زنا بالجبر، جمہور فقہا کا موقف اور ڈاکٹر مشتاق صاحب

زنا بالجبر کی حالیہ بحث کے تناظر میں ہمارا نقد، زنا بالجبر یا عصمت دری کے عمومی فقہی موقف پر تھا جو زنا بالرضا اور زنا بالجبر کو ایک ہی جرم تصور کرتا ہے، پھر اگر اس جرم کی فقہی (شرعی) نصاب شھادت (چار مرد عینی گواہ) میسر نہ ہوں تو اس مسئلے کو سیاستہ حل کرنا تجویز کرتا ہے۔
اس پر جناب ڈاکٹر مشتاق صاحب، چیئر مین شعبہ قانون، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد، نے یہ موقف اختیار کیا کہ ہمارا بیان کردہ موقف فقھا کا موقف نہیں ہے۔ ان کے نزدیک فقہ میں زنا بالجبر کو زنا بالرضا سے الگ، فساد فی الارض کا جرم سمجھا گیا ہے، جس میں اکراہ شامل ہونے کی وجہ سے الگ سے تعزیری سزا دی جائے گی۔ انھوں نے باصرار باور کرایا کہ ہم سے موقف سمجھنے میں غلطی ہوئی ہے۔
ہم نے سوچا ممکن ہے، ہم سے غلطی ہوئی ہو۔ نقد کا سب سے بڑا فائدہ اپنی غلطی پر متنبہ ہونا ور علم میں درست اضافہ کرنا ہی تو ہے۔ لیکن جب ہم نے درست فقہی موقف جاننے کے لیے فقہ کے سکہ بند اہل مدرسہ اور روایت سے جڑے فقہ کے ماہرین، معاصر اہل علم سے رجوع کیا تو معلوم ہوا کہ ان کا موقف بھی وہی تھا جو ہم نے سمجھا اور پیش کیا تھا۔ ہمیں ایک لحظہ بھی شک نہیں ہوا کہ یہ جلیل القدر علما و فقہا بھی ہماری طرح غلط فہمی کا شکار ہوئے ہوں گے۔
فقہ کے روایتی موقف کی وضاحت کے لیے مولانا تقی عثمانی کی کتاب “حدود آرڈینینس ایک علمی جائزہ” سے اقتباس بھی پیش کیا گیا، جس میں انھوں نے صراحت کی ہے:
“۱۔ قرآن کریم نے سورہ نور کی دوسری آیت میں زنا کی حد بیان فرمائی ہے:
جو عورت زنا کرے، اور جو مرد زنا کرے، ان میں سے ہر ایک کو سو کوڑے لگاو ٔ۔ ‘‘(النور:۲)
اس آیت میں ”زنا“ کا لفظ مطلق ہے جو ہر قسم کے زنا کو شامل ہے، اس میں رضا مندی سے کیا ہوا زنا بھی داخل ہے، اور زبردستی کیا ہوا زنا بھی۔ بلکہ یہ عقلِ عام (Common Sense)کی بات ہے کہ زنا بالجبر کا جرم رضا مندی سے کیے ہوئے زنا سے زیادہ سنگین جرم ہے، لہٰذا اگر رضا مندی کی صورت میں یہ حد عائد ہو رہی ہے تو جبر کی صورت میں اس کا اطلاق اور زیادہ قوت کے ساتھ ہوگا۔
اگرچہ اس آیت میں ”زنا کرنے والی عورت“ کا بھی ذکر ہے، لیکن خود سورہ نور ہی میں آگے چل کر اُن خواتین کو سزا سے مستثنیٰ کر دیا گیا ہے جن کے ساتھ زبردستی کی گئی ہو، چنانچہ قرآن کریم کا ارشاد ہے:
اور جوان خواتین پر زبردستی کرے تو اللہ تعالیٰ ان کی زبردستی کے بعد (ان خواتین) کو بہت بخشنے والا، بہت مہربان ہے۔ ‘‘(النور ۳۳)
اس سے واضح ہو گیا کہ جس عورت کے ساتھ زبردستی ہوئی ہو، اسے سزا نہیں دی جا سکتی البتہ جس نے اس کے ساتھ زبردستی کی ہے، اس کے بارے میں زنا کی وہ حد جو سورہ نور کی آیت نمبر ۲ میں بیان کی گئی تھی، پوری طرح نافذ رہے گی۔
۲۔ سو کوڑوں کی مذکورہ بالا سزا غیر شادی شدہ اشخاص کے لیے ہے، سنت متواترہ نے اس میں یہ اضافہ کیا ہے کہ اگر مجرم شادی شدہ ہو تو اسے سنگ سار کیا جائے گا اور حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے سنگ ساری کی یہ حد جس طرح رضا مندی سے کیے ہوئے زنا پر جاری فرمائی، اسی طرح زنا بالجبر پر بھی جاری فرمائی۔ …..لہٰذا قرآن کریم، سنت نبویہ علی صاحبہا السلام اور خلفاء راشدین کے فیصلوں سے یہ بات کسی شبہہ کے بغیر ثابت ہے کہ زنا کی حد جس طرح رضا مندی کی صورت میں لازم ہے، اسی طرح زنا بالجبر کی صورت میں بھی لازم ہے، اور یہ کہنے کا کوئی جواز نہیں ہے کہ قرآن و سنت نے زنا کی جو حد (شرعی سزا) مقرر کی ہے وہ صرف رضا مندی کی صورت میں لاگو ہوتی ہے، جبر کی صورت میں اس کا اطلاق نہیں ہوتا۔ “ (حدود آرڈینینس ایک علمی جائزہ، ص 22تا 23) ”حدود آرڈینینس میں احکام یہ تھے کہ اگرزنا پر شرعی اصول کے مطابق چار گواہ موجود ہوں تو آرڈینینس کی دفعہ ۵ کے تحت مجرم پر زنا کی حد(شرعی سزا) جاری ہو گی۔ “( حدود آرڈینینس ایک علمی جائزہ، ص26)
ڈاکٹر مشتاق صاحب نے دوسرا موقف یہ پیش کیا کہ نابالغ بچی کے ساتھ زنا، زنا کی تعریف میں شامل ہی نہیں، اس لیے یہ کیس حدود کا نہیں تعزیر کا ہے۔ لکھتے ہیں:
“اگر چار گواہ موجود ہوں تب بھی نابالغ بچی کے ساتھ زیادتی کے مقدمے میں زنا کی حد جاری نہیں کی جا سکے گی کیونکہ نابالغ بچی/بچے کے ساتھ جنسی تعلق کو قانوناً زنا نہیں کہا جا سکتا۔ البتہ جنسی تشدد کی بدترین شکل ثابت ہے (جو چار گواہوں کے بغیر بھی ثابت ہے اور ان کے ساتھ بھی)۔ اس لیے اس پر عبرتناک انداز میں سزاۓ موت اور اس کے ساتھ کوئی اور سزا بھی دی جا سکتی ہے۔”
اس کے برعکس مولانا تقی عثمانی حدود آرڈینینس میں زنا کی تعریف کی وضاحت میں لکھتے ہیں:
“یہاں مرد کے ساتھ adult یعنی بالغ ہونے کا لفظ موجود ہے، مگر عورت کے ساتھ نہیں، جس کی وجہ سے واضح ہے کہ زنا کرنے والا مرد اگر بالغ نہ ہو تو اس پر حد جاری نہیں ہو سکتی، لیکن اگر کوئی بالغ مرد کسی بھی عورت سے زنا کرے تو خواہ وہ عورت بالغ ہو نہ نا بالغ، دونوں صورتوں میں مرد پر حد کی سزا لاگو ہو سکتی ہے۔ لہذا تعریف میں مرد کے ساتھ تو بالغ کی قید لگائی گئی ہے لیکن جس عورت کے ساتھ جرم کا ارتکاب کیا جا رہا ہے اس کے ساتھ بالغ کی قید اس لیے نہیں لگائی گئی تاکہ زیادتی خواہ بالغ عورت کے ساتھ ہو یا نابالغ کے ساتھ دونوں صورتوں میں زیادتی کرنے والے پر حد جاری کی جا سکے۔ لہذا حقیقت تو یہ ہے کہ مذکورہ تعریف میں ” عورت ” کے لفظ کے ساتھ ” بالغ” کی قید نہیں ہونی چاہیے، تاکہ نابالغ بچیوں کے ساتھ ہونے والی زیادتی پر بھی حد کی سزا جاری ہو سکے۔” (حدود آرڈینینس ایک علمی جائزہ، ص 7 -8)
دیکھا جا سکتا ہے کہ دونوں اہل علم کے مواقف متضاد ہیں ۔
مشتاق صاحب کی طرف سے ان کے اس نئے فقہی موقف کو فقہ کا اجماعی موقف باور کرانے کے تاثر کی نفی مولانا عمار خان ناصر بھی کر چکے ہیں۔
ڈاکٹر مشاق صاحب کے اسی موقف پر فیس بک پر ہمارے اہل علم دوست جناب اعجاز بادشاہ صاحب نے تبصرہ فرمایا:
If I had to assess, I would probably conclude that initial legal scholarship was inclined to the view that rape is a sub-category of adultery/fornication. But after sizeable socio-cultural changes and the expansion of scholarship, later juridical trends have slowly shifted to the view that rape should be categorized as haraba.
اگر میں تجزیہ کروں، تو میں یہ اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ سابق فقہا زنا بالجبر کو زنا کے ذیل میں ہی سمجھتے تھے۔ تاہم بعد میں بڑی سماجی- ثقافتی تبدیلیوں کے باعث اور علم کی وسعت کی وجہ سے، بعد کا عدالتی رجحان آہستہ آہستہ زنا بالجبر کو حرابہ کے زمرے سمجھنے کی طرف مائل ہوا۔
مشتاق صاحب کے اس موقف کی اجنبیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ان کے مویدین میں سے بھی بعض لوگ اس سے اختلاف پر مجبور ہوئے، اس کی نمایاں مثال ڈاکٹر زاہد مغل ہیں ۔ انھوں نے اپنا نکتۂ اعتراض پیش کرتے ہوئے بیان کیا:
“امام سرخسی کے جن اقوال کو یہاں پیش کیا گیا ہے ان سے دوسرا موقف بھی اسی قدر ثابت ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک زنا بالجبر زنا ہی ہے۔۔۔دیکھئے جب آپ یہ کہتے ہیں کہ “یہاں بحث یہ نہیں ہورہی کہ کیا زنا بالجبر” زنا کی قسم ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہورہی ہے کہ جب کسی شخص کے متعلق چار گواہوں سے ثابت ہوا کہ اس نے زنا کیا اور یہ بھی معلوم ہوا کہ خاتون کو مجبور کیا گیا تھا تو خاتون تو سزا سے محفوظ رہے گی لیکن مرد پر زنا کی حد لازم ہوگی کیونکہ مرد کا فعل الگ فعل ہے اور اسے اپنے مستقل بالذات فعل کی سزا مل رہی ہے” ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو یہ کہنا خود واضح کررہا ہے کہ چار گواہوں کی گواہی کے بعد امام کے نزدیک زبردستی والا زنا “زنا ہی کی قسم” ہے، وگرنہ یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ اس پر حد کی سزا کا اطلاق کریں؟ چنانچہ اس پر حد کا اطلاق واضح کرتا ہے کہ وہ اسے زنا ہی کی قسم قرار دے رہے ہیں۔ اگر زنا بالجبر زنا کی قسم ہی نہیں تو کسی بھی طریقے سے ثابت ہونے کی صورت میں اس پر حد نہیں لگ سکتی۔ اب یہ مفروضہ عجیب ہوگا کہ اگر وہ 4 گواہوں سے ثابت ہوجائے تو وہ زنا کی قسم کہلاتا ہے ورنہ کچھ اور ہوتا ہے۔
“پھر دوسری اھم بات یہ ہے کہ فقہاء کے نزدیک زنا بالجبر 4 گواہوں سے ثابت ہوجاتا ہے، اس کی تصریح موجود ہے۔ لیکن کیا وہ اس کے اثبات کے لئے کسی دوسرے قرینے کا ذکر بھی کرتے ہیں؟ اگر نہیں تو اس بارے میں یہ فرض کرنا کہ “انہوں نے اس سوال سے کبھی بحث ہی نہیں کی” سے زیادہ قرین قیاس یہ مفروضہ ہے کہ ان کے نزدیک اس کے اثبات کا طریقہ یہی ہے کیونکہ زنا بالجبر کوئی ایسا دور از کار واقعہ یا مسئلہ نہیں ہے کہ فقہاء نے اس کے اثبات کے سوال پر توجہ نہ دی ہو، خصوصاً اس صورت میں کہ یہ عمل زنا بالرضا جیسے اھم جرم کے ساتھ ملحق ایک چیز ہے۔
“تیسری بات یہ کہ جس آخری بات کو آپ قول فیصل کے طور پر پیش فرمارہے ہیں اس کے بھی برعکس سمت جانے میں کوئی چیز مانع نہیں۔ یعنی زنا کے ساتھ کسی دوسرے جرم کے ارتکاب کی صورت میں حد کے ساتھ اس اضافی جرم کے ازالے کے لئے کسی سزا کا دیا جانا یہ ثابت نہیں کرتا کہ فقہاء کے یہاں زنا بالجبر کوئی الگ چیز ہے۔ ہاں اس سے یہ بات البتہ ضرور نکلتی ہے کہ اگر کوئی شخص عصمت دری یا جنسی تشدد کرے (اور اگرچہ اس پر زنابالجبر کا الزام نہ ہو) تو اسے اس عمل کی از خود تعزیرا الگ سے سزا دی جا سکتی ہے۔”
ادھر فقہ کے طلبہ کا معاملہ یہ رہا کہ اصل فقہی موقف ان پر عیاں تھا، اسی لیے ان میں سے کسی نے بھی اس بحث میں حصہ نہ لیا۔ مشتاق صاحب کے علاوہ کوئی ایک بھی اہل علم ان کی تائید میں یا ضمناً بھی اس مسئلے پر سامنے نہیں آیا۔ اس محاذ پر مشتاق صاحب اکیلے ہی ڈٹے رہے۔ مگر دیکھا جا سکتا ہے کہ روایتی طبقے کے بھی کسی سنجیدہ اہل علم کے ہاں بھی ان کا موقف پذیرائی نہ پا سکا۔
حقیقت یہ ہے کہ مشتاق صاحب نے فیس بک اور سوشل میڈیا پر روایتی فقہ کے زنا بالجبر کے اجماعی موقف پر حالیہ تنقید کے خلاف اس اجماعی موقف کو اپنی انفرادی ترجمانی کے زور پر ہائی جیک کر لیا۔ اور یہ بحث کسی صحت مند نتیجے پر پہنچنے کی بجائے ان کی ذاتی رائے پر مبنی فقہی موشگافیوں کی نظر ہوگئی۔ انھوں نے عقل مندی یہ فرمائی اپنے مخاطبین کو تو فقہی جزئیات میں الجھائے رکھا لیکن روایتی فقہ کے معاصر اہل علم کی آرا پر کوئی تبصرہ کرنے سے گریز بھی کیے رکھا اور سادہ طبائع کو یہ تاثر دینے میں کامیاب رہے کہ ان علما کا موقف بھی وہی ہے جو مشتاق صاحب کا ہے۔ کئی بار ان سے یہ سوال پوچھا گیا کہ اس مسئلے پر آپ کے اور روایتی فکر کے دیگر معاصر اہل علم کے موقف میں کیا فرق ہے۔ جس کا جواب بالآخر انھوں نے دیا کہ:
“میرا موقف اگر دیگر علماے کرام سے مختلف بھی ہو تو اس سے میرے موقف پر کیا اثر پڑتا ہے؟ میں جسے فقہاے کرام کا موقف سمجھتا ہوں وہی پیش کیا ہے۔تاہم میری سوچی سمجھی راے یہ ہے کہ میرے اور مولانا تقی عثمانی یا مولانا زاہد الراشدی کے موقف میں کوئی فرق نہیں اور آپ کو ان کا موقف سمجھنے میں غلطی ہوئی ہے۔”
یعنی یہ امکان تسلیم کرنے کے بعد کہ دیگر اہل علم کا موقف ان سے مختلف ہو سکتا ہے، انھوں نے اپنے موقف کو فیس بک کے قارئین کے لیےفقہ کا اجماعی اور معاصر اہل علم کے موقف کے موافق بنائے رکھا۔ مزید ان کا یہ فرمانا کہ ان کے اور مولانا تقی عثمانی اور مولانا زاہد الراشدی کے موقف میں کوئی فرق نہیں ہے، بداہتہ غلط ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ مشتاق صاحب نے یہ ساری بحث ایک فقیہ کے طور پر نہیں، فقہ کے وکیل کے طور پر کی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ فقہ اور فقہا کے ساتھ مشتاق صاحب کا یہ جوشِ عقیدت تھا جس نے ان سے موجودہ سماجی دباؤ کے باعث فقہی موقف میں یہ تبدیلی کرائی۔
سماج میں اٹھنے والی کوئی تبدیلی جب فقہ کے کسی نقص کو ظاہر کر دیتی ہے تو اہل علم کا رویہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اس نقص کو تسلیم کرتے ہوئے اجتہاد کی مدد سے اس خامی کو دور کرنے کی سعی کرتے ہیں۔ لیکن مشتاق صاحب فقہ میں ایسے کسی نقص کو جس پر جمہور کا اتفاق رہا ہو، باور کرنے کو تیار نہ ہوئے اور فقہی جزئیات کے اطلاقات سے ثابت کر دیا کہ فقہ بھی وہی کہہ رہی ہے جو دور حاضر کا سماج طلب کر رہا ہے، اور یہ کہ مسئلہ کا حل فقہ میں پہلے سے ہی موجود ہے، بلکہ یہ بھی کہ جمہور کا موقف ‘ہمیشہ’ سے یہی رہا ہے۔ لیکن درحقیقت یہ فقہ کی ترجمانی نہیں، وکالت ہے جس میں ضروری علمی اخلاقیات بھی نظر انداز ہوئی ہیں۔
لطف کی بات یہ تھی کہ فقہ کے طلبہ جو یہ بحث دیکھ رہے تھے، ان کے لیے بھی مشتاق صاحب کا یہ موقف نیا تھا۔ مگر ان کی اکثریت یہ جانتے ہوئے بھی کہ مشتاق صاحب فقہ کے دفاع میں ان کے روایتی اجماعی فقہی فہم کی تغلیط کر رہے تھے، خاموش رہے، بلکہ ان کو داد تحسین بھی دیتے رہے ۔ہم نے جب داد و تحسین کے ڈونگرے برسانے والے فقہ کے طلبہ سے پوچھا کہ کیا آپ کو اس سے پہلے معلوم تھا کہ زنا بالجبر فساد فی الارض کا کیس ہے، اور یہ کہ نابالغ بچی کے ساتھ زنا، زنا ہی نہیں یہ تعزیر کا کیس ہے، تو جواب میں خاموشی رہی۔ محض چند ایک طلبہ نے یہ اعتراف کیا کہ مشتاق صاحب کا موقف مدرسے کا موقف نہیں ہے، نہ فقہ کے اکابرین علما کا یہ موقف ہے۔ اکثر لوگ دلیل اور استدلال کا تجزیہ نہیں کرتے۔ فیصلہ انھوں نے پہلے سے کیا ہوتا ہے کہ کس کو داد دینی ہے اور کس کو بے داد رکھنا ہے۔ مسئلہ مگر یہ ہے کہ سنجیدہ اہل علم کو آپ اپنے موقف پر قائل کرنے میں آپ کتنا کامیاب ہوئے۔
خلط مبحث کہاں ہوا؟
ہوا یہ ہے کہ فقہ میں اکراہ کے اصول کو مشتاق صاحب نے عدالت میں بیٹھے ایک قاضی کی طرح زنا بالجبر کے اکراہ پر لاگو کر کے دکھایا ہے۔ اصول، نظریاتی طور پر لاگو ہونے کو تو ہو سکتا ہے مگر کسی فقیہ نے ایسا کیا کب ہے، سوال یہ ہے۔ کسی بھی فقیہ نے زنا بالجبر میں پائے جانے والےاکراہ کو الگ سے ایک جرم شمار کر کے اس کی کوئی تعزیری سزا بیان نہیں کی۔ مسئلہ فقہ کے کسی اصول کے اطلاق کا نہیں، ایسے اطلاق تو پچاس اور چیزوں پر کر کے دکھائے جا سکتے ہیں، یہ اجتھاد کا موضوع ہے، مگر دعوی یہ کیا گیا تھا کہ ماضی کے فقہا نے ایسا کیا ہے، تو کہاں کیا ہے؟ ایسا آج کا قاضی تو کر سکتا ہے، کیونکہ سماج میں زنا بالجبر کے خلاف حساسیت میں بہت اضافہ ہوا ہے، لیکن ماضی کے کسی فقیہ نے ایسا کیا ہو، یہ دعوی ثبوت مانگتا ہے اور یہ سوال بھی کرتا ہے کہ بالفرض ایسا تھا بھی تو فقہ کا اجماعی موقف یہ کیوں نہ بن سکا؟
ہمارا اعتراض تو فقہ کے اکراہ کے اصول کے اطلاق کے بعد بھی قائم ہے جس کی طرف کماحقہ توجہ نہ ہو سکی، اور وہ یہ تھا کہ زنا بالجبر کوئی ایسا جرم تو نہ تھا جو نزول قرآن اور عہد رسالت کے بعد پیش آیا ہو۔ پھر خدا کی شریعت اس کے بارے میں خاموش کیسے رہ سکتی ہے جب کہ جان، مال اور آبرو کے خلاف تعدی پر اس نے چوری، قتل اور زنا کی سزائیں خود بیان کی ہیں۔ خدا نے زنا کے بارے میں اپنا فیصلہ دے دیا تو زنا بالجبر پر کیوں نہ دیا۔ خدا کی شریعت اس جرم کے ثبوت کے لیے متاثرہ فریق سے چارہ مرد عینی گواہوں کی طلب کیوں کرتی ہے جس کا مہیا کرنا عملا ناممکن ہے۔ الزام کا جھوٹ سچ تو بعد میں معلوم ہوتا ہے، یہاں جرم شریعت کی عدالت میں درج ہی نہیں ہوتا جب تک چار مرد مسلم عینی گواہ نہ ہوں، اور ہوتا بھی ہے تو ساستہ۔ ہمیں اس سے غرض نہیں تھی کہ سیاستہ یہ مسئلہ حل ہو جاتا ہے۔ مسئلہ اس سے تھا کہ جو جرم قاضی کے ہاں دیگر شواہد سے ثابت ہو کر موجب تعزیر بن جاتا ہے وہ خدا کی شرع میں ثابت کیوں نہیں ہوتا اور موجب حد کیوں نہیں ہو سکتا۔ بہرحال اس پر اپنا تفصیلی نقطہ نظر ہم بعد میں عرض کریں گے۔
علمی مباحث میں دیانت داری شرط اول ہے۔ لوگوں کے سامنے درست موقف رکھنا اہل علم کی ذمہ داری ہے۔ آپ اگر علم کے سفر میں کسی انفرادی رائے تک پہنچے ہی تھے تو یہ کہنے میں کیا مانع ہے کہ اس معاملے میں آپ کا فقہی فہم جمہور کے فہم سے مختلف ہے۔ اپنے فہم کو جمہور کے فہم کے پردے میں پیش کرنا درست علمی رویہ کیسے ہو سکتا ہے۔ ڈر کس بات کا ہے؟
امام سرخسی کی “المبسوط” پر جوشِ ذہانت کی ترک و تازیوں کے بعد اندازہ کیا جا سکتا ہے مشتاق صاحب کسی بھی کتاب سے کچھ بھی ثابت کرنے کی لا محدود صلاحیت رکھتے ہیں۔ فقہ سے اگر وہ کچھ ثابت ہو سکتا ہے جس سے معاصر اکابرین بھی کبھی نہ سمجھ سکے، تو غامدی صاحب کی میزان پر اگر اسی ذہانت کے ساتھ طبع آزمائی کے بعد وہ نتائج نکالے گئے جو گزشتہ دنوں ان کی وال پر دیکھنے کو ملے تو حیرت نہیں ہونی چاہیے۔ فقہ تو ان کا خصوصی مضمون ہے، اس میں ان کی طبیعت کی تیزی ایسے نتائج ان سے نکلوا سکتی ہے کہ جمہور کا پورا موقف ہی تلپٹ ہو کر رہ جائے تو سمجھا جا سکتا ہے کہ میزان اور فکر فراہی پر ان کی تنقیدات کس زود فہمی کا شکار نہ ہوں گی۔ یہاں تو انھوں نے فقہ کے طلبہ کو بھی مخمصہ میں ڈال دیا، تو جنھوں نے میزان کو پورا پڑھا نہ سمجھا، ان کو کسی خلط مبحث کا شکار بنانا کتنا آسان ہو جاتا ہے۔
معلوم ہونا چاہیے کہ مسئلہ، مشتاق صاحب نہیں ہیں، ان کا تفرد کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔ فقہ کی وہ جتنی تشکیل نو کر لیں، روایتی فقہی موقف وہی رہے گا جو مدرسے میں پڑھایا جاتا ہے اور محل تنقید وہی ہے۔ مشتاق صاحب اگر اہل مدرسہ کو فقہ کے بارے میں اپنا فہم تسلیم کروانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں، مگر کیا یہ ممکن ہے کہ مدارس کے اکابرین خود کو فقہ اور اصول فقہ کے جہل مرکب کا شکار تسلیم کر کے مشتاق صاحب کا فہم اختیار کر لیں، اور یہ تسلیم کر لیں کہ 12 سو سال کی روایت میں فقہ کا یہ فہم مشاق صاحب پر ہی کھلا ہے اور ان کے اکابر اس سے نابلد رہے؟
زنا بالجبر پر ان سارے مباحث کا نتیجہ محض وقت کا ضیاع نکلا۔ بحث آگے نہ بڑھ سکی۔ علم کی دنیا کی یہ بڑی بد قسمتی ہوئی کہ ایک انفرادی رائے ساری بحث کا مدار بن گئی۔
ہماری بد قسمتی رہی کہ ہمیں اچھے ناقدین میسر نہ آسکے۔ علم و تحقیق کا جو حال ہے، وہ سب کے سامنے ہے۔ علمی و تحقیقی مزاج ہمارے ہاں بالعموم نہیں پایا جاتا۔ اسی لیے نقد کی بجائے یہاں وکالت شروع ہو جاتی ہے اور وہ بھی مروج وکیلانہ اخلاقیات کے ساتھ۔
المورد کے احباب سے گزارش کروں گا آئندہ جو فقہی مباحث پیش کیے جائیں اس میں جمہور کا موقف ہی پیش نظر رہے، فرد واحد کی راے کو لائق التفات نہ جانیں۔ البتہ ان کے نقد میں کوئی علمی نکتہ موجود ہو یا واقعی بحث سے متعلق ہو تو دیکھ لیا جائے۔ ہماری کوشش ہو گی کہ آیندہ اپنا موقف پیش کرنے تک محدود رہا جائے، جواب در جواب سے مکالمہ، مناظرہ بن جاتا ہے۔
خدا ہمیں دیانت داری سے علم و دین کی خدمت کی توفیق عطا فرمائے۔

اس تحریر كو شیئر كریں
Share on facebook
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on email
Dr Irfan Shehzad

Dr Irfan Shehzad

Dr Irfan Shehzad belongs to Rawalpindi, Pakistan. He holds a doctorate in Islamic Studies from National University of Modern Languages (NUML) Islamabad, Pakistan. He is working as a companion to Ghamidi Center of Islamic Learning Dallas, USA. He is an assistant research fellow with Al-Mawird Pakistan. He is the author of the book, “Qanoon-e-Itmam-e-Hujjat awr Us kay Itlaqaat: Janab Javed Ahmad Ghamidi ki Tawzihaat par Aetrazaat awr Ishkalaat ka Jaiza”, published by Almawrid Lahore Pakistan. Dr Irfan Shehzad writes and speaks on religious, social and sociopolitical issues. His articles are published in different scholarly journals including Ishraq, Lahore, Pakistan, Al-Shariah Gujranwala Pakistan and on social media.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *