حفظ قرآن کی رسم پر نظر ثانی کی ضرورت (2)

ماہنامہ اشراق ماہ جون 2019 کے شمارےمیں میرا مضمون “حفظ قرآن کی رسم پر نظر ثانی کی ضرورت” شائع ہوا جس پر ملک کے متعدد اہل علم نے التفات کرتے ہوئے اپنے نکاتِ اعتراضات پیش کیے جن میں مفتی منیب الرحمن صاحب کا نقد، بعنوان، “کیاحفظِ قرآن بدعت ہے؟” ان کے فیس بک کے آفیشل پیچ پر شائع ہوا ( اور اب ماہنامہ اشراق اکتوبر 2019 میں بھی شائع ہو گیا ہے)، جو خاصا مفصل ہے جس میں دیگر معترضین کے چند قابل اعتنا نکات بھی آ گئے ہیں۔ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اسی مضمون کا جواب دیا جائے جو دیگر ناقدین کے اعتراضات کے لیے بھی کافی ہو جائے گا۔
ان تمام تنقیدی مضامین میں البتہ میرے اصل مضمون کی بنائے استدلال سے کہیں تعرض نہیں کیا۔ نیز، اسے بہت سے اعتراضات وارد کیے گئے جن کے جواب مضمون میں یا تو پہلے سے موجود تھے یا وہ درحقیقت میرے مدعا پر وارد نہیں ہوتے تھے۔ معترضین نے میری نیت اور محرکات کو بھی طے کرنے کی کوشش کی جس کا علم خدا، عالم الغیب نے فقط اپنے پاس رکھا ہوا ہے اور اس کے لیے میں اسی کو جواب دہ ہوں۔
معترضین کے اعتراضات کا خلاصہ درج ذیل نکات کی صورت میں کیا جا سکتا ہے:
i. حفظ قرآن مجید امتِ مسلمہ کا ایک متواتر اور اجماعی عمل ہے۔ جس کا انکار اجماع و تواتر کا انکار ہے۔
ii. حفظ قرآن مجید کی تلقین میں متعدد احادیث میں آئی ہے۔
iii. بلا فہم تلاوت قرآن مجید بھی مطلوب ہے جس کی تلقین قرآن و حدیث میں وارد ہوئی ہے۔
iv. بلافہم تلاوت و حفظ قرآن کی حوصلہ شکنی کا مطلب قرآن مجید کے عربی متن سے بے اعتنائی کی فکر کا شاخسانہ ہے جس کے مطابق محض ترجمہ یا مفہومِ قرآن بھی کافی ہے۔
v. حفاظتِ قرآن مجید کے جدید ذرائع کے باوجود حفظ قرآن مجید کی اہمیت قائم رہتی ہے کیوں کہ دیگر ذرئع کی نسبت حفظ قرآن زیادہ محفوظ ذریعہ ہے۔
ان بنیادی اعتراضات کے علاوہ مفتی صاحب نے راقم سے چند سوالات بھی کیے ہیں، جن کے جوابات دورانِ تحریر میں دیے جائیں گے۔ پہلے ان اعتراضات کا جواب دیا جاتا ہے۔ سب سے آخر میں مفتی صاحب کے مضمون کے سب سے افسوس ناک پہلو پر نقد کیا جائے گا۔
مناسب معلوم ہوتا ہے کہ حفظ قرآن پر اپنے مضمون کی بنائے استدلال کی ایک بار وضاحت کر دی جائے۔
حفظ قرآن مجید ایک متواتر عمل ہے۔ اس مقدمہ کو تسلیم کرتے ہوئے یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ اس متواتر عمل کی دینی حیثیت کیا ہے؟ کیا یہ بذاتِ خود مطلوب عمل ہے یا اس کی حیثیت انتظامی نوعیت کی تھی؟ راقم نے اپنے مضمون میں واضح کیا تھا حفظ قرآن مجید کی نوعیت ایک انتظامی بندوبست کی تھی۔ عرب کی غالب ترین اکثریت حروف ناآشنا تھی۔ انھیں قرآن مجید لکھ کر بھی دے دیا جاتا تو وہ اسے پڑھ نہیں سکتے تھے۔ ان کے لیے قرآن مجید پڑھنے اور مراجعت کرنے کی یہی ایک صورت تھی کہ قرآن مجید کو اپنی عادت کے مطابق زبانی یاد کر لیں (یوں یہ عمل متواتر بنا) جیسے تحریر و کتابت سے عدم واقفیت کی بناپر وہ اپنی قومی روایات،خطبا اور شعرا کے کلام اور اپنے نسب نامے وغیرہ زبانی یاد کر لینے کے عادی تھی۔ اسی بنایہ بھی عرض کیا تھا کہ حفظ کے اسی طریقہ سے قرآن مجید کے حفاظت کا کام بھی لیا گیا تھا۔
بنائے استدلال کا دوسرا نکتہ یہ تھا کہ قرآن مجید کی تلاوت ہو یا حفظ عربوں کے لیے اسے بلا فہم کر لینامتصور ہی نہیں ہوسکتا۔ قرآن مجید اور احادیث میں تلاوت اور حفظ کی ترغیبات اسی مفہوم سے متعلق ہیں۔ ان کو بلافہم تلاوت و حفظ کے تصور کے ساتھ عجمی اقوام نے جوڑا ہے جو عہد رسالت اور نزول قرآن کے بعد اسلام میں داخل ہوئیں۔ اسی بناپر عرض کیا تھا کہ عہد رسالت کے حفظ قرآن کے اس “بافہم” تصور میں “بلا فہم” حفظ و تلاوت کے تصورکا اضافہ بدعت ہے۔ زور “بلا فہم حفظ” پر تھامگر مفتی صاحب اور دیگر حضرات نے اس واضح نکتے کو نظر انداز کر کے یہ باور کیاکہ میں حفظ کے پورے عمل کو بدعت قرار دے رہا ہوں۔
میرے مضمون کی بنائے استدلال واضح ہو جانے کےبعد اجماع و تواتر کے انکار کا الزام خود رفع ہو جاتا ہے۔ اس عمل کے متواتر ہونے کو تسلیم کرتے ہوئے اس کی حیثیت اور نوعیت واضح کی گئی تھی کہ یہ انتظامی نوعیت کا بندوبست تھا کہ حالات کا یہی تقاضا تھا۔ اس میں بلا فہم حفظ کا تصور عجمی اقوام کے مسلمان ہونے کے بعد پیدا ہوا اور اس بنا پر یہ تصور دین میں اضافہ اور بدعت ہے۔
میرے استدلال کو رد کرنے کا طریقہ یہ ہونا چاہیے کہ یہ بتایا جاتا کہ حفظ قرآن انتظامی مسئلہ نہ تھا بلکہ یہ مقصود بالذات ہے۔ نیز یہ بتایا جاتا کہ بلا فہم تلاوت و حفظ قرآن بھی مقصود ہے۔ اس کے لیے لیکن دین سے استدلال لایا جائے نہ کہ عجمی مسلمانوں میں رائج ہو جانے والے تصور اور رسم سے استناد حاصل کرنے کی کوشش کی جائے۔ ملحوظ رہے کہ وہ تواتر معتبر نہیں جس کا استناد عہد رسالت سے نہ دکھایا جا سکے۔ مسلمانوں میں رائج ہو جانے والے تصورات از خود مستند نہیں ہو جاتے۔ یہ اتھارٹی اگر امت کو منتقل کر دی جائے توعوام کی اکثریت میں دین کے نام پر پائے جانے والے غیر دینی تصورات پر نکیر کا حق ہی سرے سے ساقط قرار پائے گا اور ہروہ تصور اور رسم جوامت میں رائج ہے اسے سند جواز عطا کرنا پڑے گا۔ یہ حق نہ آج کے مسلم سماج کو حاصل ہے نہ ختم نبوت کے بعد کسی بھی گزشتہ دور کوکہ اس میں رائج ہو جانے والے کسی بزعم خود دینی تصور کو دینی استناد کا حامل سمجھ لیا جائے ۔یہ نہیں دیکھا جائے کہ صدیوں سے کیا ہوتا رہا بلکہ عدم استناد کی صورت میں پوچھا جائے گا کہ کیوں ہوتا رہا۔
کسی عمل کا محض متواتر ہونا اسے دینی عمل نہیں بنا دیتا۔ اس کا دین ہونادلیل کا محتاج ہے جسے دین سے مہیا کرنا ضروری ہے۔متواتر تو قرآن مجید کی ہاتھ سے کتابت کا عمل بھی ہے۔ کیا چھاپہ خانہ اور کمپوزنگ کے جدید طریقوں کی ایجاد کے بعد قرآن مجید کی ہاتھ سے کتابت کرنے پر اصرار کیا جائے گا؟ کوئی، البتہ اپنے ذوق اور شوق کی بنا پر ایسا کرنا چاہےتو الگ معاملہ ہے مگر کیا دینی حیثیت سے اس پر اصرار کیا جا سکتا ہے؟ یقینا نہیں۔ یہی معاملہ حفظ کاہے۔ یادش بخیر کہ ایک زمانہ البتہ ایسا گزرا ہے کہ جب چھاپہ خانہ بھی حرام قرار دیا گیاتھا اور اس کی ایجاد کے ایک ڈیڑھ صدی بعد تک علما کرام نے اس کے ذریعے سےقرآن مجیدچھاپنے کی اجازت نہیں دی تھی۔
اب یہان مفتی صاحب کے سوالات کے جوابات دیے جاتے ہیں۔ مفتی صاحب پوچھتے ہیں:
“دنیا میں اور بھی مذاہب ہیں ، ان کی مذہبی کتب بھی ہیں یا مختلف علوم وفنون کی بے شمار کتابیں موجود ہیں، کیا اتنی ضخامت کی کوئی ایک کتاب بھی ایسی ہے ،جس کو دنیا میں موجود قرآن کریم کے حفاظِ کرام کی کل تعداد کے عُشرِ عشیر یعنی ایک فیصد یا ایک فی ہزار نے بھی ازاول تا آخر لفظ بلفظ یاد کر رکھا ہو”
عرض ہے کہ کسی عمل یا تصور کا دینی استناد غیر مسلموں کے طرز عمل سے اخذ نہیں کیا جاتا۔ غیر مسلموں کے ہاں اپنے مقدس کتب کے حفظ کی روایت ہے یا نہیں، یہ ان کا مسئلہ ہے۔ انھیں سے پوچھا جائے۔ اس لیے یہ سوال بے محل ہے۔ البتہ دنیا بھر کے مذاھب کے پیروکاروں میں اپنی الہامی یا مقدس کتب کو زبانی یاد کرنے کی روایت، خصوصاً جدید ذرائع کتابت و حفاظت ایجاد ہونے کے بعد نہیں رہی ہے ۔ مسلمانوں میں یہ روایت موجود رہی اس لیے ان میں حفاظ ہوتے ہیں۔ اس کے باوجود تقریباً ہر مذھب کے پیروکاروں کے ہاں چند ایسے افراد مل جاتے ہیں ہیں جو اپنی کتابوں کے حافظ ہیں۔ لیکن یہ ان کے ہاں سراسرذوق کا معاملہ ہے اور ذوق کے معاملے میں جیسا کہ پہلے عرض کیا کوئی قدغن نہیں لگائی جا سکتی۔ مجھے کوئی اعتراض نہیں کہ ایک شخص شعور کی عمر کو پہنچ کر اپنے ذوق اور شوق سے قرآن مجید حفظ کرنے کا فیصلہ کرے۔ سوال مگر یہ ہے کہ قرآن مجید سے والہانہ عقیدت بڑی عمر کے لوگوں کو عموماً حفظ قرآن کی طرف کیوں متوجہ نہیں کرتی؟ کیوں یہ کم سن بچوں سے حفظ کروایا جاتا ہے جنھیں اس کا شعور بھی نہیں ہوتا کہ وہ یہ سب کیوں کر رہے ہیں؟
مفتی صاحب لکھتے ہیں:
” ‘آپ (عرفان شہزاد)نے لکھا ہے: ”مکاتبِ تعلیم القرآن میں تشدد،بچوں کی گھر سے دوری، جنسی ہراسانی وغیرہ بچے کی نفسیات میں غیر صحت مند رویہ تشکیل دیتے ہیں’ ۔ “ہمیں تسلیم ہے اورہماری آرزو ہے کہ اللہ کرے کہ ایک واقعہ بھی ایسا رونمانہ ہو، لیکن خال خال یعنی لاکھوں میں ایک کوئی واقعہ بدقسمتی سے رونما ہوجائے تو اس طرح کے شاذ ونادر واقعات اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں بھی رونما ہوتے ہیں، پاکستان کے تمام شہروں،بالخصوص کراچی، لاہور، اسلام آباد، ایبٹ آباد، مری اورملک کے دیگر علاقوں میں انگلش میڈیم اسکولوں میں طلبہ وطالبات اقامت گاہوں(Hostels) میں قیام پذیر ہوتے ہیں، کیا آپ نے ان شاذ ونادر واقعات کے سبب ان کی بندش کی بھی کوئی زبانی یا قلمی تحریک بپاکی ہے یا آپ کا ہدف صرف حفظِ قرآنِ کریم ہے۔”
عرض ہے کہ مضمون کا موضوع چوں کہ حفظ قرآن مجید اور اس کے اثرات سے متعلق تھا، اس لیے اس میں میں عصری اداروں سے تقابل کا کوئی مدعا پیش نظر نہیں تھا۔ کسی بھی آرٹیکل،کتاب یا لیکچر میں اس بات کا مطالبہ جو اس کا موضوع نہ ہو، زائد کا مطالبہ ہے۔ آپ نے پوچھا ہے تو عرض کیے دیتا ہوں کہ سکول، کالج اور یونیورسٹیوں کے مسائل پر بھی یہ خاک سار لکھ چکا ہوں۔ البتہ ان مضامین کے قارئین کبھی یہ مطالبہ کرتے نہیں پائے گئے کہ ان اداروں کے مسائل کے ذکر کے ساتھ مدارس کے مسائل کا ذکر بھی کیا جائے۔
مدارس کے دفاع کا یہ طریقہ جو مفتی صاحب نے اختیار کیا درحقیقت ایک برائی کو ایک دوسری برائی کے ذکر سے وجہ جواز عطا کرنے کا عذر پیش کرناہے۔یہ عذر گناہ بد تر از گناہ کے زمرے میں آتا ہے۔ ایک جگہ پائی جانے والی برائی اس لیے قابل قبول یا قابل تحمل نہیں ہو سکتی کہ وہ ایک دوسری جگہ بھی پائی جاتی ہے اور جب تک وہاں سے ختم نہ ہو حرف اعتراض نہ اٹھایا جائے۔ مفتی صاحب کو معلوم ہے کہ دو غلط مل کر ایک درست نہیں بنا سکتے۔ برائی جہاں بھی پائی جائے گی برائی ہی ہوگی اور قابل مذمت ہوگی۔ دوسری بات یہ کہ جنسی ہراسانی کے واقعات کوشاذ و نادر قرار دینا تجاہل عارفانہ کے سوا کچھ نہیں۔اہل مدارس حقیقت حال سے واقف ہیں مگراپنے مفادات کے تحفظ کی خاطراس بارے میں متفقہ طورپر خاموش رہنا میں عافیت سمجھتے ہیں۔
مفتی صاحب نے میرے ایک بیان سے عجیب استنباط فرمایاہے۔ میں نے لکھا تھا:
”قرآنِ مجید کے حفظ سے شعبدہ بازی کا کام بھی بعض حلقوں میں لیا جاتا ہے، طلبہ سے متنِ قرآن کے ساتھ صفحہ نمبر بلکہ آیت نمبر تک یاد کروائے جاتے ہیں ، پھربین الاقوامی مقابلوں میں یادداشت کے لیے کارنامے پیش کر کے دادِ تحسین وصول کرتے ہیں”۔
اس پر مفتی صاحب حیران کن نتیجہ نکالتے ہیں:
” اس سے معلوم ہوا کہ آج کل خطابت یا تحریر میں حوالہ دینے کے لیے سورت کا نام ،آیت نمبر ،حدیث کی کتاب اوررقم الحدیث کا جو رواج ہے ،یہ اُن کے نزدیک شعبدہ بازی ہے ، کتبِ احادیث کی ترقیم (Numbering)تو جدید دور کا شعار ہے ،اس سے تحقیق کرنے والوں کے لیے آسانی ہوتی ہے ۔”
مجھے گمان ہے کہ مفتی صاحب کو موقع ملتا تو یہ اعتراض وہ یقینا قلم زد فرما دیتے۔ حفظ قرآن میں صفحہ نمبر، آیت نمبر وغیرہ کے لیے یاداشت کا مظاہرہ اور تحقیق و تصنیف میں حوالہ دینے کے عمل کو ایک بنا کر مفتی صاحب جو نتیجہ اخذ کیا ہے اسے منطقی مغالطے کے سوا کچھ کہنا مشکل ہے۔ مجھے امید ہے قارئین کے لیے اس اعتراض کو بے محل ابت کرنے کے لیے کسی وضاحت کی ضرورت نہیں۔
مفتی صاحب مزیدلکھتے ہیں:
“سوال یہ ہے کہ کیاآج بھی عالَمِ عرب کے عام اہلِ زبان نزولِ وحی کے چودہ سو تریپن سال بعد بھی باقاعدہ تعلیم کے بغیر قرآن کے معانی ومطالب کو سمجھ سکتے ہیں ، اگر ایسا ہوتا تو عالَمِ عرب میں علومِ عربیہ واسلامیہ کی درسگاہوں کی کوئی ضرورت نہ رہتی ۔ کیا اُن تمام ممالک کے لوگ ،جن کی مادری زبان انگریزی ہے،وہ باقاعدہ تعلیم حاصل کیے بغیر جدیدسائنسی ، طبی ،فنی،ادبی وسماجی اور معاشی علوم کو جان سکتے ہیں ،اگر ایسا ہوتا تو مغرب میں ہر سطح کے تعلیمی اداروں اور یونیورسٹیوں کا وجود بے معنی ہوکر رہ جاتا۔ ”
اس استدلال پر تعجب کے ساتھ عرض ہے کہ قرآن مجید کے اولین مخاطب تو ایک اُمّی (حروف ناآشنا) قوم تھی۔ ایک طرف تو اس کے مخاطب ایسے افرادتھے جو سخت معاندین تھے، کوئی بات سننے کو تیار نہ تھے اور دوسری طرف وہ صحرا کی سادہ زندگی میں وہ علم و فلسفہ سے تہی تھے۔ کیا انھیں قرآن کے پیغام اور انذار کو سمجھنے کے لیے کسی تخصص کی ضرورت تھی؟ اگروہ اس کے مخاطب بننے کی اہلیت رکھتے تھے تو آج کے عامی اور تعلیم یافتہ لوگ اس کے پیغام اور معانی کو سمجھنے سے کیسے قاصر ہو سکتے ہیں جب کہ یہ لوگ معاندین بھی نہیں،قرآن مجیدکو مانتے ہیں؟عالم اسلام کے نامور عالم محمد اسد لکھتے ہیں کہ انھوں نے برسوں عرب کے صحرائی بدوؤں کے ساتھ بسر کیے تاکہ ان سے زبان سیکھ کر قرآن مجید سمجھ سکیں۔ یہ حادثہ کب پیش آیا کہ مدارس کی خصوصی تعلیم کے بغیر عرب قرآن مجید کو سمجھنے سے قاصر ہو گئے ہیں؟ قرآن مجید کی زبان سنسکرت کی طرح کوئی مردہ زبان نہیں جس کے ماہر چند اونچی ذات کے برہمن ہوں اور وہ ویدوں کے فہم پر اجارہ دار بن کر بیٹھ جائیں۔
مفتی صاحب کی بات سے یہاں جو مغالطہ پیدا ہوا ہے اس کی حقیقت سمجھ لینا چاہیے۔ قرآن فہمی کے کئی درجات ہیں۔ قرآن مجید کے فہم کا ایک وہ درجہ ہے جس کا مخاطب ہر عامی و خاص ہے۔ یہ تصحیحِ عقائد، تزکیہ نفس اور فکرِ آخرت کے موضوعات ہیں۔ ان بیانات کو سمجھنے کے لیے کسی علم کا سند یافتہ ہونے کی ضرورت نہیں،فقط گوش نصیحت نیوش چاہیے۔ قرآن مجید کا زیادہ تر حصہ انھیں موضوعات پر مشتمل ہے۔
قرآن فہمی کا ایک دوسرا درجہ قرآن مجید کا علمی و فنی مطالعہ ہے۔ یہ تخصص کا دائرہ ہے اور اس کے لیے اعلٰی علمی استعداد درکار ہے۔ مفتی صاحب تخصص کے اس دائرے کو لے کر قرآن مجید کی عام فہمی کی نفی کر رہے ہیں۔ ایسا نہیں کرنا چاہیے۔
سب سے عجیب بات جو مفتی صاحب نے فرمائی وہ یہ ہے:
” مقصدِ نزولِ قرآن کوصرف معانی ومطالب اور احکام کو جاننے تک محدود رکھا جائے ،تو یہ ایک قانون کی کتاب بن کر رہ جائے گی اور اہلِ ایمان کے دلوں میں جو اس کی تقدیس وحرمت اورتعظیم ہے ،اُس کے نقش ماند پڑ جائیں گے”
بصد حیرت میں یہ پوچھنے کی جسارت کرتا ہوں کہ کیا قرآن مجید میں صرف قانون کا بیان ہے؟ کیامفتی صاحب اسے تورات کی طرح سمجھتے ہیں جس میں صرف قانون بیان ہوا ہے؟ کیا مفتی صاحب جیسے عالم کو معلوم نہیں کہ قرآن مجید میں قانون کا بیان تو بہت تھوڑے حصے پر مشتمل ہے، بیشتر موضوعات تو تذکیر سے متعلق ہیں اور یہی اس کا اصل ہیں۔ اس تذکیر کی تاثیر ہی تو تھی جس نے عرب کے مشرکین کی کایا پلٹ دی تھی جس نے ہر دور میں لوگوں کو متاثر کیا ۔ مزید حیرت مفتی صاحب کے اس بیان پر ہے کہ قرآن کے مطالب سمجھنے سے اس کی تعظیم کا نقش ماند پڑ جائے گا!! بصد معذرت یہ براہمنوں والی سوچ ہے جو ویدوں کی ایسی عظمت دلوں میں پیدا کرتے تھے کہ ان کو ہاتھ لگانا بھی عام افراد کے لیے گستاخی قرار دیاجاتا ہے۔ قرآن مجید میں ایسا کیا لکھا ہے جس کو سمجھنے سے اس کی عظمت کم ہو جاتی ہے (نعوذ باللہ)۔ حقیقت تو یہ ہے کہ قرآن مجید کی عظمت کا نقش درحقیقت دلوں میں اس وقت صحیح طور پر بیٹھتا ہے جب معلوم ہوتا ہےکہ خدائے لم یزل و لا یزال نے اپنے لافانی کلام میں کیا کیامعجز بیانیاں فرمائی ہیں، اور کس کس طرح سے اپنے بندوں کو دنیا اور آخرت کے خسارے سے بچنے کی نصیحت اور طریقے بتائے ہیں۔
میں مفتی صاحب کا شکر گزار ہوں کہ انھوں نے ایک اور حدیث کی طرف میری توجہ مبذول کرائی جسے انھوں نے پیش تو اپنے موقف کے حق میں کیا ہے لیکن اس سے درحقیقت میرے موقف کی حمایت ہوتی ہے۔ مفتی صاحب رقم طراز ہیں:
” حذیفہ بن یمان بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ؐ نے فرمایا: قرآن کو اہلِ عرب کے لہجے اور آوازوں میں پڑھو اور یہود ونصاریٰ اور فاسقوں کے لہجے میں نہ پڑھو، کیونکہ میرے بعد عنقریب ایسی قوم آئے گی جو گویّوں ،راہبوں اورنوحہ خوانوں کے طرز پر کلمات کو بار بار لوٹا کرپڑھیں گے، قرآن اُن کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا ، اُن کے دلوں کو آزمائش میں ڈال دیاہے اور جو لوگ انہیں سُن کر اُن کی تحسین کرتے ہیں ،اُن کے دلوں کو بھی آزمائش میں ڈال دیا گیا ہے ،(المعجم الاوسط: 7223)”۔ یعنی قرآنِ کریم کی تلاوت خشوع وخضوع سے کرنی چاہیے ،اس سے روح کو قرار وسکون ملنا چاہیے ، اسے تقدیس وحرمت سے عاری لذتِ سماع کا ذریعہ نہیں بنانا چاہیے ۔”
اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ دو باتوں کی مذمت فرما رہے ہیں: ایک یہ کہ قرآن کو گویوں، راہبوں اور نوحہ خوانوں کی طرف پر نہ پڑھا جائے۔ دوسرے کہ ایسے لوگوں کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔ حلق سے نیچے اترنے کا کیا مطلب ہے؟ یہی کہ ان کے دلوں میں نہیں اترے گا۔ وہ اس کے انذار اور تذکیر سے لاپروہ ہوں گے۔ محض اس کے صوتی آہنگ سے حظ حاصل کرنا ان کا مقصود ہوگا۔ اب بلا فہم حفظ و تلاوت میں کیا ہوتا ہے؟ اس میں گویوں وغیرہ کے طرز پر تو نہیں پڑھا جاتا مگر کیا قرآن مجید اس طرح بھی حلق سے نیچے اترتا ہے؟ کیا قرآن مجیدکے صوتی آہنگ سے لطف اندوزی ہی قرآن کا مقصودہے؟ ایک کیا یہ با معنی کلام کی بے قدری نہیں ہے؟
مفتی صاحب لکھتے ہیں:
“عرفان شہزاد صاحب کی فکر کا مطلب تو یہ ہے کہ اگر کسی کو قرآن کے معانی اور مطالب نہیں آتے تومحض تلاوت بے سود ہے ،حالانکہ کروڑوں کی تعداد میں مسلمان معانی کو نہیں جانتے لیکن نماز میں تلاوت کرنے کے وہ بھی یکساں طور پر پابندہیں۔”
اس پر عرض ہے کہ تلاوت، تفہیم کلام کا زینہ ہے۔ عام مسلمانوں کو کس نے روک رکھا ہے کہ وہ نماز کے اذکار او راس میں پڑھی جانے والی کم از کم چند مخصوص سورتوں کے معنی و مفہوم سےآگاہی حاصل کرلیں تاکہ انھیں معلوم تو ہو ان کا پروردگار ان سے کیا کہ رہا ہے۔ اگر غور کیجیے تو انھیں اس تھوڑے سے فہم کو حاصل کرنے سے بھی اسی سوچ نے روک رکھا ہے کہ یہ کوئی قابل لحاظ ضرورت نہیں کہ معلوم ہو کہ ان کا پروردگار ان س کن الفاظ میں کیاکہنا چاہتا ہے۔ اس پر یہی کہنا بنتا ہے کہ
وما قدراللہ حق قدرہ
معلوم نہیں مفتی صاحب تلاوت اور حسن قراءت سے بلا فہم تلاوت کیسے مراد لیتے ہیں۔ لکھتے ہیں:
“احادیثِ مبارکہ میں ہے: (1)حضرت براء بن عازب بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ؐ نے فرمایا: قرآن کو اپنی (شیریں) آوازوں سے مزیّن کرو(ابوداؤد:1468)”،(2):نیزبیان کرتے ہیں: میں نے رسول اللہ ؐ کو فرماتے ہوئے سنا: اپنی آوازوں سے قرآن میں حُسن پیدا کرو،کیونکہ اچھی آواز سے قرآن کی خوبصورتی میں اضافہ ہوتا ہے ،(سنن دارمی:3544)”۔ ظاہر ہے کہ صوتِ حَسن کا تعلق تلاوت سے ہے ،قرآن کریم کے معانی ومطالب کو سمجھنے کا مدار علم ، فہم اور عقل پر ہے ،اس کا حُسنِ صوت سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔”
مکرر عرض ہے کہ عربوں کے لیے تو یہ ممکن نہ تھا کہ جس کلام کے معنی و مفہوم کو وہ سمجھتے ہیں اسے بلا فہم پڑھ اور سن سکیں۔ حسنِ صوت سے ایک بامعنی کلام کی تاثیر میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ ایسے ہی جیسے ہم اپنی زبان میں حمدو نعت وغیرہ لےَ اور دھن کے ساتھ سنتے اور پڑھتے ہیں تو معنی و مفہوم کی تاثیر میں اضافہ محسوس کرتے ہیں۔کیا اس صورت میں معنی اور مفہوم معطل ہو جاتے ہیں؟مذکورہ احادیث میں یہی تو فرمایا گیا ہے کہ قرآن کو خوب صورت انداز اور آواز میں پڑھا جائے۔ اس میں بلا فہم کا پڑھنا اور سننا کیسے شامل ہو گیا؟ یہ اسی عجمی سوچ کا نتیجہ ہے جو بعد میں آ شامل ہوئی ہے اور رسول اللہﷺ کے ان ارشادات سے یہ نتائج پیدا کر لیتی ہے۔
مفتی صاحب لکھتے ہیں:
“اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم کی حفاظت کاانتظام اپنے ذمہ کرم پر لیا ہے،فرمایا: ”بے شک ہم نے ذکر( قرآن )اتارا اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں، (الحجر:9)”۔ظاہر ہے عالَمِ اسباب میں حفاظتِ قرآنِ کریم کے دو ذرائع ہیں :تحریری صورت میں محفوظ کرنا یا ذہن میں محفوظ کرنا ،آج کل آڈیو وڈیو ریکارڈنگ بھی اس کا ایک ذریعہ ہے ،لیکن یہ ظاہری چیزیں کسی حادثے یا آفت کے نتیجے میں امکانی طور پر تلف ہوسکتی ہیں ،لیکن ذہنوں میں جو امانت محفوظ ہے ،وہ تلف نہیں ہوتی ۔”
کیایہ محض غیر حقیقی خوش عقیدگی ہی نہیں ہے کہ ذہنوں میں موجود قرآن تلف نہیں ہوتا؟ کیا حفاظ اس کی تصدیق کر سکتے ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ یاداشت میں محفوظ ذخیرہ سب سے کم قابل اعتماد چیز ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نماز تراویح میں ہر حافظ کے ساتھ سامع مقرر کیا جاتا ہے جو اسے اس کی غلطیوں پر متنبہ کرتا ہے۔ کیا ہم نہیں جانتے کہ مسلسل دہرائی نہ کی جائے تو قرآن بھول جاتا ہے؟ وہ تمام حفاظ جوتراویح میں قرآن مجید نہیں سناتے یا انھیں قرآن مجید سنانے کا کوئی اور فورم دستیاب نہیں ہوتا ان کا حفظ کچا ہوتا ہے۔غالب اکثریت قرآن مجید بڑی عمر میں پہنچ کر بھول جاتے ہیں۔ اگر وہ روایت درست ہے جس میں جنگ یمامہ میں حفاظ کی کثیر تعداد کی شھادت کی بناپر قرآن کی سرکاری سطح پر کتابت اور حفاظت کا خیال حضرت عمر کو دامن گیر ہوا تھا، تو اس کا مطلب یہی ہے کہ حفظ کا یہ ذریعہ بھی دیگر انسانی ذرائع کی طرح ہی حادثات سے متاثر ہو سکتا ہے۔
البتہ یہ درست ہے کہ عہد رسالت میں خدا کے خاص کرم و فضل سے مسلمانوں کے اجتماعی حفظ کے ذریعے سے قرآن مجید کی حفاظت کا اہتمام کامیابی کرہو امگر اب نہ عرب جیسے حافظے ہیں کو اُمّی ہونے کی بنا پر زیادہ فعّال تھے اور نہ اس بندوبست کی اب کوئی ضرورت ہے۔کتابت و کمپوزنگ کے جدید ذرائع حفظ قرآن کی ضرورت سے بے نیاز کر چکے ہیں۔ تاہم،کوئی شخص شعور کی عمر کوپہنچ کر ذاتی ذوق کی بنا پر قرآن مجید زبانی حفظ کرنا چاہے تواس پر کوئی اعتراض نہیں۔
مفتی صاحب نے مزید لکھتے ہیں:
“اللہ تعالیٰ نے البقرہ: 129میں دعائے ابراہیمی کی صورت میں ،آلِ عمران :164میں بطورِ احسان اور الجمعہ:2میں حقیقتِ واقعی یا مظہرِ شانِ باری تعالیٰ کی صورت میں فرائض نبوت کو بیان فرمایا اور اس میں تعلیمِ کتاب وحکمت کو الگ فریضہ نبوت بتایا اور تلاوتِ آیاتِ قرآنی کو مستقل بالذات فریضہ نبوت بتایا ۔”
قطع نظر اس کے کہ ہمارےنزدیک اس آیت کا مفہوم کیا ہے، مفتی صاحب کا یہ استنباط کہ تلاوت آیات سے مرادبلا فہم تلاوت ہے اورفہم کے لیے تعلیمِ کتاب الگ سے فریضہ نبوت ہے، اپنی حقیقت میں بے بنیاد استدلال ہے۔ مکرر کہنا پڑے گا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ عربوں اپنی زبان میں نازل ہونے والے کلام مبین کو بلا فہم سنتے اور پھر اس کی تعلیم سے اس کو سمجھ پاتے تھے۔ وہ الفاظ سے اس کا مفہوم پا جاتے تھے البتہ فہم مزید کے لیے مزید تعلیم حاصل کی جاتی تھی۔ ایسے ہی جیسے ہم اپنی زبان میں بھی جب کسی کتاب یا کلام کی تعلیم حاصل کرتے ہیں تو اس کےالفاظ کے معانی اور مفہوم کو پہلے مرحلے پر جان لیتے ہیں ، پھر اس کے مزید گہرےمطالب اورفہم کے لیے وضاحتی بیانات پڑھتے یا سنتےہیں۔ ہم عجمی لوگ قرآن مجید کو بھی اسی طرح سمجھنے کا آغاز کرتے ہیں۔ الفاظ سے معنی اور معنی سے مزید گہرے کا مفہوم کا سفر کرتے ہیں۔ بلا فہم تلاوت کا استنباط “تلاوت آیات ” سے کرنا ہرگز درست نہیں، مگر مفتی صاحب اس رو میں اس حد تک آگے بڑھ گئے ہیں کہ انھوں نے ایک اور افسوس ناک استنباط کر ڈالا ہے۔ یہی میرے اس مضمون کا آخری حصہ ہے جس کا ذکر پیشتر کیا تھا۔
مفتی صاحب لکھتے ہیں:
” رہا یہ سوال کہ آیا معنی سے ناواقفیت کے باوجود تلاوتِ قرآنِ کریم دین کو مطلوب ہے اور یہ سعادت ہے، قرآن نے تلاوت کا ذکر بھی بطورِ مدح فرمایا: ”اے چادر اوڑھنے والے! رات کو قیام کیا کیجیے مگر تھوڑا،آدھی رات تک یا اُس سے کچھ کم یا (اگر اس سے آپ کی طبیعت سیر نہ ہوتو)اس سے کچھ زیادہ کیجیے اور قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھیے،(المزمل:1-4)”۔ ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ ترتیل یعنی ٹھہر ٹھہر کر پڑھنے کا تعلق تلاوت سے ہے۔ نیز فرمایا: ”(کامل) مومن وہ ہیں کہ جب اللہ کا ذکر کیا جائے تو اُن کے دل دہل جاتے ہیں اور جب اُن پر اُس کی آیات پڑھی جائیں تو اُن کے ایمان کو تقویت ملتی ہے اور وہ اپنے رب پر بھروسا کرتے ہیں، (الانفال:2)””
اس کے بعد انھوں نے متعدد آیات قرآنی اور احادیث نقل فرما پر اپنے دعوی پر گویا شواہد پیش فرمائے ہیں۔
سورہ مزمل کی یہ آیات رسول اللہ ﷺ کو مخاطب کر تی ہیں۔ یہ نتیجہ نکالنا عقل و منطق کوقتل کیے بنا ممکن نہیں کہ کوئی شخص ایسا کلام بلا فہم بھی پڑھ سکتا ہے جو اس کی اپنی زبان میں ہو۔ رسول اللہ ﷺ جیسی ہستی سے متعلق یہ گمان کرنا کہ آپ نماز تھجد میں بلا فہم تلاوت قرآن فرماتے تھے (نعوذ باللہ) بڑی کوتاہی کی بات ہے۔ مجھے قوی امید ہے کہ مفتی صاحب اپنی اس فروگزاشت سے رجوع فرمائیں گے۔ اگلی آیت جو مفتی صاحب نے نقل فرمائی اس میں تو یہ بتایا جا رہا ہے کہ مومنوں کے دلوں پر اللہ کے ذکر سے کیا اثر پڑتا ہے۔پھر پوچھنا پڑے گا کہ وہ کون عرب تھے جو عربی کے الفاظ کا مفہوم جانے بغیر اتنی تاثیر لیا کرتے تھے؟ میرا تاثر ہے کہ ان آیات کو پڑھتے ہوئے مفتی صاحب کے سامنے آج کے دور کے عجمی سامعین ہیں ، جب کہ ان آیات میں نزول قرآن کے سامعین مذکور ہیں ورنہ مفتی صاحب یہ معکوس استنباط ہرگز نہ فرماتے۔ ہمارے ہاں قرآن مجید کی محض تلاوت سن کر بھی سامعین کی سماعتوں کو سرور حاصل ہوتا ہے مگر ان آیات کا اس کیفیت سرور سے کوئی تعلق نہیں۔ اس کا وہی مفہوم معتبر ہے جو اس کے نزول کے وقت سمجھا گیا۔ یعنی کلام مجید اپنے الفاظ اور مفہوم کے ساتھ لوگوں کے دلوں میں وہ مطلوبہ تاثر، ایمان اور خدا پر بھروسہ پیدا کرتا ہے جوانھیں کامل مومن بناتا ہے۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ قرآن مجید کا مقصد اس میں موجود خدا کے پیغام کو انسانیت کو پہنچانا ہے۔ کلام اللہ کی اصل اس کا عربی متن ہے جس کا کوئی نعم البدل نہیں، ترجمہ اور تفسیر اس کے مدعا کو سمجھنے میں معاون ہیں۔کلام اللہ کی تاثیر اس کے متن اور مفہوم دونوں کا اعجاز ہے۔ کثرت سے اس کی تلاوت تب ہی دلوں کو زنگ کو دور کرتی اور انسان کو خدا کا مطلوب بندہ بناتی ہے جب یہ معلوم ہو کیا خدابندے سے کیا فرما رہا ہے۔ اس کی بلا فہم تلاوت اورحفظ کرنا اور پھر اسے کافی بھی سمجھنااس عظیم کلام سے بے اعتنائی اور بے ادبی ہے۔ عہدِ رسالت میں قرآن مجید کاحفظ کرناانتظامی نوعیت کا معاملہ تھا۔ عرب لوگ اُمّی یعنی حروف ناآشنا تھے ان کے لیے قرآن مجید کی تلاوت اور حفاظت کا طریقہ یہی تھا کہ وہ اسے زبانی یاد کر لیں۔ حفظ قرآن کو مقصود بذات سمجھنا اور اس کے بلا فہم تلاوت و حفظ کے ساتھ ان تمام بشارتوں کو منسلک کرنا جو تلاوت و حفظِ قرآن کے لیے وارد ہوئی ہیں سوئے فہم ہے۔مسلم امت کی کثیر تعداد انھیں بے بنیادتاویلات کی بناپر قرآن فہمی کی طرف متوجہ ہونے کی ضرورت محسوس نہیں کرتی۔ قرآن مجید کے ساتھ یہ نادان دوستی قرآن مجید کے مقصد نزول کوعملاً معطل کرنے کی نامسعود کوشش ہے۔

اس تحریر كو شیئر كریں
Share on facebook
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on email
Dr Irfan Shehzad

Dr Irfan Shehzad

Dr Irfan Shehzad belongs to Rawalpindi, Pakistan. He holds a doctorate in Islamic Studies from National University of Modern Languages (NUML) Islamabad, Pakistan. He is working as a companion to Ghamidi Center of Islamic Learning Dallas, USA. He is an assistant research fellow with Al-Mawird Pakistan. He is the author of the book, “Qanoon-e-Itmam-e-Hujjat awr Us kay Itlaqaat: Janab Javed Ahmad Ghamidi ki Tawzihaat par Aetrazaat awr Ishkalaat ka Jaiza”, published by Almawrid Lahore Pakistan. Dr Irfan Shehzad writes and speaks on religious, social and sociopolitical issues. His articles are published in different scholarly journals including Ishraq, Lahore, Pakistan, Al-Shariah Gujranwala Pakistan and on social media.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *