اٹھتے ہیں حجاب آخر قسط 2

بریلویت
میرا سفر بریلویت کے سادہ اور پرجوش ماحول سے شروع ہوا، جہاں عوام کا جذبہ ایمانی ایک پر لطف چیز ہوا کرتا تھا۔ آج بھی میرا حال یہ ہے کہ علمی طور پر بریلویت سے بہت دور ہو جانے کے بعد بھی، کسی بریلوی مسجد میں نماز پڑھوں تو سکون کی کیفیت زیادہ پاتا ہوں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہاں عوامی سطح پر عقیدت کے نام پر عقل و فہم کی قربانی پہلا مطالبہ ہے۔علمی سطح پر عقائد اور بدعات کے معاملے میں منطقی داؤ پیچ اور محتمل اور کمزور روایات سے استدلال مبلغ علم ہے۔ کم علم متصوفین کی مضبوط روایت کے زیرِ اثر یہاں دین ایک تخیلاتی چیز بن کر رہ گیا ہے، ایک دیو مالا ہے، جو دلچسپ افسانون کا مجموعہ ہے۔
سیرت نبوی کے بیان کا مطلب محض معجزات اور مافوق الفطرت واقعات کا بیان ہے۔ اس مذھب میں رسول اللہ ﷺ قابل تقلید نمونہ نہیں رہتے، ایک ایسی ہستی بن جاتے ہیں جن سے صرف عقیدت رکھی جا سکتی ہے، ان کے اسوہ پر عمل کرنے کی جرات نہیں کی جا سکتی۔ ان کی محبت و عشق دنیا و آخرت کی فلاح اور نجات کے لیے کافی سمجھا جاتا ہے۔عشق ِرسول کے دعوی کے بعد کوئی گناہ، کوئی بد اخلاقی ایسی نہیں جو آپ کی نجات کی راہ میں حائل ہو سکے۔ شریعت، مسائل، اعمال و اخلاق کی حیثیت ثانوی ہی نہیں بلکہ محض اضافی ہے۔ اس خاص تصور عشق کی ترجمانی علما سے زیادہ کم علم خطبا اور خانقاہی سجادہ نشینوں کے ہاتھ میں ہے۔ عشق رسول دوسروں سے نفرت کا ذریعہ بنا دیا گیاہے۔ جو اس خاص قسم کی کیفیت عشق میں مبتلا نہیں وہ گستاخ ہے۔ اس کے زور پر لوگوں لوگوں کے ایمان اور کفر کے فیصلے کیے جاتے ہیں ۔ لوگوں کی تقاریر اور تحاریر سے ڈھونڈ ڈھونڈ کر الفاظ و جملے نکال کر ان پر گستاخی کا اطلاق کر دیا جاتا ہے۔ عدالتیں سر بازار لگائی جاتی ہیں اور فیصلے چوک و چوراہوں پر صادر ہوتے ہیں۔ان کے مستند علما کی آواز نقار خانے میں طوطی کی آواز بن کر رہ گئی ہے۔ بریلویت علما کے ہاتھوں سےنکل چکی ہے۔
بریلویت میں خدا کی حیثیت ثانونی ہے، اصل مرکز و محور رسول اللہ ﷺ کی ذات ہے، جن کے لیے یہ سارا کارخانہء عالم وجود میں لایا گیا۔ جب قرآن مجید سے شعوری سطح پر میری آشنائی ہوئی تو معلوم ہوا کہ یہاں تو سارا معاملہ ہی الٹ ہے۔ بریلویت میں خدا اور نبی کا تعلق بندے اور آقا کا نہیں، عاشق اور محبوب کا ہے۔ خدا اپنے محبوب کی رضامندی کے حصول میں اس ہر بات ماننے کو تیار ہے اور نبی اپنی امتیوں کی محبت میں اس کے گناہگاہوں کو بخشوانے سے کم پر راضی ہونے کو تیار نہیں۔
قرآن مجید اس کے بالکل برعکس ہر چیز کا مرکز و محور خدا کو بتاتا ہے۔ ہر چیز اسی کی ہے، اسی کے لیے ہے اور اسی کے گرد گھومتی ہے۔ خدا کے لیے اس کا دین سب سے اہم ہے، جس کی تبلیغ اور جس پر عمل کرانے میں کسی نبی اور رسول کی طرف سےکوئی کمی ،کوتاہی قابل تحمل نہیں۔ فورا ڈانٹ دیا جاتاہے۔ بتایا جاتا ہے کہ نبی اپنی طرف سے کوئی بات کہہ دے تو اس کی رگ جاں کاٹ ڈالی جاتی۔ وہ بیویوں کی دلداری کے لیے کسی چیزکو خود پر حرام کر دے تو باز پرس ہو جاتی ہے اور اپنی قسم توڑنے کا حکم دیا جاتا ہے۔
قرآن مجید کا تصور خدا اور رسول، بریلویت کے تصور خدا اور رسول سے کوئی مطابقت نہیں رکھتا، اور اسی وجہ سے ان کے ہاں اندازِ بندگی بھی وہ نہیں جو قرآن کو مطلوب ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خدا کی بجائے، دامن رسول سے وابستہ ہو کر، ان کی شفاعت کے زعم میں شریعت کی پابندیوں سے آزادی کا بہانہ تلاش لیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شریعت کی پابندی کرانے کی علما کی کوششیں بار آور ہو کر نہیں دیتیں، کیونکہ تحت الشعور میں یہ بات چل رہی ہوتی ہے کہ گناہ گار تو سارے نبی کے ذمے ہیں جن کی بخشش آپؐ خدا سے کروا کر ہی چھوڑیں گے۔ قرآن شفاعت کے ایسےتصور سے مکمل خالی ملا۔ وہ بتاتا ہے جدا کی بخشش اور سزا باقاعدہ اصولوں کے تحت ہے۔ سفارش بھی ان کی ہی کی جا سکے گی، جو کسی درجے میں سفارش کے مستحق ہو چکے ہوں گے، اور یہ سفارش کی اجازت بھی خدا انھیں دے گا۔ شفاعت کا خود ساختہ نظریہ مکمل پاش پاش ہوگیا۔
لَیۡسَ بِاَمَانِیِّکُمۡ وَ لَاۤ اَمَانِیِّ اَہۡلِ الۡکِتٰبِ ؕ مَنۡ یَّعۡمَلۡ سُوۡٓءًا یُّجۡزَ بِہٖ ۙ وَ لَا یَجِدۡ لَہٗ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیۡرًا وَ مَنۡ یَّعۡمَلۡ مِنَ الصّٰلِحٰتِ مِنۡ ذَکَرٍ اَوۡ اُنۡثٰی وَ ہُوَ مُؤۡمِنٌ فَاُولٰٓئِکَ یَدۡخُلُوۡنَ الۡجَنَّۃَ وَ لَا یُظۡلَمُوۡنَ نَقِیۡرًا (النساء، 123-124)
(تم لوگوں پر واضح ہونا چاہیے کہ نجات) نہ تمھاری آرزوؤں پر موقوف ہے نہ اہل کتاب کی آرزوؤں پر۔ (ہرگز نہیں)، بلکہ جو برائی کرے گا، اُس کا بدلہ پائے گا اور اللہ کے مقابلے میں وہ اپنے لیے کوئی حامی اور مددگار نہ پاسکے گا۔اور جو نیکی کا کوئی کام کرے گا، خواہ مرد ہو یا عورت اور وہ ایمان بھی رکھتا ہے تو ایسے ہی لوگ ہیں جو خدا کی جنت میں داخل ہوں گے اور اُن کی ذرا بھی حق تلفی نہ ہوگی۔
بریلوی مدارس میں تمام علمِ دین کا مقصد و منتہا دیوبندییت کا رد ہے۔ یہی مقصدِ وحید ان کا جینا مرنا ہے۔ سارے مذھب، سارے علم کا مرکز و محور چند اختلافی اعتقادی مسائل ہیں۔ آپ ان کے مولوی سے جدید مسائل کے بارے میں پوچھ کر دیکھ سکتے ہیں کہ کیا جواب ملتا ہے، وہ ان مسائل سے مکمل طور لا علم ہوتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ دینی حلقوں میں پایا جانے والا یہ رویہ سیکولرازم ہے۔ بلکہ ان کا سیکولرازم عام سیکولرازم سے بھی زیادہ سیکولر ہے۔ سیکولرازم تو یہ کہتا ہے کہ مذھب فرد کا ذاتی معاملہ ہے، لیکن یہاں تو مذھب، فرد کے ذاتی معاملات سے بھی بے دخل ہے۔ دین کو مسجد، نعت، نعروں اور جلوسوں میں محدود کر دیا گیا، اس سے زیادہ دین کی مداخلت اپنے ذاتی معامالات میں بھی کوئی کم ہی گوارا کرتا ہے۔
یہاں، عوام کے اخلاق و اعمال کی اصلاح زیرِ بحث ہی نہیں، جو کہ درحقیقت، دین کا مطمح نظر تھا۔ افسوس کہ منبر رسول جیسے طاقت ور اور مؤثر فورم کو بہت پست چیزوں میں ضائع کر دیا گیا ہے۔
ان تجاوزات کا احساس بریلویت کے سنجیدہ اہل علم کو ہےمگر عوام میں مقبول بیانیے کی مخالفت کر کے وہ غیر مقبول ہو جانا بھی گوارا نہیں کرتے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ کوئی موثر کردار ادا کرنےسے قاصر نظر آتے ہیں۔

اس تحریر كو شیئر كریں
Share on facebook
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on email
Dr Irfan Shehzad

Dr Irfan Shehzad

Dr Irfan Shehzad belongs to Rawalpindi, Pakistan. He holds a doctorate in Islamic Studies from National University of Modern Languages (NUML) Islamabad, Pakistan. He is working as a companion to Ghamidi Center of Islamic Learning Dallas, USA. He is an assistant research fellow with Al-Mawird Pakistan. He is the author of the book, “Qanoon-e-Itmam-e-Hujjat awr Us kay Itlaqaat: Janab Javed Ahmad Ghamidi ki Tawzihaat par Aetrazaat awr Ishkalaat ka Jaiza”, published by Almawrid Lahore Pakistan. Dr Irfan Shehzad writes and speaks on religious, social and sociopolitical issues. His articles are published in different scholarly journals including Ishraq, Lahore, Pakistan, Al-Shariah Gujranwala Pakistan and on social media.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *