اقدامِ حسین کے محرکات کا ایک جائزہ

یہ تاثر عام پایا جاتا ہے کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے اموی خلیفہ یزید بن معاویہ کی مبینہ نااہلی اور اس کے دور میں دین کی مبینہ پامالی کے سبب سے اس کی تحت نشینی کی مخالفت کی اور دینی اقدار تحفظ اور خلافت کے ادارے کو ملوکیت یعنی بادشاہت میں تبدیل کرنے کی کوشش کے خلاف جدوجہد کرتے ہوئے اپنی خلافت قائم کرنے کی کوشش میں اپنی اور اپنے گھرانے کی جان قربان کر دی۔
ایک دوسرا نسبتاً جدید نقطہ نظر یہ ہے کہ حضرت حسین پر یزید کی بیعت کے لیے حکومت کی طرف سے شدید جبر کیا جا رہا تھا۔ یزید کی بیعت نہ کرنے کی صورت میں آپ کو قتل کر دینے کا حکم تھا۔ چناں چہ جان بچانے کے لیے آپ پہلے مکہ اور پھر وہاں سے عراق تشریف لے گئے جہاں آپ کے حامی آپ کو پناہ دے سکتے تھے۔ جنگ حد امکان میں تھی مقصود نہ تھی۔ اگر بیعت کے لیے جبر نہ کیا جاتا تو آپ پر امن رہتے ہوئے حکومت سے جنگ کرنے کا کوئی ارادہ نہ رکھتے تھے۔
اہل تشیع کا کلاسیکی نقطہ نظر البتہ یہ رہا ہے کہ آپ خدا کی طرف سے منصبِ امامت پر فائز تھے اور اس بنا پر منصبِ خلافت آپ کا حق تھا جسے لینے کے لیے آپ نے یزید کے خلاف اقدام کیا۔ یزید کا مبینہ فسق فجور ایک اضافی چیز ہے۔ یہ نظریہ تاہم، شیعہ حلقوں سے باہر پذیرائی نہیں رکھتا، چناں چہ اہل تشیع مکالمے کے میدان میں اقدامِ حسین کے دفاع میں زیادہ تر مندرجہ بالا اول الذکر دو صورتیں پیش کرتے ہیں۔
تاریخی حقائق ان دونوں صورتوں کی تائید نہیں کرتے۔ یہ تاریخی حقائق جو صورت حال پیش کرتے ہیں ان کے حوالہ جات پیش کرنے سے پہلے ان کا ایک خاکہ پیش کیا جاتا ہے:
حضرت حسین، شروع سے ہی بنو امیہ کی حکومت کے خلاف تھے اور انھیں حکومت سے ہٹانے کے لیے ان کے خلاف طاقت کے استعمال کے امکانات کو رد نہیں کرتے تھے۔ انھوں نے اپنے بھائی حضرت حسن کی خلافت سے دست برداری اور اسے حضرت معاویہ کے حوالے کرنے کی سخت مخالفت کی تھی۔
حضرت علی کے دور سے شروع ہونے والی طویل خانہ جنگی جس نے ہزاروں انسانوں کی جان لے لی تھی، وہ حضرت حسن کی حضرت معاویہ سے صلح کے نتیجے میں ختم ہوئی۔ ان کے اس اقدام کو سارے عالم اسلام میں سراہتے ہوئے عام الجماعۃ (مسلم اجتماعیت کا سال) کا نام دیا گیا۔ حضرت حسن کے اس اقدام کی تعریف اور تائید ایک پیشین گوئی کی صورت میں بسندِ صحیح رسول اللہ ﷺ سے بھی منقول ہے:
إِنَّ ابْنِي هَذَا سَيِّدٌ وَلَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يُصْلِحَ بِهِ بَيْنَ فِئَتَيْنِ عَظِيمَتَيْنِ مِنَ المُسْلِمِينَ»، صحيح البخاري (3/ 186)
میرا یہ بیٹا سید (عالی مقام) ہے۔ امید ہے کہ اللہ اس کے ذریعے سے مسلمانوں کے دوبڑے گروہوں میں صلح کرائے۔
تاہم، حضرت حسین اس صلح کے خلاف تھے اور حضرت حسین کو اس پر اپنے بڑے بھائی سے ڈانٹ بھی پڑی۔
بنو ہاشم اور بنو امیہ میں قرابت اور رشتہ داری کے تہ در تہ سلسلے موجود تھے۔ حضرت معاویہ کاحلم اور بردباری ضرب المثل تھی ۔معاہدہءِ صلح کے بعد انھوں نےحضرت حسن اور حضرت حسین کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کی ہر ممکن کوشش کی۔ دونوں حضرات حضرت معاویہ سے سالانہ بھاری وظائف اور تحائف وصول کیا کرتے تھے۔ یہ حضرات جب ملنے آتے تو حضرت معاویہ دونوں کا بہت اکرام کرتے۔ اپنے پورے دور خلافت میں وہ حضرت حسین کی متعدد مواقع پر تیز مزاجی اور اہل عراق کے ساتھ ان کے روابط کے باوجود تحمل سے کام لیتے رہے اور انھیں کسی انتہائی اقدام سے باز رہنے نصیحت بھی کرتے رہے۔
خلافت معاویہ کے دوران اہل عراق حضرت حسین کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہے۔ اہل عراق حضرت علی کے حمایتی اور گویا حزب اختلاف تھے۔ حضرت حسن کی خلافت سے دست برداری کے بعد یہ حکومت سے باہر ہو گئے تھے۔ اب یہ حکومت میں واپس آنے کے لیے موقع کے منتظر تھے۔ حضرت حسین کی صورت میں انھیں یہ موقع پیدا ہوتا نظر آ رہا تھا۔ یزید کی ولی عہدی اور خاندان بنو امیہ کی مستقل حکومت کے قوی اندیشے سے اس مخالفانہ سیاسی مہم جوئی میں تیزی آ گئی۔ حضرت حسین، حضرت حسن کے حضرت معاویہ کے ساتھ معاہدہ صلح کی وجہ سے خود کو مجبور سمجھتے تھے اور مناسب وقت پر اہل عراق کے ساتھ مل کر حکومت کے خلاف کارروائی کے امکانات کا جائزہ لے رہے تھے۔
حضرت معاویہ کی وفات کے آخری چار سالوں میں یزید کی ولی عہدی کی بیعت پر مدینہ کے چار اکابرین کے علاوہ عام اتفاق راے منعقدہو چکا تھا۔ یہ چار اشخاص، حضرت عبد الرحمن بن ابو بکر حضرت، عبداللہ بن عمر، حضرت حسین اور حضرت عبداللہ بن زبیر تھے۔ یزید کی تخت نشینی کے وقت تک حضرت عبد الرحمن بن ابو بکر وفات پا چکے تھے۔ اب تین ہی اشخاص یزید کی خلافت کے مخالف رہ گئے تھے۔یزید کی خلافت کے بارے میں عام مخالفت نہیں پائی جاتی تھی۔
یزید کے فسق و فجور سے متعلق حضرت حسین سمیت کوئی بیان ان چاروں اکابرین سے منقول نہیں۔ ان کا اعتراض تھا تو یہ کہ ولی عہد مقرر کرنے سے خلافت کی شورائی روایت ملوکیت میں تبدیل ہو جائے گی اور خاندان بنو امیہ کا حکومت پر مستقل قبضہ ہو جائے گا۔ حضرت حسین کی طرف سے حکومت کے خلاف کچھ تلخ بیانات منقول ہیں جن پر تبصرہ آخر میں آئے گا۔ حضرت علی کے بیٹے محمد بن حنفیہ کی یزید کے حق میں گواہی موجود ہے جس میں وہ اسے متشرع اور باکردار آدمی بتاتے ہیں۔
یزید کے تخت نشین ہوتے ہی اہل عراق نے اپنی سیاسی مہم تیز کر دی۔ انھوں نے حضرت حسین کو کوفہ آ کر یزید کے مقابل اپنی حکومت قائم کرنے کی باقاعدہ دعوت دی۔ ان کے مسلسل رابطوں اور پیغام رسانی کے بعد آپ نے مسلم بن عقیل کو عراق بھیج کر اپنی خلافت کی بیعت لینے اور زمین ہم وار کرنے کے لیے بھیجا۔ یہ سب آپ پوری منصوبہ بندی سے کر رہے تھے۔ تخت خلافت پر یزید کی بجائے کوئی اور اموی ہوتا تب بھی آپ نے یہی اقدام کرنا تھا۔
کوفیوں کے ساتھ آپ کی ملاقاتیں اور ان کی پیغام رسانی حکومت کے علم میں تھی۔ اس صورت حال میں حکومت کے لیے حضرت حسین سے بیعت لینا بہت ضروری ہو گیا تھا بصورت دیگر ایک بار پھر خانہ جنگی کا خطرہ تھا۔ حضرت حسین اگر عبد اللہ بن عمر کی طرح یزید کی بیعت سے انکار کے باوجود پر امن رہنے والے ہوتے تو حکومتِ وقت ان سے اتنا ہی مطالبہ کرتی جتنا حضرت عبد اللہ بن عمر سے کیا گیا۔ یزید کی طرف سے ان سے کچھ تعرض ہی نہیں گیا۔
حضرت حسین پر یزید کی بیعت کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا تھا مگر اس معاملے میں حکومتی جبر کے قصوں میں مبالغہ سے کام لیا گیا ہے کہ بیعت نہ کرنے کی صورت میں آپ کو قتل کرنے کا حکم یا ارادہ تھا۔ یہ درست ہے کہ آپ کو اپنی جان کا خطرہ محسوس ہو رہا تھا مگر حکومتی اقدامات سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ وہ ان کو قتل کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے تھے۔ صورت حال ایسی ہی گھمبیر ہوتی تو حضرت حسین مدینہ سے مکہ اور پھر مکہ سے کوفہ بمع اہل و عیال یوں علی الاعلان کبھی نکل نہ پاتے۔ مدینہ سے مکہ جاتے ہوئے بھی آپ کا تعاقب نہیں کیا گیا اور نہ مکہ سے کوفہ کے لیے نکلتے وقت ہی تعرض کیا گیا۔ مدینہ سے جانے کے بعد آپ نے مکہ میں چار ماہ گزارے جہاں کوفیوں سے آپ کا رابطہ مسلسل جاری رہا مگر حکومت نے تحمل سے کام لیا۔ مکے سے علی الاعلان سوئے کوفہ روانگی کے بعد بھی آپ کے چچا زاد بھائی اور بہنوئی عبداللہ بن جعفر کے کہنے پر والی مکہ عمرو بن سعید نے آپ کے لیے امان نامہ لکھ کر دیا کہ واپس آ جائیں تو کچھ نہیں کہا جائے گا۔ مگر آٌپ واپس نہ پلٹے۔ تاہم آپ کا راستہ روکنے کی کوئی کوشش حکومت کی طرف سے پھر بھی نہیں کی گئی۔
جہاں تک معاملہ دین اور اس کی اقدار کی مبینہ پامالی کا تھا تو یہ محض سیاسی بیان بازی سے تخلیق پانے والا افسانہ ہے۔ حضرت معاویہ کا قریبا بیس سالہ پر امن دور ابھی گزرا تھا۔ دین اور اس کے رسوم و شعار سب محفوظ چلے آ رہے تھے۔ یزید کو تخت خلافت پر بیٹھے ابھی چن ماہ ہوئے تھے (رجب 60 ھجری کو یزید تخت خلافت پر بیٹھا اور واقعہ کربلا محرم 61 ھجری کو پیش آیا۔ ان چار ماہ میں یزید دین کا کتنا حلیہ بگاڑ سکتا تھا)۔ اس مختصر سے عرصے میں اس نے دین کی کیا پامالی کر دینی تھی۔ سماج ابھی اتنا غیر اسلامی نہیں ہوا تھا کہ کسی کھلے فسق و فجور یا دین کے معاملے میں کسی جبر کو برداشت کرتا۔ حکومت پر کھلی تنقید کرنے والے لوگ موجود تھے۔ ایسے میں دینی اقدار کی پامالی اور جابرانہ اقدامات کے بیانات محض پراپیگنڈا ہے جو تاریخ میں سیاسی مخالفانہ رجحانات رکھنے والے راویوں سے منقول ہے۔ تاریخ میں ایسے کوئی شواہد منقول نہیں جو بتائیں کہ کس معاملے میں دینی اقدار پامال ہو رہی تھیں۔
تاریخی حقائق سے صاف معلوم ہوتا ہےکہ یہ سارا جھگڑا سیاسی نوعیت کا تھا کہ حکومت و اقتدار کس کے ہاتھ میں ہو۔ دین کے تحفظ کا اس سے کوئی تعلق نہ تھا۔
مدینہ کے تمام اہل راے اور اکابرین کے علاوہ حضرت حسین کے اپنے بھائیوں میں سے محمد بن حنفیہ اور عمر بن علی نے بھی حکومت کے خلاف ان کے عزائم کا ساتھ دینے سے انکار کر دیا تھا۔ مدینہ کے تمام اکابرین نے حضرت حسین کو حالات کا درست رخ سمجھانے اور اپنے اقدام سے باز رہنے کی تلقین کی۔ انھیں سمجھایا کہ کوفیوں نے ان کے والد کے ساتھ بے وفائی کی، ان کے بھائی کے ساتھ بد سلوکی کی وہ ناقابل اعتبار ہیں۔ ان کا کہا نہ مانییں اور امت کی اجتماعیت میں رخنہ نہ ڈالیں۔ یہ ہلاکت کا سفر ہے۔ ان ناصحین میں عبد اللہ بن عباس، عبداللہ بن عمر، ابو بکر بن عبد الرحمن، ابو سعید الخدری، جابر بن عبد اللہ، عبد اللہ بن جعفر طیار، واثلہ بن اللیثی، مسور بن مخرمہ، عمر بن عبد الرحمن اور آپ کے بھائی محمد بن حنفیہ شامل تھے۔ ان میں بیشتر حضرات حضرت علی سے خاص ہمدردی رکھنے والے اور ان کے حمایتی تھے۔
بعد ازاں فرزدق شاعر نے بھی آپ متنبہ کیا کہ کوفیوں کے دل حضرت حسین کے کے ساتھ ہیں لیکن تلواریں بنو امیہ کے ساتھ ہیں۔ (تاريخ الطبري = تاريخ الرسل والملوك، وصلة تاريخ الطبري (5/ 386) مگر آپ اس سب کے باوجود واپس نہ پلٹے۔ تاہم جب آپ کو مسلم بن عقیل کے قتل کی اطلاع ملی تو آپ نے واپس پلٹنا چاہا مگر مسلم بن عقیل کے بھائیوں نے بدلہ لینے پر اصرار کیا تو آپ ان کے ساتھ چل پڑے۔ پھر جب شامی لشکر نے آپ کو گھیر لیا، کوفیوں نے حسب عادت بے وفائی کی اور تمام راستے مفقود ہو گئے تو آپ نے تین شرائط پیش کیں کہ انھیں واپس جانے دیا جائے، یا کسی سرحد کی طرف نکل جانے دیا جائے کہ جہاد میں اپنا وقت لگا دیں یا یزید کے پاس جانے دیا جائے اور وہ اس کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دے دیں۔ ایک روایت کے مطابق آپ خود شام کی طرف چل پڑے تاکہ یزید کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دے دیں مگر ابن زیاد کی طرف مطالبہ کیا گیا کہ پہلے اس کے ہاتھ پر یزید کی خلافت کی بیعت کی جائے۔ اس اصرار کی وجہ سے لڑائی ہو گئی اور یہ سانحہ رونما ہو گیا۔
تاریخی حوالہ جات:
اب ہم تاریخ سے چند اقتباسات اپنے بیانات کی تائید میں پیش کرتے ہیں:
حضرت حسین کا حضرت حسن سے خلافت کی دست برادری پر اختلاف:
فَلَمَّا آلَتِ الْخِلَافَةُ إِلَى أَخِيهِ، وَأَرَادَ أَنْ يُصَالِحَ مُعَاوِيَةَ شَقَّ ذَلِكَ عَلَيْهِ، وَلَمْ يُسَدِّدْ رَأْيَ أَخِيهِ فِي ذَلِكَ، بَلْ حَثَّهُ عَلَى قِتَالِ أَهْلِ الشَّامِ، فَقَالَ لَهُ أَخُوهُ: وَاللَّهِ لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَسْجُنَكَ فِي بَيْتٍ، وَأُطْبِقَ عَلَيْكَ بَابَهُ حَتَّى أَفْرُغَ مِنْ هَذَا الشَّأْنِ، ثُمَّ أُخْرِجَكَ. فَلَمَّا رَأَى الْحُسَيْنُ ذَلِكَ سَكَتَ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا اسْتَقَرَّتِ الْخِلَافَةُ لِمُعَاوِيَةَ كَانَ الْحُسَيْنُ يَتَرَدَّدُ إِلَيْهِ مَعَ أَخِيهِ الْحَسَنِ، فَكَانَ مُعَاوِيَةُ يُكْرِمُهُمَا إِكْرَامًا زَائِدًا، وَيَقُولُ لَهُمَا: مَرْحَبًا وَأَهْلًا. وَيُعْطِيهِمَا عَطَاءً جَزِيلًا، وَقَدْ أَطْلَقَ لَهُمَا فِي يَوْمٍ وَاحِدٍ مِائَتَيْا أَلْفٍ، وَقَالَ: خُذَاهَا وَأَنَا ابْنُ هِنْدَ، وَاللَّهِ لَا يُعْطِيكُمَاهَا أَحَدٌ قَبْلِي وَلَا أَحَدٌ بَعْدِي. فَقَالَ الْحُسَيْنُ: وَاللَّهِ لَنْ تُعْطِيَ أَنْتَ وَلَا أَحَدٌ قَبْلَكَ وَلَا بَعْدَكَ رَجُلَيْنِ أَفْضَلَ مِنَّا. وَلِمَا تُوُفِّيَ الْحَسَنُ كَانَ الْحُسَيْنُ يَفِدُ إِلَى مُعَاوِيَةَ فِي كُلِّ عَامٍ فَيُعْطِيهِ وَيُكْرِمُهُ، وَقَدْ كَانَ فِي الْجَيْشِ الَّذِينَ غَزَوُا الْقُسْطَنْطِينِيَّةَ مَعَ ابْنِ مُعَاوِيَةَ يَزِيدَ، فِي سَنَةِ إِحْدَى وَخَمْسِين (البداية والنهاية ط هجر (11/ 476)
جب خلافت حضرت حسن کے ہاتھ آئی اور انھوں نے مصالحت کا فیصلہ کیا تو حضرت حسین کو یہ فیصلہ بہت شاق گزرا۔ وہ اپنے بھائی کی راے کو بالکل صحیح نہیں سمجھتے تھے اور مُصر تھے کہ اہل شام سے قتال جاری رہے۔ یہاں تک کہ حضرت حسن کو کہنا پڑا کہ میں سوچتا ہوں کہ تمھیں گھر میں بند کر دوں اور جب تک مصالحت کی کارروائی سے پوری طرح فارغ نہ جاؤں باہر نہ نکالوں۔ جب حضرت حسین نے یہ حالات دیکھے تو خاموش ہوگئے اور بات مان لی۔ پھر جب حضرت معاویہ کی خلافت قائم ہو گئی تو حضرت حسین اپنے بھائی کے ساتھ ان کے پاس آتے رہتے۔ حضرت معاویہ دونون بھائیوں کا بہت اکرام کرتے اور انھین خوش آمدید کہتے اور ان کو بہت عطیات سے نوازتے۔ کبھی ایک دن میں دو دو لاکھ درہم دیتے۔ ایک بار کہا کہ میں ہند کا بیٹا ہوں۔ اللہ کی قسم مجھ سے پہلے کسی نے تمھیں اتنا نوازا نہ ہوگا اور نہ میرے بعد نوازے گا۔ اس پر حضرت حسین نے کہا کہ اللہ کی قسم ہم سے پہلے ہم سے افضل لوگوں کو تم نے نہیں دیا ہوگا نہ ہمارے بعد دے پاؤ گے۔ جب حضرت حسن فوت ہوئے تو حضرت حسین ہر سال معاویہ کے پاس جاتے۔ حضرت معاویہ ان کو عطیات دیتے اور اکرام کرتے۔ حضرت حسین، یزید ابن معاویہ کے ہم راہ اس لشکر میں بھی تھے جو قسطنطنیہ پر 51 ہجرئ میں جنگ کرنے گیا تھا۔
حضرت حسین کا خلافت معاویہ کے وقت سے کوفیوں کے ساتھ روابط:
حضرت حسین کا خلافت معاویہ کے وقت سے کوفیوں کے ساتھ رابطہ تھا۔ اس دور مین کوفیوں کی طرف سے خروج کی دعوت کے جواب میں آپ نے یہ خط تحریر کیا:
اما أخي فأرجو ان يكون الله قد وفقه، وسدده فيما ياتى، واما انا فليس رأيي اليوم ذلك، فالصقوا رحمكم الله بالأرض، واكمنوا في البيوت، واحترسوا من الظنه ما دام معاويه حيا، فلن يحدث الله به حدثا وانا حي، كتبت إليكم برأيي والسلام. (الأخبار الطوال، ص: 222)
جہاں تک میرے بھائی کا تعلق ہے تو میں اللہ سے امید کرتا ہوں کہ جو کچھ انھوں نے کیا (معاہدہ صلح) اس میں اللہ نے انھیں توفیق دی اور اور درست رکھا، البتہ جہاں تک میرا تعلق ہے تو فی الحال میری راے اس خروج کی نہیں ہے۔ پس تم لوگ جب تک کہ معاویہ زندہ ہیں، زمین سے چپکے رہو، گھروں میں قرار پکڑو اور کسی طرح کے شک و شبہ کا ماحول پیدا نہ ہونے دو، تاہم اگر معاویہ کو کچھ ہوگیا اور میں اس وقت زندہ ہوا تو میں تمھیں اپنی راے سے آگاہ کروں گا۔
وقدم المسيب بن عتبة الْفَزَارِيُّ فِي عِدَّةٍ مَعَهُ إِلَى الْحُسَيْنِ بَعْدَ وَفَاةِ الْحَسَنِ، فَدَعَوْهُ إِلَى خَلْعِ مُعَاوِيَةَ وَقَالُوا: قَدْ عَلِمْنَا رَأْيَكَ وَرَأْيَ أَخِيكَ، فَقَالَ: إِنِّي لَأَرْجُوَ أَنْ يُعْطِيَ اللَّهُ أَخِي عَلَى نِيَّتِهِ فِي حُبِّهِ الْكَفَّ، وَأَنْ يُعْطِيَنِي عَلَى نِيَّتِي فِي حُبِّي جِهَادَ الظَّالِمِينَ. وَكَتَبَ مَرْوَانُ إِلَى مُعَاوِيَةَ: إِنِّي لَسْتُ آمَنُ أَنْ يَكُونَ حُسَيْنٌ مَرْصَدًا لِلْفِتْنَةِ، وَأَظُنُّ يَوْمَكُمْ مِنْ حُسَيْنٍ طَوِيلًا. فَكَتَبَ مُعَاوِيَةُ إِلَى الْحُسَيْنِ: إِنَّ مَنْ أَعْطَى اللَّهَ صَفْقَةَ يَمِينِهِ وَعَهْدِهِ لَجَدِيرٌ بِالْوَفَاءِ، وَقَدْ أُنْبِئْتُ أَنَّ قَوْمًا مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ قَدْ دَعَوْكَ إِلَى الشِّقَاقِ، وَأَهْلُ الْعِرَاقِ مَنْ قَدْ جَرَّبْتَ قَدْ أَفْسَدُوا عَلَى أَبِيكَ وَأَخِيكَ، فَاتَّقِ اللَّهَ وَاذْكُرِ الْمِيثَاقَ، فَإِنَّكَ مَتَى تَكِدْنِي أَكِدْكَ. فَكَتَبَ إِلَيْهِ الْحُسَيْنُ: أَتَانِي كِتَابُكَ وَأَنَا بِغَيْرِ الَّذِي بَلَغَكَ عَنِّي جَدِيرٌ، وَالْحَسَنَاتُ لَا يَهْدِي لَهَا إِلَّا اللَّهُ، وَمَا أَرَدْتُ لَكَ مُحَارَبَةً وَلَا عَلَيْكَ خِلَافًا، وَمَا أَظُنُّ لِي عِنْدَ اللَّهِ عُذْرًا فِي تَرْكِ جِهَادِكَ، وَمَا أَعْلَمُ فِتْنَةً أَعْظَمَ مِنْ وِلَايَتِكَ أَمْرَ هَذِهِ الْأُمَّةِ. ۔۔۔وَكَتَبَ إِلَيْهِ مُعَاوِيَةُ أَيْضًا فِي بَعْضِ مَا بَلَغَهُ عَنْهُ: إِنِّي لَأَظُنُّ أَنَّ فِي رَأْسِكَ نَزْوَةً فَوَدِدْتُ أَنِّي أُدْرِكُهَا فَأَغْفِرَهَا لَكَ (البداية والنهاية ط الفكر (8/ 161-162)
مسیب بن عتبہ الفزاری حضرت حسن کی وفات کے بعد ایک بار آپ کے پاس آیا اور حضرت معاویہ کی بیعت توڑنے کا کہا اور کہا کہ ہمیں معلوم ہے کہ آپ کی راے بھی معلوم ہے اور آپ کے بھائی کی راے بھی۔ اس پر آپ نے کہا کہ میں اللہ سے امید کرتا ہوں کہ وہ میرے بھائی کو اس کی اس نیت کا اجر دے کہ وہ لڑائی سے رکنا پسند کرتے تھے۔ اور مجھے میری نیت کا اجر دے کہ میں ظالموں کے ساتھ جھاد کرنا پسند کرتا ہوں۔ مروان نے معاویہ کو لکھا کہ مجھے ڈر ہے کہ حسین فتنہ برپا کرنے کی تاک میں بیٹھا ہے۔ خدشہ ہے کہ حسین کے ساتھ تمھیں طویل معاملہ پیش آئے گا۔ اس پر معاویہ نے حسین کو لکھا کہ جس شخص نے اللہ کو قول و قرار دیا ہو (یعنی بیعت کی ہو) اس کو لائق ہے کہ وفائے عہد کرے۔ مجھے اطلاع دی گئی ہے کہ کچھ لوگوں نے تمھین فتنہ آرائی کی دعوت دی ہے حالانکہ یہ اہل عراق وہ ہیں جن کو تم خوب جانتے ہو کہ انھوں نے تمھارے باپ اور بھائی کو کس فساد میں ڈالا۔ پس اللہ سے ڈرو، عہد کو یاد رکھو اور یہ کہ اگر تم نے میرے خلاف کوئی قدم اٹھایا تو میں بھی اٹھاؤں گا۔ اس پر حضرت حسین نے انھیں لکھا کہ تمارا خط ملا۔ معلوم ہونا چاہیے کہ میرا حال اس سے مختلف ہے جو تمھیں میرے متعلق معلوم ہوا۔ اور یہ بس اللہ کا فضل ہے جس کے سوا نیکیوں کی ہدایت دینے والا کوئی اور کوئی نہیں۔ میں تمھارے خلاف کسی محاذ آرائی اور مخالفت کا ارادہ نہیں رکھتا۔ اگرچہ میں نہیں جانتا کہ تھمارے خلاف جہاد نہ کرنے کے لیے میرے پاس اللہ کے سامنے کیا عذر ہوگا اور میں نہیں جانتا کہ اس سے بڑھ کر اور فتنہ کیا ہو سکتا ہے کہ تمھارے ہاتھ میں اس امت کی سربراہی ہو۔۔۔ حضرت معاویہ نے، حضرت حسین کی طرف سے ملنے والی خبروں کی وجہ سے انھیں یہ بھی لکھا کہ تمھارے دماغ میں تیزی ہے۔ اگر یہ میرے سامنے ظاہر ہو گئی تو میں پھر بھی درگزر سے کام لوں گا۔
نسب قریش کے مصنف،مصعب بن عبدللہ (وفات 236 ھجری) نے حضرت حسین کے اقدام پر تبصرہ کیا ہے:
وخرج الحسين بن علي إلى الكوفة ساخطاً لولاية يزيد (نسب قريش (ص: 127)
حضرت حسین یزید کی خلاف گرانے کے لیے کوفہ کی طرف روانہ ہوئے تھے۔
حضرت معاویہ کی یزید کو نصیحت:
ان حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے حضرت معاویہ نے یزید کے نام اپنی وصیت میں لکھا تھا کہ اہل عراق حسین کو یزید کے مقابل لا کر چھوڑیں گے تاہم، یہ لوگ اپنی متلوّن مزاجی کی وجہ سے خود ہی حضرت حسین کے لیے کافی ہو جائیں گے۔ چناں چہ یہی ہوا۔
وإني لست أخاف من قريش إلا ثلاثة: حُسَيْن بن علي، وعبد اللَّه بن عمر، وعبد الله ابن الزُّبَيْرِ، فأما ابن عمر فرجل قَدْ وقذه الدين، فليس ملتمسا شَيْئًا قبلك، وأما الْحُسَيْن بن علي فإنه رجل خفيف، وأرجو أن يكفيكه اللَّه بمن قتل أباه، وخذل أخاه، وإن لَهُ رحما ماسة، وحقا عظيما، وقرابة من محمد ص، وَلا أظن أهل العراق تاركيه حَتَّى يخرجوه، فإن قدرت عَلَيْهِ فاصفح عنه، فإني لو أني صاحبه عفوت عنه، وأما ابن الزُّبَيْر فإنه خب ضب، فإذا شخص لك فألبد لَهُ، إلا أن يلتمس مِنْكَ صلحا، فإن فعل فاقبل، واحقن دماء قومك مَا استطعت (تاريخ الطبري = تاريخ الرسل والملوك، وصلة تاريخ الطبري (5/ 323)
قریش میں سے مجھے تین اشخاص کے بارے میں خدشہ ہے۔ حسین بن علی، عبد اللہ بن عمر اور عبد اللہ بن زبیر۔ ابن عمر کو تو دین داری نے مارڈالا ہے۔ وہ تم سے کسی بات کے طلب گار نہ ہوں گے۔ البتہ حسین ہلکے آدمی ہیں۔ میرا خیال ہے کہ جن لوگوں نے ان کے والد کو قتل کیا اور ان کے بھائی کو رسوا کیا خدا ان لوگوں کے ذریعے سے ہی خود انھیں کافی ہو جائے گا اس میں شک نہیں کہ ان کو قریبی رشتہ داریہ حاصل ہے۔ ان کا حق بہت بڑا ہے۔ انھیں محمد ﷺ کے ساتھ قرابت حاصل ہے۔ میرا گمان ہے کہ اہل عراق ان کو خروج پر آمادہ کیے بغیر نہ چھوڑیں گے۔ ان پر قابو پا جاؤ تو معاف کر دینا۔ میرے پاس کوئی ایسا شخص آتا تو میں بھی معاف ہی کر دیتا۔ ہاں ابن زبیر پرفریب اور کینہ توز ہے۔ اس کے مقابلے کے لیے تیار رہنا۔ وہ اگر صلح کا طالب ہو تو مان لینا جہاں تک تم سے ہو سکے اپنی قوم میں خون ریزی نہ ہونے دینا۔
حضرت معاویہ کے وفات پاتے ہیں کوفیوں نے تسلسل سے آپ کو خطوط لکھنے شروع کر دیے۔ ان میں سے ایک یہ ہے:
کوفیوں کی مہم میں تیزی:
إنا قَدْ حبسنا أنفسنا عَلَيْك، ولسنا نحضر الجمعة مع الوالي، فأقدم علينا- وَكَانَ النُّعْمَان بن بشير الأَنْصَارِيّ عَلَى الْكُوفَة، قَالَ: فبعث الْحُسَيْن إِلَى مسلم بن عقيل بن أبي طالب ابن عمه فَقَالَ لَهُ: سر إِلَى الْكُوفَةِ فانظر مَا كتبوا بِهِ إلي، فإن كَانَ حقا خرجنا إِلَيْهِم فخرج مسلم حَتَّى أتى الْمَدِينَة، فأخذ منها دليلين، فمرا بِهِ فِي البرية، فأصابهم عطش، فمات أحد الدليلين، وكتب مسلم إِلَى الْحُسَيْن يستعفيه، فكتب إِلَيْهِ الْحُسَيْن: أن امض إِلَى الْكُوفَةِ] (تاريخ الطبري = تاريخ الرسل والملوك، وصلة تاريخ الطبري (5/ 347)
ہم نے خود کو آپ کے لیے روک رکھا ہے۔ ہم والی کوفہ، نعمان بن بشیر، کے پیچھے جمعہ کی نماز میں حاضر نہیں ہوتے۔ روای کا بیان ہے کہ حضرت حسین نے اپنے چچا زاد بھائی مسلم بن عقیل کو ان کی طرف اس ہدایت کے ساتھ بھیجا کہ کوفہ جاؤ اور دیکھو کہ جو انھوں نے مجھے لکھا ہے اگر وہ سچ ہے تو ہم ان کی طرف چلیں۔ چناں چہ مسلم نکل پڑے یہاں تک کہ مدینہ پہنچے۔ دو اشخاص کو رہنما بنایا۔ جب یہ لوگ ایک صحرا میں پہنچے تو انھیں پیاس نے آ لیا۔ ایک رہنما مر گیا۔ مسلم نے حضرت حسین کو لکھا کہ اس سفر سے انھیں معاف رکھا جائے۔ حضرت حسین نے انھیں لکھا کہ وہ کوفہ جائیں۔
مسلم بن عقیل کی کوفہ روانگی:
حضرت حسین اس مہم جوئی کےلیے کتنے سنجیدہ تھے اس کا اندازہ اس سے لگائیے کہ مسلم بن عقیل کو ان کے نا چاہتے ہوئے بھی حکم دے کر عراق روانہ کیا کہ صورت حال کا اندازہ کر کے اطلاع دیں۔
أَنَّ الْحُسَيْنَ بْنَ على ع كَتَبَ إِلَيْهِ أَهْلُ الْكُوفَةِ: إِنَّهُ مَعَكَ مِائَةُ أَلْفٍ، فَبَعَثَ إِلَيْهِمْ مُسْلِمَ بْنَ عَقِيلٍ، فَقَدِمَ الْكُوفَةَ (تاريخ الطبري = تاريخ الرسل والملوك، وصلة تاريخ الطبري (5/ 391)
حسین بن علی کو اہل کوفہ نے لکھا کہ ایک لاکھ تلواریں آپ کے ساتھ ہیں۔ اس پر آپ نے مسلم بن عقیل کو کوفہ بھیجا۔ مسلم نے وہاں پہنچ کر اٹھارہ ہزار افراد سے آپ کی خلافت کے لیے بیعت لے لی اور آپ کو خط لکھا کہ حالات سازگار ہیں آپ عراق تشریف لے آئیں۔ اس پر آپ نے بمع اہل و عیال عراق کا رخ کیا۔
کوفہ مین ابن زیاد جب کوفہ کا گورنر مقرر ہو کر وہاں پہنچا تو اس نے مسلم بن عقیل کی ان سرگرمیوں کی روک تھام کی کوشش کی۔ اس پر مسلم بن عقیل نے کوفہ میں ابن زیاد پر اپنے حامیوں سمیت حملہ کر دیا تھا اور اس کا محاصرہ کر لیا۔ (طبری جلد 5 ص 350) ابن زیاد نے بڑی مشکل سے قبائل کے سرداران کے ذریعے سے ان لوگوں کو منتشر کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ اور پھر مسلم کو گرفتار کر کے قتل کر دیا۔ کامیابی اگر مسلم بن عقیل کو حاصل ہو جاتی تو شایدقتل ابن زیاد ہوتا۔
اکابرینِ حجاز کے حضرت حسین کو مشورے:
حجاز کے تمام اکابرین اور اہل راے نے، سوائے حضرت عبد اللہ بن زبیر کے، حضرت حسین کو اس سفر سے باز رہنے کی نصیحت کی اور بتایا کہ اس مہم کا نتیجہ سوائے ان کے گھرانے کی تباہی کے کچھ نہ نکلے گا۔ مگر آپ نے جو ٹھان لی تھی اس سے واپس نہ ہوئے۔ جن لوگوں نے حضرت حسین کو روکا اور سمجھانے کی کوشش کی ان میں عبد اللہ بن عباس کا نام نمایاں ہے جن کی فریاد اور نصیحت کا ذکر مفصل آگے آتا ہے۔ ان کے علاوہ عبد اللہ بن عمر نے بھی انھیں مسلم اجتماعیت میں رخنہ نہ ڈالنے کا مشور ہ دیا۔ تاريخ الطبري = تاريخ الرسل والملوك، وصلة تاريخ الطبري (5/ 343) ابوبکر بن عبد الرحمن نے بھی سمجھانے کی بہت کوشش کی۔ ابو سعید الخدری نے کہا، “اپنی جان کے بارے میں اللہ سے ڈریے اور اپنے امام پر خروج مت کیجیے۔” جابر بن عبد اللہ نے عرض کیا، “اللہ سے ڈریے اور مسلمانوں کو ایک دوسرے سے مت ٹکرائیے۔” واثلہ بن اللیثی نے صاف کہا کہ آپ کا خروج بجا نہیں۔ آپ صرف اپنی جان دینے جا رہے ہیں اس سے باز رہیے۔ مسور بن مخرمہ نے کہا ک “اہل عراق کے خطوط سے دھوکے میں نہ آییے اور نہ ابن زبیر کے اس قول سے کہ وہ لوگ آپ کی مدد کریں گے۔” البداية والنهاية ط الفكر (8/ 163)
حضرت عبد اللہ بن عباس کے مشورے اور فریاد ملاحظہ ہو۔
أتى الْحُسَيْن عَبْد اللَّهِ بن العباس فقال: يا بن عم إني أتصبر وَلا أصبر، إني أتخوف عَلَيْك فِي هَذَا الوجه الهلاك والاستئصال، إن أهل العراق قوم غدر، فلا تقربنهم، أقم بهذا البلد فإنك سيد أهل الحجاز، فإن كَانَ أهل العراق يريدونك كما زعموا فاكتب إِلَيْهِم فلينفوا عدوهم، ثُمَّ أقدم عَلَيْهِم، فإن أبيت الا انه تخرج فسر إِلَى اليمن فإن بِهَا حصونا وشعابا، وَهِيَ أرض عريضة طويلة، ولأبيك بِهَا شيعة، وأنت عن الناس فِي عزلة، فتكتب إِلَى النَّاسِ وترسل، وتبث دعاتك، فإني أرجو أن يأتيك عِنْدَ ذَلِكَ الَّذِي تحب فِي عافية، [فَقَالَ لَهُ الْحُسَيْن: يا بن عم، إني وَاللَّهِ لأعلم أنك ناصح مشفق، ولكني قَدْ أزمعت وأجمعت عَلَى المسير،] فَقَالَ لَهُ ابن عَبَّاس: فإن كنت سائرا فلا تسر بنسائك وصبيتك، فو الله إني لخائف أن تقتل كما قتل عُثْمَان ونساؤه وولده ينظرون إِلَيْهِ ثُمَّ قَالَ ابن عَبَّاس: لقد أقررت عين ابن الزُّبَيْر بتخليتك إِيَّاهُ والحجاز والخروج منها، وَهُوَ الْيَوْم لا ينظر إِلَيْهِ أحد معك، وَاللَّهِ الَّذِي لا إله إلا هُوَ لو أعلم أنك إذا أخذت بشعرك وناصيتك حَتَّى يجتمع علي وعليك الناس أطعتني لفعلت ذَلِكَ ۔ (تاريخ الطبري = تاريخ الرسل والملوك، وصلة تاريخ الطبري (5/ 384)
اے میرے چچا کے بیٹے، میں صبر کروں یا نہ کروں، مجھے اس راہ میں تمھارے کے ہلاک اور تباہ ہونے کا ڈر ہے۔ اہل عراق دغا باز لوگ ہیں ہرگز ان کے پاس نہ جاؤ۔ اسی شہر میں قیام کرو، تم اہل حجاز کے سردار ہو۔ اگراہل عراق بلاتے ہیں تو انھیں لکھو کہ پہلے اپنے دشمن سے پیچھا چھڑا لیں۔ اس کے بعد ان کے پاس جاؤ۔ اگر تم اس بات کو نہیں مانتے اور یہیں سے نکل جانا ہی ٹھان لیا ہے تو یمن ی طرف چلے جاؤ وہاں قلعے ہیں، پہاڑی درے ہیں، ایک طویل عریض ملک ہے۔ تمھارے والد کے حامی وہاں موجود ہیں۔ تم سب سے الگ رہ کر لوگوں سے خط و کتابت کرو، اپنے قاصدوں کو بھیجو۔ اس میں مجھے امید ہے جو بات تم چاہتے ہو امن عافیت کے ساتھ تم کو حاصل ہو جائے گی۔ اس پر حضرت حسین نے جواب دیا کہ وہ روانگی کا مصمم ارادہ کر چکے ہیں۔ ابن عباس نے کہا کہ تم جاتے ہو تو عورتوں اور بچوں کو ساتھ لے کر نہ جاؤ۔ واللہ مجھے ڈر ہے کہیں عثمان کی طرح تم بھی اپنی عورتوں اور بچوں کے سامنے قتل نہ کیے جاؤ۔ پھر کہا تم نے ابن زبیر کی مراد پوری کردی۔ حجاز کو ان کے لیے چھوڑ دیا خود نکل چلے۔ تمھارے ہوتے کوئی ان کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھتا نہ تھا۔ قسم خدا کی اگر میں یہ سمجھتا کہ اس قت میں تم سے دست و گریبان ہو جاؤں حتی کہ لوگ میرا تمھاری تماشا دیکھنے جمع ہو جائیں اور تم میری بات مان لو گے تو میں ایسا ہی کرتا۔
حکومت کا حضرت حسین کے بارے میں تحمل:
حضرت حسین کے ان واضح عزائم کے باوجود مدینہ اور مکہ کے گورنر نے انھیں قتل یا قید کرنے کی کوشش نہیں کی۔ یزید کی طرف والی مدینہ ولید بن عتبہ کو ان سے خصوصی رعایت برتنے کی ہدایات تھیں:
فَإِنَّ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ عَهِدَ إِلَيَّ فِي أَمْرِهِ الرِّفْقَ بِهِ وَاسْتِصْلَاحَه (البداية والنهاية ط الفكر (8/ 162)
امیر المومنین (یزید) نے مجھے سے حسین کے معاملے میں نرمی اور صلح جوئی کا عہد لیا ہے۔
روایت کے مطابق حضرت حسین کی ولید نے تلخ کلامی ہوئی۔ حضرت حسین نے اس کی پگڑی کھینچ لی اس پر مروان یا کسی اور نے ان کے قتل کرنے کہا لیکن اس نے پھر بھی تحمل سے کام لیا اور کہا کہ ان کے خون کو امان حاصل ہے۔ البداية والنهاية ط الفكر (8/ 162) (تاريخ الطبري = تاريخ الرسل والملوك، وصلة تاريخ الطبري (5/ 340)
مدینہ سے نکل آپ مکہ میں چارہ ماہ ٹھرے رہے اور کوفیوں سے آپ کا رابطہ رہا۔ مگر حکومت نے آپ پر پھر بھی سختی نہیں کی۔ ولید کے بعد عمرو بن سعید والی حجاز مقرر ہوا۔ اس کی پالیسی بھی اسی تحمل کی رہی۔ مکہ سے کوفہ کی طرف روانگی کے بعد والی حرمین عمرو بن سعید نے حضرت حسین کے چچا زاد بھائی اور آپ کی بہن حضرت زینب کے شوہر عبد اللہ بن جعفر طیار کے کہنے پر حضرت حسین کے نام امان کا خط لکھا کہ وہ مکہ واپس لوٹ آئیں کچھ نہیں کہا جائے گا۔ تاريخ الطبري = تاريخ الرسل والملوك، وصلة تاريخ الطبري (5/ 388)مگر آپ واپس نہ ہوئے۔ مگر آپ کے خلاف فوجی کارروائی پھر بھی نہیں کی گئی۔
جب حضرت معاویہ ان کے ممکنہ خروج کے باوجود ان سے در گزر کی وصیت کر گئے تھے تو محض انکار بیعت پر ان کو قتل کرنا حکومت کی پالیسی ہو نہیں سکتی۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت حسین کے قتل کی اطلاع پر یزید سے مروی ہے کہ اس نے کہا اگر یہ معاملہ اسے پیش آتا تو وہ حضرت حسین سے درگزر سے کام لیتا:
قبح الله بن مرجانة، لو كانت بينهم وبينه قرابة ورحم ما فعل هذا بهم، وَلَا بَعَثَ بِكُمْ هَكَذَا (البداية والنهاية ط الفكر (8/ 194)
خدا ابن مرجانہ کے ساتھ برا کرے۔ اگر میں اس کے اور حضرت حسین اور ان کے گھرانے کے ساتھ قرابت اور رشتہ داری ہوتی تو وہ ان کے ساتھ ایسا نہ کرتا۔ میں نے تمھیں ایسا حکم دے کر بھیجا گیا تھا۔
ایک روایت کے مطابق مکہ سے روانگی کے وقت حکومتی اہل کاروں سے حضرت حسین کی مڈ بھیر بھی ہوئی مگر وہ ان سے لڑ کر نکل گئے۔ اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ حکومت کس حدتک ان کے بارے میں تحمل سے کام لے رہی تھی۔ حکومت چاہتی تو طاقت سے انھیں روکنا مشکل نہ تھا۔ تاريخ الطبري = تاريخ الرسل والملوك، وصلة تاريخ الطبري (5/ 385)
حضرت حسین کا واپسی کا ارادہ:
اگلے مراحل میں حضرت حسین کو جب وہی معاملات پیش آئے جن کی نشان دہی عرب کے جہان دیدہ اکابرین نے پہلے کر دی تھی، تو حضرت حسین نے دو بار اس مہم سے واپسی کی کوشش کی۔ ایک بار تب جب انھیں مسلم بن عقیل کا پیغام ملا جو انھوں نے اپنے قتل ہونے سے پہلے آپ کو بھیجا اور کوفہ آنے کی ممانعت کی۔ لیکن مسلم بن عقیل کے بھائیوں نے کہا وہ بدلہ لیے بنا واپس نہیں جائیں گے اور یہ کہ حضرت حسین کے کوفہ پہنچنے پر لوگ ان کے ساتھ ہو جائیں گے:
فَقَالَ لَهُ بعض أَصْحَابه: إنك وَاللَّهِ مَا أنت مثل مسلم بن عقيل، ولو قدمت الْكُوفَة لكان الناس إليك أسرع،( تاريخ الطبري = تاريخ الرسل والملوك، وصلة تاريخ الطبري (5/ 398)
ان کے ساتھیوں نے کہا کہ واللہ آپ مسلم بن عقیل کی طرح نہیں ہیں۔ اگر آپ کوفہ میں پہنچے گے تو لوگ فورا آپ کی گرد اکٹھے ہو جائیں گے۔
اس مشورے کو قبول کر کے آپ نے اس سفر کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا۔
دوسرے موقع پر جب عمر بن سعد کے لشکر کے آپ کو گھیر لیا اور کوئی چارہ نہ رہا تو آپ نے متعدد بار ان سے واپس جانے کی خواہش کا اظہار کیا۔ پہلے مرحلے میں تین شرائط پیش کیں:
اختاروا مني خصالا ثلاثا: إما أن أرجع إِلَى المكان الَّذِي أقبلت مِنْهُ، وإما أن أضع يدي فِي يد يَزِيد بن مُعَاوِيَة فيرى فِيمَا بيني وبينه رأيه، وإما أن تسيروني إِلَى أي ثغر من ثغور الْمُسْلِمِينَ شئتم، فأكون رجلا من أهله، لي مَا لَهُمْ وعلي مَا عَلَيْهِم (تاريخ الطبري = تاريخ الرسل والملوك، وصلة تاريخ الطبري (5/ 413)
میری طرف سے تین میں سے ایک بات قبول کر لو۔ یا میں اس جگہ کو لوٹ جاؤں جہاں سے آیا ہوں، یا یزید کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دے دوں پھر وہ میرے اور اپنے بارے میں جو سمجھے فیصلہ کرے اور یا تم مجھے مسلمانوں کے کسی سرحدی مقام پر جہاں تم چاہو پہنچا دو، وہاں کا ایک آدمی ہو کر رہوں گا، جو ان حالات ان کے وہی میرے۔
یہ شرائط جب نہیں مانی گئیں تو اس کے بعد اور بعض روایات کے مطابق حالات کا یہ رخ دیکھ پر پہلے ہی مرحلے میں آپ خود دمشق کی طرف نکلے تاکہ یزید کے ہاتھ پر بیعت کرلیں۔ درج ذیل روایت حصین بن عبد الرحمن کی ہے جسے مستند مانا جاتا ہے:
فأقبل الْحُسَيْن وَلا يشعر بشيء حَتَّى لقي الأعراب، فسألهم، فَقَالُوا: لا وَاللَّهِ مَا ندري، غير أنا لا نستطيع أن نلج وَلا نخرج، قَالَ: فانطلق يسير نحو طريق الشام نحو يَزِيد، فلقيته الخيول بكربلاء، فنزل يناشدهم اللَّه والإسلام، قَالَ: وَكَانَ بعث إِلَيْهِ عُمَر بن سَعْدٍ وشمر بن ذي الجوشن وحصين ابن نميم، فناشدهم الْحُسَيْن اللَّه والإسلام أن يسيروه إِلَى أَمِير الْمُؤْمِنِينَ، فيضع يده فِي يده، فَقَالُوا: لا، إلا عَلَى حكم ابن زياد (تاريخ الطبري = تاريخ الرسل والملوك، وصلة تاريخ الطبري (5/ 392)
حسین بے خبر چلے آ رہے تھے کہ کچھ اعرابی ملے اور آپ نے ان سے حالات کی بابت سوال کیا تو انھوں نے جواب دیا کہ حضور ہمیں اندر کی خبر نہیں، البتہ اتنا جانتے ہیں کہ نہ ہم ادھر سے ادھر جا سکتے ہیں اور ادھر سے ادھر آ سکتے ہیں۔ (یعنی عراق کے قریب یہ بات چیت ہو رہی تھی جہاں روک ٹوک جاری تھی) اس پر آپ نے شام کے راستے کی طرف یعنی یزید کی طرف چلتا شروع کیا اور اسی اثنا میں مقام کربلا میں آپ کو گھڑ سوار دستوں کا سامنا ہوا۔ پس آپ اترے اور انھیں اللہ اور اسلام کا واسطہ د ے کر سمجھانے لگے۔ راوی کا مزید بیان ہے کہ ابن زیاد نے عمر بن سعد، شمر بن ذی الجوشن اور حصین بن نمیر کو کربلا بھیجا تھا۔ سو آپ نے ان کو اللہ اور اسلام کا واسطہ دیا کہ آپ کو امیر المومنین (یزید) کے پاس جانے دیں، وہاں وہ اپنا ہاتھ ان کے ہاتھ میں دے دیں گے۔ مگر ان لوگو ں نے کہا کہ نہیں پہلے آپ کو ابن زیاد کا حکم ماننا ہوگا۔( یزید کے نام کی بیعت اس کے ہاتھ پر کرنا ہوگی)
آپ نے یہ مطالبہ ماننے سے انکار کر دیا اور اسے اپنی ذلت سمجھا۔ اس پر لڑائی ہوگئی۔ امام باقر کی روایت ہے:
“پس (جب آپ نے بن زیاد کے ہاتھ پر بیعت کی شرط پوری کرنے سے انکا ر کر دیا اور عمر بن سعد نے آپ سے قتال کیا۔ اس میں آپ کے تمام اصحاب شھید ہوگئے جن میں آپ کے اپنے گھر کے قریبا 15 سے بیس جوان بھی تھے۔ بعد ازاں آپ نے خود قتال کیا اور اپ بھی شھید ہوئے (البدایہ، ) البداية والنهاية ط الفكر (8/ 175)؟؟
اپنے قتل کے وقت آپ نے عبد اللہ بن عباس کو یاد کیا جنھوں نے متنبہ کیا تھا کہ وہ اپنی عورتوں اور بچوں کے سامنے قتل ہوں گے۔
حضرت حسین نے بار بارشامی لشکر سے کہا ان کا آنا ان لوگوں کو قبول نہیں تو انھیں کہیں اور نکل جانے دیا جائے، اس کے باجود ان کو جانے نہیں دیا گیا۔ اس کی وجہ بظاہر یہ معلوم ہوتی ہے کہ حضرت حسین بیعت کیے بغیر جہاں جاتے اہل عراق نے موقع پاتے ہی انھیں واپس جنگ کے میدان میں لے آنا تھا۔ اس لیے حکومتی ذمہ داروں نے ضروری سمجھا کہ وہ بیعت لیے بنا انھیں جانے نہ دیں۔ اس سے تلخ کلامی پیدا ہوئی اور حالات اس سانحہ پر منتج ہوئے۔
کربلا کے واقعات میں افسانہ طرازی:
کربلا کے میدان میں حضرت حسین کے گھرانے سے ایک ایک مرد کا لڑنے جانا اور ایک ایک لاشے پر حضرت حسین اور حضرت زینب کا ماتم کرنا، چہرے پیٹنا گریبان چاک کرنا اور اس جیسے دیگر مناظر اہل بیت کے شایان شان نہیں ہیں۔ یہ عالی ہمت لوگ تھے ان سے ایسے مصائب پر جو انھوں نے خود مول لیے، پر ایسے واویلا قرین قیاس نہیں۔ یہ تصور نہیں کیا جا سکتا کہ حضرت حسین نے پہلے ایک ایک فرد حتی کہ کم سن بچوں کو لڑنے بھیجا ہو اور پھر خود جان دی ہو۔ اکیلے اکیلے لڑنے بھیجنا اور کم سن بچوں کو بھیجنا دونوں باتیں عقل تسلیم نہیں کرتی۔ ہوا یہ تھا کہ شامی فوج نے کافی پس و پیش کے بعد یک بارگی حملہ کیا تھا جیسا کہ امام باقر کی روایت سے صاف معلوم ہوتا ہے۔ امام باقر اس سانحے میں خود موجود تھے۔
دین کے مسلمات اور اسوہ انبیا کی روشنی میں اقدام حسین کا جائزہ:
اس ساری تفصیل کے بعد اب ہم اقدام حسین کا جائزہ دین کے مسلمات اور ان مسلمات پر مبنی اسوہ انبیا کی روشنی میں لیتے ہیں۔ اصلاح احوال کا مرحلہ چوں کہ انبیا کو درپیش رہا اس لیے اس سلسلے میں ان کا اسوہ ہی ہمارے لیے کامل رہنمائی اور معیار کلی ہے۔
تمھید کے طور پر یہ بات معلوم ہونی چاہیے کہ دین میں ایمان و عمل کا حتمی معیار وحی الہی ہے۔ کسی شخص کا کوئی عمل جو دینی استناد کا مدعی اور مقتضی ہو اسے وحی کی کسوٹی پر پرکھ کرقبول یا رد کرنا ضروری ہے۔ وحی، انبیا علیھم السلام کے اعمال پر بھی نگران ہے جو ان کی اعمال کا محاکمہ کرتی ہے۔ اس کسوٹی پر پورا اترنے کی وجہ سے ہی انبیا کا اسوہ مکمل دینی استنا کا حامل اور ہمارے لیے اسوہ حسنہ قرار پاتا ہے۔ کسی انسان کو یہ مقام حاصل نہیں کہ اس کا عمل بذات خود دینی استناد کا حامل ہو۔
انبیا کی دعوت اور ان کی اصلاحی تحریکوں کا مقصد ایمان باللہ اور آخرت کی جواب دہی کی بنیاد پر نفوس کا تزکیہ اور اصلاح ہوتا ہے جس کے نتیجے میں افراد کی تربیت ہوتی ہے اور ان کی بدولت ایک صالح معاشرہ بھی وجود میں آ جاتا ہے، لیکن اپنے اس مقصد کے حصول کے لیے ہتھیار اٹھانا ان کی پالیسی میں شامل نہیں ہوتا۔ دعوتِ دین و اصلاح کے نتیجے میں ہونے والے پیدا ہونے والے مذھبی جبر کے دوران میں وہ خود ہتھیار اٹھاتے ہیں نہ اپنے پیروکاروں کو ایسا کرنے کی اجازت ہی دیتے ہیں، حتی کہ آخری درجے میں اپنے دفاع کے لیے وہ مقام جبر سے ہجرت کر جانے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں پاتے۔ تاہم، جب اپنی اس دعوت کے نتیجے میں کسی خطہ زمین پر انھیں ریاست و اقتدار کی طاقت حاصل ہو جاتی ہے تو دین کے مخالفین اور منکرین کے خلاف وہ جنگی اقدام بھی کرتے ہیں۔ تاہم اس کے لیے ان کی جنگی طاقت بھی ممکنہ طور پر فتح پانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
انبیا کےاس لائحہ عمل میں آپ کوئی استثنا نہیں دیکھیں گے۔ دعوت ِایمان و اصلاح کے لیے یہ حتمی دینی لائحہ عمل ہے جو قرآن مجید میں بہت واضح طور پر بار بار بتایا گیا ہے۔
مثلاً حضرت موسیؑ اور ان کی قریباً چھ لاکھ نفوس پر مشتمل قوم برسوں فرعون کے مظالم صبر سے سہتے رہے۔ اس سارے عرصے کے دوران میں حضرت موسی علیہ السلام، فرعون کو تبلیغ اور بنی اسرائیل کی اصلاح کے کام سے آگے بڑھ کر کسی قسم کے جنگی یا مسلح اقدام کی طرف ملتفت نہیں ہوئے، یہاں تک کہ خدا نے خود فرعون اور اس کی طاقت کو نابود کر دیا۔ تاہم، جب صحرائے سینا میں بنی اسرائیل کا آزاد نظم قائم ہوگیا تو بنی اسرائیل کے نہ چاہتے ہوئے بھی ان پر جہاد کرنا فرض قرار دے دیا گیا جس پر عمل نہ کرنے کی پاداش میں وہ صحرائے سینا میں 40 برس بھٹکتے رہے۔
بنی اسرائیل پر ایک وقت آیا کہ فلستیوں کی جارحیت سے دفاع اور قومی آبرومندی کی حفاظت کے لیے انھیں حضرت سموئیل نبی علیہ السلام سے خود درخواست کرنا پڑی کہ ان پر کوئی بادشاہ مقرر کیا جائے جس کے زیرِ قیادت وہ فلستیوں کی جارحیت سے اپنا دفاع کر سکیں۔ اس پر بھی سموئیل نبی علیہ السلام نے ان کا مطالبہ فوراً مان لینے کی بجائے ان کے عزم و استقامت پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے اپنے خدشات پیش کیے جس پر بنی اسرائیل نے اپنی صبر و استقامت اور اطاعت کی یقین کی دہانی انھیں کرائی۔ تب جا کر وہ ان کے لیے ایک بادشاہ مقرر کرنے پر راضی ہوئے۔ اہم بات یہ ہے کہ اُن حالات میں بھی سیموئیلؑ نے بذات خود بنی اسرئیل کو دشمنوں کے خلاف جنگ کرنے کے لیے نہ صرف یہ کہ ابھار نہیں بلکہ ان کے مطالبے کو بھی فورا نہیں مانا۔
دیکھا جا سکتا ہے کہ جنگی مہم جوئی جیسے سنجیدہ معاملے میں ایک نبی اپنی قوم کے لیے کوئی جلد بازی اختیار کرنے سے اجتناب کرتا ہے، بلکہ وہ اگر یہ دیکھتا ہے کہ قوم پوری طرح تیار معلوم نہیں ہوتی تو غیر مسلم جارح قوم کے خلاف بھی اقدام کرنے میں پس و پیش کرتا ہے۔ اس کی ساری کوشش ان کی اصلاح کرنے میں ہی صرف ہو رہی ہوتی ہے۔ جنگ جوئی کوئی معمولی چیز نہیں۔ اس میں بڑی احتیاطوں کو مد نظر رکھنے کا درس اس واقعہ میں ہمیں دیا گیا ہے۔
دوسرے پہلو سے دیکھیے کہ انبیائے بنی اسرائیل نے جہاں کفار کے خلاف جہاد بھی ان احتیاطوں کو مد نظر رکھ کرنے کی اجازت دی، وہاں بنی اسرائیل کے اندر کےسماج میں در آنے والے سماجی اور سیاسی بگاڑ کے سدھار کے لیے کسی درجے میں بھی ہتھیار نہیں اٹھائے۔ اپنے غیر صالح مومن بادشاہوں کے خلاف عوام کو ہتھیار اٹھانے کی کوئی ترغیب کبھی نہیں دی ۔ ان غیر عادل مومن بادشاہوں کی اصلاح کے لیے یہ انبیا وعظ و نصیحت اور کلمہ حق کی ادائیگی سے زیادہ کچھ نہیں کرتے تھے، چاہے اس راہ میں ان کی جان ہی چلی جاتی۔ حضرت زکریا، یحیی، اور عیسیٰ علیھم السلام کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔ پہلے دو انبیا تو شھید کر دیے گئے اور مسیح علیہ السلام کو بنی اسرئیل اپنے طور پر صلیب دینے تک لے آئے لیکن ان انبیا نے اپنے داخلی مومن سماج کی درستی کے لیے ہتھیار اٹھانے کی کوئی تحریک نہ چلائی۔
آخری نبی، محمد رسول اللہ ﷺ کا اسوہ بھی یہی رہا۔ مکی دور کی حالت مظلومیت میں ہتھیار اٹھانے کی کوئی مثال یہاں بھی موجود نہیں۔ تمام تر جنگی اقدامات مدینہ پہنچ کر کیے گئے یعنی اس وقت جب مدینہ کے ریاستی وسائل اور مناسب افرادی قوت پر آپؐ کو اختیار و اقتدرحاصل ہو گیا تھا۔
رسول اللہ ﷺ نے اسوہ انبیا کے طے شدہ لائحہ عمل کے عین مطابق، اپنے پیروکاروں کو دو ہدایات فرمائیں:
1۔ عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
دعانا رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ، فکان فیما اخذ علینا ان بایعنا علی السمع والطاعۃ فی منشطنا ومکرھنا و عسرنا و یسرنا واثرۃ علینا. ان لا ننازع الامر اھلہ، قال: إلا ان تروا کفرا بواحا، عندکم من اللّٰہ فیہ برھان.(بخاری، کتاب الفتن۔ مسلم، کتاب الامارہ(
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بلایا تاکہ ہم ہر حالت کے لیے سمع و طاعت کی بیعت کریں کہ نرمی و جبر، تنگی و فراخی اور اپنے اوپر دوسروں کو ترجیح دیے جانے(کے باوجود بھی حکمران کی اطاعت سے نہیں نکلیں گے)، اور نہ ان سے جھگڑا کریں گے۔ فرمایا کہ صرف (اس صورت میں تم حکمران کی اطاعت سے نکل سکتے ہو) کہ تم کوئی صریح کفر اس کی طرف سے دیکھو، جس کے بارے میں تمھارے پاس اللہ کی واضح حجت ہو۔
یہاں کفر و عصیان کے معاملے میں غیر عادل مسلم حکم ران کی عدم اطاعت کا حکم دیا گیا ہے، لیکن ان کے خلاف ہتھیار اٹھانے کی اجازت یا حکم پھر بھی نہیں دیا گیا۔
2۔ دوسری ہدایت آپؐ نے یہ فرمائی کہ جابر سلطان کے سامنے کلمہ حق کی ادائیگی ہر قیمت پر کی جائے۔ فرد کا جہاد یہی ہے اور یہ اس کے لیے افضل ترین جہاد ہے۔
آپ کی طرف سے یہ حکم بلکہ اجازت بھی نہیں دی گئی کہ کوئی فرد، ریاست کے خلاف کسی صورت میں ہتھیار اٹھا سکتا ہے۔
نظم اجتماعی کے ساتھ جڑے رہنے کا حکم رسول اللہ ﷺ کا ارشاد سب کو معلوم تھا۔ آپ نے اس بارے میں یہاں تک تاکید فرمائی:
إذا بویع لخلیفتین فاقتلوا الآخر منھما)
”جب دو خلیفوں کی بیعت کی جائے تو جو اُن میں سے متاخر ہے، اس کو قتل کر دو۔” 1. صحیح مسلم،کتاب الامارة، باب إذا بویع لخلیفتین، ح 1853
(وإذا رأیتم من ولاتکم شیئًا تکرھونه فاکرھوا عمله ولا تنزعوا یدًا من طاعة) صحیح مسلم : ح 1855
”جب تم اپنے حکمرانوں میں کوئی ناپسندیدہ اَعمال دیکھو تو ان کے ان اعمال کو ناپسندہی جانو لیکن ان کی اطاعت سے ہاتھ نہ کھینچو۔”
(وأنا آمرکم بخمس، اﷲ أمرني بھن: السمع والطاعة والجھاد والھجرة والجماعة فإنه من فارق الجماعة قید شبر فقد خلع ربقة الإسلام من عنقه إلا أن یراجع) 5. سنن ترمذی: ح2863
”اور میں تمہیں پانچ باتوں کا حکم دیتا ہوں جن کا اللہ نے مجھے ان کا حکم دیا ہے: سمع و طاعت، جہاد وہجرت اور جماعت کا۔ بے شک جو الجماعةسے بالشت برابر بھی دور ہو گیا، اس نے اسلام کا قلادہ اپنی گردن سے اُتار دیا سوائے اس کے وہ دوبارہ اس کی طرف رجوع کرلے۔”
(من خرج من الطاعة وفارق الجماعة فمات مات میتة جاهلیة) مسلم:1848
(خیار أئمتکم الذین تحبونھم ویحبونکم ویصلون علیکم ویصلون علیهم وشرار أئمتکم الذین تبغضونھم ویبغضونکم وتلعنونھم ویلعنونکم)۔قیل یا رسول اﷲ! أفلا ننابذھم بالسیف؟ فقال: (لا۔ ما أقاموا فیکم الصلاة). صحیح مسلم: ح1855
”تمہارے بہترین حکمران وہ ہیں جن سے تم محبت کرتے ہو اور وہ تم سے، تم ان کے لیے رحمت کی دعا کرتے ہو اور وہ تمہارے لیے۔ اور تمہارے بدترین حکمرن وہ ہیں جن سے تم نفرت کرتے ہو اور وہ تم سے نفرت کرتے ہیں ،تم ان پر لعنت بھیجتے ہو اور وہ تم پر۔کہا گیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !کیا ہم ان کو تلوار سے ہٹا نہ دیں تو آپ نے فرمایا:تمہیں ایسا کرنے کی اس وقت تک اجازت نہیں جب تک وہ تمہارے درمیان نماز کا نظم قائم کرتے رہیں ۔”
فیما أخذ علینا أن بایعنا علی السمع والطاعة في منشطنا ومکرھنا وعسرنا ویسرنا وأثرة علینا وأن لا ننازع الأمر أھله (إلا أن تروا کفرا بواحا عندکم من اﷲ فیه برھان) صحیح مسلم:ح 1709
اسوہ انبیا ،جوان معروضات کی روشنی میں واضح ہوتا ہے، کی رو سے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنھما کے اموی خلیفہ، یزید بن معاویہ کی خلافت کے خلاف اقدام کا تجزیہ کیا جائے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ایک مسلم حکومت کے خلاف آپ کا یہ اقدام کسی بھی دینی جواز سے محروم ہے۔ یزید کی بیعت سے انکار آپ کا حق تھا، مگر اس پر جبر کے نتیجے میں حکومت کےخلاف جنگی اقدام آپ کا حق تھا نہ کوئی دینی فریضہ۔ یزید کی حکومت کے خلاف آپ کے جنگی اقدام کا جواز صرف ایک ہی صورت میں پیدا ہو سکتا تھا وہ یہ کہ یہ متحقق ہوتا کہ یزید، حکومت کی طاقت سے مسلم عوام کے عقیدہ و عمل کی آزادیوں پر پابندی عائد کر رہا تھا۔ یعنی قرآن کی اصطلاح میں وہ فتنہ برپا کر رہا تھا، یعنی اسلام قبول کرنے یا مسلم سماج کے اسلام پر عمل کرنے کی راہ میں رکاوٹ ڈال رہا تھا۔ اس لحاظ سے اس کی بیعت، کفر پر بیعت کرنے کے مترادف ہوتی اور اس حقیقت کو جان کر بھی اس کی بیعت کرنے والے کافر قرار پاتے۔ اگر اس فرضی صورت حال کو درست مان لیا جائے تو اسوہ انبیا کی روشنی میں ضروری تھا کہ حضرت حسین حکومت کو مخاطب کرتے اور ایک مناسب مدت تک سمجھانے اور انذار کرنے کا فریضہ انجام دیتے، پھر اس کی طرف سے مکمل مایوس ہو جانے کے بعد بشرط ریاست اور مناسب افرادی قوت اس کے خلاف جنگی اقدام کرتے۔تاہم، تاریخ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یزید کی حکومت نہ تو مسلم عوام کے ایمان و عمل کے سلسلے میں کسی جبر کی مرتکب ہوئی اور نہ حضرت حسین نے اصلاحِ احوال کے لیےیزید اور اس کی حکومت کو مخاطب نہیں کیا۔ حکومت کا جبر تھا بھی تو یزید کی بیعت کے لیے تھا اور یہ ایک سیاسی معاملہ تھا۔ یزید کے برسر حکومت ہونے سے دین کو خطرہ پیش آ جانے میں کوئی حقیقت نہ تھی۔حکومت اگر حضرت حسین کی جان کے درپے ہو گئی تھی، جیسا کہ بعض حضرات کا خیال ہے کہ یزید کی بیعت سے انکار پر آپ کو قتل کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا تھا، تواس صورت میں اسوہ انبیا کی رو سے آپ کو ہجرت کر جانا چاہیے تھا، لیکن جنگی اقدام کا حق پھر بھی آپ کو حاصل نہیں تھا۔ معاملہ فرد واحد کی جان کے دفاع کا اگر تھا تو یہ بہرحال ا نفرادی معاملہ ہے، کوئی فرد اپنے بچاؤ کے لیے دوسرے لوگوں کو خطرے میں نہیں ڈال سکتا۔ انبیا کو اگر ایسی صورت حال کا سامنا کرنا پڑا تو یا تو انھوں نے ہجرت کی یا اپنی گردن کٹا دی لیکن اپنے دفاع کے لیے عوام کو کسی جنگ میں نہیں جھونکا۔
یزید کی حکومت کے خلاف حضرت حسین کا یہ اقدام ذاتی نوعیت ایک منفرد اقدام ہے، جو بغیر کسی دینی استناد کے حوصلہ مند مصلحین کے لیے محض اپنے طور پر ایک نمونہ عمل بن گیا ہے۔ دین اور اسوہ انبیا میں ایسے کسی اقدام کی کوئی گنجایش نہیں ملتی۔
مسلح اصلاحی انقلاب کی خامی کا ایک اور پہلو:
اس معاملے کو ایک اور پہلو سے دیکھیے۔ وہ اصلاح جو بزور بازو، یا خونی انقلاب کی صورت میں لائی جائے، اوّل تو اس کے صالح ہونے کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی، کیونکہ اس کی ضمانت خدا کا کوئی فرستادہ ہی دے سکتا، جو خدا سے براہ راست ہدایت حاصل کرتا اور اس کی نگرانی میں خطا سے محفوظ رہتا ہے۔ اس سے کوئی خطا سرزد ہو جائے تو خدا اسے اس پر قائم نہیں رہنے دیتا۔ نبی کے علاوہ یہ مقام اور اپنی حکمت عملی پر یہ اعتماد کسی اور کو حاصل نہیں ہو سکتا، تاہم، کوئی اگر کسی غیر نبی کو بھی اس مقام کا حامل سمجھتا ہے تو اس کا ثبوت اس کے ذمے ہے ۔ دوسرا یہ کہ ایسی اصلاح اگر صالح ہاتھوں میں ہو بھی تو اس کے صالح رہنے کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی، یعنی اس مصلح کے ساتھی اور اس کے جان نشین بھی اسی درجے کے صالح ہوں، اس کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی ۔ہمیشہ یہی دیکھا گیا کہ مسلح جدجہد یا انقلاب سے اصلاح لانے والوں کی بھی اصلاح کرنی پڑ جاتی ہے، اور یہ بسا اوقات اور بھی مشکل ہو جاتی ہے، کیوں کہ جن کی اصلاح مقصود ہوتی ہے وہ تو بزعم خود مصلحین ہوتے ہیں۔ اگر اس سب کے بعد ان انقلابی مصلحین کے لیے بھی وعظ و نصیحت پر ہی آنا پڑتا ہے تو کس بھروسے پر انسانی خون بہا کر انقلابی اصلاح کی دعوت دی جا سکتی ہے؟
اصلاح کا مسنون طریقہ:
اصلاح کا معقول و مسنون راستہ دعوت، تذکیر و تلقین کی راہ ہے۔ درست اور دیرپا اصلاح ہی سماج کی اصلاح سے ہوتی ہے۔ عوام کی اصلاح ہو جائے تو ایسے حساس صالح عوام کے سامنے کوئی بگاڑ ٹھیر نہیں سکتا۔ انبیا کا اسوہ اسی طریقہ کا شاہد ہے ۔اس کے سوا کوئی راستہ درست نہیں ہو سکتا، اس میں کامیابی ملے تو فبھا، نہ ملے تو مصلحین کو ان کے دین نے اس سے بڑھ کر کوئی ذمہ داری نہیں بتائی۔ اپنی ذمہ داری سے تجاوز، خدا کی مقرر کردہ حدود سے تجازو ہے۔ مصلحین کے جنگی اقدامات کی تاریخ شاہد ہے کہ وہ جب بھی اپنے دارئرہ کار سے آگے بڑھے ہیں، فساد اور انارکی پھیلانے کے سوا ان سے کچھ نہیں بن پڑا۔ نظمِ حکومت کے استحکام کے ساتھ سماج و سیاست کے ذمہ داران کو وعظ و نصیحت اور ان کے کاموں پر اصلاحی تنقید ہی وہ مثبت اور نتیجہ خیز راستہ ہے جس سے سماج بتدریج بہتر ہوتے چلے جاتے ہیں۔ اس راستے میں چاہے ان کی جان ہی کیوں نہ چلی جائے۔ یہی اسوہ انبیا ہے۔
خلاصہ بحث
اسوہ انبیا کی روشنی میں یہ متعین طور پر دکھایا گیا ہے کہ جبر و ظلم کے خلاف انبیا کا جہاد کلمہ حق کہنے تک محدود ہے،اس راہ میں چاہے ان کی جان چلی جائے۔ اپنی انفرادی حیثیت میں اصلاح احوال کے لیے مسلح جدوجہد ان کے اسوہ میں کبھی شامل نہیں رہی۔
البتہ جب نبی اہل طاقت و ریاست ہوئے تو انھوں نے جنگی اقدامات کیے۔ داؤد و سلیمان علیھما السلام صاحبان حکومت تھے تو جنگی اقدامات بھی کیے اور زکریا، یحیی اور عیسیٰ علیھم السلام انفرادی حیثیت میں تھے تو ان کی مظلومانہ جدوجہد بھی ہمارے سامنے ہے۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں اسوہ انبیا کے یہ دونوں ہی پہلو موجود ہیں جنھیں ہم مکی اور مدنی ادوار میں دیکھ سکتے ہیں۔
اسوہ انبیا کے ان واضح خطوط کی روشنی میں یہ طے ہو جاتا ہے کہ حکومت کی جانب سے مبینہ جبر و ظلم کے خلاف یا اصلاح سماج و سیاست کے لیےحضرت حسین کے پاس جنگی اقدام کا جواز موجود نہیں تھا۔ اگر یہ اقدام آپ نے اپنے دفاع میں اٹھایا تھا تو یہ اور بھی غلط ہے کہ فرد اپنے ذاتی دفاع کے لیے دو اقوام ( اہل عراق اور اہل شام) کو جنگ کی بھٹی میں جھونک دے۔
اصلاح احوال کے لیے کلمہ حق کی ادائیگی سے زیادہ کوئی اقدام مصلحین کے لیے روا نہیں رکھا گیا۔

حضرت حسین کے پاس یزید یا اموی خلافت کے خلاف ایسی کوئی واضح حجت نہ تھی۔
حضرت حسین کے اپنے مخالفین کے خلاف بیانات کو سیاسی بیانات سمجھنا چاہیے جس میں غصہ اور کوفت کی وجہ سے تلخی اور مبالغہ پیداہونا عام سی بات ہے۔ درج ذیل بیان دیکھیے جو ایک غیر معتبر راوی ابو محنف سے روایت ہے:
أَلا وَإِنَّ هَؤُلاءِ قَدْ لَزِمُوا طَاعَةَ الشَّيْطَانِ، وَتَرَكُوا طَاعَةَ الرَّحْمَنِ، وَأَظْهَرُوا الْفَسَادَ، وَعَطَّلُوا الْحُدُودَ، وَاسْتَأْثَرُوا بِالْفَيْءِ، وَأَحَلُّوا حَرَامَ اللَّهِ، وَحَرَّمُوا حَلالَهُ، (تاريخ الطبري = تاريخ الرسل والملوك، وصلة تاريخ الطبري (5/ 403)
سنو کہ ان اہل حکومت نے شیطان کی اطاعت کو لازم پکڑ لیا ہے اور خدا کی اطاعت چھوڑ دی ہے، فساد برپا کر دیا ہے اور حدود کو معطل کر دیا ہے۔ مال غنیمت میں خود کو ترجیح دیتے ہیں اور خدا کی حرام کردہ چیزوں کو حلال اور حلال کردہ چیزوں کو حرام کر دیا ہے۔
پھر ان بیانات کو ان کے سیاسی حامیوں نے مبالغہ کی انتہا پر پہنچایا جیسے گرم سیاسی ماحول میں ہوتا ہے کہ سیاسی مخالف کی ہر خوبی سے صرف نظر کی جاتی ہے اور ہر کمزوری اور خامی کو پہاڑ بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ یہ حالات ہم اپنے ہاں کی سیاسی بیان بازیوں سے سمجھ سکتے ہیں کہ کیسے ایک جماعت کے حامی دوسری سیاسی جماعت کے مخالفین کو شیطان اور بدترین لوگ بنا پیش کرتے ہیں۔ ان کے کردار کے ساتھ ان کے ایمان اور عقائد تک تختہ مشق بناتےہیں۔ حضرت حسین کے معاملے میں ہوا مگر یہ کہ حضرت حسین سے غلط یا صحیح طور پر منسوب ان کے سیاسی بیانات کو ان کے مقام کی وجہ سے مقدس سمجھ کر بعینہ درست سمجھ لیا گیا۔ اس بات کو اس سے بھی تقویت ملتی ہے کہ بنو امیہ کے طرز حکومت سے متعلق ایسے بیانات دیگر معتبر ناقدینِ حکومت سے منقول نہیں۔ ان کے ہاں تنقید ایک مناسب درجے اور لب و لہجے کے ساتھ موجود ہے۔
ہاشمی اور اموی قرابت داری:
کربلا کے اس سانحہ کے باوجود بنو امیہ کے ساتھ بنو ہاشم کے تعلقات اور رشتہ داری نہ صرف قائم رہی بلکہ ان کے درمیان نکاح ہوتے رہے۔
كانت سكينة بنت حسين عند مصعب بن الزبير؛ ثم خلف عليها عبد الله بن عثمان بن عبد الله ابن حكيم بن حزام بن خويلد؛ فولدت له حكيماً؛ وعثمان، وهو ” قرين “؛ وربيحة؛ تزوج ربيحة العباس بن الوليد بن عبد الملك بن مروان؛ ثم خلف على سكينة زيد بن عمرو بن عثمان بن عفان؛ ثم خلف عليها إبراهيم بن عبد الرحمن بن عوف؛ فلم يتم نكاحه، فرق بينهما هشام بن عبد الملك؛ ثم خلف عليها الأصبغ بن عبد العزيز بن مروان بن الحكم؛ فحملت إليه بمصر؛ فوجدته قد مات.
حضرت حسین کی صاحب زادی حضرت سکینہ کا ایک نکاح حضرت عثمان کے پوتے زيد بن عمرو بن عثمان بن عفان سے ہوا اور دوسرا مروان کے پوتے اصبغ بن عبد العزيز بن مروان بن الحكم سے ہوا۔ (نسب قريش (ص: 59)
حضرت حسین کی دوسری بیٹی فاطمہ کا نکاح ثانی حضرت عثمان کے پوتے عبداللہ بن عمرو بن عثمان سے ہوا۔ (نسب قريش (ص: 59)
حضرت حسین کی نواسی ربيحہ کا نکاح مروان کے پوتے العباس بن الوليد بن عبد الملك بن مروان سے ہوا۔ (نسب قريش (ص: 59)
حضرت عبد اللہ بن جعفر جو حضرت حسین کے بہنوئی، حضرت زینب کے شوہر تھے، ان کی بیٹی ام محمد یزید کی بیوی تھی۔
اسی طرح ان کے بیٹوں کے بھی متعدد نکاح اموی خاندان میں ہوتے رہے۔
خلاصہ:
حقیقت یہ ہے کہ حضرت حسین اگر اپنی اس مہم جوئی میں کامیاب ہو بھی جاتے تو ان بدلتے ہوئے حالات میں کوئی جوہری تبدیلی نہیں لا سکتے تھے۔ خلافت راشدہ کا دور پلٹ نہیں سکتا تھا۔ یہ ممکن نہیں تھا۔ مسلم سماج بہت پھیل گیا تھا۔ نئے مسلمانوں کے اپنے سیاسی اور سماجی رجحانات تھے۔ ان کی تربیت کے کر خلافت راشدہ کا ماحول برپا کرنا محض نعرہ ہو سکتا تھا جس کی کوئی تعبیر ممکن نہ تھ۔ی ۔حالات کے اس بدلاؤ کے سیلاب کو حضرت عثمان اور ان کے بعد حضرت علی بھی نہ روک سکے تھے۔ بلکہ اس میں حضرت علی خانہ جنگی پر مجبور ہوئے۔ حضرت حسین کے کوفہ کی طرف خروج سے جو صورت حالبن رہی تھی اس میں بھی سوائے خانہ جنگی کے کچھ نہ ہونا تھا۔ حضرت حسین اگر اس خانہ جنگی کے بعد کامیاب بھی ہو جاتے تو بنو ہاشم کی ملوکیت قائم ہو جاتی اور نتیجہ وہ نکلتا جس سے بچنے کے لیے یہ سب کیا جا رہا تھا۔ اس سارے تناظر میں حضرت حسین کا یہ اقدام غیر ضروری، اسوہ انبیا کے خلاف اور نتجیہ کے اعتبار سے تباہ کن تھا۔ اس سے امت میں افتراق کی راہ کھلی۔ مسلمانوں کے نظم اجتماعی سے بغاوت کرنے کا جواز ہاتھ آیا۔ ہر دور کے بزعم خود مصلحین نے اسوہ انبیا اور رسول اللہ کے نظم اجتماعی سے جڑے رہنے کے واضح ارشادات کو نظر انداز کرتے ہوئے مسلح مزاحمتیں برپا کیں اور فساد پھیلانے کے سوا کوئی خدمت انجام نہ دی۔
البداية والنهاية ط الفكر (8/ 218)
وَقَدْ سئل محمد بن الحنفية في ذلك فامتنع من ذلك أشد الامتناع، وَنَاظَرَهُمْ وَجَادَلَهُمْ فِي يَزِيدَ وَرَدَّ عَلَيْهِمْ مَا اتهموا يزيد به من شرب الْخَمْرَ وَتَرْكِهِ بَعْضَ الصَّلَوَاتِ
البداية والنهاية ط الفكر (8/ 233)
رَأَيْتُ مِنْهُ مَا تَذْكُرُونَ، وَقَدْ حَضَرْتُهُ وَأَقَمْتُ عِنْدَهُ فَرَأَيْتُهُ مُوَاظِبًا عَلَى الصَّلَاةِ مُتَحَرِّيًا لِلْخَيْرِ يَسْأَلُ عَنِ الْفِقْهِ مُلَازِمًا لِلسُّنَّةِ، قَالُوا: فَإِنَّ ذَلِكَ كَانَ مِنْهُ تَصَنُّعًا لَكَ. فَقَالَ:
وَمَا الَّذِي خَافَ مِنِّي أَوْ رَجَا حَتَّى يُظْهِرَ إِلَيَّ الْخُشُوعَ؟ أَفَأَطْلَعَكُمْ عَلَى مَا تَذْكُرُونَ مِنْ شُرْبِ الْخَمْرِ؟
فَلَئِنْ كَانَ أَطْلَعَكُمْ عَلَى ذَلِكَ إِنَّكُمْ لَشُرَكَاؤُهُ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ أَطْلَعَكُمْ فَمَا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَشْهَدُوا بِمَا لَمْ تَعْلَمُوا
حدثنا سعدويه، حدثنا عباد بْن العوام، حَدَّثَنِي حصین، حَدَّثَنِي هلال بن إساف قال:أمر ابن زياد فأخذ مَا بين واقصة، إِلَى طريق الشَّام إِلَى طريق الْبَصْرَة، فلا يترك أحد يلج وَلا يخرج، فانطلق الْحُسَيْن: يسير نحو طريق الشَّام يريد يزيد بْن مُعَاوِيَة فتلقته الخيول فنزل كربلاء، وَكَانَ فيمن بعث إِلَيْهِ عمر ابن سعد بن أبي وقاص، وشمر ابن ذي الجوشن، وحصين بْن نمير، فناشدهم الْحُسَيْن أن يسيروه إِلَى يزيد فيضع يده فِي يده فأبوا إِلا حكم ابْن زياد“
”عبیداللہ بن زیاد نے حکم دیا کہ واقصہ اورشام وبصرہ کے بیچ پہرہ لگادیا جائے اورکسی کو بھی آنے جانے سے روک دیا جائے، چنانچہ حسین رضی اللہ عنہ یزیدبن معاویہ سے ملنے کے لئے شام کی طرف چل پڑے ، پھر راستہ میں گھوڑسواروں نے انہیں روک لیا اوروہ کربلا میں رک گئے ، ان گھوڑ سواروں میں عمربن سعدبن بی وقاص ، شمربن ذی الجوشن اورحصین بن نمیرتھے ، حسین رضی اللہ عنہ نے ان سے التجاکی کہ انہیں یزیدبن معاویہ کے پاس لے چلیں تاکہ وہ یزید کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دے دیں ، اس پر ان لوگوں نے کہا کہ ہم عبیداللہ بن زیاد کی اجازت کے بغیرایسا نہیں کرسکتے“ [أنساب الأشراف للبلاذري: 3/ 173 واسنادہ صحیح]۔

اس تحریر كو شیئر كریں
Share on facebook
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on email
Dr Irfan Shehzad

Dr Irfan Shehzad

Dr Irfan Shehzad belongs to Rawalpindi, Pakistan. He holds a doctorate in Islamic Studies from National University of Modern Languages (NUML) Islamabad, Pakistan. He is working as a companion to Ghamidi Center of Islamic Learning Dallas, USA. He is an assistant research fellow with Al-Mawird Pakistan. He is the author of the book, “Qanoon-e-Itmam-e-Hujjat awr Us kay Itlaqaat: Janab Javed Ahmad Ghamidi ki Tawzihaat par Aetrazaat awr Ishkalaat ka Jaiza”, published by Almawrid Lahore Pakistan. Dr Irfan Shehzad writes and speaks on religious, social and sociopolitical issues. His articles are published in different scholarly journals including Ishraq, Lahore, Pakistan, Al-Shariah Gujranwala Pakistan and on social media.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *