مساجد بچوں کی منتظر ہیں

نماز باجماعت کی عادت مجھے بچپن سے پڑ گئی تھی۔ اور اس کی وجہ ایک ایسے مہربان مہربانی تھی، جس کا چہرہ بھی مجھے یادنہیں۔
ہوا یہ کہ مجھے گھر سے تلقین کی جاتی تھی کہ مسجد میں جا کر نماز پڑھو، لیکن میری طبیعت کچھ زیادہ حساس واقع ہوئی تھی۔ مجھے یہ گوارا نہیں تھا کہ کوئی مجھے ڈانٹ کر اگلی صف سے نکال دے، یا میرا بازو پکڑ زبردستی مجھے پچھلی صف میں لا کھڑا کرے گویا مسجد آ کر میں نے کوئ جرم کر ڈالا ہو۔۔ مجھے ڈر لگتا تھا کہ مجھے اپنے سے اگلی صف میں دیکھ کر کوئی بزرگ چلانا نہ شروع کر دیں کہ نابالغ بچے کو آگے کھڑا کرنے سے بالغوں کی نماز نہیں ہوتی۔ اب میری وجہ سے کسی کی نماز نہ ہو ، یہ کتنا بڑا گناہ ہے۔ چنانچہ میں مسجد میں نماز پڑھنے نہ جاتا اور گھر میں ہی امی اور بہنو ں کے ساتھ نماز پڑھتا۔ اس پر بھی مجھے باتیں سننی پڑتیں اورمجبور کیا جاتا کہ مسجد جاؤ۔ آخر ایک دن میں نے اللہ سے ایک کمٹمنٹ کی: میں نے دعا کی اے خدا، آج میں مسجد جاؤں گا، اور پہلی صف میں نماز پڑھوں گا ۔ لیکن اگر کسی نے مجھے میری جگہ سے ہٹا دیا تو میں پھر کبھی مسجد نہیں جاؤں گا!
مجھے یاد ہے وہ عصر کی نماز تھی۔ میں وضو کر کے پیچھےبیٹھ گیا اور نمازیوں کے کھڑا ہونے کا انتظار کرنے لگا۔ صف باندھی گئی، میں ہمت کر کے اٹھا۔۔ مولوی صاحب نے تکبیرِ تحریمہ کہی، نمازیوں نے ہاتھ باندھ لیے۔ میں صف کے دائیں طرف ،آخری نمازی کے ساتھ کھڑا ہوگیا، لیکن میں نےنماز شروع نہ کی۔ میں بار بار پیچھے مڑ کے دیکھتا رہا کہ اگر کسی اور نے بھی آنا ہے تو پہلے آ کر شامل ہو جائے اور مجھے نہ ہٹائے۔
پھر، ایک شخص آیا۔ لمبی کالی داڑھی اور ٹخنوں سے اوپر پائنچے۔ وضو کے پانی کے قطرے اس کی داڑھی اور بازوؤں سے گر رہے تھے۔ میں نے اسے دیکھ کر سوچا کہ شکر ہے کہ نماز شروع نہیں کی، ورنہ اس مولوی نے توکھینچ کر پرے کرنا تھا۔ میں نے اپنی جگہ سے پرے ہٹ کر اس کے لیے جگہ چھوڑ دی۔ لیکن اس نے وہ کیا جس کی میں کبھی توقع نہیں کر سکتا تھا، اور اس صوفی صاحب سے تو بالکل بھی نہں۔۔ اس نے بڑے پیار کے ساتھ میرے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر مجھے میری ہی جگہ کھڑا کر دیا اور خود میرے دائیں طرف کھڑا ہوگیا!
خود کو نمازیوں کے درمیان کھڑا پاکر مجھے جہ خوشی، اطمینان اور فخر محسوس ہوا وہ بیان سے باہر ہے۔ اس شخص کے اس ایک حسنِ سلوک نے مجھے پکا نمازی بنا دیا۔ میں آج تک اس کے اس حسنِ سلوک نہیں بھو ل پایا۔
مساجد میں یہ التزام کہ بچوں کو اگلی صفوں کے نکال کر پچھلی صفوں میں کھڑا کرنا ضروری ہے اور بچوں کی وجہ سے نماز نفل ہے اور بالغ افراد کی فرض نماز ان کے پیچھے نہیں ہوتی، غلط فہمی پر مبنی ہے۔ فقہاء نے صاف طور پر لکھا ہے کہہ یہ محض انتظامی مسئلہ ہے۔بچے جب اکھٹے ہو جاتے ہیں تو وہ شرارت زیادہ کرتے ہیں، ان کو متفرق طورپر ان کے والدین وغیرہ اپنے اپنے ساتھ کھڑا کر لیں توزیادہ بہتر ہے۔ اس طرح وہ نمازاور مسجد کے آداب بھی بہتر طور پر سیکھ لیں گے اور شرارت بھی کم کریں گے۔
ہمارے معاشرے میں بچوں کے شور کرنے پر نمازی ان سے بھی زیادہ شور کرنے لگتے ہیں۔ بچوں کے شور سے ہمارے نمازیوں کی حد سے بڑھی حساسیت درست رویہ نہیں۔ یہ درست ہے کہ بہت چھوٹے بچوں کو مسجد میں بلا ضرورت نہیں لانا چاہیے، مگر ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ رسول اللہ کے دور میں دوران ِ نماز جب کوئی بچہ رو نے لگتا تو رسول اللہ ﷺ اس خیال سے کہ بچے کی ماں پریشان ہو رہی ہوگی، نماز مختصر فرما دیتے۔ ایک بار رسول اللہ ﷺ مسجد میں خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، کم سن حضرت حسن اور حسین رضی اللہ عنھما لڑکھڑاتے قدموں کے ساتھ مسجد میں داخل ہوئے تو رسول اللہ ﷺ فرطِ شفقت سے بے تاب ہوکر خطبہ چھوڑ کر ان کو گود میں اٹھا لائے۔اسوہ حسنہ کے اس آئینے میں ہماری مساجد میں بچوں کے بارے میں پائے جانے والے رویے کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
ہمارے ہاں مساجد میں نماز اور ناظرہ قرآن پڑھانے کے لے علاوہ اور کوئی سرگرمی پائی ہی نہیں جاتی، جس میں بچے خوشی سے حصہ لیں اور اس طرح مسجد سے تعلق استوار کریں۔ ہونا یہ چاہیے کہ کم از کم کشادہ مساجد میں بچوں کی دلچسپی کے کھلونے، کھیل کوداور لکھنے پڑھنے کا سامان کیا جائے تاکہ بچے والدین کی نماز وغیرہ کے دوران وہاں وقت گزاریں، مسجد کے ماحول سے مانوس ہوں اور نمازیوں کی دیکھا دیکھی نماز بھی سیکھ لیں۔
مسجد کو بچوں کے لیے بہت زیادہ رعب دار بنا دینے اور نمازیوں کا بچوں کے ساتھ غیر مشفق رویہ بچوں کو مسجد جانے سے روکنے کا سبب بنتا ہے۔ کیا ہم نہیں چاہتے کہ ہماری آیندہ نسلوں کاتعلق مسجد سے جڑا رہے؟

اس تحریر كو شیئر كریں
Share on facebook
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on email
Dr Irfan Shehzad

Dr Irfan Shehzad

Dr Irfan Shehzad belongs to Rawalpindi, Pakistan. He holds a doctorate in Islamic Studies from National University of Modern Languages (NUML) Islamabad, Pakistan. He is working as a companion to Ghamidi Center of Islamic Learning Dallas, USA. He is an assistant research fellow with Al-Mawird Pakistan. He is the author of the book, “Qanoon-e-Itmam-e-Hujjat awr Us kay Itlaqaat: Janab Javed Ahmad Ghamidi ki Tawzihaat par Aetrazaat awr Ishkalaat ka Jaiza”, published by Almawrid Lahore Pakistan. Dr Irfan Shehzad writes and speaks on religious, social and sociopolitical issues. His articles are published in different scholarly journals including Ishraq, Lahore, Pakistan, Al-Shariah Gujranwala Pakistan and on social media.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *