:مولانا طارق جمیل
مولانا طارق جمیل کے مسحور کن خطبات سے ہمارے متاثر ہونے کا زمانہ بھی یہی تھا۔ ہمیں جب خبر ملتی کہ مولانا خطاب کے لیے کہیں تشریف لا رہے ہیں، ہم دوڑے جاتے۔ ہمارے دوست اہتمام سے موٹا رومال بھی ساتھلاتے کہ مولانا کا بیان سن کر آنسو جذب کرنے کے لیے ضروری ہو جاتا تھا:‏۔
یہ تسلیم ہے کہ مولانا کے پر تاثیر بیانات نے بے شمار لوگوں کو دین سے جوڑا۔ مولانا بڑی حد تک تبلیغی حضرات میں پائے جانے والی بے اعتدالیوں کو درست کرنے میں بھی بعض اوقات اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ بین المسالک روابط قائم کرنے میں بھی ان کا کردار قابل تحسین ہے۔ آپ سے پہلے کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ دیوبند کی طرف سے بھی اہل تشیع کے ساتھ دینی رشتے کے ناطے سے مل بیٹھا جا سکتا ہے۔
مولانا کی ان تمام دعوتی اور تبلیغی مساعی اور پر تاثیر بیانات کے باوجود مجھے ہمیشہ یہ محسوس ہوا کہ اس جماعت میں دین سے جڑنے کا مطلب اللہ سے نہیں، محض اعمال سے جڑنا ہے۔ یہاں خدا سے تعلق محسوس نہیں ہوتا، اعمال کی گنتی ہی سب کچھ ہے۔ یہاں خدا سے محبت نہیں ہے، خدا کے ساتھ لین دین ہے، دکان داری ہے، سودے بازی ہے۔
ہمارا دور وہ دور تھا جب وقت تصویر اور ویڈیو بنانا “حرام قطعی” ہوا کرتا تھا! کیمرے اور ٹی وی پر آنا ہی کسی بھی بڑے سے بڑے عالم کو درجہ اعتبار سے گرا دینے کے لیے کافی تھا۔ ٹی وی اور ویڈیو سے تبلیغ حرام ہوا کرتی تھی۔ کہا جاتا تھا کہ ویڈیو میں نا محرم عورتیں آپ کو دیکھتی ہیں، اور آپ دین کے نام پر حرام کے مرتکب ہوتے ہیں۔ان شیطانی ذرائع سے تبلیغ چاہے کتنی ہو موثر ہو، ہے مگر حرام ہے۔ کچھ لوگ مولانا کے بیانات میں چھپ چھپا کر کیمرہ لے جایا کرتے تھے کہ مولانا کی تصویر بنائیں۔ پکڑے جاتے تو بڑی بے عزتی ہوتی تھی۔ خیر اب تو سارے حجابات اٹھا دیے گئے ہیں۔
زمانہ آیا ہے بے حجابی کا، عام دیدار یار ہو گا
سکوت تھا پردہ دار جس کا، وہ راز اب آشکار ہوگا
گزر گیا اب وہ دور ساقی کہ چھپ کے پیتے تھے پینے والے
بنے گا سارا جہان مے خانہ، ہر کوئی بادہ خوار ہو گا
مولانا کی تبلیغی کاوشوں کو درج ذیل شعر میں بیان کیا جا سکتا ہے:۔
راہ میں ان کو لگا لائے تو ہیں باتوں
اور کھل جائیں گے دو چار ملاقاتوں میں
مولانا جدید تعلیم اور تعلیمی اداروں سے دینی تعلیم اور دین داری کی طرف آئے ہیں، مگر وہ بھی مولویانہ ظاہر پرستی کے اسیر ہیں، جہاں مخصوص حلیے، چند ظاہری اعمال اور دعوت و تبلیغ کے کام میں شمولیت کے مطابق، دین داری کا معیار طے کیا جاتا ہے۔ داڑھی کی لمبائی اور شلوار کی چھوٹائی دین داری ناپنے کے آلے ہیں۔
مخصوص حلیہ اگر نہیں ہے تو آپ چاہے کتنے ہی علم والیاور دین دار ہوں، آپ سے محبت تو کی جا سکتی ہے، لیکن آپ کو علم و تبلیغ میں معتبر نہیں مانا جائے گا۔ اور اگر آپ کا یہ مخصوص حلیہ رکھتے ہیں تو آپ کو معتبر تو فورا مان لیا جائے گا، البتہ آپ سے محبت بھی ہو، یہ ضروری نہیں۔
یہ معلوم ہے کہ اسلام نے کوئی مخصوص حلیہ متعین کر کے نہیں دیا۔ اسلام جب تک دعوت کا دین رہا، اس نے دین میں داخل ہونے والوں پر کسی مخصوص حلیہ اختیار کرنے کی پابندی لگا کر انہیں اپنے ماحول اور معاشرے سے اجنبی نہیں بنایا، حلیہ کے اعتبار سے عرب کے مشرکین،یہود، نصاری اور مسلمانوں میں کوئی امتیاز نہیں ہوا کرتا تھا، بلکہ عجمی اقوام کی ثقافتی اقدار کو عربوں نے بھی اپنایا۔ ہمارے اسلاف نے برصغیر میں آ کر ہندوؤں کی واسکٹ، شیروانی اور تنگ موری کا پائجامہ اور شلوار اپنے لیے اختیار کرنے میں کوئی دقت محسوس نہیں کی تھی، انہیں کفار کے ساتھ مشابہت کے طعنے کسی نے نہیں دیئے۔ لیکن جیسے جیسے دین، مسلم قومیت اور مسلکی علامت کی پیچان بنتا چلا گیا ‘اسلامی حلیے’ پر زور بڑھتا چلا گیا، یہ اس لیے کہ کسی سیاسی پارٹی کی طرح مخصوص بیج لگا کر اپنی تعداد کا مظاہرہ کیا جا سکے۔
معلوم ہونا چاہیے کہ مولوی صاحب کا اپنا حلیہ بھی رسول اللہﷺ کے حلیے کے عین مطابق نہیں۔ یہ انڈین ثقافت سے لیا گیا ہے۔ مولوی صاحب اگر اپنی آسانی کے لیے اپنے لیے حلیے کا انتخاب کرسکتے ہیں، تو یہی سہولت دیگر لوگوں کو بھی دینی چاہیے۔
فضائل میں ضعیف روایات کے بیان کو چونکہ سندِ جواز حاصل ہے، اس لیے مولانا کے بیان میں ایمان کو تازہ کرنے اور دلوں کو گرمانے، بلکہ جنت اور حورانِ جنت کے نام پر جذبات بڑھکانے والی ضعیف روایات کا بے دریغ استعمال پایا جاتا ہے۔ مولانا کا حورانِ جنت کا دلفریب تصور مولانا کا مبالغہ تو ہے ہی، یہ ہمارے سماج میں پائی جانے والے حبس زدگی کا عکاس بھی ہے۔
جنس اور جنسی لذت کے بارے میں جو بیانات عمومًا ممنوع سمجھے جاتے ہیں، جن کو کسی نوجوان کی زبان سے سن کر بڑے بوڑھے کانوں کو ہاتھ لگاتے ہیں یا کان سے پکڑ کر نکال باہر کر تے ہیں، وہ یہاں دینی اصطلاحات کے لبادے میں مسجد و منبر کی روح پرور، پاکیزہ فضاؤں میں، بڑی شرح و بسط سے سنائے جاتے ہیں، جن کے سننے کے بعد، سامعین وضو تازہ کر کے نماز پڑھنا مناسب سمجھتے ہیں۔ مولانا، نوجوانوں کو اس طرح دین کی راہ پر لگا تو لاتے ہیں، لیکن یہ درست رویہ نہیں۔
مولانا زکریا کاندھلوی جیسے بڑے شیخ الحدیث کی طرف سے ‘فضائل اعمال’ اور ‘فضائلِ صدقات’ جیسی ضعیف روایات سے بھرے ہوئے تبلیغی نصاب نے ضعیف احادیث کا جواز اور ان پر ایمان اور بھی پختہ کر دیا ہے۔ تبلیغی نصاب میں کار آمد کتب کی تعلیم اگر دی جاتی، تو تبلیغی جماعت، عوام کے بڑے طبقے کو مذھب کی مناسب تعلیم و تربیت دے کر حقیقی مسلمان بنانے کی عظیم خدمت سر انجام دے سکتی تھی۔ مگر افسوس کے کہ یہ عظیم فورم بھی ضائع ہو کر رہا۔ نصابی ضرورتوں کی وجہ سے ان کتب تک محدود کر دینے کی وجہ سے تبلیغیوں کا علم ان کے عمل کی طرح منجمد ہو کر رہ گیا ہے۔
ضعیف روایات کو فضائل کے لیے سند جواز تو دے دی گی، لیکن ان کے ذریعے بننے والا تصور خدا اور تصور دین، درحقیقت، بری طرح متاثر ہوا ہے۔ خدا کا تصورِ عدل تو مسخ ہو کر رہ گیا ہے جو کہ دین کی بنیاد ہے، بلکہ سار ے دین کی عمارت اسی تصور عدل پر قائم ہے۔ ان ضعیف روایات کی رو سے خدا ایک مطلق العنان بادشاہ نظر آتا ہے جو چاہے تو کسی کی ایک ادا پر اس کے سارے گناہ معاف کر دے اور کسی کے ایک گناہ پر اس کی ساری نیکیاں غارت کردے۔ گویا خدا کا کوئی معیار ہی نہیں۔ سارا معاملہ اس کے شاہانہ مزاج کا ہے جو کسی اصول کا پابند نہیں۔ یہ تصور، قرآن مجید کے تصور خدا کے بالکل برعکس ہے، متضاد ہے۔
قرآن مجید میں خدا نے اپنا جو تعارف کرایا ہے وہ ایک اصول پسند خدا کا ہے، جس کے اصول و ضوابط مکمل طور پر حکمت اور عدل پر قائم ہیں اور کسی کے لیے بھی نہیں بدلتے۔
یہودیت اورمسیحیت میں خدا کے تصور کو باپ کی شخصیت سے اور اسلام میں ماں کی شخصیت کے تعارف سے باور کرایا جاتا ہے۔ یہودیت کا خدا کا ایک سخت گیر قانون پسند خدا ہے۔ جب کہ مسیحیت کا خدا ایک شفیق باپ جیسا ہے اور اسلام کا خدا ممتا جیسے جذبات سے بھرا ایک نرم اور سادہ دل خدا ہے جس کی خوشامد کر کے رو دھو کے بہت کچھ منوالیا جا سکتا ہے۔ ایک بڑا طبقہ خدا کو ایک مطلق العنان حاکم کی طرح فرض کرتا ہے جو نمرود کی طرح کسی قانون و ضابطے کا پابند نہیں، جس کو چاہے سزادے جس پر چاہے مہربانی کردے۔
ان بیانیوں سیخدا کے حقیقی تصور کی تفہیم نہ صرف خدا پر ایمان رکھنے والوں میں متاثر ہوئی ہے بلکہ خدا بیزار افراد و طبقات بھی تصور خدا کے انھیں خود ساختہ مروجہ بیانیوں کی مذمت کرتے پائے جاتے ہیں۔یہ سب بیانیے اس حققیت کے علی الرغم ان اہل کتاب (بشمول مسلمان) میں رائج ہیں جن کی کتابوں میں خود خدا نے اپنا تعارف کرایا ہوا ہے اور وہ ان بیانیوں سے بالکل مختلف ہے۔
خدا کی کتابیں ہمیں خدا کا جو تعارف کراتی ہیں اس میں اس کی دو نمایاں صفات اس کی تمام صفات کا رخ ہمیں بتاتی ہیں اور وہ اس کی حکمت اور عدل ہیں۔ اس کی رحمت ہو یا غضب، حکمت اور عدل سے خالی نہیں ہوتیں۔ معلوم ہونا چاہیے کہ خدا اگر عدل نہ کرے، بدکاروں اور سرکشوں کو بھی بغیر معافی اور توبہ کے معاف کرنے والا ہو، تویہ عدل اور حکمت کے خلاف اور خدا کی آزمایش کی پوری اسکیم کو ہی کھیل تماشا بنادیتا ہے۔ اورخدا کے بارے میں یہ تصور ہرگز درست نہیں۔
قرآن مجید میں اس آیت کے ہوتے ہوئے کوئی مسلمان کسی غلط فہمی میں مبتلا نہیں ہو سکتا:

مولانا جدید ذہن سے اور اس کے ڈکشن Diction سے واقف ہیں، اس لیے سادہ دل تعلیم یافتہ نوجوانوں کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ مولانا کی کامیابی کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے عوام کی اکثریت نے دین کو عقل اور غور و فکر کا محل کبھی سمجھا ہی نہیں۔ دین کے بارے میں وہ بہت سادہ ذہن رکھتے ہیں۔ اس لیے مولانا کی پر تاثیر سادہ بیانی ایسے لوگوں کو دین داری کی طرف لے آتی ہے، جس میں دین سے زیادہ ‘دین داری’ اہم ہوتی ہے۔ جس میں اعمال کی گنتی، ان کے وزن پر حاوی ہے، جہاں، مخصوص ” اسلامی حلیہ” ایمان اور علم کا معیار ہے، جہاں سوال کی بجائے بنا سوچے سمجھے تسلیم کرنا دین کا تقاضا بتایا جاتا ہے۔

دین کے نام پر ایک بہت بڑی غلط فہمی ہے جو تبلیغی جماعت کے پلیٹ فارم سیتبلیغی حضرات کے فہم دین کا حصہ بنائی جا رہی ہے، جس میں مولانا بھی اپنا بڑا حصہ ڈال رہے ہیں، وہ یہ ہے کہ اگر تبلیغی حضرات کسی کمی کوتاہی کا شکار بھی ہیں تو ان کا تبلیغ کے راستے میں چلنے کا بے انتہا ثواب، جو ہر عمل کو کروڑوں میں تباتا ہے، ان کی کمی کوتاہیوں کی تلافی کر دے گا اور خدا کے ہاں وہ ٹوٹل میں پاس ہو کر نجات یافتہ بلکہ انعام یافتہ قرار پائیں گے۔ اسے مولانا طارق جمیل سو میں تینتیس نمبر لے کر پاس ہونا کہتے ہیں۔ یہ خود ساختہ معیار فہم دین کی ناقص تفہیم سے پیدا ہوا ہے، اور یہ خود کو خدا کے درجے پر فائز کرنا ہے۔ دین کے فرائض اور مستحبات میں اور دین کے ضروری اور کم ضروری احکامات میں فرق کرنا اصل فہم دین ہے۔ مثلا کوئی اپنے اپنے گھر کے افراد کی ذمہ داریوں سے پہلو تہی کر کے تبلیغ کرنے نکل کھڑا ہو، تو ایسا کوئی مطالبہ خدا نے عام مسلمان سینہیں کیا ہے۔ اپنی دولت و جائداد پیچ کر یا قرض لے کر تبلیغ پر جانا آپ کا اپنا انتخاب ہو سکتا ہے، دین نے ایسا کوئی مطالبہ نہیں کیا ہے۔ اپنے انتخاب سے ایک غیر فرض کو ایک فرض کے لیے چھوڑ دینا ایسا معاملہ نہیں ہے کہ خدا یہ دیکھے کہ ایک کام چھوڑ کر دوسری نیکی کر لی گئی ہے تو معاملہ برابر سرابر ہو گیا، ہر گز نہیں، درحقیقت دین کے بارے میں خدا کی ساری سکیم کو ہی الٹ دیا گیا ہے، دین کی ترتیب بدل دی گئی ہے اور جو نتائج خدا پیدا کرنا چاہتا تھا، وہ نتائج پیدا نہیں ہونے دیئے گئے۔
کچھ آیات قرآنیہ کی جدید تشریح سے اس کے لیے جواز پیدا کیا گیا ہے، مگر یہ کسی طرح درست نہیں۔ قرآن مجید میں خیر امت سے مراد صحابہ کی جماعت ہے، اسے ہی خیر امت کہا گیا ہے۔ہمارے کام اپنے اپنیدائرے اور حلقے میں دین اور تقوی کی تبلیغ و اشاعت ہے۔ ایسے چند افراد ہی ہوتے ہیں جو عالمی سطح پر لوگوں کو مخاطب اور متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور اس سطح پر کام انھیں کو زیبا ہے۔ ساری دنیا کی ذمہ داری عام آدمی پرخدا نے کہیں نہیں ڈالی۔
اپنے جنونِ شوق میں خدا کی تعلیم، اصولوں اور ترتیب کو نظر انداز کر کے اپنے لائحہ عمل کو ترجیح دینا، خدا کی بجائے اپنی پالیسی کو اور اس کو پیش کرنے والوں کو خدا اور رسول کے درجے پر لا بٹھانا ہے، جیسا کہ یہود کے عوام، اپنے فقیہوں اور راہبوں کے ساتھ کرتے تھے۔ قرآن اس کی مذمت کرتے ہوئے کہتا ہے یہود کے عوام اپنے علماء اور راہبوں کو معبود بنا لیا، ان کی سنتے تھے، ان کے مقابلے میں اپنی کتاب کے صریح بیانات کو خاطر میں نہ لاتے تھے۔ یہاں بھی یہی حال ہے۔
مسئلہ صرف یہ نہیں کہ لوگوں کو تبلیغ کرنی ہے، مسئلہ یہ بھی ہے کہ اپنے خاندان کو صالح روزی اور صالح تربیت بھی دینی ہے۔ اور یہ کام مسلسل حاضری اور نگرانی مانگتا ہے۔ کوئی مجبوری ہو تو معاملہ الگ ہے، لیکن خدا کبھی یہ نہیں چاہتا کہ گھر کے مرد، سال ہا سال اپنے گھر سے، اس کی ذمہ داریوں سے، اور اپنے گھر والوں کی تربیت سے دور، لوگوں کو تبلیغ کرتے رہیں جو ان پر خدا نے فرض بھی نہیں کی۔ خصوصا ایسے لوگوں کو تبلیغ کرنا جن کی زبان سے بھی یہ واقف نہیں۔ یہ معاملہ سو میں سے تینتیس نمبر لینے کا نہیں، لازمی سوال چھوڑنے کا ہے، جس کی تلافی اختیاری سوالات کے زیادہ جوابات دینے سے بھی پوری نہیں ہو سکتی۔ تبلیغ کو جس طرح فرض سمجھا گیا ہے، اور جو تفصیلی لائحہ عمل اس کے لیے طے کر لیا گیا ہے کہ آپ گھر سے دور رہ کر اور بلاضرورت سفر کر کر کے لوگوں کو تبلیغ کریں اور کوئی اس کے علاوہ اگر تبلیغ کی کوئی صورت اختیار کرنا چاہے تو اسے دین کی خدمت سرے سے ماننے سے انکار کر دیا جائے، یہ سب دین میں ایک اور دین بنانے کی کوششیں ہیں جس کی غلطی سمجھنا بہت ضروری ہے۔ ان غیر ضروری قربانیوں کو عزیمت گردانا جاتا ہے جب کہ درحقیقت یہ بڑی غلط فہمی ہے۔
ان غیر ضروری قربانیوں کے جواز کے لیے جو واقعات سنائے جاتے ہیں، پہلے تو ان کی تصدیق کرانا ضروری ہے کہ کیا وہ واقعی درست ہیں یا نہیں۔ اور اگر درست ہیں تو کیا وہ قرآن مجید کی واضح نصوص اور دین کے واضح اصولوں کے مطابق بھی درست ہیں یا نہیں۔ دین کا معیار قرآن ہونا چاہیے نہ کہ واقعات۔
یہ کون سی عقل مندی ہے کہ تبلیغی حضرات کو ایسے علاقوں اور ملکوں میں تبلیغ کرنے بھیج دیا جاتا ہے جن کی زبان بھی ان کو نہیں آتی۔ اس سے تو تبلیغ کا مقصد ہی حاصل نہیں ہو سکتا۔ خدا نے ہر قوم میں اسی کا ہم زبان پیغمبر بھیجا، لیکن یہاں بھی دین کی حکمت کے برعکس، غیر زبان والوں کو اشاروں یا مترجم کے ذریعے تبلیغ کی جاتی ہے۔ تبلیغ کا مقصد پیغام پہنچانا ہی نہیں ہوتا، بات کو دلوں میں اتارنا ہوتا ہے۔ اس کے لیے تو نہ صرف یہ کہ ہم زبان ہونا ضروری ہے، بلکہ زبان دان ہونا ضروری ہے۔ تبلیغی جماعت کی یہ پالیسی، دعوت دین کی حکمت کے برخلاف ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس قسم کی تبلیغی جماعت کا خیال مسیحی مشنریوں کو دیکھ کر اس جماعت کے بانیوں کو سوجھا تھا۔ یہ مسیحی مشنری بالکل اسی طرح غیر ملکوں میں تبلیغ کیا کرتے تھے اور اب بھی کرتے ہیں۔ برصغیر میں تبلیغی جماعت کی تاسیس کے دور میں ان کا بہت زور ہوا تھا۔
معاشرے کا ذہین طبقہ مولوی کا ہدف کبھی رہا ہی نہیں۔ ذہین طبقہ ہمیشہ سوال اٹھاتا ہے، بات کو سمجھے بغیر چلنے کو تیار نہیں ہوتا، جب کہ ان کے ہاں ترتیب یہ ہے کہ پہلے مان لو، پہلے چلنا شروع کرو، پھر خود سوالوں کے جواب مل جائیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ سادہ ذہن لوگ تو دین دار ہو رہے ہیں لیکن ذہین طبقہ درست طور پر مخاطب نہ بننے کی وجہ سے الحاد اور آزاد خیالی کی طرف مائل ہو گیا ہے۔ معلوم ہونا چاہیے کہ سماج اور تاریخ پر ہمیشہ ذہین اور باصلاحیت طبقہ اثر انداز ہوتا ہے۔ ابھی ہمارا ذہین طبقہ بھی پریشان خیالی میں مبتلا ہے۔ جب یہ کبھی یکسو ہو سکا تو معاشرہ اسی رخ پر تبدیل ہوگا، جس رخ پر یہ طبقہ اسے لے چلے گا۔
تبلیغی جماعت کو چاہیے کہ درست اور مستند علم کے ذریعے عوام میں دین کی دعوت دیا کریں، تاکہ فہم دین کی کجی سے مذکورہ مسائل پیدا نہ ہوں۔ وہ عمل جو علم کی روشنی میں ہو، اس عمل سے ہزار درجے بہتر ہے جو بغیر علم او بلا سمجھے کیا جائے۔ منبر پر بیٹھنے کے لیے علم کا کوئی معیار مقرر کریں، اور علم دوستی کی فضا پیدا کریں۔ ذہین طبقے سے مکالمہ کریں، لیکن اس کے لیے علما کی بہت تربیت کرنے کی ضرورت ہے۔ اس طرح سماج کا ذہین اور اہل علم طبقہ بھی ان کی طرف متوجہ ہو سکے گا، ورنہ یہ بھیڑوں کا ریوڑ ہی بنا رہے گا، جو گنتی میں تو شمار کیے جا سکتے ہیں لیکن وقت اور تاریخ کے ترازو میں ان کا کوئی وزن نہیں۔

اس تحریر كو شیئر كریں
Share on facebook
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on email
Dr Irfan Shehzad

Dr Irfan Shehzad

Dr Irfan Shehzad belongs to Rawalpindi, Pakistan. He holds a doctorate in Islamic Studies from National University of Modern Languages (NUML) Islamabad, Pakistan. He is working as a companion to Ghamidi Center of Islamic Learning Dallas, USA. He is an assistant research fellow with Al-Mawird Pakistan. He is the author of the book, “Qanoon-e-Itmam-e-Hujjat awr Us kay Itlaqaat: Janab Javed Ahmad Ghamidi ki Tawzihaat par Aetrazaat awr Ishkalaat ka Jaiza”, published by Almawrid Lahore Pakistan. Dr Irfan Shehzad writes and speaks on religious, social and sociopolitical issues. His articles are published in different scholarly journals including Ishraq, Lahore, Pakistan, Al-Shariah Gujranwala Pakistan and on social media.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *