ہیرو ازم کو اب خیر باد کہیے

ہر قوم کی تاریخ میں ایسے کردار پائے جاتے رہے ہیں جو اپنی غیر معمولی کرشماتی شخصیت یا کاموں کی بنا پر ہیرو سمجھے جاتے رہے ہیں۔ یہ تاریخ کے کسی دور میں آندھی اور طوفان کی اٹھتے، نظام اور سماج کو تلپٹ کرتے اور اکثر الم ناک انجام سے دوچار ہوکر امر ہو جاتے ہیں۔ ان کا الم انجام ان کے ہیروازم کے تاثر کو گہرا اور دیرپا کرنے میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔ جدید دنیا کی عملیت پسندی کے باوجود ان مقناطیسی کرداروں کی پذیرائی میں کمی اب بھی واقع نہیں ہوئی۔
یہ اکثر متناسب الاعضا، وجیہ اور خوب صورت واقع ہوتے ہیں۔ ان کے تذکروں میں ان کی جسمانی طاقت اور خوب صورتی کا ذکر اکثر ملتا ہے۔ایسے ہیروز کے لیے بہت دلکش القابات تشکیل دیے جاتے ہیں، مثلاً مرد قلندر، مرد بحران، مسیحا، نجات دہندہ، بندہ قدسی صفات وغیرہ۔ یہی تاثر رابن ہڈ جیسے کردار کی تشکیل اور اس کی شخصیت کا آئیڈلزم پیدا کرتا ہے۔ اس مثالی کردار سے مماثلت رکھنے والے کوئی کردار حقیقی دنیا میں جیسے ہی سامنے آتا ہے عوام کا رومانس اس سے وابستہ ہو جاتا ہے۔
یہ لوگ کسی بحران کے وقت اگر سامنے آ جائیں تو بے اعتمادی کے مارے عوام کی بڑی تعداد کو اپنے اندھی خود اعتمادی کا سہارا دے کر انھیں ایک جنون میں مبتلا کر دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان کی افتاد طبع کو منزل سے غرض ہوتی ہے اورنہ ہی یہ کوئی منزل حاصل کر پاتے ہیں۔ ان کی زندگی کا موٹو بقول شاعر یہ ہوتا ہے:
اس جہد و طلب سے ہی قائم بنیاد ہے بزم ہستی کی
وہ موج فنا ہو جاتی ہے جس موج کو ساحل ملتا ہے
یہ اگر زبان آور بھی ہوں تو عوام کے جذبات میں تلاطم بلکہ سونامی برپا کردیتے ہیں۔ اپنی زبان آوری کی بدولت ہی یہ تاریخ میں اپنے فصیح و بلیغ خطبات اور اقوال کی بنا پر یاد رکھے جاتے ہیں۔ ان کے خطبات کی بنیادی خصوصیات بلند آہنگی اور غیر حقیقی مثالیت پسندی ہوتی ہیں جو عوامی اذہان کو بہت متاثر کرتی ہیں۔ لیکن درحقیقت ان کا وجود ایک فتنہ ہوتا ہے جس سے چند معتدل مزاج اہل فکر و نظر ہی بچ پاتے ہیں مگر ایسے کم ہی ہوتے ہیں اور ان کی شنوائی بھی کم ہی ہو پاتی ہے۔
عمل کی توانائی سے بھرپور یہ کردار ہنگامہ ہائے ہو برپا کرنے اور تخریبی صلاحیت سے مالا مال ہوتے ہیں۔ فوری فیصلہ کی بے قابو قوت کی بنا پر یہ کوتاہ بین ہوتے ہیں، لیکن عوام کو ان کے عاقبت نا اندیش عزم و ارادوں کی کشش ان کو اپنا رہنما ماننے اور درست بھی ماننے پر مجبور کرتی ہے۔ ان کا بھوکے پیٹ بھڑکیں مارنا، کمزور پوزیشن کے باوجود کئی گنا طاقت ور دشمن کو للکارنا، کم وسائل کے باوجود خطروں میں کود پڑنا، خود بھی مرنا اور دوسرو ں کو بھی مروانا ان کی حد سے بڑھی ہوئی جسمانی اور ذہنی توانائی کی مجبوری ہوتی ہے۔
دوسرے لوگوں کو اپنی اس قسم کی مہمات میں شامل کرنے کے لیے انھیں کسی چھوٹے موٹے نظریے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان کے پیش کردہ نظریے اکثر غیر حقیقی اور کوتاہ بینی کا شاہکار ہوتے ہیں مگر عوام ان کے نظریات سے زیادہ ان کی شخصیت کی اسیر ہو کر ان کے فریب نظر میں شامل ہو جاتے ہیں اور ان کے ساتھ تباہی کے گڑھے میں جا گرتے ہیں۔ ناکامی کا یہ المیہ مگر بجائے خود ایک سورس آف انسپائریشن بن جاتا ہے۔ اور یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے۔
ان ہیرو نما کرداروں کا اگر تجزیہ کیا جائے تو معلوم ہوگا تو ان کی سب سے بڑی خوبی یا خامی ان کی کم دماغی اور کوتاہ اندیشی ہوتی ہے۔ اسی کم دماغی کی بنا پر یہ اپنے غیر حقیقی مگر خوش نما نظریات، تصورات اور غیر حقیقی مقاصد سے دیانت دارانہ وابستگی رکھتے ہیں۔ محض اسی سبب سے ان کے لب و لہجے میں زور اور تاثیر بھی ہوتی ہے۔ ان دیکھے مستقبل کے لیے ان کے بلند آہنگ دعووں اور آدرشوں میں “کیا کیا ہوگا” تو بہت ہوتا ہے لیکن “یہ کیسے ہوگا” کا جواب مفقود ہوتا ہے۔ “کیسے” منصوبہ بندی کی تفصیلات طلب کرتا ہے اور اس کا جواب ان کی کم دماغی کے بس کی بات نہیں ہوتی۔ تاہم تجزیہ کی صلاحیت سے عاری عوام کے لیے ان کے لفظ کسی وحی کی طرح مقدس اور حرف آخر ہوتے ہیں۔
ایسے افراد جب کبھی صاحبان اختیار و حکومت ہوئے تو انھوں نے دنیا کو تہس نہس کر کے رکھ دیا۔ سکندر اعظم، چنگیز خان، ہٹلر، مسولینی اور نپولین اسی قبیل کے افراد تھے ۔ اور اگر یہ بے اختیار تھے تو اختیار کی طلب میں انھوں نے بساط بھر سماج میں فساد اور تخریب کاری کی ۔ تعمیر سے ایسےکرداروں کو کوئی دلچسپی نہیں ہوتی۔ تعمیر کا انھیں جب بھی موقع ملا یہ اکثر ناکام ہوئے۔ ماضی میں ایسے افراد کی غالب تعداد کی خوش قسمتی یہ رہی کہ وہ کامیاب نہ ہو پائے۔ ان کی ناکامی سے ان کا ہیرو کا تاثر برقرار رہا بلکہ مضبوط ہوا۔ انھیں اگر اختیار مل جاتا تو مشاہدہ اور تجربہ یہ بتاتا ہے کہ وہ ناکام ہو کر رہتے۔ تعمیر کے لیے جس صبر و تحمل اور دور اندیشی کی ضرورت ہوتی ہے وہ ان میں مفقود ہوتی ہے۔
تاریخ یہ بتاتی ہے کہ زمینی حقائق کا ادراک رکھنے والے ،متحمل مزاج کے حامل مفکر قسم کے رہنما ہی دراصل قوم کی تقدیر کے اصل لکھاری ہوتے ہیں۔ یہ روایتی ہیروز کی طرح نہیں لگتے، بلکہ ہیرو ہی نہیں لگتے۔ وہ بلند آہنگ نہیں ہوتے۔ وہ جذبات سے نہیں کھیلتے۔ وہ سادہ گو ہوتے ہیں۔لمبے چوڑے منصوبے نہیں بناتے، خواب نہیں دکھاتے۔ وہ موجود مسائل کا ادراک رکھتے اور اس کے مطابق لائحہ عمل ترتیب دیتے ہیں جو اکثر دیر اثر اور سست رو ہوتا ہے۔ یہ تصادم سے بچنے کی ممکن کوشش کرتے ہیں، اس کے لیے سمجھوتے کرتے ہیں۔ جس سے ان کے لیے روایتی ہیرو کا تاثر اور بھی زائل ہو جاتا ہے۔ اس لیے یہ روکھے پھیکے لگتے ہیں۔ کم دماغ اور توانائی سے بھرپور ہیرو آزمایشی حالات میں بھڑک اٹھتا ہے، نتائج کی پروا کیے بغیر تصادم کی راہ اختیار کرتا اور دوسروں سمیت خود کو تباہ کر کے امر ہو جاتا ہے۔ درحقیقت وہ اپنی کوتاہیوں کی وجہ سے مارا جاتا اور ناکام ہوتا ہے۔
دنیا بھر کے فلموں، ناولوں اور ہمارے قومی خیالات کا ہیرو آج بھی ایسا ہی ایک اینگری ینگ مین ہے۔ لوگ بھول جاتے ہیں کہ کٹھن دور میں مشکل کام تو جینا ہوتا ہے موت تو آسان ہوتی ہے ہر شخص ہی مرسکتا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اجتماعی معاملات میں ہیروازم کے اس رومانس کو اب خیر باد کہ دیں۔ اپنے بچوں کو اس روایتی ہیرو کے طلسم سے بچائیں اور نوجوانوں کو اس کے رومانس سے نکالیں۔ انھیں بتائیں کہ رابن ہڈ اپنی تمام تر نیک نیتی کے باوجود وہ سرد قسم کی تعمیری صلاحیت نہیں رکھتا جو صبر کے ساتھ منصوبہ بندی کی متقاضی ہوتی ہے۔ انھیں جذبات انگیخت کرنے والے بیانات و خطبات کی حقیقت سمجھائیں۔ انھیں غیر حقیقی آدرشوں اور جھوٹے سرابوں کے پیچھے بھاگنے سے روکیں۔ حقائق جیسے ہوتے ہیں ویسے دیکھنے کی تربیت دیں۔ تب ہی ہم اپنے مسائل کا درست اداراک کر سکیں گے اور اپنے اصل ہیروز کو پہچان سکیں گے۔

اس تحریر كو شیئر كریں
Share on facebook
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on email
Dr Irfan Shehzad

Dr Irfan Shehzad

Dr Irfan Shehzad belongs to Rawalpindi, Pakistan. He holds a doctorate in Islamic Studies from National University of Modern Languages (NUML) Islamabad, Pakistan. He is working as a companion to Ghamidi Center of Islamic Learning Dallas, USA. He is an assistant research fellow with Al-Mawird Pakistan. He is the author of the book, “Qanoon-e-Itmam-e-Hujjat awr Us kay Itlaqaat: Janab Javed Ahmad Ghamidi ki Tawzihaat par Aetrazaat awr Ishkalaat ka Jaiza”, published by Almawrid Lahore Pakistan. Dr Irfan Shehzad writes and speaks on religious, social and sociopolitical issues. His articles are published in different scholarly journals including Ishraq, Lahore, Pakistan, Al-Shariah Gujranwala Pakistan and on social media.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *