تبلیغی جماعت
میرے علمی و عقلی سفر کا اگلا مرحلہ دیوبندیت سے تعارف تھا۔ دیوبندیوں کے دلائل بڑی حد تک درست معلوم ہونے لگے۔ دیوبندی ہوئے ہی تھے کہ تبلیغی جماعت والے ہمیں لے اڑے۔ ان کی سادہ نفسی اور اعمال پر اصرار اچھا معلوم ہوا۔ تبلیغی جماعت نے دین داری پھیلانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔بہت سے لوگ، جو بڑے بڑے جرائم اور غلط کاریوں میں پڑے ہوئے تھے، جن سے دین کی بات کرنا تک کسی کو گوارا نہ تھا، تبلیغی جماعت کی کاوشوں سے تائب ہو کر دین دار ہوئے۔
لیکن دوسری طرف، تبلیغی جماعت میں زہد نما رہبانیت اور علم سے بیزاری کا رجحان بہت شدید ہے۔ ان کے ہاں علم سے ایک کِد سی پائی جاتی ہے۔ کوئی عالم دین تبلیغی بھی ہو جائے تو آسانی سے اس کو معتبر تبلیغی نہیں سمجھا جاتا۔ علما کے لیے وقت بھی زیادہ لگانا تجویز کر رکھا ہویہ یہ بتائی جاتی ہے کہ علما کا علم ان کا حجاب ہے، جسے توڑنے کے لیے زیادہ وقت درکار ہے۔ اسی وجہ سے کم علم خطبا ان کے ہاں زیادہ پذیرائی پاتے ہیں۔
تبلیغی حضرات اپنی کم علمی، دعوت اور اعمال میں اپنے انہماک کی وجہ سے جماعت کے افراد کوبحث و مباحثہ میں پڑنے سے منع کرتے ہیں۔یہ مناسب بھی ہے، لیکن اس سے پیدا ہونے والی سادہ مزاجی، ان کے تمام اہل علم کا بھی وتیرہ ہے، یہ آپس میں بھی علمی مباحثہ کم کرتے ہیں۔ قرآن مجید نے تو کہا تھا کہ کوئی تم سے جاہلانہ مباحثہ کرنے لگے تو تم اسے سلام کر کے رخصت ہو لو، لیکن ان کے ہاں عدم اعتنا کا یہ رویہ علمی مباحث کے بارے میں پایا جاتا ہے۔ بے سمجھے، بنا سوال کیے خالص تسلیم و رضا ہی ان کے ہاں اصلِ دین ہے۔ عقل و فہم کا استعمال عملاً ممنوع ہے۔ زیادہ سوال پوچھنے والے کو ہدات کی دعا پر لگا دیا جاتا ہے یا وہ انہیں خود چھوڑ کر چلا جاتا ہے۔
ان کے ہاں توکل کا مطلب وسائل پر عدم بھروسے تک محدود نہیں، بلکہ معاملہ ترک وسائل تک چا پہنچا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ آپ تبلیغ کریں، اللہ آپ کے کاموں کا ذمہ خود اٹھا لے گا، فرشتے خود آئیں گے اور آٹا دال آپ کے گھر پہنچا آئیں گے۔ ان کے کچھ علما یہاں بھی کوشش کرتے ہیں کہ لوگوں کو درست بات سمجھا سکیں، لیکن علم سے ایک اکتاہٹ سی جو یہاں پائی ہے، اس وجہ سے ایسی باتیں موثر نہیں ہو پاتیں، یا وہ اسے اہل علم کے توکل علی اللہ میں کمی پر محمول کرتےہیں۔
امریکہ سے آئے ہوئے ایک تبلیغی ساتھ کے ساتھ تشکیل ہوئی۔ میں چھری سے سبزی کاٹ رہا تھا۔ فرمانے لگے، ‘اسباب سے کچھ نہیں ہوتا سب اللہ سے ہوتا ہے۔ یہ چھری خود سے نہیں کاٹ رہی، اللہ کے حکم سے کاٹ رہی ہے۔ اس بات پر اگر پختہ یقین ہو تو آپ چاہے چھری چلائیں، وہ نہیں کاٹے گی۔’ میرا دل چاہا کہ کہوں کہ چھری کو اسی یقین کے ساتھ ذرا اپنے پیٹ میں مار کر دیکھیں ابھی فیصلہ ہو جاتا ہے۔ لیکن مروت آڑے آ گئی۔
تبلیغی جماعت والوں کو احساس نہیں کہ توکل کا یہ غلط تصور اسلام کا دیا ہوا نہیں ہے۔اسباب اور ان کی تاثیر کو انسان کے ایمان و یقین کے تابع سمجھنا، گویا انسان کوخود کو خدا کی جگہ رکھ لینا ہے کہ بندے کی سوچ سے اسباب اپنی تاثیر بدل ڈالیں گے۔ میں نے ایک بار پوچھا بھی کہ کیا ایسا ایک بھی مومن تبلیغی جماعت نے تیار کیا ہے جس کا ایسا ایمان ہو کہ اسباب کی تاثیر پر اثر انداز ہو سکے، جواب ملا، نہیں۔چونکہ ایسا کوئی ایمان پایا ہی نہیں جاتا کہ وہ اسباب کی تاثیر بدل ڈالے، اس لیے سمجھا جاتا ہے کہ مثالی مومن بننے کی جدوجہد مسلسل جاری ہے !
اس قسم کے افکار کی وجہ سے تبلیغی حضرات کے ہاں اپنے گھریلو ذمہ داریوں سے لا پرواہی عام ہے۔ اس کی افسوس ناک مثالیں معاشرے میں دیکھی گئی ہیں۔ ہمارے سامنے ایک تبلیغی کی لاپرواہی کی وجہ سے اس کی بیوی اس کی عدم توجہ اور بر وقت علاج نہ ملنے کی وجہ سے دھیرے دھیرے موت کے منہ میں چلی گئی، اس شخص کو بہت سمجھایا گیا، اس کے گھر والوں نے اسے مارا پیٹا بھی، لیکن تبلیغ کے آگے وہ ہر چیز قربان کر دینے پر تیار تھا۔ یہ اس کے نزدیک عزیمت کا سفر تھا۔ بیوی کے مرنے کے بعد اس نے ایصال ثواب کے لیے مدرسے میں پیسے دییے اور پھر کچھ ماہ بعد مولوی صاحب سے درخواست کی کہ اس کے لیے کوئی رشتہ تلاش کیا جائے۔
سال سال بھر یہ حضرات گھروں سے دور رہتے ہیں، اور ان کے گھر والے، بیوی اور بچے ان کی توجہ سے محروم، دین سے دور ہو جاتے ہیں۔ دین داری کا ایسا منفی رویہ یہ پیش کرتے ہیں جو ان کی زبانی دعوت سے زیادہ بلند آہنگ ہوتا ہے۔ ان کی بیویاں اپنے بچوں کے تبلیغی بننے سے پناہ مانگتی ہیں۔ شوہروں کی اتنی طویل غیر حاضری بیویوں کے لیے کتنی جذباتی آزمائش کا سبب ہوتی ہے، معلوم ہی ہے۔ اسی بات کا احساس کرتے ہوئے خلیفہ دوم، حضرت عمر نے جہاد پر جانے والوں کے لیے ہر چار ماہ بعد گھر واپس آنا لازم قرار دیا تھا، انہوں نے ایک خاتون جس کا شوہر طویل مدت سے جہاد پر تھا، اشعار میں یہ کہتے سنا تھا، کہ اگر خدا کا ڈر نہ ہوتا تو اس چارپائی کے پائے ہل گئے ہوتے۔ معلوم نہیں، کہ تبلیغی جماعت میں سال سال بھر کے دعوتی دورے، کس اصول کی رو سے درست سمجھے گئے ہیں۔ جواز پیدا کرنے کے لیے خود ساختہ قصے کہانیاں گھڑی گئی ہیں کہ کوئی صحابی تیس برس کے لیے خدا کی راہ میں نکل گئے تو کوئی ساری زندگی واپس نہ آئے۔ یہ محض افترا ہے۔ صحابہ کے ہاں ایسا کوئی ایک بھی واقعہ نہیں کہ وہ برسوں کے لیے بیوی بچوں کو چھوڑ کر چلے گئے ہوں۔ عرب لوگ کبھی بیوی بلکہ بیویوں کے بغیر نہیں رہتے تھے۔ جہاد پرجاتے تو چار ماہ بعد واپس آتے تھے۔ کسی دوسرے علاقے میں منتقل ہوئے تو بیوی بچوں کے ساتھ منتقل ہوئے۔
ستم بالائے ستم، ان کے ہاں یہ بھی ہوتا ہے کہ جیسے ہی کوئی تبلیغی دورے سے واپس آتا ہے، اس غریب کو ترغیب دی جاتی ہے کہ گھر نہ جانا، یہیں سے پھر اللہ کے راستے میں نکل جاؤ۔ اس پر ان کے ہاں کا مشہور محاورہ بولا جاتا ہے کہ ‘جو گھر گیا وہ ِگھِر گیا۔” یہ سب تبلیغی حضرات کے اہل علم اور غیر اہل علم ذمہ داران کی ہدایات کی روشنی میں ہو رہا ہے۔
کہا جاتا ہے کہ لوگ کسب معاش کے لیے بھی تو سالہا سال اپنے گھروں کو نہیں جاتے، ہم تو اللہ کے راستے میں نکلے ہیں۔ یہ عذر خواہی ایک برائی سے دوسری برائی کو جواز دینے کی الٹی منطق ہے۔ جو لوگ کسب معاش کے لیے بیرون ملک جاتے ہیں، ان کا گھر سے اتنا دور رہنا کون سا درست عمل ہے۔ کوئی مجبوری سے گھر سے دور ہے تو الگ بات ہے لیکن اپنے اختیار سے یہ عمل کیسے درست ہو سکتا ہے، اور آپ یہ دین کے نام پر کر رہے ہیں جب کہ دین نے آپ سے ایسا کوئی مطالبہ کیا ہی نہیں۔
دنیا سے بے رغبتی سکھاتے سکھاتے، یہ رہبانیت کی طرف نکل گیے ہیں۔ کہتے ہیں کہ دنیا کا قیمت مچھر کے پر کے برابر بھی نہیں، خدا کو اگر دنیا کی اتنی بھی قدر ہوتی، تو کسی کافر کو پانی کا ایک قطرہ نہ پینے دیتا۔ ظاہر ہے کہ کافر سے مراد، ان کے نزدیک ہر غیر مسلم ہوتا ہے، چاہے اس نے اسلام کی دعوت کا شعوری طور پر انکار کیا ہو یا بے جانے بوجھے، بہرحال وہ بھی کافر ہے۔ اس سے دنیا اور خدا کا جو تصور سامنے آتا ہے وہ ایسا نہیں کہ اس سے کوئی اچھا تاثر لیا جا سکے۔ دوسری طرف قرآن مجید کہتا ہے کہ خدا نے دنیا ہی نہیں، اس کی زینتیں اور خوب صورتیاں بھی اپنے مومن بندوں کے لیے پیدا کی ہیں، کون ہے جس نے ان کو حرام کرنے کی جرات کی ہے: (سورہ اعراف، 7:32)
دنیا سے اسی بے رغبتی کا نتیجہ ہے کہ یہ نہ صرف اپنی بلکہ اپنے متعلقین کی دنیوی ضرورتوں اور ان کے پورا کرنے کے لیے وقت اور توانائی صرف کرنے کو عبث یا وقت کا ضیاع سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ نہ صرف اپنی دنیوی ترقی اور خوشحالی سے بھی بےپروا ہو جاتے ہیں، بلکہ جس محکمے میں کام کرتے ہیں، جو کاروبار یہ کرتے ہیں، اس کو بھی تبلیغ کے نام پر قربان کرنے کو ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔ دنیا کے بارے میں انھی تصورات کی وجہ سے یہ فلاحی کاموں میں بھی کوئی خاص دلچسپی نہیں رکھتے۔ انہیں اس قسم کے دنیوی کاموں میں مشغولیت بھی غیر دینی محسوس ہوتی ہے۔ یہ بھی عام تاثر ہے کہ کسی بھی محکمے میں کوئی تبلیغی اہل کار ہوگا تو وہ اپنے پیشہ ورانہ کاموں میں کوتاہ ہوگا، اسے ہر وقت دعوت دینے کی فکر رہتی ہے، اور کام پر توجہ کما حقہ نہیں ہوتی۔ تبلیغی لوگ بھی اپنے لیے تبلیغی ملازم رکھنے سے گھبراتے ہیں۔
جس طرح بریلویت میں عشق رسولؐ، اعمال اور سیرت میں تبدیلی پیدا نہیں کرتا، اسی طرح، تبلیغی جماعت میں بھی دین، نماز، روزہ اور دعوت جیسے چند اعمال کے ساتھ ہی شروع ہو کر وہیں ختم ہو جاتا ہے۔ ایسے بھی لوگ ہیں جو تبلیغی مراکز میں خطبات تک ارشاد فرماتے ہیں لیکن اپنے کلچر کے مطابق بیٹیوں اور بہنوں کو جائیداد میں حصہ دینے کے روادار نہیں۔
سرمایہ دار تبلیغی البتہ ایک الگ چیز ہے۔ یہ لوگ اپنے کاروبار کبھی متاثر نہیں کرتے۔ پورے انتظامات کر کے تبلیغ پر نکلتے ہیں۔ ان کی تبلیغ ان کے سرمایہ دارانہ اخلاقیات پر ذرہ برابر اثر انداز نہیں ہوتی۔ اپنے ملازمین کا قانونی اور غیر قانونی استحصال بڑے اطمینان قلب سے کرتے ہیں۔ ایک ملازم کے لیے تبلیغی مالک اور غیر تبلیغی مالک میں سوائے داڑھی، ٹخنوں سے اونچی شلوار اور نماز روزے کی پابندی کے اور کوئی فرق نہیں ہے۔
تبلیغی حضرات میں ایک عجیب اور دلچسپ خصوصیت پائی جاتی ہے، وہ یہ کہ ان کا اخلاص بھی بہت پیشہ ورانہ قسم کا ہوتا ہے۔ اخلاق اور اخلاص کا مظاہرہ وہیں کرتے ہیں جہاں دعوت دینا ہو اور تبلیغی جماعت کے دائرے میں لانا مقصود ہو, ، بالکل اس سیلز مین کی طرح جو اپنی پراڈکٹ پیچنے کے لیے پیشہ ورانہ خوش اخلاقی اور اخلاص کا مظاہرہ کرتا ہے۔ یہ اس جماعت کے ماحول سے بننے والا عمومی مزاج ہے، اس سے انکار نہیں کہ اس سے مختلف لوگ بھی ہوتے ہیں جن کی اچھی تربیت انہیں ہر جگہ اچھائی کا مظاہرہ کرنے پر ابھارتی ہے۔
تبلیغ والے، اپنی جماعت کو واحد جماعت قرار دیتے ہیں جو حق پر کھڑی ہے، جس کا منھج واحد حق منھج ہے، یہ کشتی نوح ہے جس نے نجات پانی ہے وہ ان کے طریقے پر آ جائے۔ باقی سب لوگ ان کے نزدیک اپنا وقت ضائع کر رہے ہیں۔ تعصب کا حال یہ ہے کہ کہا جاتا ہے کہ فتوی اور مسئلہ فقط تبلیغی عالم سے پوچھا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ تبلیغی جماعت ایک فرقہ بن چکی ہے۔
اصلاح احوال کی کچھ کوشش اہل علم اپنے تئیں کرنے میں لگے ہوئے ہیں، لیکن جو تربیت ہو گئی ہے، اسی واپس پھیرنابہت مشکل ہے، بلکہ ان کے ہاں کہ کم علم تبلیغی حضرات، علما کی طرف سے کی جانے والی اصلاحی کوششوں کو ایک طرح کی مداہنت یا رخصت کی نصیحت سمجھتے ہیں اور اپنے لیے عزیمت کے نام پر یہی انتہا پسند طرز عمل اپنائے ہوئے ہیں۔

اس تحریر كو شیئر كریں
Share on facebook
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on email
Dr Irfan Shehzad

Dr Irfan Shehzad

Dr Irfan Shehzad belongs to Rawalpindi, Pakistan. He holds a doctorate in Islamic Studies from National University of Modern Languages (NUML) Islamabad, Pakistan. He is working as a companion to Ghamidi Center of Islamic Learning Dallas, USA. He is an assistant research fellow with Al-Mawird Pakistan. He is the author of the book, “Qanoon-e-Itmam-e-Hujjat awr Us kay Itlaqaat: Janab Javed Ahmad Ghamidi ki Tawzihaat par Aetrazaat awr Ishkalaat ka Jaiza”, published by Almawrid Lahore Pakistan. Dr Irfan Shehzad writes and speaks on religious, social and sociopolitical issues. His articles are published in different scholarly journals including Ishraq, Lahore, Pakistan, Al-Shariah Gujranwala Pakistan and on social media.

One Reply to “اٹھتے ہیں حجاب آخر قسط 3”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *