مسلم خواتین کے پرد ہ کی حدود و قیود ایک معرکۃالآرا مباحثہ بناچلاآ رہا ہے۔خواتین کے حجاب کے مسئلے میں بہت افراط و تفریط برتی گئی ہے۔ اس سے بہت سے پیچیدہ قسم کے عملی نوعیت کے مسائل نے جنم لیا ہے۔ اہل مذہب کے ہاں رائج حجاب کا تصور اور اس کی عملی صورتوں میں وقت، ماحول اور کلچر کے فرق کے باوجوداہل علم کوئی لچک دکھانا خلاف اسلام بتاتے ہیں اور ان میں سے بعض حالتِ اضطرار کا عذر پیش کر کے کچھ گنجایش دیتے ہیں لیکن مثالی حالت وہی مانتے ہیں جو اس وقت مسلم سماجوں میں روایتی گھرانوں کی مسلم خواتین کے لیے رائج ہو چکی ہے۔ اہل مذہب کے ہاں، خاتون کے لباس کا محض ساتر ہونا کافی نہیں، بلکہ یہ ضروری ہے کہ وہ اس کی مکمل طور پر چھپا لے، خاتون کا گھر سے بلا ضرورت نکلنا بھی ممنوع ہے اور ضرورت کیا ہے یہ طے کرنے میں اہل مذہب کے مختلف اذواق نے مختلف آرا پیش کی ہیں۔ اکثر کے ہاں عصری علوم کے لیے خواتین کا نکلنا، سیر و تفریح اور شاپنگ کے لے جانا غیر شرعی عذر ہیں۔
ہم سمجھتے ہیں کہ قرآن مجید کے بیانات اور اسلوب کی روشنی میں اگر اس مسئلے کودیکھا جائے تو یہ نہایت سادہ، اجمالی اور فطری ہدایات پر مشتمل ہدایات ہیں، جن کا سکوپ آفاقی اور ہر دور اور ہر کلچر میں قابل عمل ہے۔ اضافی انسانی تفاصیل نے معاملے کی نوعیت کو غیر ضروری طور پر پیچیدہ بنا دیا ہے۔ قرآن کے بیانات کو کسی اضافی تفصیل کے بغیر سمجھا جائے تو نہ صرف وہ حجاب کےمعاملے میں کفایت کرتے ہیں بلکہ کسی اضطرار وغیرہ جیسے اعذار اختیار کیے بغیر خدا کے اس ابدی حکم پر عمل ہر ماحول اور کلچر میں ممکن بلکہ آسان بھی ہو جاتا ہے۔ ہم اس مسئلے پر قران مجید کی متعلقہ آیات کی روشنی میں قرآن مجیدکا مدعا قرآن کی سادہ بیانی کے ساتھ ہی پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
قرآن مجید میں بنیادی طور پر تین آیات خواتین کے پردے پر بات کرتی ہیں:
1. يَا نِسَاءَ النَّبِيِّ لَسْتُنَّ كَأَحَدٍ مِّنَ النِّسَاءِ إِنِ اتَّقَيْتُنَّ فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَيَطْمَعَ الَّذِي فِي قَلْبِهِ مَرَضٌ وَقُلْنَ قَوْلًا مَّعْرُوفًا وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَىٰ (سورہ الاحزاب، 33:33)
نبی کی بیویو، تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو۔اگر تم خدا سے ڈرو تو (اِن لوگوں کے ساتھ) نرمی کا لہجہ اختیار نہ کرو کہ جس کے دل میں بیماری ہے، وہ کسی طمع خام میں مبتلا ہو جائے اور معروف کے مطابق بات کرو۔تم اپنے گھروں میں ٹک کر رہو اور اگلی جاہلیت کی سی سج دھج نہ دکھاتی پھرو۔
2. يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُل لِّأَزْوَاجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِن جَلَابِيبِهِنَّ ذَٰلِكَ أَدْنَىٰ أَن يُعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ ۗ وَكَانَ اللَّـهُ غَفُورًا رَّحِيمًا (سورہ الاحزاب، 33:59)
(اِن اوباشوں کی شرارتوں سے اپنی حفاظت کے لیے)، اے نبی، تم اپنی بیویوں اور اپنی بیٹیوں اور سب مسلمانوں کی عورتوں کو ہدایت کر دو کہ (اندیشے کی جگہوں پر جائیں تو)اپنی چادروں میں سے کوئی بڑی چادر اپنے اوپر ڈال لیا کریں۔ اِس سے امکان ہے کہ الگ پہچانی جائیں گی تو ستائی نہ جائیں گی۔ اِس کے باوجود (کوئی خطا ہوئی تو) اللہ بخشنے والا ہے، اُس کی شفقت ابدی ہے۔
3. وَقُل لِّلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَىٰ جُيُوبِهِنَّ ۖ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا لِبُعُولَتِهِنَّ أَوْ آبَائِهِنَّ أَوْ آبَاءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ أَبْنَائِهِنَّ أَوْ أَبْنَاءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ إِخْوَانِهِنَّ أَوْ بَنِي إِخْوَانِهِنَّ أَوْ بَنِي أَخَوَاتِهِنَّ أَوْ نِسَائِهِنَّ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُنَّ أَوِ التَّابِعِينَ غَيْرِ أُولِي الْإِرْبَةِ مِنَ الرِّجَالِ أَوِ الطِّفْلِ الَّذِينَ لَمْ يَظْهَرُوا عَلَىٰ عَوْرَاتِ النِّسَاءِ ۖ وَلَا يَضْرِبْنَ بِأَرْجُلِهِنَّ لِيُعْلَمَ مَا يُخْفِينَ مِن زِينَتِهِنَّ ۚ وَتُوبُوا إِلَى اللَّـهِ جَمِيعًا أَيُّهَ الْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ (سورہ النور، 24:31)
پہلی آیت رسول اللہ ﷺ کی بیویوں کو مخاطب کرتی ہے۔ آیت کی ابتدا ان الفاظ سے ہوتی ہے کہ اے نبی کی بیویو، تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو۔ یعنی نبی کے گھرانے کی خواتین ہونےکے لحاظ سے ان کی سماجی پوزیشن زیادہ نزاکت کا تقاضا کرتی ہے، اس لیے ان کے لیے عام خواتین سے ہٹ کر کچھ احکام و ہدایات بتائی جانے والی ہیں۔
آیت کا تناظر اگر ملحوظ رہے تو بات سمجھنا آسان ہو جائے گا۔ سورہ احزاب اور سورہ النور سے معلوم ہوتا ہے کہ منافقین مدینہ، رسول اللہ ﷺ کے گھرانے میں کوئی سکینڈل تلاش کرنے اور بنانے کی مہم میں جتے ہوئے تھے۔ اسی کوشش میں وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا کا سکینڈل بنا بھی چکے تھے (نعوذ باللہ)۔ ان کے دل میں منافقت اور بدنیتی کا مرض تھا یہ رسو ل اللہ کے گھر میں بہانے بہانے سے گھستے تھے اور سکینڈل بنانے کے لیےموقع کی تلاش میں رہتے تھے۔
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلَّا أَن يُؤْذَنَ لَكُمْ إِلَىٰ طَعَامٍ غَيْرَ نَاظِرِينَ إِنَاهُ وَلَـٰكِنْ إِذَا دُعِيتُمْ فَادْخُلُوا فَإِذَا طَعِمْتُمْ فَانتَشِرُوا وَلَا مُسْتَأْنِسِينَ لِحَدِيثٍ ۚ إِنَّ ذَٰلِكُمْ كَانَ يُؤْذِي النَّبِيَّ فَيَسْتَحْيِي مِنكُمْ ۖ وَاللَّـهُ لَا يَسْتَحْيِي مِنَ الْحَقِّ ۚ وَإِذَا سَأَلْتُمُوهُنَّ مَتَاعًا فَاسْأَلُوهُنَّ مِن وَرَاءِ حِجَابٍ ۚ ذَٰلِكُمْ أَطْهَرُ لِقُلُوبِكُمْ وَقُلُوبِهِنَّ ۚ وَمَا كَانَ لَكُمْ أَن تُؤْذُوا رَسُولَ اللَّـهِ وَلَا أَن تَنكِحُوا أَزْوَاجَهُ مِن بَعْدِهِ أَبَدًا ۚ إِنَّ ذَٰلِكُمْ كَانَ عِندَ اللَّـهِ عَظِيمًا ﴿٥٣﴾ إِن تُبْدُوا شَيْئًا أَوْ تُخْفُوهُ فَإِنَّ اللَّـهَ كَانَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا ﴿٥٤﴾ (سورہ الاحزاب، 33:53-54)
یہ منافقین اپنی شرارتوں سے باز نہیں آرہے، اِس لیے) ایمان والو، تم اب نبی کے گھروں میں نہ جایا کرو، الاّ یہ کہ تم کو کسی کھانے پر آنے کی اجازت دی جائے، جب بھی اِس طرح کہ اُس کی تیاری کے منتظر نہ رہو۔ ہاں جب تم کو بلایا جائے تو (وقت کے وقت) داخل ہو، پھر جب کھانا کھا لو تو منتشر ہو جاؤ اور باتوں میں لگے ہوئے بیٹھے نہ رہو۔ اِس سے پیغمبر کو اذیت ہوتی ہے، مگر وہ تمھارا لحاظ کرتے ہیں اور اللہ حق بات کہنے میں کسی کا لحاظ نہیں کرتا۔ اور تمھیں جب نبی کی بیویوں سے کوئی چیز مانگنی ہو تو پردے کے پیچھے سے مانگو۔ یہ تمھارے دلوں کے لیے بھی زیادہ پاکیزہ طریقہ ہے اور اُن کے دلوں کے لیے بھی۔ تمھارے لیے جائز نہیں کہ تم اللہ کے رسول کو تکلیف پہنچاؤ اور نہ یہ جائز ہے کہ اُس کے بعد تم اُس کی بیویوں سے کبھی نکاح کرو۔ اللہ کے نزدیک یہ بڑی سنگین بات ہے۔
لَّئِن لَّمْ يَنتَهِ الْمُنَافِقُونَ وَالَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ وَالْمُرْجِفُونَ فِي الْمَدِينَةِ لَنُغْرِيَنَّكَ بِهِمْ ثُمَّ لَا يُجَاوِرُونَكَ فِيهَا إِلَّا قَلِيلًا مَّلْعُونِينَ أَيْنَمَا ثُقِفُوا أُخِذُوا وَقُتِّلُوا تَقْتِيلًا (سورہ الاحزاب، 33:60-61)
یہ منافقین اگر (اِس کے بعد بھی) اپنی حرکتوں سے باز نہ آئے اور وہ بھی جن کے دلوں میں بیماری ہے اور جو مدینہ میں لوگوں کو بھڑکانے کے لیے جھوٹ اڑانے والے ہیں تو ہم اُن پر تمھیں اکسا دیں گے، پھر وہ تمھارے ساتھ اِس شہر میں کم ہی رہنے پائیں گے۔
إِنَّ الَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ الْغَافِلَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ لُعِنُوا فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ (سورہ النور، 24:23)
بھولی بھالی، مومن عورتوں پر تہمتیں لگاتے ہیں، اُن پر دنیا اور آخرت، دونوں میں لعنت کی گئی اور اُن کے لیے بڑا عذاب ہے۔
وَمَا كَانَ لَكُمْ أَن تُؤْذُوا رَسُولَ اللَّـهِ وَلَا أَن تَنكِحُوا أَزْوَاجَهُ مِن بَعْدِهِ أَبَدًا ۚ إِنَّ ذَٰلِكُمْ كَانَ عِندَ اللَّـهِ عَظِيمًا ﴿٥٣﴾ إِن تُبْدُوا شَيْئًا أَوْ تُخْفُوهُ فَإِنَّ اللَّـهَ كَانَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا (سورہ الاحزاب، 33:53-54)
“یہ منافقین ہی تھے جو اپنے دلوں میں یہ ارمان بھی رکھتے تھے کہ آپ کی ازواج سے نکاح کریں تاکہ اس کو اللہ اور رسول کے خلاف فتنہ انگیزیوں کا ذریعہ بنائیں۔”(تدبر قرآن)۔ اسی بنا پر نبی کریم ﷺ کی ازواج کو تمام مومنین کی مائیں قرار دے دیا گیا۔ تاکہ منافقین کی ایسی کارروائیوں کی سد باب کیا جا سکے۔
ان کے خطرے کے سد باب کے لیےرسول اللہ ﷺ کی ازواج کو مخصوص ہدایات دی گئیں جو سورہ احزاب کی آیت 33 میں مذکور ہیں:
ترجمہ آیت 33
عام خواتین ان مخصوص ہدایات کے دائرے میں نہیں آتی، اس لیے یہ احکامات ان کے لیے نہیں ہیں۔ گھروں میں ٹھہری رہو، کے الفاظ سے تمام خواتین کے لیے کوئی ابدی ضابطہ بیان نہیں کیا جا رہا جیسا کہ اہل علم نے سمجھا ہے، یہ منافقین کی فتنہ پردازیوں سے بچنے کے لیے گروں سے باہر نہ نکلنے کی تلقین کی جا رہی ہے۔ ایسے ہی جیسے گھر سے باہر حالات اگر خراب ہوں، امن و امان کا خطرہ ہو تو حکومت شہریوں کو گھروں میں ٹھرے رہنے اور بلا ضرورت باہر نہ نکلنے کا اعلان کرتی ہے۔ اس سے خود یہ طے ہو جاتا ہے کہ یہ بندش کسی سبب ہے۔ سبب جب تک رہے گا بندش پر عمل کیا جائے گا، سبب موجود نہیں ہوگا تو حکم بھی نہیں رہے گا۔ یہی معاملہ ان آیات میں دی گئی ہدایت کا ہے۔ یہ ہدایات مر دو عورت کے دائرہ عمل کی تعین نہیں کر رہی کہ عورت کا اصلی ٹھکانہ گھر ہے اور مرد کے لیے باہر کا میدان۔ یہ پہلے سے طے شدہ خیال ہے جسے آیت کے ٹکڑے سے نکالنا اس کے سکوپ سے تجاوز ہے۔مرد وعورت کے سماجی دائرہ کار اجتماعی سطح پر سماج اور تمدن کی ضروریات طے کرتی ہیں۔ اسی طرح طرح ہر سماج میں ہمیشہ سے اجتماعی سماجی ڈھانچے کے برعکس انفرادی سطح پر افراد اور خاندان کی ضروریات مرد و عورت کے دائرہ کار کو مقرر کرتے ہیں۔ جسے استثنیات میں بیان کرنے کی روایت رہی ہے۔ اس استثنابیان کرنے کی ضرورت ہی نہین تھی اگر آیات حجات کو ان کے اسباب اور انسانی فطرت کے ساتھ ان کی ہم آہنگی کے تناظر مین سمجھا جاتا۔
البتہ ان سے نکلنے والی بصیرت اور سبق عام ہے۔ عام خواتین کو بھی اگر ایسے ہی حالات کا سامنا سے سابقہ پڑ جائے تو ان کو بھی ان ہدایات پر عمل کرنے کا مشورہ دیا جائے گا، بلکہ ان کی اپنی حیادار فطرت ایسی ہی احتیاطوں کا ان سے تقاضا کرے گی۔ حتی کہ حالات اس سے بھی زیادہ خراب ہوں تو اس سے بھی زیادہ احتیاط کرنا انسانی فطرت کا تقاضا ہوگا۔
آپ غور کریں تویہ بالکل فطری رہنمائی ہے ۔ ایسے حالات میں انسان کی حیا ایسے ہی طرز عمل کو درست سمجھتی ہے۔ رہنمائی اور پیشوائی کے منصب کی نزاکت خود بخود انسان کو یہ احساس دلاتی ہے اب اسے عام لوگوں سے زیادہ بلند اخلاق اور کردار کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ رہنماؤں کی معمولی سی غلطی سے بھی ان کا سکینڈل بنا دیا جاتا ہے۔ لوگوں کو ان کے خانگی معاملات میں بھی دلچسپی زیادہ ہوتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے گھرانے کو بھی ایسی ہی نازک صورت حال کا سامنا کر نا پڑ رہا تھا، اس لیے ایسے احکامات رسول اللہ ﷺ کی ازواج کے لیے نازل ہونا ضروری اور نہایت مناسب تھا۔ان ہدایات سے البتہ کسی عام ضابطے کا ستنباط نہیں ہوتا ہر خاتون کے لیے جسے ہر حال میں کوئی کوڈ آف کنڈکٹ بنا دیا جائے۔ ایسا سمجھنا قران کے مقصود سے تجاوز ہوگا۔اسی بنا پر ہم یہ بھی کہ سکتے ہیں کہ صورتِ حا ل اگر اطمینان بخش ہو، تو اتنی احتیاطوں کی ضرورت نہیں ہے۔ ہمیں معلوم ہے کہ خود قرآن میں یہ مذکور ہے کہ عمر رسیدہ خواتین کو حجاب میں سہولت دی گئی ہے:
آیت:
قرآن مجید میں عام مسلم خواتین کے لیے پردے کے احکامات دو طرح کےہیں:
1. گھر اور محفل میں غیر مردوں سے اختلاط کی صورت میں
2. گھر سے باہر اجنبی مردوں اور اندیشے کی صورت حال میں
سورہ النور کی آیت 31 گھر اور محافل میں مردو خواتین کی موجودگی پر مبنی پردے کی ہدایت پر مبنی ہے اور سورہ احزاب کی آیت 59 خواتین کے گھر سے باہر نکلنے اوباشوں کے ضرر سے بچنے کے لیے پردے کی کیفیت پر بات کرتی ہے۔
سورہ نور میں کہا گیا ہے کہ گھروں میں یا محفل میں غیر مردوں سے اختلاط کے موقع پر خواتین اپنی نگاہوں اور اپنی عصمت کی حفاظت کا خیال رکھیں اور اپنی زینت بناؤ سنگھار وغیرہ چھپا کر رکھیں، اس کے لیے سینے اور گریبان کو ڈھانپ کر رکھیں، اس میں ان اعضا کی زینتوں کو کھلے رہنے کی اجازت دی گئی جو عموما اور جبلتا کھلے رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ بجنے والے زیور سے آوازیں پیدا نہ کریں جو مردوں کو متوجہ کرے۔ یہاں قابل توجہ بات یہ ہے کہ صرف یہ نہیں کہا گیا کہ جو اعضا کھلے رہتے ہیں ان کا اسثنا حاصل ہے۔ بلکہ یہ کہا جا رہا ہے کہ جو زینتیں عموما کھلی رہتی ہیں ان کو استثنا حاصل ہے۔ یعنی بناؤ سنگھار کے ساتھ جن زینتوں کو عمومااور جلبۃ کھلا رہنے دیا جاتا ہے ان کو استثنا حاصل ہے۔ یہ طے کرنا کسی بھی متمدن کلچر کے لیے کوئی مشکل بات نہیں کہ اس سے ہاتھ پاؤں، چہرے وغیرہ کی زینت مراد ہے۔ اس کے علاوہ کی زینت کو نامحرم مردوں سے چھپانے کا حکم دیا گیا ہے۔ یعنی سینہ اور گریبان جس پر چادر یا دوپٹہ وغیرہ سے ڈالنے کا ایک عام طریقہ بتایا گیا ہے۔ اس کے لیے البتہ کوئی اور طریقہ بھی اختیار کیا جا سکتا ہے جیسا کہ خواتین کرتی بھی ہیں۔یہیں سے چہرے کے پردے کا مسئلہ بھی حل ہو جاتا ہے۔ قرآن نے جن زینتوں کو چھپانے کا حکم دیا ہے وہ واضح ہے، اس میں چہرے کو چھپانے کا حکم موجود نہیں ہے۔ چنانچہ مرد و خواتین کے اسی اختلاط میں اس سے آگے مردوں کی ذمہ داری شروع ہو جاتی ہے کہ وہ اپنی نگاہوں کی حفاظت کریں:
قُل لِّلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ ذَٰلِكَ أَزْكَىٰ لَهُمْ إِنَّ اللَّـهَ خَبِيرٌ بِمَا يَصْنَعُونَ (سورہ النور، 24:30)
آیت 31 میں الا ما ظھر منھا کا ترجمہ وہ جو ظاہر ہو جائے، نہیں ہو سکتا،یعنی جیسا کہ بعض مفسرین نے بیان کیا ہے کہ کام کاج کے دوران ہاتھ سر وغیرہ کی زیب و زینت ظاہر ہو جائے، وہ مستثنا ہے، آیت کے الفاظ اس مفہوم کو ادا نہیں کرتے۔ اس کے لیے ما یظھر منھا ہونا چاہیے تھا، یہاں ما ظھر منھا ہے جو کھلے یاظاہر ہوں کے مفہوم پر دلالت کرتا ہے۔
یہ ایک زندہ معاشرے کے مسائل ہیں جہاں مردوں اور عورتوں کے آمنا سامنا ہونے کے امکان کو بالکلیہ ختم کرنے جیسے غیر فطری رجحان کی بجائے، ایسے ناگزیر مواقع پر درست طرز عمل سکھایاگیا ہے۔ قرآن مجید کو اس کی آفاقی تعلیمات ہی آفاقی کتاب بناتی ہیں۔ یہ کتاب کسی ایک مخصوص کلچر کی ترجمان نہیں۔ اسی لیے یہ ایسے معاملات میں ایک ایک تفصیل پیش نہیں کرتی بلکہ عمومی احکامات دے کر اطلاقی دائرہ کار انسانی عقل و فطرت اور اس کی حیا چھوڑ دیتی ہے۔
اب تیسری آیت دیکھیے۔ یہ نبی کریم ﷺ کی بیویوں،آپؐ کی بیٹیوں اور پھر تمام مومنین کی خواتین سے مخاطب ہے۔آیت کا تناظر سمجھ لینا ضروری ہے۔ مدینہ کے منافقین جیسا کہ پیشتر بتایا گیا ، مسلم خواتین کو چھیڑنے، تہمت لگانے اور سکینڈلز بنانے کے درپے تھے۔خواتین جو باہر نکلتیں، یہ انھیں تنگ کرتے، پھر جب پوچھ گچھ ہوتی تو کہہ دیتے کہ ہم تو سمجھے کوئی لونڈی ہے، ہم اس سے کوئی بات پوچھ رہے تھے۔ ایسے میں مسلم خواتین سے کہا گیا کہ اپنے گھونگھٹ نکال کر نکلیں تاکہ معلوم ہو جائے کہ شریف خاندان کی ہیں اور کوئی انھیں چھیڑنےکی جرات نہ کرے، اور اگر کرے تو بھگتنے کے لیے تیار رہے۔ خواتین کو ہراساں کرنے کی یہ حرکت ظاہر ہے تب ہی ممکن تھی جب ان کے ساتھ کوئی مرد نہ ہوتا تھا۔ گھر سے باہر نکلتے وقت پردے میں یہ اضافی احتیاط کی وجہ ظاہر ہے، کہ اوباشوں پر یہ واضح ہو جائے کہ یہ خاتون اپنی عزت و عصمت کی حفاظت کرنا چاہتی ہے اور کوئی کمزوری دکھانے پر راضی نہیں، نیز اسے اپنے خاندان کا تحفظ حاصل ہے۔ پردے میں یہ اضافی فیصلہ ان اوباشوں کی ایذا رسانی کے سد باب کے لیے کیاگیاتھا۔ اب یہی ہدایت عام خواتین کو اسی طرح دی جائے گی وہ اندیشے کی جگہ پر پردے کا زیادہ اہتمام کریں۔ بلکہ باحیا خواتین کی اپنی فطرت اس کا تقاضا کرتی ہے کہ جب وہ اکیلی کسی ایسے اندیشے کی جگہ سے گزریں تو خود ان میں احساس پیدا ہوتا ہے کہ وہ اپنے پردے کو زیادہ بہتر بنالیں۔ کچھ زیادہ ڈھانپ لیں۔ اس کا یہ بھی مطلب ہے کہ جب انھیں ایسا اندیشہ نہ ہو وہ غیر مردوں کی موجودگی میں بھی اگر اپنے اعتماد کے ماحول میں ہوں، تو ان کے لیے یہ ضروری نہیں وہ پردے میں بتائی گئی اضافی ہدایت پر بھی تب عمل کریں۔ اس صورت میں سورہ نو ر کی آیت کا اطلاق ہوگا کہ وہ اپنی نگاہوں اور عصمت کی حفاظت کے لیے حساسیت کا مظاہرہ کریں۔ آپ غور کریں تو عملا باحیا خواتین ایسے ہی کرتی ہیں۔ وہ اضافی پردہ اپنے اعتماد کے ماحول میں نرم کر لیتی ہیں۔ ہمارے فہم کے مطابق اس آیت کا مقصود یہی ہے۔ یہ بالکل فطری حکم ہے۔ عورت کی حیا اور اس کی فطرت اس کا تقاضا کرتی ہے۔
پردے کو اپنے اوپر لٹکانے سے چہرے چھپانے کا مفہوم نہیں نکلتا۔ چہرے ضمنی طور پر چھپ جاتا ہے، لیکن آیت میں اس سے مقصود ان کی پہچان کرانا ہے کہ یہ شریف خاندان کی خواتین ہیں نہ کہ ان کی شناخت چھپانا۔ اس مقصد کے لیے پردہ لٹکانا ہی ضروری نہیں، بلکہ کوئی بھی ایسا طریقہ اختیار کیا جا سکتا ہے جو خاتون کے شریف اور باحیا ہونے کا تاثر قائم کردے۔ اور یہ ہر کلچر کے مطابق مختلف ہو سکتا ہے۔ عرب کے اس وقت کے کلچر میں اس حکم پر عمل کے لیے کچھ خواتین نے ایک آنکھ کھول کر چہرے ڈھانپنے کا انداز اپنایا تھا، ان کو یہ مخصوص ہیئت اختیار کرنے کا حکم رسول اللہ ﷺ نے نہیں دیا تھا بلکہ ان کی عقل و فطرت نے اپنے زمانے کے کلچر کے مطابق اسے اپنا لیا تھا۔ اس سے اسی مخصوص ہیئت کا ہر دور کی خواتین کے عمل لازم نہیں آتا۔ آیت سے مقصود دفع شر ہے نہ کہ کسی مخصوص ہیئت کے اپنانے کا حکم۔
اس آیت میں پردے کے لیے کسی مخصوص لباس یا انداز کے اختیار کا معاملہ زیر بحث نہیں ہے، پردے کا وہ مطلوبہ معیار جو دیکھنے والے کو یہ احساس دلا دے کہ یہ عورت باحیا ہے، کافی ہے، اس مقصد کے لیے کسی ایک مخصوص ڈریس کوڈ کی تخصیص غیر ضروری چیز ہے۔ یہ بالکل غلط ہوگا کہ مثلا پاکستان کے شمالی علاقوں میں پائے جانے والے قبائلی تمدن میں خواتین کے پردے کےمخصوص لباس برقع وغیرہ کوساری دنیا کی خواتین کے لیے مثالی قرار دے دیا جائے۔ اس کا فیصلہ انسان کے کلچر میں پائے جانے والے حیا کے تقاضے اورعورت کا اپنےپردے کے ذریعے حاصل ہونے والا احساس تحفظ کرے گا کہ وہ کس قسم کے کپڑوں میں اپنی حیا کا تحفظ پاتی ہے۔
ہم اپنے کلچر کا جائزہ لیں تو ہمارے ہاں معاملہ اور بھی مخدوش ہے۔ ہمارے ہاں خاتون کا گھر سے باہر جانے کے لیے اس کامکمل ڈھکا ہونا بھی کافی نہیں، عموماً ہم ایک مرد کو بھی اس کے ساتھ بھیجنا ضروری سمجھتے ہیں کہ ہمارے ہاں کے اوباشوں کو خواتین کا پردہ بھی ان کو ہراساں کرنے سے نہیں روک سکتا۔ اس کے سد باب کے لیے ہمارے کلچر نے یہ طے کیا کہ خاتون کے پردے کے علاوہ ایک مرد کا اس کے ساتھ ہونا بھی ضروری ہے۔ یہ اضافی امر کیسے پیدا ہو گیا؟ قرآن میں تو اس کا حکم نہیں؟ اس اضافی امر کو ہمارے احساس حیا نے اسی طرح پیدا کیا ، جیسے اس وقت مدینہ کے اوباشوں کی شرارتوں کے سد باب کے لیے اکیلی خواتین کے باہر جانے کے لیے اضافی پردے کا حکم دیاگیا۔ جس طرح ہم ایسے مواقع پر جب اندیشہ نہ ہو، خواتین کو بغیر مرد ہمراہ کیے بھی بھیج دیتے ہیں، ایسے ہی اندیشہ نہ ہو تو اضافی پردے کی بھی ضرورت نہیں رہتی۔ رہی یہ بات کہ ایسی صورت حال میں مرد، خواتین پر بری نگاہ ڈالتے ہیں تو معلوم ہونا چاہیے کہ اس معاملے میں قرآن مجید نے صرف اخلاقی ہدایت دی ہے کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھو، اور یہ ہدایت مرد اور عورت دونوں کو برابر دی ہیں۔ فتنے کے جس اندیشے سے بچانے کے لیے عورت کو ہمہ وقت پردے میں رہنے کا کہا جاتا ہے، غور کیجیے تو وہی فتنہ عورت کو مرد کے بے پردہ گھومنے سے بھی لاحق ہوتا ہے۔اس کا کوئی حل اس کے سوا نہیں کہ دونوں کو اپنی اخلاقی حدود کے بارے میں حساس کیا جائے نہ یہ کہ عورت کو ڈبے میں بند کر دیا جائے اور مرد مرد ہونے کا فائدہ اٹھاتے ہوئےآزاد گھومتا رہے۔
ہمارے ہاں ہوا یہ ہے کہ گھر سے باہرخاتون کے اضافی پردے کو گھر کے اندر پر اسی طرح نافذ کرا دیا گیا جب کہ اندیشے کا کوئی سوال بھی موجود نہ ہو۔اس طرح خواتین کو غیر ضروری بلکہ غیر فطری قسم کے پردے میں مبتلا کر دیا گیا اور تکلیف مالا یطاق دی گئی۔ خواتین کی ذہن سازی تو کر دی گئی جس سے سے وہ اس ناروا پابندی کی یک گونا عادی ہوگئیں مگر ہے یہ زیادتی جس کا کوئی حکم خدا نے نہیں دیا، خدا کے حکم پر اضافے کرنا بہت بڑی جرات ہے جس پر مواخذہ ہو سکتاہے۔
ہمارے ہاں استثنائی واقعات کو بنیاد بنا کر عمومی ضابطے تشکیل دینے کا غیر منطقی رجحان بھی خاصا رائج ہے۔ پردے کی ان تمام صورتوں پر عمل پیرا ہو کر بھی یہ ممکن نہیں کہ مر د اور عورت کے درمیان کسی غلط کاری کے امکانات کو ختم کیا جا سکے۔ استثنائی واقعات تو محرم رشتوں میں غلط کاریوں تک پھیلے ہوئے ہیں تو کیا یہ ممکن ہے کہ اب خواتین کا اپنے محرم مردوں سے بھی پردہ کر ا دیا جائے۔ ضابطے، کلیے اور قوانین عمومی رجحانات کو مد نظر رکھ کر ہی بنائے جاتے ہیں اور قرآن مجید میں بھی یہی کیاگیا ہے۔ ۔ اللہ تعالی نےدنیا آزمایش کے لیے بنائی گئی ہے، کوئی ایسے ضابطے یا قوانین نہیں بنائے جا سکتے جو یہ رجحان ظاہر کریں کہ انسان اس آزمایش سے ہی فرار چاہتا ہے۔ مردو خواتین کے اختلاط پر جس طرح ہمارے ہاں نکیر کی جاتی ہے، اور مطالبہ کیا جاتا ہے کہ مثلا خواتین گھروں میں ٹک کر بیٹھی رہیں اور بلا کسی ناگزیر مجبوری کے گھر سے باہر قدم نہ رکھیں، یا یہ کہ تعلمی اداروں میں ان کے کمرہ جماعت ہی نہیں ، ان کے کیمپش بھی علیحدہ ہوں، خود ساختہ پابندیاں ہیں۔
اوباشوں کی حرکتوں کی بنا پر اضافی پردے کے حکم کو گھر کے اندر کے نامحرم رشتہ داروں یا واقف کاروں پر بھی لاگو قرار دے دیا گیا احالانکہ گھرروالوں، گھر کے مردوں، بزرگوں کی موجودگی میں یہاں عموما کوئی اماکن نہیں ہوگا یہ خاتون کو کوئی ہراساں کر پاے گا، کوئی چھیڑ خانی ہو پاگی۔ استثنائی واقعات کا البتہ ہو سکتے ہیں اور ان پر کوئی ضابطہ نہیں بنایا جاتا تا۔
یہ تو تھا مسلم شرفا کی خواتین کو اپنے عزت و وقار کے لیے مناسب اقدامات کرنا دوسری طرف منافقین کی حرکتین لونڈیوں کو تنگ کرنے والی تو جاری تھیں، اس پرہ وارننگ سنائی گئی کہ
لَئِنْ لَمْ يَنْتَهِ الْمُنافِقُونَ وَالَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ وَالْمُرْجِفُونَ فِي الْمَدِينَةِ لَنُغْرِيَنَّكَ بِهِمْ ثُمَّ لا يُجاوِرُونَكَ فِيها إِلاَّ قَلِيلاً َلْعُونِينَ أَيْنَما ثُقِفُوا أُخِذُوا وَقُتِّلُوا تَقْتِيلاً سُنَّةَ اللَّهِ فِي الَّذِينَ خَلَوْا مِنْ قَبْلُ وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللَّهِ تَبْدِيلاً (سورہ الاحزاب، 33:60-62)
اسلام نے یہ طے کر کے نہیں دیا کہ قرآن کا دائرہ کار کیاہے۔ سماج میں وہ کیا کر سکتی ہے کیا نہیں یہ سراسر سماج اور کلچر اور اس کی ضروریات ہیں جو اس کا کردار متعین کرتی ہیں،
عام مفسرین نے گھونگھٹ نکالنا کو اجنبی مردوں کے لیے رواکیا، جب کہ قران میں یہ اوباشوں کی حرکتوں کے سد باب کے لیے آیاہے۔ گھونگھٹ نکالنے کو چہرے چھپانے کے لیے مخصوص کرنے کی بھی کوئی وجہ نہین۔ اور ایک آنکھ والا مسئلہ اس دور میں کچھ خواتین کا اختیار کردہ طریقہ تھا نہ کہ اللہ یا اور اس کے رسول اسیا ڈریس کوڈ متعارف کروایا تھا۔

اس تحریر كو شیئر كریں
Share on facebook
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on email
Dr Irfan Shehzad

Dr Irfan Shehzad

Dr Irfan Shehzad belongs to Rawalpindi, Pakistan. He holds a doctorate in Islamic Studies from National University of Modern Languages (NUML) Islamabad, Pakistan. He is working as a companion to Ghamidi Center of Islamic Learning Dallas, USA. He is an assistant research fellow with Al-Mawird Pakistan. He is the author of the book, “Qanoon-e-Itmam-e-Hujjat awr Us kay Itlaqaat: Janab Javed Ahmad Ghamidi ki Tawzihaat par Aetrazaat awr Ishkalaat ka Jaiza”, published by Almawrid Lahore Pakistan. Dr Irfan Shehzad writes and speaks on religious, social and sociopolitical issues. His articles are published in different scholarly journals including Ishraq, Lahore, Pakistan, Al-Shariah Gujranwala Pakistan and on social media.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *