انسانی زندگی کی اقدار کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ ایک وہ جو ناقابلِ تغیر یا مستقل نوعیت کی ہیں اور دوسری جو تغیر پذیر ہیں۔مستقل اقدار کے لیے اسلام نظام دیتا ہے لیکن متغیر اقدار کے لیے اصول دیتا ہے، نظام نہیں دیتا۔ بہت سے فکری مسائل اس بنیادی فرق کو ملحوظ نہ رکھنے سے پیدا ہوتے ہیں کہ اسلام انسانی زندگی کی ان دو مختلف اقدار کو دو مختلف انداز میں دیکھتا اور حل کرتا ہے۔
اسلامی احکامات اورتعلیمات اپنے اطلاقات میں اقدار کے اس فرق کو ملحوظ رکھتی ہیں۔مثلاً عقائد مستقل قدر ہے۔ چنانچہ اس کی تعلیم بھی مکمل طور پر مستقل نوعیت کی ہے اس میں کوئی تغیر واقع نہیں ہوتا۔ دوسرے درجے میں عبادات کا نظام ہے جو بنیادی طور پرمستقل نوعیت کا حامل ہے لیکن تغیر پذیر انسانی زندگی سے عملاً متعلق ہونے کی وجہ سےتغیر بھی قبول کرتا ہے۔ سماجی سطح پرنکاح و طلاق کے احکام، مرد و عورت کے اختلاط کے حدود، خورونوش، وراثت اور حدود کی سزائیں مستقل نوعیت رکھتی ہیں، اور ایک نظام کی صورت میں ہمیں ملتی ہیں، تاہم ان کے اطلاق میں بھی تغیرات کا لحاظ رکھا گیا ہے، کیونکہ اطلاق تغیر پذیرحالات اور سماج پر ہو رہا ہوتا ہے۔
اس کے ہٹ کر، تمدنی مظاہر مثلاً سیاست، معیشت، ثقافت وغیرہ ، مکمل طور پر تغیر پذیر اقدار ہیں،ان کےلیے ان سے متعلق احکامات بنیادی طور پر صرف اصولی نوعیت کے ہیں ، نظام کی شکل میں نہیں ہیں۔ تمدنی معاملات میں اسلامی نظام پر اصرار سراسر تکلف ہے۔
تمدن انسان کا ذہنی اور مادی ارتقاء ہے۔ اس ارتقاء میں تمام انسانیت برابر کی شریک ہے۔ اس کی ارتقاء میں اچھے اور برے ، پسندیدہ اور ناپسندیدہ اور باہم اختلافی اقدار سب نمو پاتی اور وقت کے ساتھ اپنی افادیت کی وجہ سےترقی کرتی یا اپنی کم مائیگی کے وجہ سے مٹ کر دوسری اقدار کے لیے جگہ خالی کر جاتی ہیں۔ اس تغیر پذیر تمدن کے لیے اسلام اپنے پیروؤں کو چند اصولی احکامات دے کر باقی سب ان کے عقل اور تجرباتی فہم پر چھوڑ دیتا ہے۔ مثلاً معیشت میں، لین دین میں ایمان داری اور دوسرو ں کے حقوق کا لحاظ کرنے کی آفاقی تعلیم دے کر سود ، جوا،غرر وغیرہ کو حرام قرار دے کر انسان کو بنیادی اصولی رہنمائی دے دی گئی کہ اپنے تمدن سے ارتقاء پانے والے معاشی نظاموں میں ان اصولوں کو مدّ نظر رکھ کر جو بھی معاشی قوانین اور نظام بنانے ہیں بنا لیے جائیں۔
یہی معاملہ سیاست کا ہے۔ تمدنی تغیر کی حقیقت کے پیشِ نظر یہ ضروری تھا اورنہ ہی قابلِ عمل کہ ایک بنا بنایا نظامِ سیاست مسلمانوں کو تھما دیا جاتا کہ تاقیامت اس پر عمل کیا جائے۔ اسی لیے عدل و انصاف کی آفاقی اقدار کی تاکید کے بعد، شورائیت کا اصول دے کر انہیں ہدایت کر دی گئی کہ تنازع کی صورت میں اللہ اور اس کے رسول کی طرف رجوع کریں اور اجتماعیت سے متعلق اسلامی احکامات اختیار کر یں۔
جہاں تک خلافت یا حکومت کے لیے قریشی ہونے کی شرط کا تعلق ہے تو عرض ہے وہ یہ معاملہ قریش کے ساتھ ایک خاص خدائی معاملہ تھا۔ اولادِ ابراہیم کو اللہ نے اپنے دین کی ترویج کے لیے خاص طور پر چنا تھا۔ اور ان سے یہ عہد لیا گیا تھا کہ وہ اگر دین کی خدمت کریں گے تو دیگر اقوام پر غالب بھی رہیں گے، اور اگر نہیں کریں گے تو ذلیل کر دئیے جائیں گے۔ پہلے یہ معاملہ ابراہمی ملت کی ایک شاخ بنی اسرائیل سے ہوا۔ انہوں نے جب اپنی نااہلی آخری درجے میں ثابت کر دی تو یہ منصب بنی اسماعیل کو منتقل ہوگیا۔ پھر جب انہوں نے بھی اپنی نااہلی دکھائی تو یہ منصبِ حکومت ان سے بھی چھن گیا۔ تاہم ان کے نظامِ حکومت اور دیگر مسلمانوں کے لیے بھی سیاست کا اصل الاصول شورائیت ہی تھا اور ہے۔
اللہ کی ارشاد ہے:
اور ان کا ہر کام (جس میں بالتعیین نص نہ ہو) آپس کے مشورے سے ہوتا ہے ۔( سورہ الشوریٰ آیت 38)
چونکہ اس آیت کا حکم مطلق ہے اس لیے اس میں ہر اجتماعی معاملے میں مسلم معاشرے کے افراد کا مشورہ سے اپنے امور طے کرنا شامل ہے۔ تاہم اہلیت ہونے کے باوجود قاذف اور فاسق جو کبیرہ گناہوں میں ماخوذ ہوں، سے مشورہ نہیں لیا جائے گا ۔ ارشاد ہوتا ہے:
اور ان کی کوئی گواہی قبول مت کرو (یہ تو دنیا میں ان کی سزا ہوئی) اور یہ لوگ (آخرت میں بھی مستحق سزا ہیں اس وجہ سے ہے کہ) فاسق ہیں۔(سورہ النور آیت 4)
آیتِ شورٰی کے الفاظ پر غور کیجیئے تو فرمایا گیا ہے کہ ان کے امور مشورہ سے طے پاتے ہیں ۔ یہ نہیں کہا گیا کہ ان کےامور میں ان سے مشورہ کر لیا جائے۔ اگر یہ کہا جاتا ہے کہ ان سے مشورہ کر لیا جائے تو حتمی اختیار مشورہ لینے والے باختیار فرد یا اافرادکا قرار پاتا ہے، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کو فرمایا گیا تھا:
اور ان سے خاص خاص باتوں میں مشورہ لیتے رہا کیجئیے۔پھر جب آپ رائے پختہ کرلیں۔تو خدا تعالیٰ پر اعتماد کیجئیے بےشک الله تعالیٰ ایسے اعتماد کرنے والوں سے محبت فرماتے ہیں۔(سورہ آل عمران آیت 159)
اس میں حتمی فیصلہ کا اختیار رسول اللہ ﷺ کے پاس تھا، جو اکثریت کی رائے سے مختلف ہو سکتا تھا اور مسلمانوں کے لیے واجب الاطاعت بھی تھا۔ لیکن آیتِ شورٰی میں حکم مختلف ہے۔ یہاں یہ ہے کہ ان کے امور طے ہی مشورہ سے ہوتے ہیں، نہ کہ کسی حتمی مختار کے ذریعے۔ چونکہ رسول اللہ ﷺ کے بعد کسی کے لیے بھی معصومیت یا منجانب اللہ براہِ راست ہدایت کا دعوٰی درست نہیں ،اس لیے حتمی آمر بھی کوئی نہیں۔ عام لوگوں کے لیے اس سے بہتر کوئی ہدایت ہو نہیں سکتی کہ وہ آپس کے معاملات مشورہ سے طے کریں۔ اور اس لحاظ سے ان میں کوئی چھوٹا بڑا نہ ہو۔ مشورہ میں برابری کا اصول خود بخود موجود ہے۔مشورہ اہل ِ رائے سے لیا جائے گا یہ عقلی اصول پہلے سے طے شدہ ہے۔ یوں دیکھئے تو مشورہ کرنے میں حکمران کے نصب و عزل سے لے کر مسلمانوں کی اجتماعی زندگی کا ہر پہلو شامل ہے۔
اب یہ انسانی عقل اور تمدنی حالات کا معاملہ ہے کہ لوگ مشورہ کرنے کے لیے کون سا طریقہ اپنے حالات کے مطابق اپناتے ہیں۔ اگر آبادی کم ہو جیسا کہ رسول اللہﷺ کے زمانے میں مدینہ کے قبائلی دور میں تھی تو ‘الصلوۃ الجامعہ’ کا اعلان کر کے سب کو بلا یا جا سکتا ہے، اور اگر آبادی بہت زیادہ ہو جائے تو عوام کی طرف سے ان کے منتخب نمائندوں کے ذریعے بھی مشورہ کیا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے جدید ذرائع اختیار کیے جانا ایک بدیہی بات ہے۔
یہاں یہ طے کرلیا جانا ضروری معلوم ہوتا ہےکہ اہلِ رائے سے کیا مراد ہے۔ میرے نزدیک، حکمران کے انتخاب میں پوری قوم اہلِ رائے ہے۔ لیکن حکومتی معاملات جو انتظامیہ کے اہلکار چلاتے ہیں اورقانون سازی جو پارلیمنٹ کرتی ہے اس کے لیےمنتخب ارکان اہلِ رائے ہیں نہ کہ عوام۔ دیکھئے کہ خلفاء راشدین کی مجلسِ شورٰی میں تو اہلِ علم و رائے ہی معاملات طے کرتے تھے لیکن خلفاء کے انتخاب میں ساری کمیونٹی سے مشورہ کیا گیا۔ تاہم، فقہا کے ہاں یہ تصور بھی پایا جاتا ہے کہ وہ معاملات جن کا تعلق براہ راست عوام کے مفاد سے وابستہ ہو، ان میں عوام سے مشورہ لیے بغیر اشراف اور سردار فیصلہ نہ کریں۔ رہاانتخابِ حکمران میں عوام کا اہلِ رائے ہونا تو یہ بھی ایک بدیہی امر ہے۔ یہ معاملہ عقلِ عام کا ہے۔ یہ کوئی پیچدہ فنی یا قانونی معاملہ نہیں کہ عوام اس کا فیصلہ نہ کرسکیں۔ عوام کو پتا ہوتا ہے کہ کون اچھا ہے، کون برا اور کون زیادہ اچھا اور کون زیادہ برا۔ زندگی کے عام معاملات میں وہ مسلسل اپنی اس صلاحیت کا ستعمال کرتے ہیں۔ اس لیے انتخابِ حکمران میں عوام کی رائے اس کی مستحق ہے کہ تسلیم کی جائے۔ رہی یہ بات کہ انتخابات میں عوام کو مختلف ذرائع سےبے وقوف بنا لیا جاتا ہے۔ اور پراپیگنڈے کےزور پر ان سے اپنی مرضی کا انتخاب کروا لیا جا تا ہے، اس لیے مخصوص اہلیت کے افراد کواہل حل و عقد قرار دے کے ان سے فیصلہ کروایا جائے تو عرض ہے کہ مفاد پرستی کا اندیشہ تو اہلِ حل و عقد سے بھی لاحق ہے۔ کیا ہم نہیں دیکھتے کہ خودپارلیمنٹ میں کس طرح ہارس ٹریڈنگ ہوتی ہے اور مرضی کے فیصلے پر پہنچنے کے لیے کیا کیا حربے استعمال کیے جاتے ہیں۔ انسانوں کے برسوں کا تجربہ ہے کہ جب تک اقتدار کے چناؤ کے فیصلے مخصوص اہلِ حل وعقد ، جنہیں ہم اشرافیہ کے نام سے جانتے ہیں،کے پاس رہا ، انھوں نے عوام سے زیادہ اپنے مفادات کا لحاظ رکھا، عوام تو حماقت سے اپنے مفادات کے خلاف فیصلہ دیتے ہیں لیکن یہ تو پورے شعور سے بدیانتی کے مرتکب ہوتے ہیں۔ اس لیے انتخابِ حکمران کا فیصلہ عوام کو ہی کرنا چاہیے تا کہ وہ ان کے نصب و عزل کے حق کے ذریعے اپنے حقوق کا تحفظ کر سکیں۔
یہاں یہ عرض کر دوں کہ میرے نزدیک عوام میں پائی جانے والی سیاسی شعور کی کمی کی وجہ جہالت نہیں ہے۔ پاکستان کی حد تک راقم کا یہ مشاہدہ ہےکہ پڑھے لکھے اور کم پڑھے لکھے دونوں طبقات میں ہر سیاسی پارٹی کے حامی اورکٹر حامی موجود ہیں ۔ایسا نہیں کہ پڑھے لکھے لوگ کسی ایسے شعور کا مظاہرہ کرتے ہوں کہ وہ سب کسی ایک پارٹی میں شامل نہ ہوں یا سب کسی ایک پارٹی میں شامل ہوں یا سب کسی بھی پارٹی میں شامل نہ ہوں۔ان کے ہاں بھی سیاسی رائے دہی اور سیاسی پارٹیوں کی حمایت اور مخالفت کے بارے میں ویسا ہی ملاجلا رجحان ملتا ہے جیسا کہ کم پڑھے لکھے یا ان پڑھ افراد میں۔ میرے نزدیک اس سیاسی شعور کی کمی اصل کی وجہ ہمارے عوام کی طاقت و حشمت سے متاثر ہوجانے کی کمزوری ہے جو برّصغیر کے عوام میں بالعموم پائی جاتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ یہاں کے عوام نے ہربیرونی فاتح کو اس سے شکست کھا جانے کے بعد بلا امتیازِ رنگ و نسل اسے اپنا لیا، بلکہ اس کے مذہب ، زبان اور ثقافت کو بھی اپنا لیا۔ اس کی فوج میں شامل ہو کر اپنے مقامی لوگوں کے خلاف لڑتے بھی رہے۔ایک بیرونی فاتح کو کوئی دوسرا بیرونی فاتح ہی آکر تبدیل کرتا تھا۔ اس سے استثناء صرف انگریزوں کا رہا کہ یہاں کے لوگوں نے ان کو برّصغیر سے جانے پر مجبور کردیا، مگر حقیقت یہ ہے کہ انہوں نےانگریز سرکار کی نوکری بھی خوب کی۔ سر سید سے لے کر مسلم لیگ کے قیام کے ابتدائی مقاصد تک میں ‘انگریز سے وفاداری’ کی تعلیم اور تلقین ملتی ہے۔ غرض، طاقت سے مرعوبیت کی اس کمزوری کو آسانی سے ختم نہیں کیا جاسکتا ۔ اس کے لیے عوام کو اپنے منتخب کردہ طاقتور افراد کے ہاتھوں ملنے والے نتائج کی بھٹی سے برسوں گزرنے کی ضرورت ہے۔ تب ہی ان میں وہ شعور پیدا ہوگا جس سےوہ جمہوریت کو اپنے عوامی مفادات کے لیے استعمال کرنے کے قابل ہوں گے اور اس شعور کے حصول کے لیے بھی ضروری ہے کہ جمہویت کے ذریعے تجربات کا تسلسل قائم رہے۔
واپس شورائیت کی طرف آتے ہیں۔جب مشورہ ہو گا تو دو صورتیں سامنے آتی ہیں: یا تو سب لوگ ایک رائے پر اتفاق کر لیں گے؛ یا ان میں باہم اختلاف ہو جائے گا۔ اختلاف کی صورت میں اس کے سوا چارہ نہیں ہوتا کہ اکثریت کی رائے پر فیصلہ دے دیا جائے۔ کیونکہ جس طرح یہ گمان موجود ہے کہ اکثریت خطا کر سکتی ہے اسی طرح بلکہ اس سے زیادہ یہ خدشہ اقلیت کے بارے میں بھی موجود ہوتا ہے۔ اس لیے بہتر ہے کہ زیادہ کی مخالفت کی بجائے اکثریت کی رائے پر فیصلہ دے دیا جائے۔ رہی یہ بات کہ اکثریت ، اقلیت پر اپنی دھونس اور آمریت نہ جما لے تو اس کے لیے انسانی ضمیر اور قانون اور انصاف کے تقاضوں کو ہی اپیل کیا جاسکتا ہے۔ حکومتی پالیسوں پر تنقید کا حق شورائیت کے جزوِ لاینفک ہے۔ خلفاء نے اس حق کے تحفظ و ترویج کی عمدہ مثالیں قائم کی ہیں۔
یہ اسلام کے اصول کی روشنی میں نظامِ سیاست کا بنیادی خاکہ ہے، جو یقینا ہمارے ہاں مروجہ جمہوریت (DEMOCRACY)سے بہت پہلوؤں سےمماثلت رکھتا ہے، انسانی سیاسی تمدن کا ارتقاء اسلام کے مطمحِ نظر کے قریب آتا جا رہا ہے۔ تاہم، چونکہ مسلمان جمہوریت سے اس وقت متعارف ہوئے جب وہ زوال کا شکار ہوئے اس لیے وہ اس خود اعتمادی ، ذہانت اور تنقید سے اس کو وصول نہ کر سکے جو جمہوریت کو اسلامی اصولِ سیاست سے مکمل طور پرہم آہنگ کرنے کے لیے ضروری تھی۔ نیز صدیوں موروثی بادشاہت بنامِ خلافت کے تحت رہتے ہوئے وہ سیاسی تنقیدی صلاحیت کو پروان بھی نہ چڑھا سکے تھے۔ اس لئے وہ اگر سیاسی نظام پر تنقید کرنا بھی چاہتے تو نہ کر پاتے۔ چنانچہ ان میں تین طرح کے رجحان سامنے آئے ایک وہ جنہوں نے جمہوریت کو من وعن قبول کر لیا ۔یہ ذہنی طور پر شکست خوردہ تھے ۔ اور دوسرے وہ جنہوں نے اسے بالکلیہ کافرانہ نظام کہہ کر رد کر دیا ۔ یہ بھی شکست خوردہ نفسیات کا ردعمل تھا۔ تیسرے وہ جنہوں نے اسے کسی حد تک اسلامی اصولِ سیاست سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش کی، جیسا کہ پاکستان، جہاں مقتدرِ اعلیٰ عوام کی بجائے اللہ کو تسلیم کیا گیا جس کی اطاعت میں اقتدار عوام کے نمائندوں کے ہاتھ میں امانت ہے۔
لیکن راقم یہ سمجھتا ہے کہ درحقیقت جمہوریت میں طاقت کا سرچشمہ عوام ہی ہوتےہیں۔ چاہے یہ جمہوریت’ اسلامی’ ہی کیوں نہ ہو اور چاہے اقتدارِ اعلی عوام کی بجائے اللہ کو قرار دیا گیا ہو۔ پاکستان میں اگرمقتدرِ اعلیٰ اللہ کو مانا گیا ہے اور یہ تسلیم کیا گیا ہے کہ کوئی قانون قرآن و سنت کے خلاف نہیں بنے گا تو اسی لیے کہ عوام کی اکثریت اس کی حمایتی تھی۔اگر کل خدا نخواستہ عوام کی اکثریت اسلام کے خلاف یا اس کے کسی حکم کے خلاف کھڑی ہوجائے تو حقیقت یہ ہے کہ بات تو اسی کی چلے گی۔ بھلا ایسی عوام پر اسلام کے نفاذ کے لیے زبردستی کی بھی کیسے جا سکتی ہے جو اس کو ماننے کو تیا ر نہ ہو۔ سید احمد شہید نے بھی یہ کوشش کی تھی ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ شریعت سے متوحش پختون قبائل کے عمائدین نےسید صاحب کے تمام عمال کو ایک ہی رات میں تہ تیغ کردیا۔ سید صاحب اور ان کے رفقاء کو ان لوگوں کی مخبری کی وجہ سے سکھ فوج کے ہاتھوں جامِ شہادت نوش کرنا پڑا۔ غرض جو لوگ جمہوریت سے اسلامی اجتماعی احکامات کا نفاذ چاہتے ہیں انہیں چاہیے عوام کو ان کے اس فریضہ کا احساس دلائیں کے اسلام کے اجتماعی احکامات کا اختیار کر نا ان کا دینی فریضہ ہے اور اپنے حکمرانوں ، چاہے وہ مسلم ہوں یا غیر مسلم ، سے پر امن طریقے سے مطالبہ کریں کہ ان کو ان کے دینی اجتماعی احکامات پر عمل کرنے کے لیے مطلوبہ سہولیات فراہم کریں۔
جدید قومی ریاستوں میں، جہاں مسلم اور غیر مسلم ایک مخلوط معاشرے میں رہتے ہیں، حکمرانوں کے انتخاب میں دینی تفریق کا اصول نامناسب ہے۔ اسی طرح جداگانہ انتخابات کا طریقہ بھی غیر ضروری ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلمانوں پر صرف یہ فرض ہے کہ وہ جب بھی اقتدار میں آئیں، خواہ مطلق حیثیت سے یا مخلوط حکومت میں، تو مسلم معاشرے کے مسلم افراد پر اسلام کے اجتماعی احکامات کا نفاذ کردیں۔ رہے غیر مسلم، چاہے اقلیت میں ہو ں یا اکثریت میں ، وہ ملکی قوانین میں تو برابر کی حیثیت کے حامل ہوں گے لیکن ان پر ان کے مذھبی قوانین کا اطلاق ان کے کثرتِ رائے سے کیا جائے گا۔
بعض اہل، علم کے نزدیک ،جمہوریت میں امیدوارِ حکومت کا اپنے لیے حقِ حکومت طلب کرنا اسلام کے سیاسی مزاج سے ہم اہنگ نہیں ۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد مبارک ہے:
(تم خود سے امارت مت طلب کرو، اگر تمھیں یہ طلب کرنےسے ملی تو تمہیں اس کے حوالے کر دیا جائے گا۔ اور اگر بغیر طلب کے مل گئی تو تمہاری مدد کی جائے گی۔تو جب تم امارت کا حلف اٹھانے لگو تو تم دیکھو کہ کوئی اور تم سے بہتر ہے تو حلف اٹھانے سے رک جاؤ، اور امارت اس کے حوالے کر دو جو تم سےبہتر ہے۔ (سنن الدارمی جزء 2، ص 1513، حدیث ،2391، ناشر دار المغني للنشر والتوزيع، المملكة العربية السعودية)
اس پر بعض دیگر اہلِ علم کا تبصرہ یہ ہے کہ رسول اللہ کا یہ فرمان مخصوص افراد کے حالات کے تناظر میں تھا اور آپ نے ان کو عہدہ کی طلب سے منع فرمایا ۔ اس کو کلیہ بنانے سے معاشرتی امور کا چلنا ممکن ہی نہیں۔ نوکریوں کے لیے درخواستین دینا بھی تو اسی زمرے میں آتا ہے۔ تاہم اس کا ایک جواب یہ ہو سکتا ہے کہ حکومت جیسے حساس معاملے میں رسول اللہ ﷺ نے شاید معیار زیادہ سخت رکھا ہوا تھا کہ عہدہ اسی کو دیا جائے جو اس کی طلب نہ رکھتا ہو، تاکہ اس سے عہدے کے لالچ میں ظلم و زیادتی کا اندیشہ کم ہو۔ اس اصول پر کسی صورت آج بھی عمل کرنا چاہیے۔اب یہ مسلم علماء اور سماجی اور عمرانی علوم کے ماہرین کی ذمہ داری ہے کہ وہ انتخابات کا مطلوبہ نظام سوچیں اور متعارف کروائیں، تاکہ جب مسلمان اہلِ حل و عقد قائدانہ کردار ادا کرسکنے کےقابل ہوں جائیں گے تو اس کو عملی جامہ پہنا سکیں۔یہ سچ ہے کہ خود حکمرانی کا حق طلب کرنے والے کے بارے میں یہ گمان زیادہ ہوتا ہے کہ وہ اقتدار کا غلط استعمال کرے گا ، لیکن مغربی ممالک کے عوام کی اپنے حکمرانوں کے بارے میں پائی جانے والی حساسیت سے اس کا علاج بڑی حد تک کر لیا گیا ہے۔ان کے سیاسی قائدین کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ سخت اور بے لاگ احتساب کے نتیجے میں ان کی معمولی لغزش ان کے سیاسی کیرئیر کا خاتمہ کر سکتی ہے، اور وہ سزا سے بچ نہیں سکتے تو وہ حتی الامکان بدیانتی سے اپنا دامن بچا کر چلتے ہیں۔ بدیانتی سے نہ صرف ان کا سیاسی کیرییر ختم ہو جاتا ہے بلکہ ان کا سماجی مقاطعہ بھی ہوجاتا ہے، ان کا اپنے خاندان تک سے تعلق ختم ہوجاتا ہے ۔ بدیانتی کے ایسے اکادکا واقعات کے نتیجے میں ان کے بعض افراد نے تو خود کشی تک کر لی تھی۔
راقم الحروف کے مطابق اس مسئلے کا ایک ممکنہ حل یہ ہوسکتا ہے کہ الیکشن کمیشن جیسے بااختیار ادارہ کی طرف سے حکمرانی کے مختلف درجات: صدر، وزیر، ناظم وغیرہ کے لیے افراد کی نامزدگی کا مشورہ بھی عوام سے لیا جائے۔یعنی امید وار خود کو نامزد نہ کرے بلکہ یہ نامزدگی بھی عوام کی طرف سے آئے۔ اس سلسلے میں الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کا سہارا لیا جاسکتا ہے۔ نامزدگی کے بعدامید واروں کو کڑے معیار کے مطابق پرکھا جائے اور اس کے بعدانتخابات کرو ا لیے جائیں۔ حکومت کے مناصب کی تنخواہ اوسط دجے کی ہوں تاکہ حرص کا عنصر ختم کیا جا سکے۔لیکن ان سب کے لیے سب سے ضروری چیز نیت اور ارادے کا اخلاص ہے، جس کے حصول شعوری تعلیم سے ہی ممکن ہے۔
حرفِ آخر یہ ہے کہ اگرچہ کوئی بھی طریقہ مکمل طور پر لالچ، تعصبات، اور نقائص سے محفوظ نہیں ہو سکتا ،تاہم، ایک طریقہ دوسرے سے نسبتاً بہتر ہوسکتا ہے۔

اس تحریر كو شیئر كریں
Share on facebook
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on email
Dr Irfan Shehzad

Dr Irfan Shehzad

Dr Irfan Shehzad belongs to Rawalpindi, Pakistan. He holds a doctorate in Islamic Studies from National University of Modern Languages (NUML) Islamabad, Pakistan. He is working as a companion to Ghamidi Center of Islamic Learning Dallas, USA. He is an assistant research fellow with Al-Mawird Pakistan. He is the author of the book, “Qanoon-e-Itmam-e-Hujjat awr Us kay Itlaqaat: Janab Javed Ahmad Ghamidi ki Tawzihaat par Aetrazaat awr Ishkalaat ka Jaiza”, published by Almawrid Lahore Pakistan. Dr Irfan Shehzad writes and speaks on religious, social and sociopolitical issues. His articles are published in different scholarly journals including Ishraq, Lahore, Pakistan, Al-Shariah Gujranwala Pakistan and on social media.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *