عورت کو بیک وقت ایک سے زائد شوہروں کی اجازت کیوں نہیں؟

اگر یہ بدیہی حقیقت تسلیم کر لی جائے کہ نکاح سے خاندان کا ادارہ وجود میں لانے کی وجہ بچے کی نگہداشت اور پرورش ہے، پھر یہی انسان جب بڑھاپے کو پہنچتا ہے تو اسے پھر خاندان کے ادارے کی ضرورت ہے جو اب اس کی دیکھ بھال کرے۔ انسان کی پوری زندگی کی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے خاندان کا ادارہ وجود میں لایا گیا ہے، ورنہ محض جنسی تعلق قائم کرنے کے لیے نکاح کی شرط عائد کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔
بچے کی پرورش کا حق اس کے سوا ادا نہیں کیا جا سکتا کہ مرد و عورت اس معاملے میں اپنے اوپر کچھ پابندیاں عائد کریں۔ ان کی توجہ مرکوز رکھنے کے لیے دونوں کے لیے آزادانہ جنسی تعلق کو ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ اسی ضمن میں عورت پر یہ پابندی مزید عائد کر دی گئی ہے کہ وہ ایک سے زائد خاوند بھی نہیں رکھ سکتی تاکہ وہ ایک ہی گھر کی ہو کر رہے۔ اس کی وجہ بچوں کی پیدایش اور پرورش میں اس کا بنیادی اور غیر معمولی کردار ہے۔ عورت بیک وقت ایک سے زائد گھروں میں تقسیم نہیں ہو سکتی، ایسا کرنے سے ایک گھرانے کے بچوں کا متاثر ہونا یقینی ہے۔
مرد کو ایک سے زائد بیویاں رکھنے کی اجازت اس کے بنیادی کردار میں موجود گنجایش کی بنا پر ہے کہ وہ گھر کی مالی ذمہ داری پورا کرنے کا ذمہ دار ہے۔ اس کردار میں وہ اگر ایک سے زائد بیویاں رکھتا ہے تو بچوں کی پرورش متاثر نہ ہونے کا امکان موجود ہے کیونکہ وہ عورت نے کرنی ہے۔
تاہم، خدا کے نزدیک بھی مثالی خاندان ایک میاں بیوی سے وجود میں آتا ہے۔ اور عرب جیسے سماج، جس میں کثیر الازدواجی کی مضبوط ثقافتی روایت موجود اور محبوب تھی، قرآن کی یہ ہدایت کے بہتر ہے کہ ایک ہی بیوی پر اکتفا کر لو، ورائے ثقافت ہے۔
اگر ایسی عورت اور مرد ہوں جو بچے ہی پیدا نہ کرنا چاہیں تو تب بھی یہ اجازت نہیں دی جا سکتی کہ عورت ایک سے زائد خاوند رکھے، وجہ وہی ہے کہ مرد و عورت کی غالب ترین اکثریت نکاح اور اولاد چاہتی ہے۔ یہ فطری داعیہ ہے۔ جو لوگ فطرت کے اس داعیے کے خلاف جاتے ہیں، قانون کو انھیں گنجایش دینے کی ضرورت نہیں۔ اس ادارے کے تحفظ کے لیے ضروری ہے کہ کسی کو بھی یہ اجازت نہ دی جائے جنسی تعلق نکاح کے بغیر بھی قائم کیا جا سکتا ہے۔

اس تحریر كو شیئر كریں
Share on facebook
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on email
Dr Irfan Shehzad

Dr Irfan Shehzad

Dr Irfan Shehzad belongs to Rawalpindi, Pakistan. He holds a doctorate in Islamic Studies from National University of Modern Languages (NUML) Islamabad, Pakistan. He is working as a companion to Ghamidi Center of Islamic Learning Dallas, USA. He is an assistant research fellow with Al-Mawird Pakistan. He is the author of the book, “Qanoon-e-Itmam-e-Hujjat awr Us kay Itlaqaat: Janab Javed Ahmad Ghamidi ki Tawzihaat par Aetrazaat awr Ishkalaat ka Jaiza”, published by Almawrid Lahore Pakistan. Dr Irfan Shehzad writes and speaks on religious, social and sociopolitical issues. His articles are published in different scholarly journals including Ishraq, Lahore, Pakistan, Al-Shariah Gujranwala Pakistan and on social media.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *