوی لڑکے کے چہرے پر جوانی میں بال یعنی رواں، جسے خط آنا کہتے ہیں، آنے سے اس کے حسن میں کمی آنے پر کہتے ہیں:
پیشتر خط سے مزا تھا حسن کا اے نونہال
ہو گیا داغی ترا سیب زنخداں آج کل
حیدر علی آتش کہتے ہیں:
امرد پرست ہے تو گلستاں کی سیر کر
ہر نونہال رشک ہے یاں خورد سال کا
مصحفی غلام ہمدانی کہتے ہیں:
لالے کی شاخ ہرگز لہکے نہ پھر چمن میں
گر سر پہ سرخ چیرا وہ نونہال باندھے
فراق اور درد کے شاگرد میر محمدی بیدارکہتے ہیں:
آخر اس طفل شوخ نے دیکھا
ٹکڑے جوں شیشہ کر دیا دل کو
تمیزالدین تمیز دہلوی لکھتے ہیں:
فربہ تھا توانا تھا تیرا جانا مانا تھا
جس پہ تو ہوا شیدا لونڈا ہے قصائی کا
اسی طرح خوب صورت لڑکوں سے تعلق رکھنا اس قماش کے لوگوں کے لیے فخر کا باعث ہوتا ہے۔
یہ حوالے محض افراد کے نہیں، سماج میں پائی جانے والی ایک روایت کے ہیں جس کا اظہار کچھ افراد کے قلم سے ہوا ہے۔ اور یہ مسئلہ صرف لکھنو اور دہلی کی تہذیب کا نہیں ہے۔ ہمارے سماج کی تمام مقامی زبانوں میں اس رجحان کی طرف اشارے کرتے لطیفے، محاورے، ضرب الامثال، کنائے، اور گالیاں بھی ایسے ہی اظہاریے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے سماج میں یہ رجحان نہ صرف وافر طور پر موجود رہا بلکہ قابل قبول بھی رہا۔ اس کا ذکر معنی خیز تبسمِ زیر لب سے کیا جانا، اسےمزاح کی صورت میں بیان کرنا بتاتا ہے کہ سماج نےاس رجحان کے ساتھ ایک خاموش سمجھوتہ کر رکھا ہے۔ تاہم، اپنے بچوں کے ساتھ ایسا ہونا کسی کو گوارا بھی نہیں۔ ہم جنس پرستی کی شہرت رکھنے والوں کو اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا۔
شہری اور غیر شہری تہذیبوں کا ایک فرق:
یہاں ایک فرق کو نمایاں کرنا ضروری ہے۔ ہماری تہذیب میں ہم جنس پرستی کا موجود ہونا اور اسے ایک حد میں گوارا کرنے کا رجحان شہری علاقوں کی تبدیل ہوتی ثقافت سے اک ذرا مختلف چیز ہے۔ جنسی زیادتی کے بارے میں جو حساسیت شہری مزاج میں اب پائی جاتی ہے وہ ہماری روایتی اقدار کے حامل غیر شہری سماج میں اتنی نہیں پائی جاتی۔ اس ماحول میں ایسا واقعہ پیش آنا غیر متوقع نہیں ہوتا۔ کچھ یہی وجہ رہی ہے کہ شہری دینی مدارس کے ماحول میں ایسے واقعات پیش آنے پر متاثر ہ بچے کے والدین کےردعمل کی کم حساسیت ایک حقیقت ہے جس کا مشاہدہ راقم کو بارہا ہوا اور یہ ایک صدمہ کی بات ہے۔ یہ والدین، جیسا کہ پیشتر کہا گیا، اپنے متاثرہ بچے کو تسلی دے کر پھر وہیں چھوڑ جاتے یا ایسے ہی کسی دوسرے مدرسے میں ڈال دیتے ہیں۔ اس لحاظ سے شہری گھرانوں کے حالات اور تصورات مختلف ہیں جہاں بچوں کی تعداد کم ہوتی اور جذباتی وابستگی زیادہ ہوتی ہے اور انھیں والدین کی مسلسل نگرانی میں پروان چڑھایا جاتا ہے۔
حفظ قرآن کی حقیقت
ہدایت اور رہنمائی کے لیے قرآن مجید کا مسلمانوں کی زبانوں پر جاری رہنا،نمازو ں میں اس کی تلاوت کی ضرورت کے لحاظ سے اس کا یاد ہوناسعادت کی بات ہے۔ تاہم، اس کے لیے بھی ضروری ہے کہ قرآن کے معنی و مفہوم سے آگاہی رہے تاکہ قرآن کے نزول کا مقصد: اس کے پیغام کو سمجھنا اور اس سے تذکیر حاصل ہونا ، حاصل ہو:
كِتَابٌ أَنزَلْنَاهُ إِلَيْكَ مُبَارَكٌ لِّيَدَّبَّرُوا آيَاتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ أُولُو الْأَلْبَابِ (سورہ ص، آیت 29)
یہ ایک بابرکت کتاب ہے جو ہم نے، (اے پیغمبر)، تمھاری طرف نازل کی ہے۔ اِس لیے کہ لوگ اِس کی آیتوں پر غور کریں اور اِس لیے کہ عقل والے اِس سے یاددہانی حاصل کریں۔
تاہم،پورےقرآن مجید کا زبانی یاد کرنا فرض یا واجب نہیں۔کسی غیر واجب کام کےلیے کسی پر جبر نہیں کیا جاسکتا۔ نزول قرآن کے وقت قرآن مجید کو زبانی یاد کرنے کی ضرورت یوں پیداہوئی عرب کے سماج میں لکھنے پڑھنے کا رواج نہ تھا۔ قرآن مجید کی حفاظت، تلاوت اور اس کی تعلیم و ترسیل کے لیے اسے زبانی یاد کر لینے کے سوا کوئی اور راستہ نہیں تھا۔ چنانچہ اس کی حیثیت ایک انتظامی بندوبست کی تھی۔ قرآن مجید اس دور میں بھی جب کہ کتابت کے ذرائع تھی اور سارا زور حفظ پر تھا، دوحی کی حفاظت اور ترسیل کے لیے کتابت کے ذریعے کو اہمیت دیتا اور اس کے لیے قلم کا ذکرکرتاہے:
{اقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُ الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ} [العلق: 3 – 5]
“اِنھیں پڑھ کر سناؤ، اور حقیقت یہ ہے کہ تمھارا پروردگار بڑا ہی کریم ہے۔جس نے قلم کے ذریعے سے یہ قرآن سکھایا۔انسان کو اِس میں وہ علم دیا جسے وہ نہیں جانتا تھا۔”
{ن وَالْقَلَمِ وَمَا يَسْطُرُون} [القلم: 1]
“یہ سورہ نون ہے۔ قلم گواہی دیتا ہے اور جو کچھ (لکھنے والے اُس سے ) لکھ رہے ہیں (یعنی وحی)۔”
یہ اس لیے کہ تحریر کا کا نعم البدل کچھ اور نہیں ہو سکتا۔ دنیا ہمیشہ سے لکھےہوئے پر اعتماد کرتی آئی ہے۔ یاداشتوں میں محفوظ علم اس درجے کا اعتبار نہیں رکھتا جو لکھے ہوئے کا ہوتا ہے۔ قرآن مجیدکے معاملے میں البتہ یہ ہوا کہ حفظ قرآن نے تحریری قرآن سے مل کر اس کا معاون بن کر قرآن کی حفاظت میں حصہ لیا ہے اور یہ وقت کی ضرورت تھی۔ تاہم، صحابہ کے ہاں بلا فہم حفظ و تلاوتِ قرآن متصور نہ تھا۔عربی زبان سے واقفیت کی بناپر ان کے لیے ایسا کرنا ممکن ہی نہیں تھا۔ چنانچہ جب انھیں قرآن پڑھنے یا یاد کرنے کا کہا گیا اس سےبے سمجھ تلاوت یا یاد کروانا مراد لینے کی کوئی گنجایش نہیں تھی۔ جب عجمی اقوام دائرہ اسلام میں داخل ہوئیں تو یہ پہلی بار ان کے ہاں ہوا کہ بے سمجھ تلاوت اور حفظ کو انھوں نے اس تلاوت اور حفظ کے مترادف سمجھ لیا جس کی ترغیب دی گئی تھی ۔ امام ابوبکر طرطوشی نے اس طرز عمل کو بدعت قراردیا ہے:
“ومما ابتدعه الناس في القرآن، الاقتصار على حفظ حروفه دون التفقُّه فيه۔”
“قرآنِ مجید کے متعلق لوگوں کی ایک بدعت قرآن کے فہم و تفقہ کو چھوڑ کر محض اس کے الفاظ کو حفظ کرنے پر اکتفا کر لینا ہے۔”
بعض احادیث میں وارد “قرآن کا قاری” “حامل قرآن” اور” صاحب قرآن” کے الفاظ کا مصداق بالکل غلط طور پر اس حافظ کو لے لیاگیا جسے قرآن کے معنی و مفہوم سے کوئی سروکار نہ تھا۔ان احادیث میں یہ القابات اس شخص کو دیے گئے ہیں جو قرآن سے اشتغال رکھتا ہے، اس پر عمل کرتا ، اس کے حلال کو حلال اور حرام کو حرام سمجھتا ہے،تبھی وہ ان بشارتوں اور فضیلتوں کا مستحق ہے جو ان احادیث میں بتائی گئیں، یہ شخص قرآن کو سمجھنے والاہی ہوسکتا ہے، یہ حافظ بھی ہو سکتا ہے اور نہیں بھی۔مثلاً
يقال لصاحب القرآن اقرأ وارتق ورتل كما كنت ترتل في الدنيا فإن منزلك عند آخر آية تقرؤها۔
صاحب قرآن کوکہا جائے گا کہ جس طرح تم دنیا میں ترتیل کے ساتھ قرآن مجید پڑھتے تھے آج بھی پڑھتے جاؤ جہاں تم آخری آیت پڑھوگے وہی تمہاری منزل ہوگی۔
اس سے ہمارا ہاں کا مروجہ عجمی حافظ مراد لینا کسی طرح بھی درست نہیں، جو بلا سمجھے قرآن کو زبانی یاد کرتا ہے بلکہ قرآن کو سمجھے کا کوئی ارادہ بھی نہیں رکھتا ہے۔ اس ارادے کی مفقود ہونے کی وجہ یہی غلط فہمی ہے جو الفاظ قرآن کے حفظ کوعملا منتہا سعادت بنائے ہوئے ہے۔
قرآن کے فہم سے یہ لازماً مراد نہیں ہے کہ سمجھنے والا فنی اور اعلی علمی سطح سے بھی واقف ہو۔ یہ سطح ظاہر ہے کہ اہل فن کا کام ہے۔ قرآن فہمی کے درجے ہیں اور ہر درجہ کی قدر خدا کے ہاں ہونا متوقع ہے ۔ عام لوگوں کے لیے قرآن فہمی سے مقصود اس کی پرتاثیر تذکیر و نصیحت ہے، کوئی انسانی کلام جس کی متبادل نہیں ہو سکتا۔ اس کے لیے بھی لیکن قرآن کی زبان کا فہم ہونا ضروری ہے۔ یہ کیسے متصور کیا جا سکتا ہے کہ جس قرآن کو لوگوں کی ہدایت کے لیے اس قدر اہتمام سے نازل کر کے محفوظ کر کے انسانی نسلوں تک پہنچایا گیا ہو ، اسےبے سمجھ تلاوت و حفظ پر اکتفا کر لینا گوارا کر لیا جائے۔ قرآن مجید کےناظرہ ور حفظ کو قرآن فہمی کے ساتھ لازما جڑا ہونا چاہیے۔ بے سمجھ تلاوت و حفظ پر اکتفا کر لینا قرآن مجید کی شدید ناقدری اور بقول امام ابوبکر طوسی کےبدعت ہے۔اس بدعت کے بل پر بچوں کو ان کی مرضی جانے بغیر حفظ کرا کے جنت کا داخلہ بزعم خود متحقق کر لینا اسی قبیل کی تمنا ہے جس پر قرآن مجید نے یہ تبصرہ کیا ہے:
وَمِنْهُمْ أُمِّيُّونَ لَا يَعْلَمُونَ الْكِتَابَ إِلَّا أَمَانِيَّ وَإِنْ هُمْ إِلَّا يَظُنُّونَ
اور (یہ وہ لوگ ہیں کہ) اِن میں بن پڑھے عامی بھی ہیں جو اللہ کی کتاب کو صرف (اپنی) آرزوؤں کا ایک مجموعہ سمجھتے ہیں اور اپنے گمانوں ہی پر چلتے ہیں۔
حافظ بچہ جنت کا ٹکٹ نہیں ہے کہ خدا کے عدل کے قانون کو توڑ کر ایسے افراد کو بھی جھنم سے بچا لےجائے جن پر ان کے اعمال کے سبب جھنم واجب ہو چکی ہو۔ ایسا بیان کرنے والی روایات ضعیف اور دین کے مسلّمہ اصولوں کے خلاف ہیں ۔ قرآن مجید ہر شخص کو اس کے اپنے اعمال کا ذمہ دار ٹھراتا ہے ، کوئی کسی دوسرے کا ضامن بن سکتا ہے اور نہ کسی دوسرے کا بوجھ ہی اٹھا سکتا ہے ، اور نہ کسی کی سفارش میرٹ کے بغیر کر سکتا ہے ۔ عوام کے یہ تصورات درست کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ اپنے بچوں کے کاندھوں پر بیٹھ کر جنت کی آسان رہ تلاش کرنے کی جہالت سے چھٹکارا پا سکیں۔
قرآن مجید کے محفوظ ہو جانے کے ذرائع جو اب میسر ہیں، اس کے بعد قرآن کی حفاظت کے لیے اسے زبانی یاد کرنے کی وہ اہمیت اور ضرورت نہیں رہی جو پہلے تھی۔ تاہم اب بھی کوئی حفظ کرنا چاہے تو یہ ذوقی اور شعوری معاملہ ہونا چاہیے جو ظاہر ہے کہ شعور کی عمر کو پہنچ کر فرد کو کرنا چاہیے۔ جسے حفظ کا شوق ہو، وہ خود حفظ کرے ، بچوں پر اپنی خواہش کا بوجھ ڈالنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔
قرآن مجید کو بے سمجھے پڑھنے کی ممانعت قرآن مجید کے علاوہ احادیث میں بھی آئی ہے۔ رسول اللہ ﷺ سے مروی صحیح حدیث ہے:
لَمْ يَفْقَهْ مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ فِي أَقَلَّ مِنْ ثَلَاث
اس نے قرآن سمجھا ہی نہیں جس نے تین دن سے کم مدت میں قرآن ختم کر ڈالا“۔
جس بے سمجھ تلاوت کی اس حدیث میں شکایت کی گئی ہے وہ ہر اس تلاوت پر صادق آتی ہے جس میں پڑھنے والے کا سمجھنے کا کوئی ارادہ نہ ہو چاہے۔ عجیب بات یہ ہے کہ اس روایت کی بنا پر قرآن مجید کو تین دین سے کم میں ختم نہ کرنے کی طرح تو ڈالی گئی، مگر روایت کا مقصودیعنی بے سمجھ تلاوت کی مذمت، کو باور نہیں کیا گیا اور روایت کے مقصود کے برعکس تین دن کی بجائے تمام عمر بے سمجھ تلاوت اور حفظ کو باعث اجر سمجھ لیا گیا۔
ایک حدیث جس میں الف لام میم کی تلاوت پر تیس نیکیاں ملنے کی ضمانت دی گئی ہے، سے بے سمجھ تلاوت و حفظ پر استدلال عجلت پر مبنی سطحی استدلال ہے ۔یہ طرز تکلم تشویق پیدا کرنے کے لیے ہے نہ کہ بے سمجھ تلاوت کی ترغیب دینے کے لیے۔ ا-ل-م کوبطور مثال ثواب کا حجم بتانے کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔یہ بات کسی طرح درست قرار نہیں دی جا سکتی کہ قرآن جس کا مقصد ابلاغ معنی ہے اسے بے سمجھ پڑھنے کی ترغیب دی جائے اوروہ بھی اولاّ ان لوگوں کو جن کے لیے قرآن کی زبان سے واقفیت کی بنا اسے بے سمجھے پڑھنا ممکن ہی نہ تھا۔
اس مفہوم کی تمام روایات میں سے کوئی بھی سندا صحیح یا حسن درجے تک نہیں پہنچتی ، تاہم، انھی روایات میں سے بعض متون میں وہ پوری بات بیان ہوگئی ہے جو قرآن مجید کے مسلمہ بیانات مطابق ہے اور وہ یہ ہے کہ یہ اجر محض بے سوچے سمجھے تلاوت کرنے پر نہیں بلکہ قرآن مجید پر غور و فکر کرنے، اسے سیکھنے،سمجھنے ،اس پر عمل کرنے اور دوسرے لوگوں کو سکھانےکے لیے پڑھنے پڑھانے پر بتاگیا ہے۔ مثلا درج ذیل روایت دیکھیے:
تَعلَّمُوا الْقُرْآنَ، وَاتْلُوهُ تُؤْجَروا بِكُلِّ حَرْفٍ عَشْرَ حَسَنَاتٍ، أَمَا إِنِّي لَا أَقُولُ: {الم} [البقرة: 1] ، وَلَكِنْ أَلِفٌ، وَلَامٌ، وَمِيمٌ ”
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:قرآن مجید کو سیکھو، سمجھو اور اسے پڑھو ، تمھیں ہر حرف کے بدلے دس نیکیاں ملیں گی۔ یاد رہے میں یہ نہیں کہتا الم ( ایک حرف ہے)، بلکہ الف، لام اور میم (الگ الگ حرف) ہیں (یعنی تین حروف ہیں)۔
پھر یہ بھی نہیں کہ بے سمجھ حفظ و تلاوت کی روایت اس مفہوم کی مذکورہ احادیث کو دیکھ پر پڑی ہو۔ یہ روایت بلکہ بقول امام ابو بکر طرطوشی کے، یہ بدعت جب اختیار کر لی گئی تو اس کے جواز کے لیے اس کمزور روایت سے بے سمجھ تلاوت و حفظ پر استدلال کی پوری عمارت کھڑی کر دی گئی۔ سوچنا چاہیے کہ ایک طرف قرآن اور صحیح احادیث کا مسلمہ بیانیہ ہے کہ قرآن کا مقصد نزول ہدایت اور تذکیر ہے جو بلا سمجھنے ممکن نہیں اور دوسری طرف بعد کے دور میں تشکیل پانے والی بے سمجھی کی خود ساختہ روایت کو جواز بخشنے کے لیے ایک کمزور حدیث سے استدلال کس طرح قابل قبول ہو سکتا ہے۔ یہ دین کے ساتھ نادان دوستی ہے۔
اولاد پیدا کرنے میں منصوبہ بندی:
دینی لحاظ سے شادی کے بعد اولاد پیدا کرنا دین کا حکم نہیں۔ اولاد پیداکرنے کی کوشش کرنا انسان کااپنا آزادانہ اور سمجھ دارانہ فیصلہ ہونا چاہیے ۔ نبی اکرم ﷺ کا یہ ارشاد کہ اس عورت سے شادی کرو جو زیادہ پیار کرنے والی ہو اور یہ کہ میں قیامت کے دن دوسرے انبیا پر تمھاری کثرت پر فخر کروں گا ، دراصل محض زیادہ بچے پیدا کرنے کےلیے نہیں بلکہ قابل فخر بچے پیدا کرنے کے لیے ہے،اور قابل فخر بچے پیداکرنے کے لیے اتنے ہی بچے پیدا کرنے چاہییں، جن کی اچھی پرورش اور تعلیم و تربیت کی جا سکتی ہو،اور یہ سب والدین کی نگرانی سے دور رکھ کر ممکن نہیں۔
رسول اللہ ﷺ کے ایسے ارشادات کو آپ کے دور میں مسلمانوں کو درپیش حالات کے تناظر میں ایک انتظامی ضرورت کے طور پر دیکھنا درست ہوگا۔آج کی حکومتیں اپنے ملک کے حالات کے تقاضوں کے پیش نظراپنے لوگوں کو کم بچے پیدا کرنے کی ترغیب دیتی ہیں، اسی طرح حالات اگر تقاضا کریں تو آبادی بڑھانے کی ترغیب بھی دے سکتی ہیں۔ رسول اللہﷺ ایک سربراہ ریاست بھی تھے۔ اس وقت مسلمان کی مختصر سی تعداد اپنے سے کئی گنا زیادہ بڑے دشمنوں سے برسرپیکار تھی۔ ادھر مال غنیمت اور خراج کا مال بھی مدینہ آنے لگا تھا جس سے معاشی حالات بھی بہتر ہو رہے تھے۔مستقبل میں روم و ایران سے جنگیں ہونے کی پیشین گوئیاں بھی رسول اللہ ﷺ فرما چکے تھے۔ ان حالات میں اگر آپ نے آبادی بڑھانے کی ترغیب میں درج بالا ارشاد فرمایا تھاتو یہ یہ مصلحتا برمحل تھا۔ لیکن اسے ہر گھر، ہر دور اور ہر سماج کے حالات کے لیےایک مطلق اصول کے طور پر تسلیم کرانا درست نہ ہو گا۔
کثیر العیالی کے مروّجہ تصور کے برعکس، قرآن مجید اولاد اور کھیتی کا تقابل کر کے اس طرف اشارہ کرتا ہے کہ اولاد کو کھیتی کی طرح ہی پیداکرنے سے پہلے وہ تمام منصوبہ بندی کر لینی چاہیے جو ایک کسان فصل اگانے سے پہلے اور اس کےدوران میں کرتا ہے، ملاحظہ کیجیے:
{أَفَرَأَيْتُمْ مَا تُمْنُونَ أَأَنْتُمْ تَخْلُقُونَهُ أَمْ نَحْنُ الْخَالِقُونَ} [الواقعة: 58، 59]
پھرکبھی سوچا ہے، یہ نطفہ جو تم ٹپکاتے ہو،اُس سے جو کچھ بنتا ہے، اُسے تم بناتے ہو یا ہم بنانے والے ہیں؟
{أَفَرَأَيْتُمْ مَا تَحْرُثُونَ أَأَنْتُمْ تَزْرَعُونَهُ أَمْ نَحْنُ الزَّارِعُونَ} [الواقعة: 63، 64]
پھرتم نے کبھی سوچا ہے، یہ جو کچھ تم بوتے ہو،اِسے تم اگاتے ہو یا ہم اگانے والے ہیں؟
دونوں عمل ایک ہی اصول پر مبنی ہیں کہ کوشش انسان کرتا ہے باقی سب خدا کی قدرت کا ہاتھ کرتا ہے۔ لیکن کیا اس بھروسے پرانسان بے سوچے سمجھے، اور بے ڈھب طریقے سے فصلیں اگاتا ہے؟ ایسا اگر وہ کرے تو کیا نتائج نکلیں گے؟اگر یہاں وہ ایسا نہیں کرتا تو یہ ناانصافی ایک شعور اور احساس رکھنے والے انسان کے بچوں کے پیدا کرنے میں کیوں کرروا رکھی جا سکتی ہے ؟چنانچہ انسان کو دنیا میں لانے کا فیصلہ کرنے سے پہلے ان کی پرورش اور تعلیم و تربیت کے لیے اپنے وسائل، استطاعت اور وقت وغیرہ کے تمام لوازمات کا لحاظ کر لینانہایت ضروری ہے۔
خدا کی رزاقیت کا تصور:
خدا کی رزاقیت کے تصور کو بھی درست کرنے کی ضرورت ہے۔ قرآن مجید میں کہیں بھی خداکی ایسی کوئی ذمہ داری بیان نہیں ہوئی کہ وہ سب کو روزی پہنچائے گا۔ قرآن کے مطابق جو روزی جانداروں کو ملتی ہےوہ خدا نے مہیا کر رکھی ہے، ہر قسم کے جانداروں کی زندگی کے لیے جس قسم کی روزی انھیں درکار ہوتی ہے، وہ اس نے پیدا کر رکھی ہے، یہ نہیں کہ ہر ہر جاندار کووہ روزی دے گا ۔ ایسا نہ قرآن کا دعوی ہےاورنہ ہی حقیقت میں ایسا ہوتا ہے۔ روزی ملنا محنت اور قسمت کے پیچیدہ تعامل پر مبنی ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے قرآن کی جس آیت سے خدا کی طرف سے مطلق قسم کی رزاقیت کے بھروسے پر اولاد پیدا کرنے استدلال کیا جاتا ہے، وہی آیت اس کی نفی کر رہی ہے۔ملاحظہ کیجیے:
{وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ خَشْيَةَ إِمْلَاقٍ نَحْنُ نَرْزُقُهُمْ وَإِيَّاكُمْ إِنَّ قَتْلَهُمْ كَانَ خِطْئًا كَبِيرًا} [الإسراء: 31]
تم لوگ اپنی اولاد کو مفلسی کے اندیشے سے قتل نہ کرو۔ ہم اُنھیں بھی روزی دیتے ہیں اور تمھیں بھی۔ اُن کا قتل یقیناً بہت بڑا جرم ہے۔
غور طلب یہ ہے کہ یہ ارشاد کہ ” ہم اُنھیں بھی روزی دیتے ہیں اور تمھیں بھی” ان لوگوں کو کہا جا رہا ہے جن کو اتنی روزی بھی نہیں ملتی تھی کہ وہ اپنے بچوں کو کھلا سکیں اور اس قدر وہ مجبور ہو گئے تھے کہ اپنے جگر کے ٹکڑوں کو قتل کرنے پر مجبور ہو گئے تھے۔ اس آیت سے یہ استدلال کس طرح درست ہو سکتا ہے کہ بچے اس بھروسے پر پیدا کرتے چلے جائیں کہ ان کے رزق کا ذمہ خدا پر ہے وہ انھیں ضرورپہنچائے گا۔ اس کے برعکس یہاں یہ سمجھایا جا رہا ہے کہ بچے جو اب بغیر کسی منصوبہ بندی کے پیدا ہو ہی گئے ہیں،انھیں مفلسی کے ڈر سے اب خود قتل کر کے ایک اور بڑا جرم نہ کرو۔ جیسی کچھ روزی تمھیں ملتی ہے انھیں بھی مل سکتی ہے۔یہ بھی ممکن ہے اس سے بہتر مل جائے اور یہ بھی نہ ملے۔ بھوک اور مفلسی کے ہاتھوں انھیں مرنا ہے تو یہ فیصلہ قدرت پر چھوڑ دو، خود یہ کام کرنے کا جرم نہ کرو۔
تجاویز:
1. بچوں کو جنسی حملوں سے بچانے میں سب سے اہم کردار والدین کا ہے۔ انھیں یہ سمجھانے کی ضرورت ہے کہ بچے کی پرورش اور تعلیم اور تربیت ان کی اپنی ذمہ داری ہے۔ وہ اپنے کم سن بچے کو کسی ایسی جگہ بھیجنے پر کبھی تیار نہ ہوں جہاں وہ ان کی نگرانی اور خبرداری سے دور ہو۔
2. اپنے وسائل سے زیادہ بچے پیدا کرنے کے رجحان کی دینی حیثیت واضح کرنےپر زور دینا چاہیے کہ ایسا کرنا دین کا حکم نہیں ہے۔
3. سماجی تحفظ کے لیے کثیر العیال ہونے کے رجحان کی نفی اس کے بنا ممکن نہیں کہ حکومت قانون کی بالادستی کو یقینی بنائے تاکہ تحفظ اور انصاف کا حصول زور بازو سے نہیں بلکہ قانون کی پاس داری کے بل بوتے پر ممکن ہو سکے۔
4. جنسی زیادتی سے متعلق معاملات کی رپورٹ کرنے کے لیے عوام کو ترغیب دی جائے۔ بدنامی کے خوف سے اپنے متاثرہ بچے کو خاموش کرانا اور خود بھی چپ رہنا فاعل اور جارح کی حوصل افزائی کا سبب ہے۔
5. کم سن بچوں کو اچھے اور برے مس good and bad touch اور بڑوں کے پیار کے انداز میں کسی بے ہودگی کو سمجھنے کی ترغیب دی جائے۔ بچوں کی حوصلہ افزائی کی جائے کہ اپنے یا کسی دوسرے کے ساتھ بیتے ایسے کسی حادثے یا اس کے ابتدائی مقدمات کی بلا جھجک اطلاع اپنے والدین اور قابل بھروسہ بڑوں کو دے۔ اس سلسلے میں والدین کی تربیت کے لیے ورک شاپس کروائی جائیں کہ بچوں کے ساتھ ایسے معاملات کی آگاہی کیسے دینی چاہیے۔
6. حکومت کو درج ذیل امور میں قانون سازی کرنے کی اشد ضرورت ہے، جس کے لیے حقیقی عزم کی ضرورت ہے:
i. مدارس میں کم سن بچوں کے لیے رہایشی داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی جائے۔ مدارس دینی تعلیم کا تخصیصی ادارہ ہیں۔ تخصیصی تعلیم میں کسی بچے کا رجحان جانے بغیر اس کا داخلہ کرانا، بچے کا استحصال ہے۔ کم از کم بارہ سال کی وسیع البنیاد تعلیم ہر بچے کا حق ہے۔ اس کے بعد یہ فیصلہ کرنے کا حق اس کا ہےکہ اس نے حافظ ، قاری، عالم بننا ہے یا ڈاکٹر ، انجینیر، اکاونٹنٹ وغیرہ۔
ii. سکولوں کی طرز پر تمام مدارس کی رجسٹریشن کو یقینی بنایا جائے جس میں رجسٹریشن کی شرائط میں عمارت اور دیگر لوازمات کا تعلیمی نقطہ نظر سے قابل قبول ہونا یقینی بنایا جائے۔ ان شرائط پر پورا نہ اترنے والے مدارس کی رجسٹریشن منسوخ کر دی جائے۔اس منسوخی کو موثر طور پر مشتہر کرنے کا اہتمام کیا جائے تاکہ لوگ اپنے بچے وہاں داخل نہ کرائیں۔ ایک جامع کاروائی کر کے ان مدراس کی تالہ بندی کی جائے جو بلا اجازت مدرسہ چلا رہے ہیں ۔
iii. مدراس سے ملنے والی شکایت کی صورت میں متعلقہ افراد کو سزا، مدارس پر جرمانہ اور/یا ان کی رجسٹریشن منسوخی پر عمل دارآمد یقینی بنایا جائے۔
iv. مدارس کے وفاق کو قومی تعلیمی بورڈ میں ضم کیا جائے۔ اگر یہ فی الحال ممکن نہ ہوتو مدارس کے بورڈز کے اراکین میں سماج کے معتبر افراد کی متعد بہ تعداد کو شامل کیا جائے تاکہ وہاں سماج کی آواز موثر ہو سکے۔
v. مدارس کے فضلا کو ہنر مندی سکھانے کا اہتمام بھی کیا جائے تاکہ ان میں سے جو چاہیں اپنے لیے آمدن کے متبادل ذرائع پیدا کر سکیں او ر یوں سماج پر غیر ضروری بوجھ بننے کی بجائے معاشی سرگرمیوں کا مفید حصہ بن سکیں۔
vi. مدارس میں داخلے اورمساجد میں تقرری کے لیے فرد کے کردار کی سند کولازمی بنایا جائے۔ کسی جرم کی صورت میں کردار کی سند جاری کرنے والے ادارے کو ذمہ داری میں شامل کیا جائے۔
vii. ہم جنس پرستی اور جنسی زیادتی سے متعلق قرآن مجید کی متعلقہ آیات کو درجہ ثانوی اور میڑک کے نصابات میں شامل کیا جائے۔

اس تحریر كو شیئر كریں
Share on facebook
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on email
Dr Irfan Shehzad

Dr Irfan Shehzad

Dr Irfan Shehzad belongs to Rawalpindi, Pakistan. He holds a doctorate in Islamic Studies from National University of Modern Languages (NUML) Islamabad, Pakistan. He is working as a companion to Ghamidi Center of Islamic Learning Dallas, USA. He is an assistant research fellow with Al-Mawird Pakistan. He is the author of the book, “Qanoon-e-Itmam-e-Hujjat awr Us kay Itlaqaat: Janab Javed Ahmad Ghamidi ki Tawzihaat par Aetrazaat awr Ishkalaat ka Jaiza”, published by Almawrid Lahore Pakistan. Dr Irfan Shehzad writes and speaks on religious, social and sociopolitical issues. His articles are published in different scholarly journals including Ishraq, Lahore, Pakistan, Al-Shariah Gujranwala Pakistan and on social media.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *