جامعات میں نابینا طلبہ کی تعلیمی مشکلات

ہمارے ملک کی اکثر جامعات میں نابینا طلبہ کو وہ ابتدائی سہولیات بھی میسر نہیں جن کے بغیر ان کے لیے مطلوبہ تعلیمی معیار حاصل کرنا از حد مشکل بلکہ ناممکن ہو جاتا ہے۔ اس تعلیمی کم مائیگی کی وجہ سے ملازمت اور پیشہ ورانہ میدان میں بھی انھیں دوسروں سے پیچھے رہ جانے کے خدشہ لاحق رہتا ہے۔قدرت کی طرف سے آنکھوں کی نعمت سے محرومی کا تقاضا تھا کہ ادارے اس کی تلافی کی ہر ممکن کوشش کرتے، مگر افسوس ناک صورت حال یہ ہے کہ جامعات میں اس بارے میں کوئی آگاہی دیکھنے میں نہیں آئی۔
ہمارے تعلیمی نظام میں میٹرک تک بریل سسٹم ممکن بنا دیا گیا ہے جس کی وجہ سے نابینا طلبہ خود انحصاری کے تحت اپنا پرچہ خود حل کرسکتے ہیں ۔ لیکن میڑک کے درجے کے بعد یہ سہولت میسر نہیں۔ ان طلبہ کا بریل سے پڑھنے اور لکھنے کا ہنر بے کار جاتا ہے ۔ امتحانات میں انھیں ایک لکھاری کو اپنا مدعا لکھوانا ہوتا ہے۔ لکھاری پہلا سنتا ہے پھر لکھتا ہے۔یوں ان طلبہ کو عام طلبہ کے مقابلے میں نسبتا آدھا وقت پرچہ حل کرنے کے لیے ملتا ہے۔ بعض اوقات لکھاری کی قابلیت کم ہوتی ہے اور کسی لفظ کے ہجے یا عربی وغیرہ لکھنے کی صلاحیت نہ ہونے کی وجہ سے بھی جوابات کا معیار متاثر ہوتا ہے۔ اس کوفت کے ساتھ طلبہ کا پرچہ حل کرنا ایک الگ اذیت ہے۔
ایک سروے میں پوچھے گئے سوالات کے جواب میں نابینا طلبہ نے بتایاکہ بیشتر اساتذہ نابینا طلبہ کو پڑھانے کی مناسب تربیت نہیں رکھتے۔ اساتذہ کے نوٹس سے پڑھنا ان طلبہ کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔ انھیں ساتھی طلبہ سے درخواست کرنا پڑتی ہے کہ وہ اسے پڑھ کرسنائیں۔ کچھ اساتذہ اپنے لیکچرز کو ریکارڈ کرنے کی اجازت نہیں دیتے۔ اس سے مشکل بڑھ جاتی ہے۔ کچھ اساتذہ ترس کھا تے ہوئے یہ ناجائز احسان کرتے ہیں کہ دیگر طلبہ کی اسائمنٹس میں ان کا نام بھی لکھوا دیتے ہیں تاکہ انھیں زحمت نہ کرنا پڑے۔ اس سے ان کی تعلیمی صلاحیت بری طرح متاثر ہوتی ہے۔ نابینا طلبہ سے معاملہ کرنے کا طریقہ بھی بعض اوقات ان کے ارد گرد کے لوگوں کو نہیں آتا اور ان سے ایسے سوالات پوچھے جاتے ہیں جس سے انھیں تکلیف ہوتی ہے جیسے کہ آپ اپنے کپڑے خود کیسے پہنتے ہیں؟ کھانا خود کیسے کھاتےہیں؟ انھیں ساتھی طلبہ اور اساتذہ کی طرف سے نظر انداز کیے جانے کا بھی شکوہ ہوتا ہےاوریہ تنہائی کا شکار بھی ہوتے ہیں۔
جامعات کی طرف سے ملنے والے موڈیولز سے پڑھنا ان طلبہ کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔ یہی نوٹس انھیں بریل پرنٹ میں دیے جاتے تو ان کی مشکل حل ہو سکتی تھی۔ اسی طرح لائبریری کی سہولت سے بھی وہ کوئی فائدہ نہیں اٹھا پاتے۔ کمپیوٹر ز میں نابیناؤں کے لیے بولنے والے خاص پروگرام جیسے JAWS موجود نہیں ہوتے ۔ انٹر نیٹ سے مواد کے حصول کے لیے انھیں اپنے ذاتی ٹیبز اور سمارٹ فونر پر انحصار کرنا پڑتا ہے جس میں وہ اپنی سہولت کے بولنے والے خاص پروگرام کی مدد سے مطلوبہ معلومات تک رسائی پاتے ہیں۔ تاہم اس کے لیے انٹر نیٹ پیکچز کا خرچ انھیں خود برداشت کرنا پڑتا ہے ۔ مالی طور پر کمزور طلبہ کے لیے یہ بھی ایک اضافی بوجھ ہے۔
نابینا طلبہ کے لیےجامعات کا تقریبا تمام نظام انفرادی رحم اور ہمددری کے اصول پر چلتا ہے۔ یہ ہمدری مل جائے تو غنیمت، نہ ملے تو نظام کوئی مدد نہیں کر سکتا۔ ہمدری پر چلنے کی وجہ سے نابینا طلبہ کی عزتِ نفس بھی مجروح ہوتی ہے۔ ان کی صلاحیت محدود ہو جاتی ہے۔ وہ جو کر سکتے ہیں وہ بھی نہیں کر پاتے۔
ضروری ہے کہ نابینا طلبہ کے مسائل کا ادراک کرتے ہوئے تمام جامعات ایک جامع لائحہ عمل مرتب کریں۔ ایچ ای سی اس مسئلے کو سنجیدگی سے حل کرے۔مشاہدے کے مطابق طلبہ کو جو نہایت ضروری سہولیات فوری طور پر درکار ہیں وہ درج ذیل ہیں:
• جامعات میں بریل سسٹم رائج کیا جائے اور اس کے لیے جامعات میں ایک ریسورس سنٹر قائم کیا جائے جہاں بریل پرنٹر کی سہولت ہمہ وقت موجود ہو۔ تمام متعلقہ موڈیولز، نوٹس اور کتب بریل میں مہیا کی جائیں۔ امتحانات بریل سسٹم کے تحت لیے جائیں۔ بریل کے تحت لکھے گئے پرچوں کو چیک کرنے کے لیے اساتذہ کی تربیت کی جائے یا ایسے اساتذہ کو یہ پرچے بھیجیں جائیں جو انھیں چیک کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔اس سلسلے میں فیڈرل اور پنجاب بورڈز کے تجربات سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔
• ریسورس سنٹر میں Optical Character Recognition (OCR) سکینر مہیا جائے۔ یہ چھَپے ہوئے مواد کو سکین کر کے اسے بولتا ہے جسے طلبہ ریکارڈ کر سکتےہیں۔ اس طرح یہ عام کتب اور نوٹس سے بھی استفادہ کر پائیں گے۔
• جامعات میں لائبریری اور کمپیوٹر لیبز میں نابیناؤں کے لیے بنائے گئے بولنے والے خاص پروگرام جیسے JAWS ڈالے جائیں۔
• نابینا طلبہ کو انٹرنیٹ پیکچز دلائیں جائیں تاکہ وہ اپنے پاس موجود ٹیبز یا سمارٹ فونز کے ذریعے سے اپنی ممکنہ تعلیمی ضروریات پوری کریں اور ہر بار لائبریری اور کمپیوٹر لیب جانے کی زحمت میں کمی آئے۔
• ایچ ای سی نابینا طلبہ کے لیے سمارٹ عینک کے حصول کے لیے مالی معاونت کرے۔ اس عینک کی مدد سے وہ چہروں اور سمت کی شناخت کر سکتے ہیں اور ایک حد تک خود چل پھر سکتے ہیں۔
• جامعہ کے کیفے میں نابینا طلبہ کی سہولت کے پیش نظر الگ کاؤنٹر یا کوئی اور مناسب بندوبست کیا جائے تاکہ وہ رش میں بآسانی خریداری کر سکیں۔

اس تحریر كو شیئر كریں
Share on facebook
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on email
Dr Irfan Shehzad

Dr Irfan Shehzad

Dr Irfan Shehzad belongs to Rawalpindi, Pakistan. He holds a doctorate in Islamic Studies from National University of Modern Languages (NUML) Islamabad, Pakistan. He is working as a companion to Ghamidi Center of Islamic Learning Dallas, USA. He is an assistant research fellow with Al-Mawird Pakistan. He is the author of the book, “Qanoon-e-Itmam-e-Hujjat awr Us kay Itlaqaat: Janab Javed Ahmad Ghamidi ki Tawzihaat par Aetrazaat awr Ishkalaat ka Jaiza”, published by Almawrid Lahore Pakistan. Dr Irfan Shehzad writes and speaks on religious, social and sociopolitical issues. His articles are published in different scholarly journals including Ishraq, Lahore, Pakistan, Al-Shariah Gujranwala Pakistan and on social media.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *