کیا قرآن اپنے ثبوت کے لیے خبر واحد کا محتاج ہے؟

مولانا زاہد الراشدی صاحب کے ایک نقطہ نظر پر چند گزارشات
مولانا زاہد الراشدی صاحب وہ شخصیت ہیں جن کو پڑھ کر دین جاننے اور مزید جاننے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ میں نے ان کی تحاریر سے بہت کچھ سیکھا۔ تاہم، ان کے ایک موقف سے کچھ اختلاف پیدا ہوا ہے۔ جو اہل علم و نطر کی خدمت میں برائے غور و فکر اور برائے نقد پیش کیا جاتا ہے۔
مولانا زاہد الراشدی صاحب نے اپنا یہ خیال کئی جگہ بیان فرمایا ہے کہ قرآن کو اللہ کا کلام تسلیم کرنے کے لیے بھی پہلے حدیث کو ماننا ضروری ہے۔ قرآن کا قرآن ہونا بھی تب ہی ثابت ہوتا ہے کہ حدیث میں اسے اللہ کی کتاب بتایا گیا ہے۔ مثال بیان کرتے ہوئے وہ فرماتے ہیں کہ مثلا سورہ الکوثر کو قرآن کا حصہ بھی اس لیے تسلیم کیا گیا ہے کہ حدیث اس کو قرا ن کا حصہ بتاتی ہے۔ اس لیے قرآن سے پہلے حدیث کا ماننا ضروری ہے۔ حدیث سے مراد جیسا کہ مولانا کی دی ہوئی مثال سے معلوم ہوتا ہے خبرِ واحد ہے۔ یعنی قرآن اپنی تصدیق میں خبر واحد کا محتاج ہے۔
مولانا کا یہ موقف درست معلوم نہیں ہوتا۔ یہ تو بدیہی بات ہے کہ قرآن رسول اللہ ﷺ کے ذریعے ملا ہے اور آپؐ کی تصدیق سے ہی ہم نے اس کلام کو خدا کا کلام مانا ہے۔ اور یہ بھی درست ہے کہ اس کی ترسیل صحابہ کے ذریعے ہی ہوئی ہے۔ لیکن ایک بڑے فرق کو نظر انداز کر دیا گیا ہے۔
رسول اللہ ﷺ سے صادر ہونے والی تعلیمات صحابہ کے ذریعے ابلاغ کی دو نوعیتوں کے ساتھ ہم تک پہنچی ہیں۔ یعنی تواتر اور خبر واحد کے ذریعے۔ دین اور ضروریاتِ دین کا ابلاغ رسول اللہ ﷺ نے تواتر کے طریقے پر اس طرح فرمایا ہے کہ اس کا ثبوت ایک یا چند یا بہت سے اشخاص کے بیان کا محتاج نہیں رہا۔ پورے کا پورا طبقہ صحابہ اس کا مبلغ اور راوی ہے۔ یہ تواتر علمی بھی ہے اور عملی بھی۔ علمی تواتر صرف قرآن کی محفوظ شکل میں منتقل ہوا ہے اور عملی تواتر صرف متواتر سنن کے ذریعے منتقل ہوا ہے۔ یہ تواتر پوری ایک نسل سے دوسرے نسلوں کو منتقل ہوتا چلا آیاہے ۔ قرآن کا بھی یہی معاملہ ہے۔ یہ اسی لیے قطعی الثبوت ہے اور اس کے قطعی الثبوت ہونے کے لیے خبر واحد سے تصدیق نہیں کرائی جاتی۔ خبر واحد ظنی الثبوت ہوتی ہے۔ ظنی الثبوت وسیلے سے قرآن کے قطعی الثبوت ہونے کو کیسے ثابت کیا جا سکتا ہے؟
بالفرض ایسا مان بھی لیا جائے کہ قرآن اپنی تصدیق کے لیے خبرواحد کا محتاج ہے ، تو بتایا جائے کہ قرآن کی ہر ہرآیت اور ہر ہر سورہ کے پیچھے کون کون سی اخبار احاد ہیں جس کی بنا پر ان آیات اور سُوَر کو خدا کا کلام تسلیم کیا گیاہے۔ او ر کیا پھر ان اخبارِ احاد پر نقد و جرح کی صورت میں جو احتمالات در آئیں گے ان کی بنا پر ان میں بیان کر دہ آیات اور سوَر کو قرآن کا حصہ تسلیم کرنے میں ظنیت شامل نہیں ہو جائے گی؟ یعنی قرآن ظنی الثبوت نہیں ہو جائے گا؟نیز کیا قرآن کی آیات اور سور کو بیان کرنے والی اخبارِ احاد سے مکمل قرآن اخذ کیا جا سکتا ہے؟ کیا قرآن کی ترتیب توقیفی کا ثبوت بھی خبر واحد کا محتاج ہے؟ اگر ہے تو کیا ثابت کیا جاسکتا ہے کہ قرآن کی ہر ہر آیت اور سورہ کی جگہ کس کس خبرواحد کی روشنی میں متعین کی گئی ہے؟
امید ہے ایک طالب علم کی گزارشات پر توجہ فرمائی جائے گی۔

اس تحریر كو شیئر كریں
Share on facebook
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on email
Dr Irfan Shehzad

Dr Irfan Shehzad

Dr Irfan Shehzad belongs to Rawalpindi, Pakistan. He holds a doctorate in Islamic Studies from National University of Modern Languages (NUML) Islamabad, Pakistan. He is working as a companion to Ghamidi Center of Islamic Learning Dallas, USA. He is an assistant research fellow with Al-Mawird Pakistan. He is the author of the book, “Qanoon-e-Itmam-e-Hujjat awr Us kay Itlaqaat: Janab Javed Ahmad Ghamidi ki Tawzihaat par Aetrazaat awr Ishkalaat ka Jaiza”, published by Almawrid Lahore Pakistan. Dr Irfan Shehzad writes and speaks on religious, social and sociopolitical issues. His articles are published in different scholarly journals including Ishraq, Lahore, Pakistan, Al-Shariah Gujranwala Pakistan and on social media.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *