فطرت سے مراد انسانوں میں پائے جانے والے وہ عمومی پیدایشی رجحانات ہیں، جو انسانی شعور کو حق و باطل,خیر و شر، اور طیبات و خبائث میں تمیز کی صلاحیت عطا کرتے ہیں۔ وحی کی عمارت انہیں بنیادوں پر استوار ہوتی ہے۔
فطرتِ انسانی ان اقدار کے لیے معیار ہے یا نہیں، اس بحث کو ہم تین سطح پر دیکھتے ہیں:
عقیدہ
اخلاق
قانون
یہ واضح رہے کہ قانون کی بنیاد بھی پر اخلاق ہی پر ہوتی ہےِ، اس لیے اصلًا یہ بحث کہ فطرتِ انسانی اقدار کے لیے معیار ہے یا نہیں، عقیدہ اور اخلاق سے متعلق ہے۔
فطرت میں پائی جانے والی یہ وہ بنیادی رہنمائی ہے جس کا تجربہ و مشاہدہ ہر انسان کرتا ہے۔ تاہم، اس شعوری رہنمائی کے اطلاق میں کبھی مغالطہ بھی لاحق ہو جاتا ہے، اس صورت میں بحث کی ضرورت پڑ جاتی ہے اور درست نتیجے تک پہنچنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ایسے مغالطے، لیکن، بہت کم پیش آتے ہیں۔ ان کم تر پیش آنے والے مغالطوں کی وجہ سے اس حقیقت کا انکار کرنا کہ فطرت، ایمان و عقیدہ، خیر و شر، اور طیبات و خبائث کے لیے معیار نہیں بن سکتی، ایک بدیہی حقیقت کا انکار ہے۔ جس طرح فقہی اطلاقات میں انسانی فہم کے مختلف درجات اور نصوص اور اصول کےاطلاقات میں خطا کے احتمال کے باوجود انسانی فہم پر ہی بھروسہ کرنا پڑتا ہے، اسی طرح بعض اوقات درست فطری پوزیشن کی تعیین میں در آنے والے احتمالات کے باوجود فطرت کا معیار ہونا متاثر نہیں ہو سکتا۔
ساری انسانیت ان تمام اقدار کے معیارات طے کرنے میں فطرت کی ودیعت کردہ اسی بنیادی رہنمائی پر عمل کرتی ہے۔ تاہم، بعض مقامات پر فطرت اس رہنمائی سے قاصر رہ جاتی ہے، یہی وہ مقام ہوتا ہے جب وحی کی ضرورت پڑتی ہے، یا اس بحث کی ضرورت پڑتی ہے کہ درست فطری پوزیشن کیا ہے۔ ہر علم و فن میں ایسا ہوتا ہے کہ جس چیز کو معیار تسلیم کیا جاتا ہے، اس کے اطلاق میں بعض اوقات اختلاف بھی رونما ہوتا ہے۔ آئین و قانون کی بحث میں ہر جگہ اس کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ اس اختلاف کی وجہ سے البتہ، بنیاد کا انکار نہیں کر دیا جاتا۔
ہمارے فاضل احباب نے فطرت کو ‘قبل از وحی فطرت’ اور ‘بعد از وحی فطرت’ کی دو کٹیگیریز میں تقسیم کیا ہے اور اصرار کیا ہے کہ معیار اگر بن سکتی ہے تو بعد از وحی فطرت ہی بن سکتی ہے وہ بھی اس صورت میں جب پوائنٹ آف ریفرینس شارع کو بنایا گیا ہو۔ تاہم، اپنے اس اصول کی خلاف ورزی انہیں پہلے ہی قدم پر کرنا پڑی جب انہوں نے قبل از وحی فطرت کو ایمان و عقیدے کے معاملے میں نہ صرف بطور صلاحیت تسلیم کیا، بلکہ میں اسے معیار بھی قرار دے دیا، یعنی یہ اعتراف کیاکہ دین و ایمان کی دعوت و تبلیغ کے لیے فطرت کا معیار ہونا ضروری ہے، ورنہ کسی کو خدا کے وجود اور توحید کی دعوت اس بنا پر دی ہی نہیں جا سکتی ہے کہ خدا کے وجود اور توحید کا ماننا مطلقا حق ہے اور اس کا انکار اور شرک کرنا مطلقا باطل ہے۔ توحید و شرک کے لیے معیار فطرت نہ ہو تو دین و ایمان کی دعوت کی بنیاد ہی ختم ہو جاتی ہے۔
یہاں ظاہر ہے کہ فطرت سے مراد قبل از وحی فطرت ہی ہے جو حق و باطل کا معیار تسلیم کی گئی ہے۔لیکن اس کے بعد ہمارے فاضل احبااب اخلاق و قانون میں قبل از وحی فطرت کو بطور معیار تسلیم کرنے سے انکار کر دیتے ہیں۔تو سوال یہ ہے کہ قبل از وحی فطرت کو اگر ایمان و عقیدہ کے لیے معیار تسلیم کر لیا گیا ہے تو اخلاق و قانون کے لیے اسے معیار تسلیم نہ کرنے کی کیا وجہ ہے؟ فطرت کی تعیین اور تعریف کی جن مشکالات اور ابہامات کی بنا پر اخلاق اور قانون کے لیے فطرت کو معیار ماننے سے انکار کیا جاتا ہے تو وہ ابہامات، غور کیجیے، تو عقیدے کے باب میں زیادہ پائے جاتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ انسان نے اخلاق اور قانون سے زیادہ عقیدہ کے میدان میں اپنی توحیدی فطرت سے انحراف کیا ہے۔ دنیا میں قتل، جھوٹ اور چوری کو درست اور جائز قرار دینے والا کوئی ایک بھی صحیح الدماغ انسان نہیں ملے گا، قانون میں بھی انسان اپنی فطرت سے بہت کم منحرف ہوا ہے، خیر و شر، عدل و انصاف کے تعین میں اس نے بہت ہی کم خطا کی ہے، لیکن سب سے زیادہ انحراف انسان سے اگر سرزد ہوا ہے تو وہ عقیدے میں ہوا ہے۔ دنیا میں توحید پرستوں کے مقابلے میں غیر توحیدی عقائد کے حامل افراد کی تعداد کہیں زیادہ ہے۔ اس کے باوجود فطرت کو بطور معیار ماننے سے انکار کرنے والے بھی یہ تسلیم کرنے پر مجبور ہیں کہ عقیدے کے باب میں انسانی کی اصلی فطرت توحید پر ایمان لانا ہے، اور یہی حق و باطل کا معیار قرار پاتی ہے۔
ہم سمجھتے ہیں کہ انہیں یہ اس لیے تسلیم کرنا پڑا ہے کہ اس بارے میں قرآن و حدیث میں چند بیانات آ گیے ہیں۔ قرآن میں عہد الست کا ذکر اور رسول اللہ ﷺ کی طرف سے یہ روایت، جس میں خبر دی گئی ہے کہ ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے پھر اس کے والدین یعنی اس کا ماحول اس کو یہودی، نصرانی اور مجوسی وغیرہ بنا دیتا ہے۔
غور کیجیے کہ عقیدے کے باب میں قرآن و حدیث میں آنے والے بیانات، فطرت کا محض ذکر کر رہے ہیں،فطرت کی تعیین تو وہ بھی نہیں کرتے۔ پھر کس بنیاد پر عقیدہ و ایمان میں قبل از وحی فطرت کو اس کی تعیین کی مشکلات کے باوجود معیار تسلیم کر لیا گیا ہے؟ اگر کر لیا گیا تو اخلاق اور قانون میں اسے معیار تسلیم کرنے سے کیا چیز مانع ہے؟
وحی کی رہنمائی سے ہٹ کر بھی بشریات و دینیات کے محققین، مثلا کیرن آرمسڑانگ اور دیگر بہت سے، اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ہر دور اور ہر جگہ کے انسان کا پہلا عقیدہ توحید ہی تھا، شرک اور الحاد بعد کے انحرافات ہیں۔ یہ قبل از وحی فطرت کی شھادتیں ہیں۔ہمارا مشاہدہ بھی اس کی تصدیق کرتا ہے۔ بچے فطرت کے زیادہ قریب ہوتے ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ جیسے ہی وہ ذرا شعور سنبھالتے ہیں تو خالق کے بارے میں سوال کرنے لگتے ہیں۔ یعنی اقرار خداوندی ان کے شعور میں پہلے سے موجود ہوتا ہے۔ وہ یہ نہیں پوچھتے کہ یہ سب کیسے بن گیا، وہ یہ پوچھتے ہیں کہ یہ سب کس نے بنایا۔ نیز، وہ چاند سورج سے لے کر اپنی تخلیق تک ہر مخلوق کے لیے صرف ایک خالق کو تصور کر کے سوال پوچھ رہے ہوتے ہیں۔ یعنی وہ یہ پوچھتے ہیں کہ کس نے یہ سب بنایا، نہ یہ کہ کس کس نے یہ سب بنایا۔ بچوں کے سوالوں میں ان کے الفاظ کے چناؤ پر غور کیجیے۔
مسئلہ در حقیقت یہ نہیں کہ فطرت معیار ہے یا نہیں، فطرت کو معیار مانے بنا آپ دو قدم نہیں چل سکتے، بحث اصل میں یہ ہونی چاہیے کہ فطرت کی تعیین کے پیمانے کیا ہونے چاہیئں۔ لیکن اس پر بحث کرنے کی بجائے حل یہ پیش کر دیا گیا ہے کہ جہاں وحی خاموش ہے یا اجمالی حکم دے دیا گیا ہے جیسے طیبات اور خبائث اور فحاشی کی تعیین وغیرہ میں تو وہاں قبل از وحی نہیں، بلکہ بعد از وحی ماحول میں وحی کی رہنمائی میں تربیت پانے والے علم و فہم کو یہ منصب عطا کیا جائے کہ وہ وحی کو بنیاد بنا کران اجمالی منصوص اور غیر منصوص مسائل میں خیر و شر اور عدل و ظلم کے معیارات طے کرے اور ان کی بنا پر قانون سازی بھی کرے۔
اس میں کوئی حرج نہیں ہے ایسا کر لیا جائے، لیکن مسئلہ پھر بھی حل نہیں ہوتا۔ وحی کی روشنی میں تربیت پانے والے اذہان بھی خیر و شر، عدل و انصاف اور طیبات و خبائث کی تعیین میں ہر بار کسی ایک درست نتیجے پر نہیں پہنچ پاتے؛ بلکہ ایسا بھی ہوا ہے کہ ان فقہی اذہان کی اکثریت جس مسئلے پر متفق ہوئی وہ خلافِ فطرت ثابت ہوا اور پھرفطرت کے دباؤ پر انہیں اپنا موقف تبدیل کرنا پڑا۔ وحی کو پوائنٹ آف ریفرنس بنا لینے سے بھی انسانی عقل و فہم کی آمیزش، معاملہ کو پھر اسی جگہ پہنچا دیتی ہے جہاں سے مسئلہ شروع ہوا تھا۔
مثال کے طور پر فقہ حنفی نے مفقود الخبر (گم شدہ) شخص کی جائیداد کی تقسیم اور اس کی بیوی کے لیے تنسیخ نکاح سے پہلے انتظار کی مدت مفقود الخبر کی ولادت سے 70 سے 120 سال تک مقرر کی تھی، یعنی جب تک کسی شخص کے زندہ رہنے کا مکان ہو۔
اس فتوے کے خلافِ فطرت ہونے میں کس کو شبہ ہو سکتا ہے؟ لیکن شارع کو پوائنٹ آف ریفرینس بنا کر فقہا کا یہ فتوی برسوں کار فرما رہا تا آں کہ جنگ عظیم میں جب ہندوستانی مسلمان سپاہی برطانیہ کے پرچم تلے مختلف بین الاقوامی محاذوں پر جنگ کے دوران بڑی تعداد میں لاپتہ ہونے لگے، اور ان کی خواتین کو معلوم ہوا کہ دوسری شادی کے لیے انہیں شوہر کی طبعی عمر یعنی کم از کم 70 برس تک انتظار کرنا ہوگا، نیز فقہ حنفی میں تنسیخ نکاح میں موجود دیگر سختیوں کی وجہ سے، مسلم خواتین نے اسلام سے ارتداد اختیار کرنا شروع کر دیا تاکہ وہ نکاحِ ثانی کر سکیں۔ اس پر اس وقت کے بیدار مغز علما کو احساس ہوا کہ تنسیخِ نکاح کے بارے میں یہ فتاوی اگرچہ فقہ کی فنی اور منطقی بنیادوں پر شارع کو پوائنٹ آف ریفرنس بنا کر ثابت تو کیے جا سکتے ہیں، لیکن یہ ہیں خلافِ فطرت، چنانچہ انہوں نے اسی فطرت کی پیروی میں ان میں ترامیم کر کے لاپتہ شوہر کی بیوی کے لیے شوہر کے انتظار کی مدت کم کر کے چار سال مقرر کر دی۔
اب یہاں دیکھیے کہ اس مسئلے کے درست یا غلط ہونے کے لیے معیار کوئی فقہی بنیاد نہیں بنی، فنی و منطقی لحاظ سے مسئلہ درست تھا۔ اس کے نا درست ہونے کے لیے معیار پھر وہی فطرت بنی ہے۔ غور کرنے کی بات ہے کہ کوئی دلیل، کوئی مقدمہ قائم کرنے سے پہلے انسانی فطرت نے یہ فتوی دے دیا کہ یہ درست نہیں ہو سکتا، اس کو درست کرنے کے لیے دلیل بعد میں تلاش کی گئی۔ اور یہ فطرت وہی عام فطرت ہے جو قبل از وحی بھی یہ رہنمائی دینے سے قاصر نہیں ہے۔فقہ میں ایسے غیر فطری فتاوی کی طویل فہرست گنوائی جا سکتی ہے۔
حقیقت یہی ہے کہ فطرت کو بطور معیار تسلیم کرنے سے انکار کرنے کے بعد بھی عین اسی لمحے اس کا اقرار بھی ہر لمحہ کیا جا رہا ہوتا ہے۔ اس لیے اصولی بات یہی ہے کہ نہ صرف عقیدے بلکہ اخلاق اور قانون کی بنیاد بھی فطرت ہے۔
یہ دعوی کہیں نہیں کیا گیا کہ فطرت مکمل رہنمائی کرتی ہے۔ ایسا ہوتا تو وحی کی ضرورت ہی نہیں رہتی۔ ہمیشہ یہ کہا گیا ہے کہ دین کے احکامات فطرت کے مطابق ہوتے ہیں اور اسی بنیاد پر ہم ان معاملات اور اطلاقات میں جہاں وحی خاموش ہوتی ہے، فطرت کے مطابق دین کے اصولوں اور مزاج کے مطابق اخلاق و قانون کے معاملات طے کرتے ہیں۔فطرت سے کی جانے والی تعیین میں بھی غلطی کا امکان اسی طرح موجود ہوتا ہے جیسے بعد از وحی، شارع کو پوائنٹ آف ریفرینس بنانے کے بعد فقہا کے درمیان کسی چیز کے خیر و شر یا مبنی بر عدل ہونے، یا حلال و حرام کی تعیین میں ہوتا ہے۔ اس معاملے میں درست طرز عمل، درست تر نتیجے تک پہنچنے کا کوشش کرنا ہوتا ہے نہ کہ سرے سے بنیاد ہی کا انکار کرنا۔
فطرت کی تعیین کی بحث ریاضیاتی اور منطقی اصولوں پر نہیں ہو سکتی۔ یہ معاشرتی علوم کی طرح ہے، جہاں درست سے درست تر کا سفر کیا جاتا ہے،جیسے عمرانیات اور دینیات کے ماہرین آج اس نتیجے پر پہنچ گئے ہیں کہ کہ انسان اصلا موحد تھا، مشرک بعد میں ہوا۔ درست تر کی کھوج، یہی خدا کی آزمایش ہے جس کے لیے اس نے انسان کو پیدا کیا ہے۔
چند اختلافی امور میں فطرت کی تعیین کا مسئلہ فہم کے امکانات کا دائرہ ہے۔ اس معاملے میں ایک سے زائد آرا ہو سکتی ہیں۔ ہمارے نزدیک جن علاقوں اور قوموں میں وحی کا سلسلہ تا دیر جاری رہا، یعنی وہ فطرت کے ساتھ وحی کی رہنمائی سے بھی مسلسل مستفید ہوتی رہیں، اور فطرت سے انحرافات پر وحی کی صورت میں ان پر مسلسل تنقید بھی ہوتی رہی، اور وہ وحی سے اثر سے قائم ہونے والی تہذہب میں پرورش پاتی رہیں، ان کی فطرت بہت حد تک معیاری ہوتی ہے۔ یہاں یہ نہ سمجھا جائے کہ یہ معیار بھی وحی کی روشنی میں یہ طے ہوا ہے اس لیے معیار تو وحی ہوئی، نہیں، بلکہ وحی نے اس فطرت کی حفاظت ایک حد تک کیے رکھی، اس لیے ان کی معیاری فطرت معیاری ثابت ہوئی۔ یہ درست ہے کہ وحی کی رہنمائی اور اس کی تنقید کے ماحول میں پرورش پانے والا انسان اور معاشرہ انسان کی اصلی فطرت کو زیادہ محفوظ رکھنے کا امکان رکھتا ہے لیکن یہ کہنا غلط ہوگا کہ اس کے بغیر انسان کی اصلی محفوظ فطرت نہیں پائی جاتی یا اس کی تعیین کرنا ناممکن ہے۔
اصول میں فطرت کو معیار تسلیم کر لینے کے بعد بعض اوقات اس کے اطلاقات میں ہونے والے اختلاف کے حل کے لیے ہم وہی طرز عمل اختیار کریں گے جو ہم عقیدے کے باب میں کرتے ہیں کہ باوجود بیشتر انسانوں کے غلط عقائد میں ملوث ہو جانے کے یہ تسلیم کرتے ہیں کہ قبل از وحی فطرت، اقرار خدا اور اقرار توحید پر مبنی ہے، اور وہی معیار ہے، غلط عقائد کے جمگھٹے میں ہم اس فطرت سلیم کو کھوجتے ہیں، تعیین کرتے ہیں، اور اس کے لیے عقلی اور فکری بنیادیں فراہم کرتے ہیں، اسی طرح، لیکن اس سے بہت کم تگ و دو ہمیں کرنا پڑتی ہے جب اخلاق اور قانون میں فطرت سلیم کی تعیین میں اختلاف ہو جاتا ہے۔ جس طرح فقہا کے درمیان اختلاف ہو جاتا ہے تو ہم دلائل کی بنیاد پر کوئی رائے اختیار کرتے ہیں، یہاں بھی ہم ایسا ہی کریں گے۔ اس میں ہم وحی، وحی کے اثر سے قائم ہونے والی تہذیب اور اجتماعی شعور سب سے مدد لیں گے۔ لیکن ایسے اختلافی مقامات، اتفاقی مقامات کی نسبت کہیں کم پیش آتے ہیں۔
یہ مقدمہ کہ جو تعریف کے دائرے میں نہ آئے یعنی undefinable ہو وہ ثابت شدہ بھی نہیں، ایک غلط استدلال ہے۔ undefinable ہونے کا مطلب unproven نہیں ہوتا۔فطرت کی تعریف نہیں، تعارف کرا جا سکتا ہے۔ فطری طریقہ یہی ہے۔ اگر یہ مقدمہ قبول نہیں تو ہم از روئے فلسفہ یہ ثابت کر سکتے ہیں کہ کوئی ایسی چیز نہیں جو definable ہو، اس لیے اس دنیا میں کچھ بھی ثابت شدہ نہیں ہے۔ اگر ہمارا مقدمہ آپ کو قبول ہے تو ہم عرض کریں گے کہ فطرت انسانیت کے اجتماعی اساسات کا نام ہے جو ہر انسان کو ودیعت کر دیے گئے ہیں۔ پھر ہم کہیں گے مثلا نیکی، بدی، خیر، شر، عدل، ظلم، جھوٹ، صداقت، جیسی اقدار فطری ہیں، فطرت کا اثاثہ ہیں۔ ہم آپ کو ان اقدار کی فہرست نہیں تھمائیں گے، ہر ہر قدر جو سامنے آئے گی اس کے بارے میں آپ کسی سے پوچھنے کی بجائے خود فیصلہ کریں گے کہ یہ تو فطری نوعیت کی چیز ہے۔ محبت، نفرت، رحم دلی، شقاوت، سب فطری چیزیں ہیں۔ یہ وہ تصورات اور احساسات ہیں جو آفاقی ہیں، ہر انسان میں پائے جاتے ہیں، اس سے کبھی جدا نہیں ہوتے، ہر لمحہ ان کا تجربہ اسے رہتا ہے۔
انسان جانتے بوجھتے یا کسی مغالطے کی وجہ سے اس فطرت سے منحرف بھی ہو جاتے ہیں، تو دوسرے انسان اس منحرف رویے کا انکار کر دیتے ہیں۔ ایک چور، چوری کرتے ہوئے بھی اس احساس سے عاری نہیں ہوتا کہ جو وہ کر رہا ہے وہ غلط ہے۔ وہ اپنی چوری کا لطف بھی لے سکتا ہے لیکن خود کو چوری پیش آ جائے تو اس کا فطری شعور اس کی مذمت کرنے میں کوئی رکاوٹ نہیں پاتا۔ غیر فطری عادت پختہ ہو کر فطرت ثانیہ بھی بن سکتی ہے، لیکن اجتماعی انسانی شعور اس کو کبھی قبول کرنے پر تیار نہیں ہوتا۔
انسان اسی فطرت کی بنا پر ایک دوسرے کو تنبیہ کرتے ہیں، ایک دوسرے سے اپنے مطالبات اور حقوق طلب کرتے ہیں، کبھی ان میں نزاع ہو جاتا ہے، تو یہ سوچ کر کہ یہاں دیگر رجحانات نے معاملہ بگاڑ دیا ہے، کوئی غیر جانب دار اتھارٹی ان کا فیصلہ کر دیتی ہے اور وہ فیصلہ بھی انہیں فطری اصولوں کی روشنی میں ہوتا ہے کہ عدل ہو، ظلم نہ ہو، خیر ہو، شر نہ ہو۔
دین اسی بنا پر انسان سے مخاطب ہوتا ہے۔ وہ باہر سے کوئی چیز لا کر انسان میں نہیں ڈالتا، وہ اسی فطرت کو مخاطب کر کے کہتا ہے کہ خالق حکیم کا اقرار کرو، اس کے انکار سے تمہاری فطرت اس کا انکار کرتی ہے، اپنی فطرت کی سنو، دوسروں پر ظلم نہ کرو، کیوں کہ تم جانتے ہو، ظلم کیا ہے اور یہ بھی جانتے ہوکہ یہ برا ہے، پورا قرآن انہیں اصولوں پر کلام کرتا ہے۔ فطرت کا انکار کر کے آپ وہ میڈیم، وہ اساس وہ بنیاد ہی ختم کر رہے ہیں جس کی وجہ سے بندوں کا بندوں سے اور خدا کا بندوں سے مکالمہ ممکن ہوتا ہے۔

اس تحریر كو شیئر كریں
Share on facebook
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on email
Dr Irfan Shehzad

Dr Irfan Shehzad

Dr Irfan Shehzad belongs to Rawalpindi, Pakistan. He holds a doctorate in Islamic Studies from National University of Modern Languages (NUML) Islamabad, Pakistan. He is working as a companion to Ghamidi Center of Islamic Learning Dallas, USA. He is an assistant research fellow with Al-Mawird Pakistan. He is the author of the book, “Qanoon-e-Itmam-e-Hujjat awr Us kay Itlaqaat: Janab Javed Ahmad Ghamidi ki Tawzihaat par Aetrazaat awr Ishkalaat ka Jaiza”, published by Almawrid Lahore Pakistan. Dr Irfan Shehzad writes and speaks on religious, social and sociopolitical issues. His articles are published in different scholarly journals including Ishraq, Lahore, Pakistan, Al-Shariah Gujranwala Pakistan and on social media.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *