ہمٹی ڈمٹی کی بے بسی سے لطف کشیدکرتا رویہ کیسے تشکیل پاتا ہے؟

بچپن میں جب میں ہمٹی ڈمٹی کی نظم پڑھتا اور سنتا ، تو ہمٹی ڈمٹی کے انجام پر دکھ ہوتا۔ بیچارا دیوار سے گرا، اسے چوٹ لگی اور اس طرح ٹوٹ گیا کہ اب جڑ بھی نہیں سکتا۔ اس کی بے بسی پر مجھے رونا آتا۔ ان احساسات کے ساتھ جب ماحول میں دیکھتا تو ہر کوئی اس کہانی سے لطف لیتا نظر آتا۔ مجھے سمجھ نہ آتی اس ٹریجڈی میں لطف کی کیا بات ہے ۔ اسے لہک کہک کر کیوں گایا جاتاہے۔ پھر یہ سوچتا کہ اتنے سارے لوگوں کا رویہ غلط تو نہ ہوگا۔ اس کے غم سے لطف لینا ہی درست رویہ ہے۔ میں شاید غلط سوچتا ہوں۔
صوفی غلام مصطفی تبسم کی بچوں کی نظموں کی کتاب، “جھولنے” ادب اطفال میں ایک ادبی شاہ کار کی حیثیت رکھتی ہے۔ بچوں کی نفسیات اور مزاج کے اعتبار سے اس سے بہتر نظموں کا مجموعہ میں نے نہیں دیکھا ۔ لیکن اس مجموعے میں بھی ایک نظم ہے جس میں کہا گیا ہے “چیونٹی کاسر پھوڑ دو، چلاّئے تو چھوڑ دو؛ سانپ کی دم مروڑ دو، چلاّئے تو چھوڑ دو” ۔اس نظم میں بیان کی جانے والی بے حسی اور اذیت پسندی، بچپن کی فطری معصومیت اور حساسیت کے برعکس نامحسوس طور پربچوں کے اذہان میں داخل ہو کر ان کی شخصیت کا حصہ بننے لگتی ہے۔شاید اسی سےمتاثر ہو کر میں نے کچھ چیونٹیوں کے سر پھوڑے بھی ۔ لیکن سر پھوڑنے کے بعدمحسوس کیا کہ وہ مرتے ہوئے چلاّ رہی تھیں، مدد کو پکار رہی تھیں۔ ان کی ساتھی چیونٹیوں کو ان کی مدد کو آتا بھی دیکھتا تھا، وہ مگر فقط ان کی لاش ہی اٹھا کر لے جا سکتی تھیں۔
بچوں کے ادب میں اس طرح کے رجحانت کے بارے میں میرا یہ احساس اس وقت دوبارہ تازہ ہوا جب میرے بیٹے نے اونٹ اور گیدڑ کی کہانی سنتے ہوئے جب یہ سنا کہ تربوز کے کھیتوں میں گیدڑ کا حسب عادت اپنی مخصوص آواز نکالنے پر اونٹ کو کھیت کے مالک سے مار پڑی تو اونٹ نے اس کے بدلے میں اپنی پشت پر بیٹھے گیدڑ کو دریا پار کرتے ہوئے پانی میں ڈبو کر ماردیا، تو بیٹےنے تبصرہ کیا کہ اتنی سی بات پراونٹ نے گیدڑ کی جان لے لی، یہ اس نے ٹھیک نہیں کیا! جب کہ کہانی کا اخلاقی سبق یہ تھا کہ برائی کا بدلہ برا ہوتا ہے۔ یعنی اونٹ نے جو کیا ٹھیک کیا۔ جب ہم بغیر کسی تبصرے کے یہ کہانی سناتے ہیں تو اپنے بچوں کو یہ بتا رہے ہوتے ہیں کہ برائی کا بدلہ اس سے زیادہ برائی سے دیا جانا درست ہے؟ وہ سبق جو فکشن کی راہ سے لاشعور میں جگہ بناتا ہے، اسے وعظ و نصیحت کی شعوری کوششوں سے کھرچنا اتنا آسان نہیں ہوتا جب کہ یہ کہانیاں بھی قابل قبول صورت میں سماعتوں میں مسلسل انڈیلی بھی جا رہی ہوں۔
اسی طرح روبن ہڈ کے ہیروازم کی کہانی سن کر اس کے اقدامات پر بھی میرے دونوں بیٹوں میں بحث ہو گئی۔ ان کی بچگانہ بحث کو میں بالغوں کی زبان میں لکھوں تو کچھ یوں بنتی ہے کہ ایک نے کہا کہ رابن ہڈ کا طریقہ درست نہ تھا۔ امیروں کو لوٹنا کسی کی مدد کے لیے بھی کوئی اچھی بات نہیں۔ دوسرے نے کہا کہ بادشاہ اور اس کے ساتھی امرا ظالم تھے، لوگوں کی ضرورتوں کی پروا نہیں کرتے تھے۔ لوگ بھوکوں مر رہے تھے۔ اس لیے قانون ہاتھ میں لینا ہی واحد آپشن تھا ۔ رابن ہڈ لوٹا ہوا مال و دولت غریبوں میں تقسیم کر دیتا تھا، یہ اچھی بات ہے۔ پہلے نے کہا کہ لیکن وہ تو ہر امیر آدمی کو لوٹ لیتا تھا اس کو بھی جو بادشاہ کا ساتھی نہیں بھی تھا۔ دوسرے نے کہا کہ گہیوں کے ساتھ گھن تو پھر پستا ہی ہے۔
دیکھا جا سکتا ہے کہ خدائی فوج دار بننے اور اصلاح کے لیے قانون ہاتھ میں لینے کا یہ تصور اس قسم کی کہانیوں کی بدولت ہمارے بچپن سے ہی ہمارے ذہنوں میں موجود ہوتا ہے جسے شعور کی عمر کو پہنچ کو جمہویت، قانون کی بالادستی وغیرہ جیسے تصورات کے ذریعےسے نکالنے میں کبھی کامیابی ہوتی ہے اور کبھی نہیں۔ اسی تصور کو لے کر کچھ لوگ ہیرو بننے کی کوشش کرتے ہیں اور یا کچھ لوگ اس قسم کے جذبات بھڑکا کر بغاوت کے رجحانات کو مہمیز دیتے ہیں۔ یوں ناانصافی سے مزید لاقانونیت کا جواز پیدا ہوتا ہے۔
اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ سماج کس طرح اپنی ثقافت اور سماجی رویوں میں پائے جانے والے غیر مطلوب عناصر کونہ صرف انجانے میں بلکہ ادب اطفال کی کہانیوں اور نظموں کی صورت میں باقاعدہ طور پر بچوں کےاذہان میں انڈیلتا ہے۔ ان تصورات کا اظہار ہر جگہ ظہور کرتا ہے جس کی اصلاح اور تدارک اور اس سے ہونے والے نقصانات کی صورت میں سماج کی مزید توانائیاں اور وقت کا ضیاع ہوتا ہے۔
اس سے جس رویے کی تشکیل ہوتی ہے وہ خالص سفاک نہین ہوتا۔ ایسا ہوتا تو معاملہ نسبتا آسان ہوتا۔ بلکہ ہوتا یہ ہے کہ بہت سے اچھی اچھی باتوں کے درمیان یہ تھوڑی بہت سفاکیت اور اذیت پسندی ادب و ثقافت کے ذریعےسے شخصیت کاحصہ بن جاتی ہے، حتی کہ ایک قومی مزاج اس سے تشکیل پاجاتا ہے۔ زبان، ادب اور ثقافت سے ملنے والی یہ تربیت ان منفی رجحانات کو ایک راستہ فراہم کرتی ہے۔ اب یہ سفاکیت اور اذیت پسندی جس فرد یا گروہ میں جتنی جگہ بنا لے ، کیا کہا جا سکتا ہے۔
سوئے ہوئے کتے کو پتھر مارنا، بے ضرور کیڑوں مکوڑوں کو بلا وجہ کچل ڈالنا، پاگلوں مخبوط الحواس افراد کو چھیڑ کر، انھیں ستا کر ان کی گالیوں اور فریاد و فغان سے لطف لینا، اپنے مخالف کی مصیبت پر خوش ہونا ، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے باختیار اہل کاروں میں ملزموں اورمجرموں بلکہ عام لوگوں کے لیے اذیت پسندی کے رجحانات کا پایا جانا، سکولوں میں طلبہ کا bullying کرنا، دوسرے طلبہ کو ستا کر لطف لینا،یہ سب اور اس جیسے تمام منفی مظاہر ہمارے اچھے پن کے ساتھ اس طرح گندھ جاتے ہیں کہ ہم انھیں اپنی اجتماعی شخصیت سے علیحدہ کر کے دیکھ نہیں پاتے اور انھیں ایسے قبول کر لیتے ہیں جیسے اپنی کسی بھی دوسری خوبی کو جو تعلیم و تربیت کے انھیں ذرائع سے حاصل ہوتی ہے۔
سفاکیت، بے حسی اور اذیت پسندی کے روے ہمارے روزمرہ زبان، محاوروں، لوک داستانوں، زبان زد عام نعروں وغیرہ میں بھی پائے جاتے ہیں۔ یوں یہ منفی رویے سماجی اجازت سے ہماری اجتماعی شخصیت کا حصہ بھی بن جاتے ہیں۔
اگر ہمیں یہ سب درست کرنا ہے، اپنی آیندہ نسلوں کو بہتر انسان دیکھنا ہے تو ہمیں رسمی اور غیر رسمی تعلیم و تربیت کی ہر سطح پر اپنی زبان ، نصاب محاوروں، لوک داستانوں خصوصا بچوں کے ادب کا کڑا جائزہ لے کر ایسے منفی رجحانات کی حوصلہ افزائی یا لطف کیشی کرنے والے عناصر کی تنقیح کرنا ہوگی۔ا

اس تحریر كو شیئر كریں
Share on facebook
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on email
Dr Irfan Shehzad

Dr Irfan Shehzad

Dr Irfan Shehzad belongs to Rawalpindi, Pakistan. He holds a doctorate in Islamic Studies from National University of Modern Languages (NUML) Islamabad, Pakistan. He is working as a companion to Ghamidi Center of Islamic Learning Dallas, USA. He is an assistant research fellow with Al-Mawird Pakistan. He is the author of the book, “Qanoon-e-Itmam-e-Hujjat awr Us kay Itlaqaat: Janab Javed Ahmad Ghamidi ki Tawzihaat par Aetrazaat awr Ishkalaat ka Jaiza”, published by Almawrid Lahore Pakistan. Dr Irfan Shehzad writes and speaks on religious, social and sociopolitical issues. His articles are published in different scholarly journals including Ishraq, Lahore, Pakistan, Al-Shariah Gujranwala Pakistan and on social media.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *