نکاح کےلیے عمر کی تحدید کا مسئلہ (مختصر)

نکاح کے لیے عمر کی تحدید کا مسئلہ (مختصر)
پاکستان کے ملکی قانون میں نکاح کے لیے لڑکے کی کم سے کم عمر 18 سال اور لڑکی کےلیے 16 سال مقرر کی گئی ہے۔ ایک جدید بِل میں لڑکی کے لیے بھی کم سے کم عمر 18 سال کرنے کی سفارش کی گئی ہے، جس کی خلاف ورزی کرنے پرجرمانہ اور قید کی سزا ئیں رکھی گئی ہے ۔ سینٹ نے یہ بل منظور کر لیا ہے تاہم،اہل مذھب کے روایتی طبقے کی طرف سے اس کی مخالفت کی جار ہی ہے۔ مخالفت کی بنیاد دو نکات پر ہے:
i. شریعت نکاح کے لیے عمر کی تحدید نہیں کرتی، اس لیے کسی اتھارٹی کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اس کی تحدید کرے۔
ii. رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ سے کثیر روایات میں کم سن بچوں کا نکاح کرانا مروی ہے۔ جو امر آپؐ کے لیے اور آپ کے سامنے جائز تھا اسے اب ناجائز قرار دینا درست نہیں۔
ہماری فقہ کے مطابق میں جمہور علما یہ موقف رکھتے ہیں کہ نکاح کےلیے بلوغت کی شرط بھی نہیں ہے چہ جائے کہ بلوغت کے بعد نکاح کے لیے عمر کی تحدید کی جائے۔ فقھا کے مطابق نابالغ بچے یا بچی کا ولی، باپ یا دادا، اس کانکاح کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔ یہ نکاح اگر غیر کفو میں کیا گیا ہو یا ولی کی بد نیتی ثابت ہو جائے تو عدالت اسے کالعدم قرار دے سکتی ہے۔ لیکن ایسا اگر نہیں ہے تو بچی بالغ ہو جانے کے بعد بھی اسے خود منسوخ کرنے کا اختیار نہیں رکھتی۔ البتہ خلع کا راستہ اختیار کر سکتی ہے۔ فقھا اس کے بھی قائل ہیں کہ نابالغ بچی کی جسمانی صحت اگر متحمل ہو تو نکاح کے بعد اس سے ازدواجی تعلق بھی قائم کیا جا سکتا ہے۔ اس پر دلیل وہ سور ہ طلاق کی آیت 4 سے پیش کرتے ہیں جس میں ان کے فہم کے مطابق یہ بیان ہوا ہے کہ نابالغ بچیاں جنھیں ابھی حیض نہ آیا ہو ان کی عدت تین ما ہ ہے اور یہ معلوم ہے کہ عدت تبھی مقرر کی جا سکتی ہے جب ازدواجی تعلق قائم کر لیا گیا ہو۔
تاہم، معدودے چند فقھا نابالغی کے نکاح کو درست نہیں سمجھتے مثلاً قاضی ابن شبرمہ اور ابو بکر عاصم۔ ان کے مطابق اگر ولی کی ولایت ان امور میں ہوتی ہے جہاں کوئی حقیقی ضرورت لاحق ہو، نابالغ کو نکاح کی کوئی حاجت نہیں ہوتی اس لیے یہاں ولایت متحقق نہیں۔
أَنَّهُ لَا يُزَوَّجُ الصَّغِيرُ وَالصَّغِيرَةُ حَتَّى يَبْلُغَا لِقَوْلِهِ {حَتَّى إذَا بَلَغُوا النِّكَاحَ} [النساء: 6] فَلَوْ جَازَ التَّزْوِيجُ قَبْلَ الْبُلُوغِ لَمْ يَكُنْ لِهَذَا فَائِدَةٌ، وَلِأَنَّ ثُبُوتَ الْوِلَايَةِ عَلَى الصَّغِيرَةِ لِحَاجَةِ الْمَوْلَى عَلَيْهِ حَتَّى إنَّ فِيمَا لَا تَتَحَقَّقُ فِيهِ الْحَاجَةُ لَا تَثْبُتُ الْوِلَايَةُ كَالتَّبَرُّعَاتِ، وَلَا حَاجَةَ بِهِمَا إلَى النِّكَاحِ؛ (Al-Sarkhasi, 1993)
اسلامی نظریاتی کونسل نے اس مباحثے میں درمیانی راستہ نکالتے ہوئے یہ قرار دیا ہے کہ اس مسئلے پر قانون سازی کی بجائے آگاہی پیدا کرنے کی ضرورت ہے کہ کم عمری کی شادی منفی نتائج پیدا کرتی ہے۔ گویا وہ اس عمل کو ایک غیر مطلوب سماجی عمل تسلیم کرتے ہوئے اس کے شرعی جواز کے قائل ہیں۔
اس پر ہمارا موقف ہے یہ ہے ایک مسلمانوں پر قائم ہیئت مقتدرہ کو سماجی مصالح کی بنیا دپر نکاح کی عمر کی تحدید کے لیےقانون سازی کا اختیار حاصل ہے۔
نکاح کی تسلیم شدہ بنیادیہ ہے کہ نکاح سے مقصود مرد اور عورت کے درمیان جنسی تعلق کو جائز حدود مہیا کرنا اور خاندان کے ادارے کی بنیاد رکھنا ہے۔ اس کے لیے نکاح کے فریقین کی شعوری رضامندی عقل و فطرت کا مطالبہ ہے۔ نابالغ کے ساتھ نکاح میں یہ مقاصد اور ان کی رضامندی کی شرط پائے نہیں جاتے۔ بلوغت کی عدم موجودگی میں فریق ثانی سے جنسی تعلق کےلیے داعیہ اور تسکین مفقود ہوتی ہے۔ فریقین میں سے ایک بالغ اور دوسرا نابالغ ہے تو یہ تعلق نابالغ فریق کے حق میں زیادتی اور ریپ کا سبب بنتا ہے۔ نابالغ لڑکی کے معاملے میں یہ معاملہ محتاج بیان نہیں۔ یہ زیادتی ہے اور ہر زیادتی شریعت کی نظر میں ناجائز ہے۔
قرآن مجید نکاح کے لیے نہ صرف جسمانی بلوغت بلکہ “نکاح کی صلاحیت” کو نکاح کے معیار کی حیثیت سے ذکر کرتا ہے:
وَاَنْکِحُوا الْاَیَامٰی مِنْکُمْ وَالصّٰلِحِیْنَ مِنْ عِبَادِکُمْ وَاِمَآءِکُمْ ، اِنْ یَّکُوْنُوْا فُقَرَآءَ یُغْنِھِمُ اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہٖ ، وَاللّٰہُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ. وَلْیَسْتَعْفِفِ الَّذِیْنَ لَا یَجِدُوْنَ نِکَاحًا حَتّٰی یُغْنِیَھُمُ اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہٖ . (النور ۲۴: ۳۲۔۳۳)
’(اِسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ) تم میں سے جو لوگ مجرد ہوں، اُن کے نکاح کر دو اور اپنے اُن غلاموں او رلونڈیوں کے بھی جو اِس کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ اگر وہ تنگ دست ہوں گے تو اللہ اُن کو اپنے فضل سے غنی کر دے گا۔ اللہ بڑی وسعت والا ہے، وہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔ اور جو نکاح کا موقع نہ پائیں، اُنھیں چاہیے کہ اپنے آپ کو ضبط میں رکھیں، یہاں تک کہ اللہ اُن کو اپنے فضل سے غنی کر دے۔ ‘‘
قابل غور بات یہ ہے کہ قرآن مجید نے نکاح کے لیےصلاحیت کو معیار بنایا ہے جس میں صرف جسمانی بلو ہی شامل نہیں بلکہ یہ بھی شامل ہے کہ فرد میں گھربار کی ذمہ داریاں سنبھالنے کی صلاحیت بھی موجود ہو۔
یتیموں کے مالی معاملات کے بیان میں اللہ تعالی نے یہ ہدایت دی ہے کہ ان کے مال کے نگران ان کا مال ان کے حوالے تب کریں جب وہ نہ صرف جسمانی طور پربالغ ہو جائیں بلکہ ان میں :رشد” یعنی اتنی سمجھ داری بھی نظر آئے کہ وہ اپنے مالی معاملات سنبھال سکتے ہوں۔ اس کے لیے ان کی صلاحیت کو جانچا پرکھا جائے:
{وَلَا تُؤْتُوا السُّفَهَاءَ أَمْوَالَكُمُ الَّتِي جَعَلَ اللَّهُ لَكُمْ قِيَامًا وَارْزُقُوهُمْ فِيهَا وَاكْسُوهُمْ وَقُولُوا لَهُمْ قَوْلًا مَعْرُوفًا وَابْتَلُوا الْيَتَامَى حَتَّى إِذَا بَلَغُوا النِّكَاحَ فَإِنْ آنَسْتُمْ مِنْهُمْ رُشْدًا فَادْفَعُوا إِلَيْهِمْ أَمْوَالَهُمْ وَلَا تَأْكُلُوهَا إِسْرَافًا وَبِدَارًا أَنْ يَكْبَرُوا وَمَنْ كَانَ غَنِيًّا فَلْيَسْتَعْفِفْ وَمَنْ كَانَ فَقِيرًا فَلْيَأْكُلْ بِالْمَعْرُوفِ فَإِذَا دَفَعْتُمْ إِلَيْهِمْ أَمْوَالَهُمْ فَأَشْهِدُوا عَلَيْهِمْ وَكَفَى بِاللَّهِ حَسِيبًا} [النساء: 5، 6]
اور( یتیم اگر ابھی نادان اور بے سمجھ ہوں تو) اپنے وہ اموال جن کو اللہ نے تمھارے لیے قیام اور بقا کا ذریعہ بنایا ہے، اِن بے سمجھوں کے حوالے نہ کرو۔ ہاں، اِ ن سے فراغت کے ساتھ اُن کو کھلاؤ، پہناؤ اور اُن سے بھلائی کی بات کرو۔اور نکاح کی عمر کو پہنچنے تک اِن یتیموں کو جانچتے رہو، پھر اگر اُن کے اندر اہلیت پاؤ تو اُن کے مال اُن کے حوالے کردو، اور اِ س اندیشے سے کہ بڑے ہوجائیں گے، اُن کے مال اڑا کر اور جلد بازی کرکے کھا نہ جاؤ۔ اور (یتیم کا) جو (سرپرست) غنی ہو، اُسے چاہیے کہ (اُس کے مال سے) پرہیز کرے اور جو محتاج ہو، وہ (اپنے حق خدمت کے طور پر) دستور کے مطابق (اُس سے) فائدہ اٹھائے۔ پھر جب اُن کے اموال اُن کے حوالے کرنے لگو تو اُن پر گواہ ٹھیرا لو،ورنہ حساب کے لیے تواللہ کافی ہے۔
ہم جانتے ہیں کہ نکاح بھی فریقین کے درمیان ایک معاہدہ ہے۔ یہ معاہدہ کسی بھی مالی معاملے سے زیادہ نازک اور اہم معاملہ ہے۔ نابالغ فریق کےلیے تو کسی دوسرے بالغ ( مثلا باپ، دادا وغیرہ)کو اپنا وکیل بنانا بھی معتبر نہیں ہوتا۔چناں چہ اس معاہدہ نکاح کے لیےفریقین کا نہ صرف جسمانی طور پر بالغ ہونا ضروری ہے بلکہ عقل کے اعتبار سے ان میں وہ سمجھ داری اور سنجیدگی (رشد) بھی موجود ہونی چاہیے جو اس معاہدے کے نتیجے میں پیش آنی والی ذمہ داریوں کے نبھانے کے لیے ضروری ہے۔
سورہ طلاق کی جس آیت سے یہ سمجھا گیا ہے کہ وہاں نابالغ لڑکی کی عدت بیان ہوئی ہے وہ بھی ہمارے نزدیک درست نہیں:
{وَاللَّائِي يَئِسْنَ مِنَ الْمَحِيضِ مِنْ نِسَائِكُمْ إِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلَاثَةُ أَشْهُرٍ وَاللَّائِي لَمْ يَحِضْن} [الطلاق: 4]
تمھاری عورتوں میں سے جو حیض سے مایوس ہو چکی ہوں، اور وہ بھی جنھیں (حیض کی عمر کو پہنچنے کے باوجود) حیض نہیں آیا، اُن کے بارے میں اگر کوئی شک ہے تو اُن کی عدت تین مہینے ہو گی۔
” وَاللَّائِي لَمْ يَحِضْن ” میں “لم’ نفی جحد کے لیے استعمال ہوتا ہے جس کا مفہوم صرف یہ نہیں کہ انھیں حیض نہیں آیا بلکہ یہ ہے کہ بلوغت کی عمر کو پہنچ کر بھی نہیں آیا۔ دوسرے یہ کہ “النساء” کا اطلاق بالغ خواتین پر ہوتا ہے سوائے یہ کہ کوئی قرینہ موجود ہو کہ جس سے اس میں کم سن بچیاں شامل سمجھی جا سکیں۔ مثلا:
واستحیوا نساءکم
یہاں نساء، ابناءکے مقابل آیا ہے۔ جس سے ان کی وہ کمر بیٹیاں مراد ہیں جن کو ان کے بچپن میں لڑکوں کے برعکس قتل نہیں کیاجاتا تھا۔
بہرحال سورہ طلاق کی مذکورہ بلالا آیت میں ایسا کوئی قرینہ موجود نہیں بلکہ قرائن اس کے برعکس بالغ خواتین کو متعین کرتے ہیں۔ یہاں عدت کا بیان ہے اور عدت بغیر حیض کے امکان کے متصور نہیں اوراس کے لیے بھی بلوغت شرط ہے۔ نیز،”ان ارتبتم” “اگر تمھیں شک ہو” سے صاف معلوم ہو رہا ہے کہ عدت اسی صورت میں ہے جب حمل ٹھرنے جانے کے بارے میں شک ہو۔ اس کے لیے خاتون میں حاملہ ہونے کی صلاحیت کا پایا ضروری ہےاور حیض کی عمر سے پہلے یہ ممکن نہیں۔ چناں چہ یہاں کم سن بچیوں کی عدت بیان نہیں ہوئی ہے۔
تفسیری روایات میں”ان ارتبتم” کا ایک دوسرا مفہوم یہ بیان کیا گیا ہے کہ اگر آئسہ یا غیر حائضہ ہونے کے باوجود انھیں خون آئے اور تمھیں شک ہو کہ یہ حیض ہے یا استحاضہ تو اس صورت میں عدت تین ماہ ہے۔ یہ مفہوم ہمارے نزدیک درست نہیں کیوں کہ اس صورت میں اسے آئسہ اور غیر حائضہ نہیں کہا جا سکتا۔ تاہم، اس راےسے بھی یہ بہرحال طے ہو جاتا ہے کہ خاتون کی عمر کم از کم اتنی ہونی چاہیے کہ حیض یا استحاضہ کا شک پیدا ہو سکے۔ دوسرے یہ کہ یہ حمل کا امکان ہی ہے جو آئسہ مدخولہ کے لیے بھی عدت کا باعث بن رہا ہے۔ نابالغ کے ہاں حمل کے امکان کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اس لیے عدت کا یہ بیان اس کے لیے ہو ہی نہیں سکتا۔ چناں چہ نابالغ کے نکاح اوراس سے ازداوجی تعلق قائم کرنے کاکوئی جواز قرآن مجید سے ثابت نہیں کیا جا سکتا۔ نکاح کے ساتھ عدت کا بیان اس بات کو مبرہن کر دیتا ہے کہ قرآن مجیدبالغ کے نکاح کو ہی ایک درست نکاح قرار دیتا ہے۔
قرآن مجید کے ایک بیان سے یہ سمجھا گیا ہے کہ نابالغ یتیم بچیوں کے ساتھ نکاح جائز ہے، اور اسی بنا پر علی الاطلاق نابالغہ کا نکاح جائز ہے۔ آیت ملاحظہ ہو:
{وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ مَثْنَى وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ ذَلِكَ أَدْنَى أَلَّا تَعُولُوا} [النساء: 3]
اور اگر اندیشہ ہو کہ یتیموں کے معاملے میں انصاف نہ کر سکو گے تو ان کے ساتھ جو عورتیں ہیں، ان میں سے جو تمھارے لیے موزوں ہوں، اُن میں سے دودو، تین تین، چار چار سے نکاح کرلو۔ پھر اگر ڈر ہو کہ (اُن کے درمیان) انصاف نہ کر سکو گے تو (اِس طرح کی صورت حال میں بھی)ایک ہی بیوی رکھو یا پھر لونڈیاں جو تمھارے قبضے میں ہوں۔ یہ اِس کے زیادہ قریب ہے کہ تم بے انصافی سے بچے رہو۔
یتیم کا لفظ اس نابالغ کے لیے بولا جاتا ہے جس کا والد فوت ہو گیا ہو۔ مفسرین اور فقھا نے یہاں یتامی سے نابالغ یتیم بچیاں مراد لی گئی ہیں جن سے نکاح کی ترغیب دی گئی ہے۔ ہمارے نزدیک یہ مفہوم درست نہیں۔یتامی کا لفظ نابالغ بچوں اور بچیوں دونوں کے لیے بولا جاتا ہے۔ آیت زیر بحث بچے اور بچی دونوں قسم کے یتیموں کے مسئلے کا حل بیان کررہی ہے۔ چناں چہ یہاں یتامی سے صرف نابالغ یتیم بچیاں مراد نہیں لی جا سکتیں۔ چناں چہ “النساء” میں ال عھد کا ہے اور ان خواتین سے مراد یتیموں کی رشتہ دار مائیں یا بہنیں وغیرہ ہیں جوقابل نکاح ہوں ۔ اس آیت میں ان کو نکاح میں لانے کی اجازت اور ترغبیب سے ان کے یتیم بچوں کی کفالت میں سہولت اور محرک پیدا کیے گئے ہیں۔
رہا معاملہ عہد رسالت اور عہد صحابہ میں نابالغ بچوں کے نکاح کے واقعات کا تو اس کا حکم یا جواز شریعت کی بنیاد پر نہیں تھا۔ یہ اس وقت کے قبائلی سماج کا رواج تھا جسے قبولیت حاصل تھی۔اس بنا پر قرن اول میں بھی اس عمل جاری رہا۔شریعت نے اسے علی الاطلاق ممنوع تو قرار نہیں دیا لیکن معیارِ نکاح واضح طور پر قرآن مجید میں بیان کر دیا ۔ چناں چہ نابالغ کے نکاح کی کوئی ترغیب کہیں نہیں دی گئی، بلکہ ایسے نکاح کے معاملے کو سماج میں تحفظات کے ساتھ دیکھا جاتا تھا۔ چناں چہ یتیم بچیوں کے معاملے میں رسول اللہ ﷺ نے ان کی بلوغت سے قبل ان کا نکاح کرنامنع فرمایا کہ ان کے ایسے ولی کا امکان موجود نہیں جو ان کے لیے باپ جیسی شفقت رکھتا ہو۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَمُجَمِّعٍ، ابْنَىْ يَزِيدَ بْنِ جَارِيَةَعَنْ خَنْسَاءَ بِنْتِ خِذَامٍ الأَنْصَارِيَّةِ، أَنَّ أَبَاهَا، زَوَّجَهَا وَهْىَ ثَيِّبٌ، فَكَرِهَتْ ذَلِكَ فَأَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَرَدَّ نِكَاحَهُ‏.‏ (Sahih al- Bukhari, Hadith no. 5138)
قُدَامَةَ بْنَ مَظْعُونٍ زَوَّجَ ابْنَةَ أَخِيهِ عُثْمَانَ بْنَ مَظْعُونٍ مِنْ ابْنِ عُمَرَ – رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ – فَرَدَّهَا رَسُولُ اللَّهِ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، وَقَالَ: إنَّهَا يَتِيمَةٌ وَإِنَّهَا لَا تُنْكَحُ حَتَّى تُسْتَأْمَرَ»، وَهُوَ الْمَعْنَى فِي الْمَسْأَلَةِ فَنَقُولُ هَذِهِ يَتِيمَةٌ فَلَا يَجُوزُ تَزْوِيجُهَا بِغَيْرِ رِضَاهَا كَالْبَالِغَةِ وَتَأْثِيرُ هَذَا الْوَصْفِ أَنَّ مُزَوِّجَ الْيَتِيمَةِ قَاصِرُ الشَّفَقَةِ عَلَيْهَا
اس بحث سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ شریعت نے نکاح کے لیے نہ صرف جسمانی بلوغت بلکہ “صلاحیت نکاح” جیسےجامع لفظ کو بطور معیار بیان کیاہے۔ اس صلاحیت کی ملکی سطح پر تعیین اور تحدیدکے لیےحکومت کو یہ اختیار حاصل ہے کہ سماجی حالات اور مصالح کو مد نظر رکھتے ہوئے قانون سازی کرے۔
ہم جانتے ہیں کہ ایک مسلم حکومت یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ نہ صرف ان معاملات میں قانون سازی کر سکتی ہے جنھیں شریعت نے موضوع نہیں بنایا بلکہ شریعت کے بیان کردہ احکامات کے اطلاق اور نفاذ میں بھی حالات کی رعایت رکھتے ہوئے قانون سازی کر سکتی ہے۔حضرت عمر کے دور خلافت کی متعدد مثالیں اس ضمن میں پیش کی جا سکتی ہیں۔ مثلاً، عراق کی زمینوں کو مجاہدین میں تقسیم کرنے کی بجائے انھوں نے انھیں قومی ملکیت قرار دیا، عام الرمادہ کے طویل قحط کے دوران میں چوری کی سزا، قطع ید کو معطل کر دیا، طلاق کے معاملے میں جب مسلم سماج میں بے احتیاطی بڑھنے لگی تو آپ نے بیک وقت تین طلاق دینے کو تین ہی نافذ کرنے کا انتظامی حکم جاری کیا۔ اس بنا پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ بالفرض اگر نکاح کے لیے عمر کی عد م تحدید کو شریعت کی تائید حاصل ہے تو پھر بھی حالات اور مصالح کی رعایت سے بھی اس بارے میں قانون سازی کرنا ایک مسلم حکومت کا اختیار ہے۔ اس کی مزید تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ یتیم بچیوں کے معاملے میں رسول اللہ ﷺ نے ایسا کر کے دکھا بھی دیا ہے کہ جب ان کے ولیوں میں باپ جیسی شفقت کا امکان نہیں پایا گیا تو ان کے نابالغی کے نکاح کو منع فرما دیا۔ ہم اپنے سماج کو جانتے ہیں کہ ہمارے ہاں بہت سےطبقات اور علاقہ جات میں خواتین کووہ عزت و مقام حاصل نہیں ہے جو ان کا بنیادی حق ہے۔ انھیں نکاح کے نام پر بیچا جاتا ہے، مفلسی کی وجہ سے ان کی جلد شادی کرکے ان کے اخراجات کےبوجھ سے نجات حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، جھگڑے نمٹانے کے لیے ونی کی رسم کی تحت انھیں بطور تاوان دشمن کے حوالے کر دیا جاتا ہے، خاندانوں میں وٹے سٹے کے نام پران کی مرضی کے خلاف بھی ان کا نکاح کر دیا جاتا ہے، بلکہ بعض علاقوں میں (نعوذ باللہ) قرآن مجید سے ان کا نکاح کر دیا جاتا ہے۔ پھر طبی رپورٹوں سے یہ ثابت ہے کہ کم عمری کی شادی سے زچہ اور بچہ کے صحت سخت متاثر ہوتی ہے، نیز کم عمری کی شادی، شادی کے بعد کی ذمہ داریوں کی انجام دہی کےلیے موزوں نہیں۔ ایسے حالات میں حکومت اگر نکاح کی عمر کی تحدید کا قانون بناتی ہے تو کم از کم اتنا ممکن ہے کہ جوان لڑکی یا لڑکا اپنے خلاف زیادتی کا ادراک کر سکے اور قانون کا سہارا لینا چاہےتو بساط بھر لے سکے۔
خلاصہ یہ ہے کہ حکومت کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ نکاح کے لیے عمر کی تحدید کی معاملے میں طبی اور سماجی علوم کے ماہرین کی آرا کی روشنی میں سماجی مصالح کو مد نظر رکھتے ہوئے قانون سازی کرے، ہمارے نزدیک شریعت ایسی صالح قانون سازی کی تائید کرتی ہے۔

اس تحریر كو شیئر كریں
Share on facebook
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on email
Dr Irfan Shehzad

Dr Irfan Shehzad

Dr Irfan Shehzad belongs to Rawalpindi, Pakistan. He holds a doctorate in Islamic Studies from National University of Modern Languages (NUML) Islamabad, Pakistan. He is working as a companion to Ghamidi Center of Islamic Learning Dallas, USA. He is an assistant research fellow with Al-Mawird Pakistan. He is the author of the book, “Qanoon-e-Itmam-e-Hujjat awr Us kay Itlaqaat: Janab Javed Ahmad Ghamidi ki Tawzihaat par Aetrazaat awr Ishkalaat ka Jaiza”, published by Almawrid Lahore Pakistan. Dr Irfan Shehzad writes and speaks on religious, social and sociopolitical issues. His articles are published in different scholarly journals including Ishraq, Lahore, Pakistan, Al-Shariah Gujranwala Pakistan and on social media.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *