اٹھتے ہیں حجاب آخر قسط 1

شعور کےسفر میں اب میں اس مرحلے میں ہوں کہ اب کوئی شخصیت متاثر نہیں کرتی، تحریر اور تقریر کا حسن مرعوب نہیں کرتا۔ صدف کی خوب صورتی میں کھو کر گوہر سے صرف نظر نہیں کرپاتا۔ بات میں وزن، علم میں دلیل اور دلیل کا استدلال پرکھنے کے بعد ہی کوئی فیصلہ کرتا ہوں۔ میں نے اپنی یہ تربیت خود کی لیکن یہ میرے آسان نہ تھی۔ میں اصل میں اس سے بہت حد تک برعکس واقع ہوا تھا۔
ہمارے معاشرے میں فکری جبر تو بچپن سے ہی شروع ہو جاتا ہے، سوال پر پابندی، سوالوں کو شیطانی وساوس قرار دے کر، بنا جواب دیے ان کو دبا دینا عام وتیرہ ہے۔ دینی مدرسہ ہو یا جدید تعلیم کی یونیورسٹیاں یا تحقیق کے اعلی مراکز، سب کا حال یہ ہے کہ ان میں حصول علم کے لیے داخلے اور حصول ملازمت کی پہلی شرط ہی یہ ہوتی ہے کہ آپ اپنی مرضی کا نظریہ اور عقیدہ نہیں رکھ سکتے اور اگر رکھتے ہیں تو اس کا اظہار کرنا جرم ہے۔ آپ کے لیے اپنے ادارے کا اختیار کردہ یا اس ادارے پر تسلط رکھنے والے مسلکی اور جماعتی نظریے اور عقیدے کو اپنانا ہوگا، ورنہ آپ کو داخلہ اور ملازمت، اوّل تو کوئی دے گا نہیں، اور اگر قسمت سے ایسا ہو بھی جائے تو جلد ہی نکال باہر کیا جائے گا، یا آپ سے مسلسل اچھوتوں جیسا سلوک ہوگا، امتیازی رویہ برتا جائے گا، آپ کو بار بار تنبیہ اور سرزنش کی جاتی رہے گی یہاں تک کہ آپ اپنے ضمیر کا گلہ گھونٹ کر اتھارٹی کے ہمنوا بن جائیں یا ملازمت قربان کر دیں یا ادارہ بدری قبول کر لیں۔
لا اکراہ فی الدین کے پرچارکوں کا یہ رویہ مسیحؑ کے وقت کے متعصب فریسیوں اور فقہیوں سے بالکل بھی مختلف نہیں، جنھوں نے اپنی علمی آمریت کی سان پر مسیحؑ کو اپنی طرف سے قربان کر دینے سے بھی دریغ نہیں کیا تھا۔ ابھی ہمارے معاشرے سے ازمنہ مظلمہ کا دور لدا نہیں۔ ذہنی اور شعوری طور پر ابھی ہم ایک نابالغ قوم ہیں اور اس پر ہمارے یہاں شرمندگی کی بجائے جاہلانہ فخر بھی پایا جاتا ہے۔ مزید المیہ یہ ہے کہ تعلیمی ادارے، خواہ دینی ہوں یا جدید تعلیم کے، اس نابالغ پن کی ترویج پوری شد و مد سے کرتے ہیں، کہیں کوئی شعوری جراثیم محسوس ہو جائیں، اس طالب علم کو نکّو بنا کر رکھ دیا جاتا ہے، اسے غدار، بے دین، گستاخ، ایجنٹ اور نہ جانے کیا کچھ قرار دے دیا جاتا ہے، امتحانات میں اس سے امتیازی سلوک کیا جاتا ہے۔ بلکہ ایسا طالب علم بھی اس رویے کا شکار ہوتا ہے جو اپنے استاد کی علمی اور ذہنی استعداد سے بلند سوال پوچھنے کی جرات کر ڈالے یا اس سے مختلف بات اس کے دلائل کے باوجود اپنائے رکھے۔
اپنے مسلک کے دائرے میں محدود رہنا، اپنے زیرِ قبضہ اداروں کو اپنے مسلک اور جماعت کے نظرے کے حصار میں رکھنا دراصل ایک بے اعتماد اور خوف زدہ نفسیات کی علامت ہے۔ ذکی کیفی نے کیا خوب کہا تھا:
نہ ہو کفر مقابل تو لطف ایماں کیا
لیکن یہاں حال یہ ہے کہ اختلاف کی ہلکی پھلکی پھونکوں سے ‘چراغ حق’ ٹمٹانے لگتے ہیں، اور ابراہیمؑ کے مخالف پروہتوں والی چیخ و پکار شروع ہو جاتی ہے کہ“اگر کچھ کرنے کا ارادہ ہے تو اِس کو آگ میں جلا دو اور اپنے ‘معبودوں’ کی مدد کرو۔”
شخصیت پرستی ہمارا قومی وتیرہ ہے اور المیہ بھی۔ میرا علمی سفر بھی شخصیت پرستی سے ہی شروع ہوا تھا۔ میرا ہر استاد میرا ہیرو تھا، گُرو تھا، عقیدت کا مرکز تھا، جس کی زبان، حق ترجمان تھی، حرفِ آخر تھی، لیکن پھر رفتہ رفتہ ایک ایک کر کے ان کی علمیت اور عظمت کے بت ان کی علمی اور اخلاقی کمزوریوں اور میرے لگاتار کے غور و فکر کی عادت کی وجہ سے ایک ایک کر کے ٹوٹتے چلے گئے۔
اسی زمانے میں میں نے یہ ٹوٹا پھوٹا شعر کہا تھا:
کتنے عظمت کے مینارے میرے سامنے ٹوٹ گئے
جو کبھی دِکھتے تھے مجھ کو آسمانوں کی طرح
دین ایمان اور عمل کا معیار اور بنیاد اگر کوئی شخصیت ہو تو اس شخصیت سے بھروسہ اٹھتے ہی آدمی دین و ایمان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔
شخصیات کے بتوں کی ٹوٹ پھوٹ جب شروع ہوئی تو میں نے احمقانہ تاویلات کر کر کے خود کو کچھ عرصہ بے وقوف بنانے کی کوشش بھی کی، لیکن کب تک؟ آخر میں نے اپنے ایمان اور عمل کی بنیاد شخصیت کو بنانے کی بجائے دلیل کو بنا لیا اور شخصیات کو خیر باد کہ دیا۔ میں اپنے فہم کے مطابق دلیل کے ساتھ معاملات کو سمجھنے کی کوشش کرنے لگا۔
شخصیات کی طرح ہی موٹی موٹی اصطلاحات کو بھی میں نے بت ہی پایا جو فہم میں رکاوٹ ڈالتی ہیں، اور حقیقت کو دھندلا دیتی ہیں۔ درست استدلال اور درست فہم کے لیے مجھے بہت کچھ علم بھلانا بھی پڑا۔ وہ کہتے ہیں نا:
True Learning is unlearning
چنانچہ بہت کچھ علم کو دامن سے جھاڑا، بہت سے اصولوں اور مسلمات کی بھاری بھرکم گھٹڑیاں سر سے اتاریں کہ عقل و فہم کو آزادی سے سوچنے کا راستہ مل سکے۔
لیکن یہ سب آسان نہیں تھا۔ اس سفر میں ایسی بہت سی باتیں، ایسے بہت سے اصول اور ایسی بہت سی شخصیات تھیں جو مجھے بے حد عزیز تھے، جن کی محبت اور تاثر میں میں نے اپنی عمر کے رومانوی دور کے حسین پل بتائے تھے۔ ان سب کو چھوڑنا، ان سب میں غلطی کے امکان کو تسلیم کرنا ان کی باتوں اور اقدامات کو بھی تنقید کی چھلنی سے گزارنا آسان نہیں تھا۔ بڑی تکلیف سے گزرنا پڑا۔ ایسا لگتا تھا جیسے صحرا میں اکیلا بے سہارا کھڑا رہ گیا ہوں۔ سر سے سایہ اور پاؤں سے زمین چھن گئی تھی۔ خود کو علمی اور فکری طور پر یتیم محسوس کرتا تھا۔
بہرحال، سہاروں کی بیساکھیاں تج دینے کے بعد، جب علم و فہم کے نئے سفر پر نکلا تو اس بار تہیہ یہ کیا کہ صرف عقل و فہم اور دلیل کا زاد راہ ساتھ رکھوں گا تاکہ اگر ٹھوکر بھی کھائی تو الزام کسی اور کو نہیں خود ہی کو دوں گا۔
ہم سب کے انگلی پکڑ کر چلنے کی ایک عمر ہوتی ہے۔ کون کب انگلی چھوڑ کر اپنے قدموں پر چلنا شروع کر دے، اس کا انحصار ہر انسان کے اپنے اوپر ہے، لیکن یہاں کوئی انگلی چھوڑتا ہے نہ کوئی چھوڑنے دیتا ہے۔ چنانچہ بہت سے لوگوں کی ساری عمر میں بلوغت کا یہ مرحلہ کبھی آتا ہی نہیں۔

اس تحریر كو شیئر كریں
Share on facebook
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on email
Dr Irfan Shehzad

Dr Irfan Shehzad

Dr Irfan Shehzad belongs to Rawalpindi, Pakistan. He holds a doctorate in Islamic Studies from National University of Modern Languages (NUML) Islamabad, Pakistan. He is working as a companion to Ghamidi Center of Islamic Learning Dallas, USA. He is an assistant research fellow with Al-Mawird Pakistan. He is the author of the book, “Qanoon-e-Itmam-e-Hujjat awr Us kay Itlaqaat: Janab Javed Ahmad Ghamidi ki Tawzihaat par Aetrazaat awr Ishkalaat ka Jaiza”, published by Almawrid Lahore Pakistan. Dr Irfan Shehzad writes and speaks on religious, social and sociopolitical issues. His articles are published in different scholarly journals including Ishraq, Lahore, Pakistan, Al-Shariah Gujranwala Pakistan and on social media.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *