زیر ِنظرمضمون امریکی مورخ، کارلٹن جے ایچ ہیز (Carlton J H Hayes, 1882-1964) کے مضمون، Nationalism as a Religion کے ماڈل کو سامنے رکھ کر لکھا گیا ہے۔
کارلٹن تصورپہلےقومیت کا حامی تھا، پھر اس کے خیالات اس تصور کے بارے میں مکمل طور پر تبدیل ہو گئے۔ اپنے دور میں قومیت کے نام پر برپا ہونے والی دو عظیم جنگوں کی تباہ کاریاں بھی اس کے سامنے تھیں۔ اس نے قومیت کے تصور میں موجود منفیت اور مقامیت کا ادراک کیا اور اس کے نہایت شان دار تجزیے پیش کیے۔ اس نے قومیت کو تاریخِ انسانی کی بدترین برائیوں میں سے ایک شمار کیا۔
۔۔۔۔۔۔۔
قومیت کا تعارف:
اپنے خاندان اور قبیلے کے ساتھ تعلق اور عصبیت کا احساس قدیم اور فطری احساس ہے، لیکن یہ تصور کہ ایک خاص جغرافیہ میں رہایش پذیر انسانوں کا گروہ اپنے چند سماجی اور تاریخی مشترکات کی بنا پر ایک قوم ہے جن پر حقِ حکم رانی ان کے ہم قوم کو ہی حاصل ہے، نیز یہ ایک مقدس تصور ہے، جس کی خاطر انسانی جان سمیت کوئی بھی قربانی دی اور لی جا سکتی ہے اور دوسروں انسانوں کی جان و مال کو پامال کیا جا سکتا ہے، قومیت کے نظریے کی بنیاد ہے۔ اس نظریے نے قومی ریاستوں کو وجود بخشا ہے۔ اس نظریے کی اہمیت مذھبی عقیدہ جیسی ہے۔ اس پر ایمان لانا ایک شہری کی وفادار کی لازمی شرط گردانا کیا گیا ہے۔
1. مذھب اور مذھبیت:
انسان مذھب چھوڑ سکتا ہے لیکن مذھبی حس اور رویہ اس کو نہیں چھوڑتا۔ یہ مذھبی حس یا رویہ اعتقادات اور مقدسات کا طالب ہے جن کی خاطر انسان اپنی جان، مال، اولاد سب قربان کر سکے۔ اگر مذھبی اعتقادات نہ ملیں تو انسان اپنے جیسے انسانوں کے وضع کردہ نظریات اور فلسفوں کے ساتھ ایسی عقیدت اور جذباتیت وابستہ پیدا کر لیتا ہے جس کے نتیجے میں ویسے ہی مظاہر سامنے آتے ہیں جیسے مذھبی اعتقادات کے ساتھ وابستگی کی صورت میں نظر آتے ہیں۔
مسیحیت جب یورپ میں وارد ہوئی تو اس نے بت پرستی کے قدیم رومی مذھب کوتبدیل تو کیا لیکن قدیم مذھبی تصورات، اعتقادات اور ان سے متعلق مقدس سمجھی جانے والی رسوم و رواج اور آداب کو اس نے اپنے اندر سمو لیا تھا۔ اگلے مرحلے میں کیتھولزم پر پروٹسٹین ازم کے ذریعے سے اعتراضات اور اصلاحات کا دروازہ کھلا، لیکن فرد کی مذھبی حس اور رویے میں اب بھی کوئی تبدیلی نہ آئی۔ یہ مذھبی حس اور رویہ اب پروٹسٹین ازم میں در آیا اور جذباتی وابستگیوں کےمذھبی نوعیت رکھنے والےمظاہرے یہاں بھی دیکھنے کو ملے۔
اٹھارہویں صدی کے یورپ میں تشکیک کا دور دورہ ہوا۔ لوگوں نے مذھب کو چیلنج کر دیا۔ مسیحیت کے عقائد کو عقل و منطق کی کسوٹی پر پرکھ کر رد کیا جانے لگا۔ مذھب کے ساتھ وابستہ اعتقادات اور عقیدتیں ماند پڑنے لگیں، لیکن مذھبی حس کے مظاہر فرد سے پھر بھی جدا نہ ہوئے۔ یہ عقیدتیں اب تصورِ فطرت، سائنس، عقل اور انسانیت سے متعلق انسانی فلسفوں کی پجاری اور فدائی بن گئیں۔ مذھب کا رنگ ہلکا ہو رہا تھا مگر مذھبی عقیدتوں کی عادت اب بھی گہری تھی جس نے اپنی تسکین کے لیے انسان ساختہ فلسفیانہ نظریات کو خدا بنا کر انھیں پوجنا شروع کر دیا؛ ان کی تبلیغ اور دفاع میں وہی جذباتیت پائی گئی جو مذھب کے لیے پائی جاتی تھی۔
یہی وہ دور تھا جب فرد کی مذھبی حس اور رویہ قومی ریاست کے ساتھ بھی وابستہ ہوگیا۔ مذھبی عقیدوں اور عقیدتوں کا مذھب سے منتقل ہو کر انسان کے وضع کردہ فلسفوں کے ساتھ وابستہ ہو جانے کا یہ رجحان اٹھارہویں صدی کی خصوصیت ہے۔ انسان ساختہ خدا حسّی تھے جن کی پوجا کرنے اور ان کی خاطر قربانیاں دینے کا نقد اور مادی فائدہ ملتا نظر آتا تھا، اپنے لیے نہیں تو اپنوں کے لیے۔
2. انقلاب فرانس اور مذھب قومیت کی تشکیل:
انقلابِ فرانس نے قومیت کو مذھب بنانے مین اہم کردار ادا کیا۔ ایبے رینل (Abbe Raynal) لکھتا ہے کہ ریاست، مذھب کے لیے نہیں ہے، بلکہ مذھب، ریاست کے لیے ہے۔ (غور کیجیے تو مولانا مودودی کے فلسفہءِ سیاست و حکومت کا ڈاکٹرائین بھی یہی ہے۔ ان کے نزدیک بھی دین کا مطمحِ نظر ایک اسلامی ریاست کا قیام ہے۔ گویا ان کے ہاں بھی دین، ریاست کے قیام کا ذریعہ ہے۔ انیسویں صدی میں قومیت کا جو صور پھونکا گیا مولانا مودودی کے ہاں وہ مذھبی اسلوب میں ملتا ہے۔) انقلاب فرانس کے اس دور میں کیتھولزم اور نیشلزم کے درمیان جنگ چھڑ گئی۔ سول کانسٹیٹیوشن آف کلرجی (1790) پاس ہوا جس کے مطابق وہی پادری گرجے میں اپنے مذھبی فرائض انجام دے سکتے تھے جو ریاست کے آئین کو تسلیم کریں۔ ملکی آئین کا انکار کرنے والوں پرعرصہ حیات تنگ کر دیا گیا۔ مقتدرہ کو دوسرے انسانوں پر جبر کرنے اور اس کی جان لینے کا آئینی حق اور اختیارحاصل ہو گیا۔ یوں قومیت کے نام پر اس جبر نے قومیت کو ایک مکمل مذھبی روپ دے دیا۔
1791 میں فرانس کا آئین منظور ہوا۔ جس نے اسے ماننے سے انکار کیا، اسے آئین کا منکر قرار دے دیا گیا۔ فرانس کا آئین جب منظور ہوا تو ایک تقریب منعقد کی گئی۔ وزراء آئین کے “مقدس” صحیفے کو اپنے سر اور سینے پر رکھ کر ایک جلوس کی صورت میں نکلے۔ وہ آئین کی تقدیس میں سرجھکائے، ادب و احترام سے آہستہ آہستہ سے چل رہے تھے، جب کہ راستے میں کھڑے دیگر افسران نےاحتراما اپنےسروں سے ٹوپیاں اتار لیں۔ یہ سب مسیحی مذھبی رسومات تھیں جو اب آئین کی تقدیس کے ساتھ وابستہ کر دی گئیں تھیں۔
3. قومیت کو مذھب بنانے کے لیے مزید اقدامات:
قومیت اور اس کی بنا پر قومی ریاست کے ساتھ وفاداری کے تصور کو مکمل مذھب بنانے کے لیے مزید اقدامات کیے گئے۔ مذھب کے ساتھ وابستہ دیگر مذھبی مظاہر، جیسے بتسمہ دینا یا اسلام میں کلمہ شھادت ادا کرنے کے طرز پر قومی ریاست سے وفادار رہنے کا حلف آ گیا۔ اسی بنا پر کسی دوسری قومیت میں داخل کرنے سے پہلے فرد سے آئین کی وفاداری کا حلف لیا جاتا ہے؛ پھر مذھب سے انحراف کرنے کی جسارت کو ارتداد قرار دینے کے اصول پر قومیت کے اس تصور سے انحراف کو غداری قرار دےدیا گیا، جس کی انتہائی سزا، ارتداد کی سزا کی طرح موت مقرر کی گئی؛ بچے کے پیدا ہوتے ہی جیسے اس کے مذھب کا فیصلہ کر دیا جاتا ہے اور اس کا باقاعدہ اندراج کرایا جاتا ہے؛ اسی طرز پر اس کی قومیت کا فیصلہ بھی پیدایش کے ساتھ ہی کر دیا جاتا ہے اور اس کا بھی اندراج کرایا جاتا ہے، چرچ اور مسجد جیسی مذھبی عمارات کے طرز پر قومی عمارتوں کی یادگاریں وجود میں لائی گئیں؛ مذھبی مظاہر کی طرح قومیت کے اظہار کے مظاہر مقرر کیے گئے،مثلاً، قومی جھنڈا اور قومی دن کی علامات مقرر کی گئیں؛ قومی مظاہر کی تقدیس کے اظہار کے لیے مذھب کی طرز پر مخصوص آداب اور اوقات بھی وضع کیے گئے، مثلا قومی ترانہ بجتے وقت یا جھنڈا بلند کرتے وقت باادب کھڑا ہونا، سلیوٹ کرنا، سینے پر ہاتھ رکھنا اور خاموش رہنا وغیرہ؛ خدا کی حمد کی جگہ قومی ترانے اور حج جیسی مرکزی مذھبی رسمِ عبادت کے طرز پر قومی اجتماعات اور ان کے لیے مخصوص دن مقرر کیے گئے؛ مذھبی شعار کی بے حرمتی کے تصور پر قیاس کرتے ہوئے قومی شعار کی بے حرمتی بھی توہین کی طرح سخت قابل سزا جرم قرار پایا؛ مذھبی تہواروں کی طرح قومی دن منانے کی رسم کی طرح بھی ڈالی گئی؛ مذھب کی مقدس ہستیوں، رسولوں اور مذھبی بزرگوں کی طرح قومی ہیرو ز کی تقدیس اور احترام بھی فرد پر واجب قرار پایا۔ ان قومی ہستیوں پر تنقید بھی توہین قرار پائی جسے قابل سزا قرار دیا گیا؛ مذھبی خطبات کی طرز پر قومی خطبات جاری کرنے کا سلسلہ شروع ہوا۔ یہ قومی خطبات سیاسی اور فوجی زعما دیتے اور مذھبی خطبا کی طرح ہی عقل و منطق سے ہٹ کر محض جذبات کو اپیل کرتے اور لوگوں کا خون گرماتے۔ پوری ریاست قومیت کے خدا کی عبادت گاہ بنا دی گئی۔ جس طرح مسجد میں غیر قوم کے لوگ مسلمانوں کی اجازت کے بنا داخل نہیں ہو سکتے، اسی طرح دوسری قوم کے لوگ دوسرے قومی خدا کے پیروکار سمجھے جاتے ہیں جو کسی دوسرے ملک میں اس ملک کے لوگوں کی اجازت کے بنا داخل نہیں ہو سکتے۔ یہ دوسری قومیت کے لوگ غیر اور اجنبی سمجھے جاتے ہیں جن کو اپنے قومی خدا کے چرنوں میں قربان کرنا پڑے تو کسی اخلاقی اصول کا سوال پیدا کیے بغیر بے دریغ قربان کر دینا چاہیے۔ مذھبی کتاب کی جگہ آئین نے لے لی۔ تقدیس میں اس کا درجہ وہی ہے جو قرآن یا بائبل کا ہے۔ اس میں قومیت کی تعریف اور تعیین درج کر دی جاتی ہے اور اس کے معیار پر افراد کو ریاست کا کافر یا مومن تصور کیا جاتا ہے۔ آئین کے فہم میں باہم اختلاف بھی ہو جاتا ہے، ایسے ہی جیسے قران مجید یا بائبل کے متن کے فہم میں ہو جاتا ہے، لیکن اس کی تقدیس اٹل اور متفقہ ہی سمجھی جاتی ہے۔قومیت کے تفاخر میں جان دے دینا ایسا ہی مقدس تصور کرایا جاتا ہےجیسے مذھب کی خاطر شھید ہونا اور قومیت کی خاطر مرنے والے کو شھادت کا نام بھی مذھب سے ہی لے کر دیا گیا ہے۔ یوں قومیت کا تصور اپنے تمام تر لوازمات کے ساتھ ایک مکمل اور متوازی مذھب بن گیا۔
قومیت ریاست کو خدا مان کر لوگ اس کے ساتھ ایک رفاقت اور سرشاری محسوس کرتے ہیں، اسے اپنا محافظ داتا اور رحم کرنے والا سمجھتے ہیں، اس کی خوش نودی حاصل کرنے کی کوشش کرتے اور اس کی ناراضی سے ڈرتے ہیں۔ اس کے ظلم پر بھی خاموش رہتے اور دوسروں کو اس کی تلقین کرتے ہیں کہ کہیں اس کی توہین نہ ہو جائے۔ “دھرتی ماں” اور” ریاست ہو گی ماں جیسی” جیسے تصورات اسی کا نتیجہ ہیں۔ ہمارے ہاں ریاست کو ماں یا دیوی سمجھنے کے پیچھے برصغیر میں خدا کے تصور میں دیویوں کا قدیم تصور کا پایا جاناہے ۔
قومی ریاست کی سرحدوں کی ابدیت کا تصور بھی مذھب قومیت کے اسی تصور کا ایک خاصہ ہے، جو ملکوں کی تاریک میں پہلے کبھی پایا نہیں گیا۔ قومیت نے انسانوں کو تقسیم کر دیا۔ دنیا میں ان کی آزادانہ نقل و حرکت پر پابندی لگا دی۔
قومیت کا مذھب نہ صرف انسانی عقیدت اور جذبات بلکہ عقل و منطق کو بھی اپنا غلام بنا لیتا ہے۔ عقلِ عیار اس خود غرض تصور کے لیے تاویلات گھڑتی ہے، ایسے ہی جیسے مذھبی متکلمین مذھب کا دفاع کرنے کے لیے عقلی دلائل تلاشتے اور تراشتے ہیں۔
قومیت کے بت کی تقدیس کو قائم رکھنے کے لیے قوم کی تاریخ کو بھی تقدس کا لبادہ پہنایا جاتا ہے۔ قومی کوتاہیوں کو منہا کر کے تاریخ ایسے انداز میں پڑھائی جاتی ہے کہ وہ معصوم ہستیو ں کی تاریخ کی طرح خطا سے پاک مقدس تاریخ بن جاتی ہے، جس پر یقین کرنا ایمان لانے جیسا لازم سمجھا جاتا ہے اور اس پر سوال اٹھانا غداری سمجھا جاتا ہے جیسے مذھب پر سوال اٹھانا کفر گردانا جاتا ہے۔ تعلیمی نصاب سازی بھی تصور قومیت کے نقطہ نظر سے کی جاتی ہے کہ کوئی ایسے حقائق اس میں شامل نہ ہو جو قومیت کے مذھب یا اپنی قومیت کی تقدیس پر فرد کے یقین کو متزلزل کر دے۔ مزید یہ کہ عوامی شہرت رکھنے والی غیر مستند مذھبی روایات کی طرز پرقومیت کے اس تصور پر مبنی غیر مستند روحانی اور غیر روحانی روایات بھی گھڑی جاتی ہیں جنھیں عوام میں پھیلایا جاتا ہے بلکہ خواب و مکاشفات کی پوری دیو مالا اس کے لیے مرتب کی جاتی ہے۔
قومی حق حکم رانی کے تصور کو مقدس بنانے اور اس کی بقا کے لیے اپنا سب کچھ قربان کر دینے، اس کی بنیاد پر اپنی جان دینے اور دوسروں کی جان لینے کو قومی بیانیے کے طور پر بچپن سے ہی بچوں کے اذہان میں ڈال کر ان کی ذہن سازی کی جاتی ہے۔ میڈیا اور صحافت کو اس کا پابند کیا جاتا ہے کہ وہ قومیت کے خلاف کچھ نہیں لکھ سکتے ورنہ سزا اور جرمانہ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
تصور قومیت کی مذھبی تشکیل کے بعد سے افرادقومیت کے بت پر مسلسل قربان ہو رہے ہیں اور دوسرے انسانوں کو محض اس وجہ سے نفرت یا حقارت سے دیکھتے ہیں کہ وہ ان کے ہم قوم نہیں ہیں۔ محض اس بنا پر اپنے ملک کی کم معیاری یا غیر معیاری اشیا اور ادویات خرید لیتے، یا اپنی فرسودہ روایات پر بھی فخر کرتے ہیں کہ اس سے ان کی قومیت کا اظہار ہوتا ہے۔
قومیت کے مذھب کا یہ کارنامہ ہے کہ اس نے بغیر کسی ما بعد الطبیعیاتی تصور اور آخرت میں ابدی انعامات کے حصول کی یقین دہانی کے فرد سے اس کی جان سمیت ہر قربانی محض قومی تفاخر کے نام پر مانگی ہے اور وہ یہ دینے کے لیے تیار بھی ہے۔
4. اسلام کی آفاقیت اور قومیت:
یہاں، قومیت کے اس تصور کے تناظر اور تقابل میں اسلام کا نقطہ نظر پیش کیا جاتا ہے:
4.1. اخوت:
اسلام اہل ایمان کو باہمی طور پر اخوت کے رشتے میں پروتا ہے۔ اخوت ایک غیر سیاسی تصور ہے۔ یہ خیر خواہی، ہمدری اور بھائی چارہ کا تصور ہے:
{إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ فَأَصْلِحُوا بَيْنَ أَخَوَيْكُمْ وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُون} [الحجرات: 10]
محو بالا آیت کے سلسلہ کلام میں ہی اللہ تعالی مسلمانوں کو ایک دوسرے کے بارے میں تحقیر آمیز خیالات اور القابات رکھنے سے منع کرتا ہے:
{يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ عَسَى أَنْ يَكُونُوا خَيْرًا مِنْهُمْ وَلَا نِسَاءٌ مِنْ نِسَاءٍ عَسَى أَنْ يَكُنَّ خَيْرًا مِنْهُنَّ وَلَا تَلْمِزُوا أَنْفُسَكُمْ وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوقُ بَعْدَ الْإِيمَانِ وَمَنْ لَمْ يَتُبْ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ وَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا يَغْتَبْ بَعْضُكُمْ بَعْضًا أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتًا فَكَرِهْتُمُوهُ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ تَوَّابٌ رَحِيمٌ} [الحجرات: 12،11]
پھر انسانیت کو برابری کا سبق دیتا ہے اور یوں اپنی نسل اور قومیت کی خود ساختہ بنیاد پر تفاخر کی جڑ کاٹ دیتا ہے:
{يَاأَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُمْ مِنْ ذَكَرٍ وَأُنْثَى وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِير} [الحجرات: 13]
قرآن مجید میرٹ کی بنیاد تقوی اور کردار کو بناتا ہے۔ انسانیت کی فلاح کے لیے یہ بالکل درست تصورات ہیں، جن کو انسان کی عقل اور فطرت نہ صرف تسلیم کرتی ہے بلکہ اس کا تقاضا کرتی ہے۔ آفاقیت اور بھائی چارے کا یہ وہ درس ہے جسے قرآن مجید اپنے ماننے والوں کو پہلے مرحلے پر دے دیتا ہے۔ اس کے بعد ان کے لیے کوئی وجہ نہیں رہتی کہ وہ قومیت سمیت کسی بھی ایسے فلسفسے اور نظریے کا شکار ہو جائیں تو انسانوں کو محض مختلف شناخت رکھنے کی وجہ سے نفرت سکھاتا اور تقسیم کرتا ہے۔
اخوت کے تصور میں مسلم قومیت کا کوئی عنصر نہیں پایا جاتا جس کے تحت دنیا بھر کے مسلمانوں کو غیر مسلموں کے مقابل ایک سیاسی اکائی کے طور پر باور کراکے ان کا عالم گیر اجتماعی نظام حکومت وضع کرنے کا خیال پیدا کیا جا سکے۔ یہ انیسویں صدی میں مغرب کے قومیت کے سیاسی تصور کے ردعمل میں مسلم زعما کے ذہن میں پیدا ہونے والا خیال تھا جسے انھوں نے قرآن سے بھی اخذ کرنے کی کوشش کی۔ یہ قرآن مجید تو اخذ نہیں ہو پایا۔ اس کے لیے حزب اللہ اور حزب الشیطان جیسی قرآنی اصطلاحات سے مدعا وصول کرنے کی کوشش کی گئی لیکن یہ نکتہ آفرینی تھی۔ قرآن میں اس قسم کی تمام تقسیمات اس وقت کے مسلمانوں کے مقابل ان کے معاندین سے متعلق ایک سرگزشت کی حیثیت سے بیان ہوئی ہیں جن میں خدا کی مداخلت کے زندہ ثبوت مہیا کر کے ایک طرف اہل ایمان کا ایمان مضبوط کیا گیا ہے اور دوسری طرف دنیا میں برپا ہونے والی جزا و سزا کا نمونہ قائم کر کے آخرت کی عدالت پر متنبہ کیا گیا ہے۔ یہ تقسیم مومن اور کافر کی تقسیم تھی، مسلم اور معاند کی تقسیم تھی نہ مسلم اور غیر مسلم کی۔ یعنی جو بھی غیر مسلم ہے وہ اب حزب الشیطن ہے جس کے مقابل تمام مومن حزب اللہ ہیں،یہ استنباط کسی طرح بھی درست نہ تھا۔ قران میں یہ مسلم قومیت بطور سیاسی اکائی زیر بحث کہیں نہیں آیا۔
اس کے لیے بنیاد البتہ مسلم تاریخ سے اٹھائی گئی۔ بنو امیہ، بنو عباس اور سلطنت عثمانیہ کے دور خلافت میں تاریخی حقیقت کے طورپر دنیاکے ایک حصے پر مسلمانوں کو جو سیاسی غلبہ قائم رہا اس کو مسلم نفسیات میں مسلم قومیت کے عنوان سے تشکیل دے کر اخوت کو مسلم قومیت کے سیاسی تصور میں ڈھال دیا گیا۔ یہ خلط مبحث تھا۔ یہ کوئی دینی حکم نہ تھا۔ اخوت کے قرآنی تصور سے بھی اس کا کوئی تعلق نہیں۔ نیز ہم جانتے ہیں کہ خود خلافت کے دعوی داروں میں ایک سیاسی رقابت نے انھیں کس کس طرح انھیں ایک دوسرے کے خلاف بربریت اور جارحیت پر ابھارا۔ یہ خونی واقعات تاریخ کا حصہ ہیں۔ بہرحال مسلم قومیت کا سیاسی تصور قرآن مجید کے لیے اجنبی تصور ہے۔ مسلمانوں کا آپس کا تعلق اخوت کا ہے جو کہ ایک غیر سیاسی تصور ہے۔
یہ البتہ مسلمانوں کی خواہش ہوسکتی ہے کہ ان کا ایک عالم گیر نظم اجتماعی ہو۔ اس خواہش کی تکمیل کے لیے جدوجہد کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں لیکن یہ ملحوظ رہنا چاہیے کہ اس کا بہرحال دین اور اس کے تقاضوں سے کوئی تعلق نہیں۔ نیز یہ ملحوظ رہنا چاہیے کہ اگر مسلمان خود کو غیر مسلموں کے مقابل ایک سیاسی بلاک کی صورت میں پیش کرتے ہیں تو اس سے دین کی دعوت کی روح متاثر ہوگی۔ دنیا دو دھڑوں میں تقسیم ہو جائے گی۔ سیاسی رقابت دین کے پیغام اور اس کی دعوت پر کان دھرنے کی اجازت نہیں د ے گی۔ تو جس خواہش کا دین نے کوئی مطالبہ نہ کیا ہو، اس کی تکمیل سے اگر دین کی دعوت ہی متاثر ہو جائے تو اس کی تکمیل کی خواہش کیسے درست قرار دی جاسکتی ہے۔
اس بحث کا کوئی تعلق مسلم حکومتوں کے قیام سے نہیں ہے۔یہ مسلمانوں کے اپنے مقامی حالات ہیں جن کے تحت اگر وہ کسی علاقے میں برسر اقتدار آ جاتے ہیں تو دین ان پر لازم قرار دیتا ہے کہ مسلم اجتماعیت سے متعلق دین کے احکامات پر بھی عمل کرتے ہوئے وہ اچھے مسلمان ہونے کا ثبوت دیں۔
4.2. عصبیت:
دوسرا نکتہ یہ ہے کہ تصورِ قومیت اعلٰی آفاقی اخلاقیات سے عاری، عصبیت ہی کی ایک شکل ہے۔ قومیت، عصبیت کی طرح حق و ناحق نہیں دیکھتی، بلکہ ہر حال میں اپنی قوم کا ساتھ دینے کو واجب قرار دیتی ہے۔ جب کہ دین نے ہمیں یہ ہدایت دی ہے:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوَّامِينَ بِالْقِسْطِ شُهَدَاءَ لِلَّـهِ وَلَوْ عَلَىٰ أَنفُسِكُمْ أَوِ الْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ ۚ إِن يَكُنْ غَنِيًّا أَوْ فَقِيرًا فَاللَّـهُ أَوْلَىٰ بِهِمَا ۖ فَلَا تَتَّبِعُوا الْهَوَىٰ أَن تَعْدِلُوا ۚ وَإِن تَلْوُوا أَوْ تُعْرِضُوا فَإِنَّ اللَّـهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرًا ( سورۃ النساء، 4:135)
ایمان والو، انصاف پر قائم رہو، اللہ کے لیے اُس کی گواہی دیتے ہوئے، اگرچہ یہ گواہی خود تمھاری ذات، تمھارے ماں باپ اور تمھارے قرابت مندوں کے خلاف ہی پڑے۔ امیر ہو یا غریب، اللہ ہی دونوں کا زیادہ حق دار ہے(کہ اُس کے قانون کی پابندی کی جائے)۔ اِس لیے (اللہ کی ہدایت کو چھوڑ کر) تم خواہشوں کی پیروی نہ کرو کہ اِس کے نتیجے میں حق سے ہٹ جاؤ اور (یاد رکھو کہ) اگر (حق و انصاف کی بات کو) بگاڑنے یا (اُس سے) پہلو بچانے کی کوشش کرو گےتواُس کی سزا لازماً پاؤ گے، اِس لیے کہ جو کچھ تم کرتے ہو، اللہ اُس سے خوب واقف ہے۔
چناں چہ کسی دوسری قوم سے تنازع کی صورت میں اپنی حمایت کا فیصلہ اخلاقی اصولوں کی روشنی میں حق اور ناحق کو دیکھ کر کیا جائے گا۔ اپنی قوم حق پر ہوگی تو اس کی حمایت کی جائے گی ورنہ نہیں۔اخلاقی اصولوں کو پامال کر کے اپنی قوم کی ہر حال میں حمایت کرنا عصبیت ہے ۔ اس پر رسول اللہ ﷺ کے ارشاد ہے:
“جو شخص اپنی قوم کی ناحق مدد کرتا ہے وہ اس اونٹ کے مانند ہے جو کنویں میں گرگیا اوراس کی دم پکڑ کر اس کو نکالا جائے۔” (ابوداوٴد ۲/۶۹۸، مشکوة/۴۱۸۔)
4.2.1. میرٹ کی بنیاد اہلیت ہے نہ کہ عصبیت:
حکم رانی سمیت ہر منصب ایک امانت ہے اور یہ اسی کے حوالے کیا جائے جس میں اس کی اہلیت ہو قطع نظر اس کے کہ وہ ہم قوم ، ہم نسل اورہم مذھب ہے یا نہیں۔
{إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَى أَهْلِهَا وَإِذَا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ أَنْ تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ إِنَّ اللَّهَ نِعِمَّا يَعِظُكُمْ بِهِ إِنَّ اللَّهَ كَانَ سَمِيعًا بَصِيرًا} [النساء: 58]
اہلیت پر نسل اور قوم کو ترجیح دینا عصبیت ہے اور قومیت یہی سکھاتی ہے۔ اس کی اسلام میں کوئی گنجایش نہیں۔
4.3. انسانی جان لینے کی تین جائز صورتیں:
انسانی جان لینے اور دینے کی صرف تین صورتیں اللہ تعالی نے قرآن مجید میں بیان کی ہیں۔ پہلی دو صورتوں کے بیان یہ ہے:
{مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ كَتَبْنَا عَلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ أَنَّهُ مَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِي الْأَرْضِ فَكَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيعًا وَمَنْ أَحْيَاهَا فَكَأَنَّمَا أَحْيَا النَّاسَ جَمِيعًا وَلَقَدْ جَاءَتْهُمْ رُسُلُنَا بِالْبَيِّنَاتِ ثُمَّ إِنَّ كَثِيرًا مِنْهُمْ بَعْدَ ذَلِكَ فِي الْأَرْضِ لَمُسْرِفُونَ} [المائدة: 32]
تیسری صورت جہاد میں انسانی جان کی قربانی ہے۔جسے شھادت کا درجہ دیا گیا:
{إِنَّ اللَّهَ اشْتَرَى مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنْفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَيَقْتُلُونَ وَيُقْتَلُونَ وَعْدًا عَلَيْهِ حَقًّا فِي التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ وَالْقُرْآنِ وَمَنْ أَوْفَى بِعَهْدِهِ مِنَ اللَّهِ فَاسْتَبْشِرُوا بِبَيْعِكُمُ الَّذِي بَايَعْتُمْ بِهِ وَذَلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ } [التوبة: 111]
شھادت کا معیار رسول اللہ ﷺنے طے کر دیا ہے:
“ابوموسیٰ اشعری کا بیان ہے کہ ایک شخص حضور کی خدمت میں حاضر ہوا اور پوچھا کہ کوئی مالِ غنیمت حاصل کرنے کے لیے لڑتا ہے ،کوئی شہرت اور ناموری کے لیے لڑتا ہے،کوئی اپنی بہادری دکھانے کے لیے لڑتا ہے، فرمائیے کہ ان میں سے کس کی لڑائی اللہ کی راہ میں ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ اللہ کی راہ میں لڑائی تو صرف اس کی ہے جو محض اللہ کا بول بالا کرنے کے لیے میدان میں اترے۔ “(بخاری ،رقم 2810)
اسی طرح اپنے اور اپنے لوگوں کے جان، مال اور آبرو کے دفاع میں دینے کوبھی شھادت قرار دیا ہے:
مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ، وَمَنْ قُتِلَ دُونَ أَهْلِهِ، أَوْ دُونَ دَمِهِ، أَوْ دُونَ دِينِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ» سنن أبي داود (4/ 246) [حكم الألباني] : صحيح
ان کے علاوہ کسی انسان ساختہ فلسفے اور نظریے کے لیے جان دینے کو اصطلاحی طور پر شھید نہیں کہا جا سکتا۔ یہ انسانی جان کو ضائع کرنا ہے ۔ محاورۃ کہنا الگ بات ہے۔ قومیت کی خاطر جان دینا بھی اسی زمرے میں آتا ہے۔ دفاع کا معاملہ الگ ہے وہ فطری حق ہے لیکن محض قومی تفاخر کے لیے دوسرے کی جان لینا اور اپنی جان درحقیقت عصبیت کے لیے لڑنا مرنا ہے۔ اس پر رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے:
“وہ ہم میں سے نہیں جس نے عصبیت کی دعوت دی، وہ ہم میں سے نہیں جس نے عصبیت کی خاطر قتال کیا اور وہ ہم میں سے نہیں وہ جو عصبیت کی حالت میں مرگیا۔”(ابوداوٴد، مشکوة/۴۱۸)
اختتامیہ:
قومیت خدا کے دین کے ساتھ ایک متوازی دین ہے۔ جس طرح اللہ کے نام کے علاوہ کسی اور کے نام پر ایک جانور کی قربانی شرک اور گناہ ہے، اس طرح اللہ کے دین کے علاوہ اور انسان لینے کے دینی ضوابط کے علاوہ کسی اور نظریے کے نام پر انسانی جان کی قربانی مانگنا یا کسی دوسرے انسان کا قتل اس کی بنا پر کرنا حرام اور شرک ہے۔
قومیت ایک ایسا مذھب ہے کہ الہامی مذاھب کو ماننے والوں کے درمیان یا ایک الہامی مذھب کے مختلف فرقوں کے درمیان اگر نفرت اور چپقلش بھی پائی جاتی ہو تو قومیت کے مذھب میں آ کر وہ سب متحد ہو جاتے ہیں۔
“قومیت بطور مذھب کشادہ دلی یا عدل کا کوئی تصور پیدا نہیں کرتی۔ یہ مغرورہے، متواضع نہیں۔ یہ انسانی اہداف کو عالم گیر نہیں ہونے دیتی۔ یہ کہتی ہے کہ دنیا میں بس یہود یا یونانی ہونے چاہیں، فرق صرف یہ ہے کہ یہ مختلف قسم کے یہودی اور یونانی اب ہرجگہ موجود ہیں۔ قومی ریاست قبائلی عصبیت کا دوسرا نام ہے جس میں خود غرضی، خاص طرح کی جہالت اور جابر قسم کا عدم برداشت اور جنگی رجحان پایا جاتا ہے۔ قومیت امن نہیں جنگ کی خوگر ہے اور ہم اس سے آگے دیکھنے کی تجویز آپ کے سامنے رکھتے ہیں۔”

اس تحریر كو شیئر كریں
Share on facebook
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on email
Dr Irfan Shehzad

Dr Irfan Shehzad

Dr Irfan Shehzad belongs to Rawalpindi, Pakistan. He holds a doctorate in Islamic Studies from National University of Modern Languages (NUML) Islamabad, Pakistan. He is working as a companion to Ghamidi Center of Islamic Learning Dallas, USA. He is an assistant research fellow with Al-Mawird Pakistan. He is the author of the book, “Qanoon-e-Itmam-e-Hujjat awr Us kay Itlaqaat: Janab Javed Ahmad Ghamidi ki Tawzihaat par Aetrazaat awr Ishkalaat ka Jaiza”, published by Almawrid Lahore Pakistan. Dr Irfan Shehzad writes and speaks on religious, social and sociopolitical issues. His articles are published in different scholarly journals including Ishraq, Lahore, Pakistan, Al-Shariah Gujranwala Pakistan and on social media.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *