عام آدمی اور نفرت کا بیانیہ

انڈیا اور پاکستان کے درمیان جب بھی جنگ کی فضا گرم کی جاتی ہے اس میں عام آدمی کا بیانیہ کہیں جگہ نہیں پاتا۔ میڈیا کا ہنگامہ، فوجی افسران اور حکم رانوں کے بیانات اور چند ناسمجھ نوجوانوں کے ڈائیلاگز میں عام آدمی کا بیانیہ کہیں نہیں ہوتا۔
یہ عام آدمی پوری دنیا کے ہر سماج میں ایک جیسا ہوتا ہے۔عام آدمی کی ترجیحات الگ ہوتی ہیں۔ اس کا مقصد جینا اور اچھے طرح جینے کی کوشش میں جینا ہوتا ہے۔ غالب ترین اکثریت اسی امن پسند عام آدمی کی ہوتی ہے۔ اسے جنگ سے وحشت ہوتی ہے۔ جنگ کی خبر سن کر اسے اپنے بچوں کے چہرے یاد آتے ہیں، ان کا مستقبل تاریک نظر آنے لگتا ہے، اپنے گھر کا راشن پورا کرنا یاد آتا ہے، اپنا محنت سے قائم کردہ اپنا کاروبار ڈوبتا نظر آتا ہے، مگر میڈیا اس کا انٹرویو نہیں کرتا، کیونکہ خبر یہ نہیں کہ ایک عام آدمی صبح نوکری اورکاروبار کرنے جاتااور شام کو واپس اپنے بچوں کے پاس آ کر وقت گزارنا چاہتا ہے، خبر یہ ہے کہ کوئی جذباتی جنونی جنگ کی بات سن کر اپنے آپ کو مرنے کے لیے پیش کر رہا ہے تاکہ دوسرے بھی مر سکیں، پھر جس کے ملک کے بندے کم مریں گے، جیت اس کی سمجھی جائے گی۔ اسے خبر کہتے ہیں، میڈیا اسی کو دکھاتا ہے اور اس کو دیکھ کر لوگ کہتے ہیں کہ دیکھو سارا ملک جنگی جنون میں مبتلا ہے۔ یہ چند سرپھرے سارا ملک کیوں کر ہو سکتے ہیں؟ سرکاری افسران اور حکومتی نمایندوں کے بیانات عام آدمی کے بیانات کیسے ہو گئے؟
افسوس یہ ہے کہ جنگ جو نہ عام آدمی کرتا ہے اور نہ یہ اس کے لیے ہوتی ہے، اس کا خرچ بھی اسی سے لیا جاتا ہے اور سب سے زیادہ متاثر بھی وہی ہوتا ہے۔
عام آدمی کو جب بھی اپنی بات منوانے کا موقع ملا، اس نے امن کی بات ہی کی۔ ویت نام سے امریکی افواج کا انخلا امریکہ کے عام آدمی کے بدولت ممکن ہوا، (اس وقت کے میڈیا نے بھی مثبت کردار ادا کیا تھا) عراق کے خلاف امریکہ کی جنگ میں برطانیہ کی شرکت کے خلاف لندن میں چھ لاکھ لوگوں کا مارچ ہوا۔ وزیر اعظم،ٹونی بلییر اگرچہ پھر بھی مان کر نہ دیا اور جنگ میں شرکت کی مگر اب وہ معذرت کرتا ہے کہ غلطی ہو گئی تھی۔
مغرب کا عام آدمی سول سوسائٹی کی بدولت کافی منظم ہو گیا ہے، لیکن انڈیا اور پاکستان کےعام لوگ جنھیں جنگ سے نفرت ہے، وہ اب تک کسی پلیٹ فارم پر منظم نہیں ہو سکے۔ اسی لیےان کی کوئی شنوائی نہیں، جنگ اور نفرت پھیلانے والے ان کی طرف سے بھی خود بولتے ہیں ان کے خرچ پر جنگ لڑتے ہیں اور انھی کو تباہ بھی کرتے ہیں۔
اہل نظر کو عوام اور خواص کی اس جنگ میں عام آدمی کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے، تاکہ جنگی جنون میں مبتلا یا جنگ کے کاروبار سے نفع حاصل کرنے والوں کو عوام کی مرضی پر جھکایا جا سکے۔ مجھے انڈیا کے عام آدمی سے اتنی ہی ہمدردی ہے جتنی خود اور اپنے ہمسائے سے۔ انڈیا کے بچے مجھے اتنے ہی پیارے ہیں جتنے مجھے اپنے اور اپنے خاندان کے بچے پیارے ہیں۔ انڈیا کے ہر جوان کا ہر خوب صورت خواب میرا خواب جسے پورا ہوتے دیکھنا اس کا حق ہے۔ انڈیا کے عام انسان کی زندگی بھی اتنی ہی بامعنی ہے جتنی میری اپنی زندگی۔ جنگ سے نفرت کیجیے تاکہ انسان سے محبت کی جا سکے۔

اس تحریر كو شیئر كریں
Share on facebook
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on email
Dr Irfan Shehzad

Dr Irfan Shehzad

Dr Irfan Shehzad belongs to Rawalpindi, Pakistan. He holds a doctorate in Islamic Studies from National University of Modern Languages (NUML) Islamabad, Pakistan. He is working as a companion to Ghamidi Center of Islamic Learning Dallas, USA. He is an assistant research fellow with Al-Mawird Pakistan. He is the author of the book, “Qanoon-e-Itmam-e-Hujjat awr Us kay Itlaqaat: Janab Javed Ahmad Ghamidi ki Tawzihaat par Aetrazaat awr Ishkalaat ka Jaiza”, published by Almawrid Lahore Pakistan. Dr Irfan Shehzad writes and speaks on religious, social and sociopolitical issues. His articles are published in different scholarly journals including Ishraq, Lahore, Pakistan, Al-Shariah Gujranwala Pakistan and on social media.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *