مصلحین کا دائرہ کار اور حکومت کے خلاف قیام کا مسئلہ

دینی و شرعی نقطہ نظر سے مصلحین کے لیے حکومت حاصل کرنا اہم نہیں ہوتا، البتہ حکومت کو حق و انصاف اور فلاح و بہبود کے منہج پر قائم رکھنے کے لیے وعظ، نصیحت، تنقید، اور کلمہ حق کہنا ضروری بلکہ فرض ہوتا ہے، اس سے زیادہ اصلاح چاہنے والوں کی کوئی ذمہ داری دین نے نہیں بتائی۔ کوئی مصلح اگر یہ سمجھتا ہے کہ عدل و انصاف کی حکومت قائم کرنے کے لیے خود اس کا حکومت حاصل کرنا ضروری ہے تو اس سے پوچھا جائے گا کہ اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ وہ حق و انصاف اور دین کے تقاضوں کے معیارِ مطلوب کے مطابق حکومت چلا پائے گا، سوائے یہ کہ اس مصلح کو معصوم سمجھ لیا جائے۔ بالفرض، وہ مصلح اگر خود اچھے طریقے سے حکومت چلا بھی لے تو اس کی کیا ضمانت ہے کہ اس کی ذریت یا متبعین اسی معیارِ مطلوب کے مطابق حکومت چلا پائیں گے۔ جب اس سب کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی تو حصول حکومت کے لیے آمادہ پیکار ہو جانا ایک مقصد موہوم کے لیے کمر بستہ ہو جانا ہے، اس کے لیے عوام کے دو گرہوں آپس میں لڑا دینا کس برتے پر درست اقدام ہو سکتا ہے؟
بنی اسرائیل میں بادشاہ، انبیاء کے زیر ہدایت ہوا کرتے تھے، لیکن اس کے باوجود بھی ان پر اطمینان نہیں ہوتا تھا، ان کی اصلاح اور تنقید میں حضرت زکریا اور حضرت یحیی علیھما السلام کی جانیں تک قربان ہوئیں۔ اہل تسنن کے نزدیک خلافتِ راشدہ کے بعد معیارِ مطلوب کے مطابق حکومت کبھی قائم نہیں ہو سکی۔ خلافت راشدہ کے تیس سالہ دور کے بعد بھی صحابہ کی بڑی تعداد موجود تھی لیکن مثالی اسلامی حکومت پھر بھی قائم نہ ہو سکی تو بعد میں کوئی مثالی اور معیارِ مطلوب کے عین مطابق اسلامی حکومت کے قیام کی ضمانت کیسے دی جا سکتا ہے؟ بنو امیہ بنو عباس تور رہے ایک طرف خانوادہ نبوت کو بھی جب حکومت میسر آئی تو ان سے بھی کوئی غیر معمولی طرزِ حکمرانی کا ظہور نہیں ہوا، وہی ملا جلا، اچھا برا اندازِ حکمرانی جو ہر جگہ ہوتا ہے، ان کا بھی رہا۔ تو سوال یہ ہے کہ ایسے موہوم مقاصد کے لیے کسی ایک شخص یا کسی ایک خاندان کی حکومت کے قیام کو ضروری کیوں سمجھا جائے، اس کے لیے اس کا ساتھ کیوں دیا جائے؟ اس کا ساتھ دینا کیوں ضروری سمجھا جائے؟ اور جو ساتھ نہ دے اس کو محل تنقید کیوں بنایا جائے؟ بنو امیہ ہوں، بنو عباس ہوں یا بنو ہاشم یا کوئی اور، عوام کے لیے ان سب میں کیا جوہری فر ق تھا اور ہے؟
خانوادہ نبوت کا حکومت کے قیام کرنے کا صرف ایک ہی جواز ہو سکتا ہے، وہ یہ کہ انہیں معصوم تسلیم کر لیا جائے، یعنی جن سے غلطی سرزد نہیں ہوتی۔ اہل تشیع چونکہ اس عقیدے کے قائل ہیں، اس لیے ان کے نزدیک تو بات واضح ہے۔ لیکن دوسرے لوگ جو اس کے قائل نہیں، ان کے لیے خاندان نبی کی طرف سے حکومت کے لیے ایسے مسلح پیکار کا جواز نہیں ہے۔
یہ انسانوں کی دنیا ہے۔ انسان فرشتے نہیں ہوتے، نہ ہی سارے انسان پیغمبر ہوتے ہیں جو خدا سے براہ راست ہدایات لے کر معاملات حکومت چلائیں۔ حکومت الہیہ یا حکومت علی منہاج النبوت کا حصول ایک موہوم مقصد ہے، جس کی بہتر سے بہتر صورت کے قیام کے لیے خواہش اور کوشش تو کی جا سکتی ہے، لیکن اس کی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ محض اسلامی حکومت، حکومت الہیہ یا خلافت علی منہاج النبوت کے عنوانات قائم کر لینے سے کوئی حکومت عادل اور معیارِ مطلوب کی حکومت نہیں ہو سکتی۔ اہل حکم کے درست رویے کا انحصار ان کے ذاتی اخلاق اور عوام کے بیدار شعور کی نگرانی پر ہوتا ہے۔
حکومت الہیہ کے قیام کا مطالبہ وہ کرے جو خدا کا نبی ہو یا معصوم عن الخطاء۔ ان کے علاوہ جو بھی ہوں گے وہ انسان ہوں گے، جو اچھے اور بہت اچھے اور برے اور بہت برے ہو سکتے ہیں۔ ان کی تو بس اصلاح کی کوشش ہی کی جا سکتی ہے۔
اسی لیے آپ دیکھیے کہ اللہ نے قرآن میں حصول حکومت کا کوئی حکم نہیں دیا۔ لیکن اہل حکومت کو عدل اور شریعت کے قیام کا حکم ضرور دیا ہے۔ اب ان کو ان کے فرائض کی یاد دہانی کے لیے امت کے بیدار مغز لوگوں کو وعظ، نصیحت، تنقید، بلکہ ظالم حکمران کے سامنے کلمہ حق کہنے کو افضل جہاد تو کہا گیا ہے لیکن یہ نہیں کہا گیا کہ ظالم حکمران کے خلاف تلوار اٹھا لینا بھی افضل جہاد ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے مسلم حکمران کے خلاف دو ہدایات فرمائی ہیں۔ ایک یہ کہ خدا کی نافرمانی میں اس کی اطاعت نہیں کی جائے گی، دوسرا یہ کہ اگر وہ کھلم کھلا کفر کا ارتکاب کرتا ہے تو اس کی اطاعت کا قلادہ گردن سے اتارا جا سکتا ہے۔ اس کی بھی صرف اجازت دی گی ہے نہ کہ حکم اور اس کے بعد بھی اس کے خلاف خروج کا جواز تو اس ہدایت میں بھی موجود نہیں ہے۔ حکومت کے خلاف ہتھیار اٹھانے کی صرف ایک ہی صورت ہے کہ جب حکمران آپ سے حق زندگی بھی چھین لینا چاہیے۔ اس صورت میں ذاتی دفاع ایک فطری حق ہے جس سے اسلام نے منع نہیں کیا۔ اس کے لیے جو بن پڑے کیا جا سکتا ہے۔
حرفِ آخر یہ ہے کہ حکومت اہل حکومت کا کام ہے، وہ جو بھی ہوں، ان کی تو صرف اصلاح ہی کی کوشش کی جا سکتی ہے۔ یہی کرنا ا ور مسلسل کرنا ہی کرنے کا اصل کام ہے۔ ہتھیار اٹھا کر ایک عادل حکومت کے قیام کا دعوی انسانوں کو روا نہیں۔ یہ دعوی خدا کا فرستادہ ہی کر سکتا ہے اور کوئی نہیں۔

اس تحریر كو شیئر كریں
Share on facebook
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on email
Dr Irfan Shehzad

Dr Irfan Shehzad

Dr Irfan Shehzad belongs to Rawalpindi, Pakistan. He holds a doctorate in Islamic Studies from National University of Modern Languages (NUML) Islamabad, Pakistan. He is working as a companion to Ghamidi Center of Islamic Learning Dallas, USA. He is an assistant research fellow with Al-Mawird Pakistan. He is the author of the book, “Qanoon-e-Itmam-e-Hujjat awr Us kay Itlaqaat: Janab Javed Ahmad Ghamidi ki Tawzihaat par Aetrazaat awr Ishkalaat ka Jaiza”, published by Almawrid Lahore Pakistan. Dr Irfan Shehzad writes and speaks on religious, social and sociopolitical issues. His articles are published in different scholarly journals including Ishraq, Lahore, Pakistan, Al-Shariah Gujranwala Pakistan and on social media.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *