دین کے مقدمات سے ہی دینی احکام او نواہی کا اثبات اور نفی ہوتی ہے ۔

دین کے مقدمات سے ہی دینی احکام او نواہی کا اثبات اور نفی ہوتی ہے ۔
علم و عقل کا مسلمہ ہے کہ کسی امرکا اثبات یا نفی کو کسی منفی مقدمے پر قائم نہیں کیا جا سکتا۔ جہاں تک دین کے اوامر و نواہی اور ان کے اطلاقات کا تعلق ہے تو یہ بھی دین کے اپنے مقدمات پر ثابت کیے جائیں گے ۔ غیر دینی مقدمات پر دینی اوامر و نواہی اور ان کے اطلاقات کو ثابت کرنا محض غلط اپروچ ہے۔
مثلاً تبلیغ دین کا فریضہ دینی امر ہے، لیکن کیا گھر بار کی ذمہ داریوں کو چھوڑ کر تبلیغ پر جلے جانے جیسے اقدام کا کیا کوئی دینی جواز ہے؟ اس کا اثبات اس مقدمے پر نہیں کیا جا سکتا کہ کچھ لوگ اگر نشے اور جوے کی لت کی وجہ سے اپنے گھر بار کی ذمہ داریوں سے بے پروا ہو جاتے ہیں تو اگر کوئی دین کے لیے ایسا کرتا ہے تو اعتراض نہیں کرنا چاہے۔ درست استدلال یہ ہوگا کہ اس طرح تبلیغ پر جانا اگر دین کا مطالبہ بالفرض ہے تو اسے دین سے ہی ثابت کیا جائے اگر نہیں ہے تو اسے ترک کیا جائے، دوسرے کیا کرتے ہیں اس سے دین کا مقدمہ ثابت نہیں ہوتا۔
اس مسئلے کو الٹ کر دیکھیں۔ قربانی اور حج کی ادائیگی میں پیسہ خرچ کرنے پر اعرتراض کا جواز اس مقدمے سے پیدا نہیں کیا جا سکتا کہ یہ پیسہ غربا پر خرچ کرنے والے زیادہ بہتر کام کر رہے ہیں کیونکہ وہ خدا پر نہیں، بندوں پر خرچ کر رہے ہیں۔ قربانی اور حج کے لیے اخراجات کب کرنے ہیں اور کب نہیں کرنے، اس کا فیصلہ دین کے اپنے مقدمات سے طے ہوگا، غیر از دینی مقدمات کی بنیاد پر نہیں۔
اس تمھید کے بعد یہ بات سمجھنا آسان ہو جائےگا حالیہ وبائی صورت حال میں مساجد اور مدارس کھولنے کا جواز اس مقدمے سے پیدا نہیں کیا جا سکتا کہ شاپنگ مالز اور کریانے کی دکانیں کھلی ہوئی ہیں تو مساجد کو بھی کھولنا چاہیے۔
اس سے قطع نظر کہ شاپنگ مالز اور کریانہ وغیرہ کی دکانوں میں ہجوم اور مساجد کے اجتماع میں کیا فرق ہیں اور کون سی احتیاطیں ہیں جو ایک جگہ ہو سکتی ہیں اور دوسری جگہ نہیں، بات یہ سمجھنے کی ہے کہ اگر ان حالات میں مساجد میں نمازوں کا اجتماع کرنا دین کے کسی مقدمے سے ثابت ہوتا ہے تو جان کی پروا کیے بغیر مسجد جانا ہوگا، لیکن اگر ایسا ثابت نہیں ہوتا تو حجام کی دکان پر قیاس کرتے ہوئے مسجد کھولنے کا جواز پیدا نہیں کیا جاسکتا۔
عبادات کے باب میں دین کا مقدمہ یہ ہے کہ عبادات کی ادائیگی تیسیر (آسانی) اور رخصت کے اصول پر قائم ہے۔ یہ معاملہ میدان جنگ میں پیٹھ دکھانے کا نہیں اور نہ ہی حرام و حلال کا ہے جہاں اضطرار کا اصول کارفرما ہے۔ عبادات کا معاملہ تو یہ ہے کہ جان کا خطرہ تو دور کی بات، عبادت کی ادائیگی میں صرف مشکل پیش آنے پر عبادت کی متبادل صورت اختیار کر لینے کا حکم دیا گیا ہے۔ بارش ہو جائے تو رسول اللہﷺ اعلان فرما دیا کرتے تھے کہ لوگ گھروں میں نماز پڑھ لیں۔ پانی میسر ہو مگر اس کے استعمال سے بیماری بڑھ جائے گی یا بیماری بڑھ جانے کا صرف اندیشہ بھی ہو تو تیمم اور مسح کر لینے کا حکم ہے ۔ موزے پہن رکھے ہیں تو وضو کے لیے انھیں اتارنے کی ضرورت کی زحمت نہ کی جائے، انھیں پر مسح کر لیا جائے گا۔ نماز کا قصر اور جمع اور اسی طرح روزہ اور حج کی ادائیگی میں پیش آنے والی مشکلات میں معتدد آسانیوں کا ذکر کیا گیا ہے۔
دوسرا پہلو یہ ہے کہ آپ کی عبادت کسی دوسرے کے لیے ضرر کا سبب بن رہی ہو تو عبادت کو ترک یا اس کی صورت کو بدلنا لازم ہوگا۔ مثلاً پیاز اور لہسن کھا کر مسجد میں آنے سے منع کیا گیا کہ ان کی بدبو سے دوسروں کو تکلیف ہوگی۔اونچی آواز میں اس وقت تلاوت نہیں کی جا سکتی جب پاس میں لوگ سو رہے ہوں۔ نماز کےدوران معلوم ہو کہ کسی کی جان کو خطرہ پیش آ گیا ہے تو نماز توڑ کر اس کی جان بچائی جائے گی۔
دنیا بھر میں اہل علم نے عبادات سے متعلق دین کے ان مقدمات کو درست طور پر سمجھنے میں غلطی نہیں کی۔ بیت اللہ جو پوری دنیا کے مسلمانوں کے لیے مرکز عبادت ہے، اسے بھی اس وبائی مرض کے دوران میں عوام کے لیے بند کرنے میں انھیں دقت نہیں ہوئی۔ یہ حالانکہ سعودی حکومت کے معاش کا ذریعہ بھی ہے۔ لیکن بد قسمتی سے پاکستان میں عام علما تو رہے ایک طرف، یہاں کے چوٹی کے علما نے بھی دین کے ان مقدمات کو نظر انداز کر کے اس وبائے عام میں ماہرین کی آرا کو پس پشت ڈال کر منفی اور غیر دینی مقدمات کی بنیاد پر مساجد کھونے کا مطالبہ اور اعلان کیا ہے، کہ فلاں فلاں جگہ کھلی ہے تو مسجد کیوں نہیں کھل سکتی۔ یہ مقدمہ اپنی اصل میں ہی غیر دینی ہے، اس سے دین کا اوامر پر استدلال درست نہیں۔ رمضان میں تراویح کی غیر فرض عبادت تک کے اجتماع کو برقرار رکھنے پر اصرار کیا جا رہا ہے۔ دفع عذر کے لیے کہا جا رہا ہے کہ طبی ماہرین کی بتائی اختیاطوں کے ساتھ مسجد میں نمازوں کے اجتماعات کیے جائیں۔ جب کہ طبی ماہرین کی طرف سے سب سے بڑی احتیاط لوگوں کے گھروں میں مقید رہنے کی ہے، اور اسی کی خلاف ورزی کرنے پر اصرار کیا جا رہا ہے ۔
یہ عوام کی جانوں کو صریح خطرے میں ڈالنا ہے۔ جتنے لوگ اس غلط فیصلے سے متاثر اور موت کا شکار ہوں گے ان کا وبال ان علما کی گردن پر ہوگا، انھین اجتہادی خطا کی رعایت بھی نہیں دی جا سکتی۔ یہ بات واضح ہونی چاہیے کہ ان حالات میں مساجد میں اجتماع دین کا مطالبہ نہیں ہے۔
محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے ہاں اہل علم کا مسئلہ یہ علمی اور دینی نہیں، نفسیاتی اور معاشی ہے ۔ مساجد اور مدارس ان کی معاش کا ذریعہ اور جائے سلطنت ہیں، جن کا بند ہو جانا ان کے لیے قابل قبول نہیں۔ یہ تو معلوم ہی ہے کہ سلطنت کی بقا کے لیے افراد کی قربانی ہر دور میں روا رکھی گئی ہے۔

اس تحریر كو شیئر كریں
Share on facebook
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on email
Dr Irfan Shehzad

Dr Irfan Shehzad

Dr Irfan Shehzad belongs to Rawalpindi, Pakistan. He holds a doctorate in Islamic Studies from National University of Modern Languages (NUML) Islamabad, Pakistan. He is working as a companion to Ghamidi Center of Islamic Learning Dallas, USA. He is an assistant research fellow with Al-Mawird Pakistan. He is the author of the book, “Qanoon-e-Itmam-e-Hujjat awr Us kay Itlaqaat: Janab Javed Ahmad Ghamidi ki Tawzihaat par Aetrazaat awr Ishkalaat ka Jaiza”, published by Almawrid Lahore Pakistan. Dr Irfan Shehzad writes and speaks on religious, social and sociopolitical issues. His articles are published in different scholarly journals including Ishraq, Lahore, Pakistan, Al-Shariah Gujranwala Pakistan and on social media.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *