قرآن مجید کے حفظ کی رسم پر نظر ثانی کی ضرورت

قرآن مجید کے حفظ کی رسم صدیوں سے مسلم سماج میں رائج ہے۔ عام تاثر یہ ہے کہ یہ قرآن مجید کی حفاظت کا ذریعہ اور باعث اجر و سعادت ہے ۔ یہ تصور چند غلط فہمیوں پر مبنی ہے۔
قرآن مجید کا مقصد اس کے کلام اور پیام کا ابلاغ ہے :
{كِتَابٌ أَنْزَلْنَاهُ إِلَيْكَ مُبَارَكٌ لِيَدَّبَّرُوا آيَاتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ أُولُو الْأَلْبَابِ} [ص: 29]
یہ ایک بابرکت کتاب ہے جو ہم نے، (اے پیغمبر)، تمھاری طرف نازل کی ہے۔ اِس لیے کہ لوگ اِس کی آیتوں پر غور کریں اور اِس لیے کہ عقل والے اِس سے یاددہانی حاصل کریں۔
ابلاغِ کلام کے لیے کلام کا حفظ ہونا ضروری نہیں۔قرآن مجید کے حفظ کرنے کی ہدایت بلکہ ذکر تک قرآن مجید میں موجود نہیں۔ قرآن مجید کی ایک آیت سے قرآن کے حفظ کامفہوم اخذ کیا جاتا ہے:
وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُدَّكِر ،(ہم نے اِس قرآن کو یاددہانی کے لیے نہایت موزوں بنادیا ہے۔ پھر کیا ہے کوئی یاددہانی حاصل کرنے والا؟) اس آیت سے قرآن مجیدکا ایسا حفظ مراد لینا جس میں الفاظ و معنی کےفہم سے کوئی تعلق نہ ہو سوئے فہم ہے۔”ذکر” کا لفظ ہی یہ بتانے کے لیے کافی ہے اس مفہوم کو یہاں لینے کی کوئی گنجایش نہیں ہے۔ ذکر کے مفہوم میں تعلیم، تذکیر، آگاہی، تنبیہ، نصیحت جیسے مفاہیم شامل ہیں۔
رسول اللہ ﷺ سے منسوب ایک روایت سے بھی حفظ قرآن پر استدلال کیا جاتا ہے اس کی حقیقت بھی دیکھ لیجیے:
مَنْ قَرَأَ حَرْفًا مِنْ كِتَابِ اللهِ فَلَهُ بِهِ حَسَنَةٌ، وَالحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا، لاَ أَقُولُ الْم حَرْفٌ، وَلَكِنْ أَلِفٌ حَرْفٌ وَلاَمٌ حَرْفٌ وَمِيمٌ حَرْفٌ.( سنن الترمذي ت بشار (5/ 25) (صححہ البانی)
جس نے قرآن کریم کا ایک حرف پڑھا اس کے لئے ایک نیکی ہے اور ہر نیکی دس نیکیاں ،میں نہیں کہتا کہ الم ایک حرف ہے بلکہ الف ایک حرف ہے اور لام ایک حرف ہے اور میم ایک حرف ہے ۔
استدلال یہ ہے کہ چوں کہ ‘الم’ کا مطلب معلوم نہیں ہے، اگر اس پر ثواب کی خبر دی گئی ہے تو بلا فہم تلاوت قرآن اور حفظ بھی باعث ثواب ہے۔ یہ محض نکتہ آفرینی ہے۔ یہاں ‘ الم’ نیکی کی مقدار بتانے کے لیے بطور مثال مذکور ہوا ہے نہ کہ بلا فہم پڑھنے کی ترغیب دینے کے لیے۔ رسول اللہ ﷺ سے اس مفہوم کی نسبت قرآن کے مقصدِ نزول کے خلاف ہے جس کی طرف قرآن بار بار متوجہ کرتا ہے کہ یہ کلام اسی لیے نازل کیا گیا ہے کہ لوگ اس میں تدبر کریں۔ یہ ناممکن ہے کہ خدا تدبر قرآن کی ترغیب دلا رہا ہو اور اس کا رسول (نعوذ باللہ) اس کے برعکس بلا فہم تلاوت و حفظ کی ترغیب دے۔ بلا فہم تلاوت و حفظ کے حق میں بس یہ ایک روایت پیش کی جاتی ہے اور یہ بھی اس مفہوم کو ادا کرنے کے لیے قطعی نہیں مگر فہم قرآن سے رو گردانی کرتے ہوئے قرآن کی تلاوت سے ثواب کی امید کے دھوکے میں مبتلا رہنے کا پورا استدلال اس ایک روایت پر کھڑا کیا گیا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ مسلمانوں کو قرآن سے اصل مقصد سے غافل کرنے کا یہ شیطانی فریب ہے جس کا وہ شکار ہوئے ہیں۔
“روایتوں سے معلوم ہوتاہے کہ نماز میں قرا ء ت کے دوران میں رسول اللہ ﷺقرآن کا جواب بھی دیتے تھے۔ چنانچہ تسبیح کے حکم پر تسبیح کرتے ، سجدہ کی آیتوں پر سجدہ کرتے، رحمت کی آیتوں پر رحمت او ر عذاب کی آیتوں پر اللہ کی پناہ چاہتے اور دعاؤں کے مضمون پر ’آمین‘ کہتے تھے۔”( مسلم ، رقم ۱۸۱۴،بخاری ، رقم ۱۰۶۷، ۱۰۷۴، مسلم، رقم ۱۸۱۴۔ ابوداؤد، رقم ۸۷۱، ۹۳۶)
دیکھا جا سکتا ہے کہ ہماری نمازوں میں سوائے سجدہ تلاوت کے رسول اللہ ﷺ کے اس اسوہ حسنہ کو فراموش کردیا گیا ہے۔ جب پڑھنے والے کومعلوم ہی نہیں کہ وہ کیا پڑھ رہا ہے، چاہے سارا ہی قرآن اسے یاد ہو، تو وہ اس اسوہ حسنہ پر عمل کیسے کر سکتا ہے۔ دعاؤں کو بھی عربی میں مانگنے پر اصرار اس بے تاثیری کی وجہ بنا ۔ لوگوں کو عام طور پر یہ بتایا ہی نہیں گیا کہ دعائیں وہ اپنی زبان میں بھی مانگ سکتے ہیں۔
فہم قرآن کے حصول کا داعیہ اور تقاضا حفاظ اور قراء تک میں عموما پیدا نہیں ہوتا۔ اس کی وجہ یہی ہے بلا فہم الفاظ کی تکرار کو حصول ثواب کے لیے کافی سمجھ لیاگیا۔ پھر یہ کہ معیار سے زیادہ مقدار تلاوت کو حصولِ ثواب کا پیمانہ بنا لیاگیا ہے ۔ اس وجہ سے نماز میں تلاوت قرآن سے حصول فہم وتاثیر کا مقصد نگاہ سے اوجھل ہو گیا۔
ماہِ رمضان میں تراویح کی نماز، جو درحقیقت نماز تہجد ہی ہے، میں پورے قرآن مجید کی تلاوت اور اس کے سماع کا اہتمام مسلمانوں کا اپنا انتخاب ہے۔ اس کا سنت سے کوئی تعلق نہیں۔ رسول اللہﷺ جبرائیل علیہ السلام کے ساتھ ماہِ رمضان میں قرآن مجید کا دورہ کیا کرتے تھے نہ کہ نماز تہجد میں۔ نماز تھجد میں قرآن مجید کی تلاوت کا ذکر جہاں قرآن مجید میں آیا ہے تو دیکھا جا سکتا ہے کہ وہاں یہ سہولت دی گئی کہ جتنا ہو سکے اتنا پڑھ لیا جائے۔ فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ (چنانچہ اب قرآن میں سے جتنا ممکن ہو،اِس نماز میں پڑھ لیا کرو۔)
رسول اللہ ﷺ سے منقول قرآن مجید کےحفظ کرنے کی ترغیب دلانے والی روایات میں سے جو معیار صحت پر پورا اترتی ہیں ان میں اس تصور کا پایا جانا ممکن نہیں کہ آپؐ نے لوگوں کو بلا سمجھے قرآن مجید کو زبانی یا دکرنے کی تلقین فرمائی ہو۔ آپؐ کے مخاطبین قرآن مجید کی زبا ن سے واقف تھے۔ ان کے لیے اسےسمجھے بغیر یاد کر لینا متصور ہی نہیں تھا۔ البتہ، عرب کی غالب اکثریت لکھنا پڑھنا نہیں جانتی تھی، لکھنے پڑھنے کا سامان بھی کم یاب تھا، قرآن مجید ان سب کو لکھ کر دے بھی دیا جاتا تو وہ اسے پڑھ نہیں سکتے تھے، قرآن مجید کی تعلیم کے ساتھ اسے حفظ کر لینے کی یہ ہدایات انھیں ان حالات کی بنا پر دی گئیں کہ ان کے لیے قرآن مجید سے مراجعت کا یہی طریقہ رہ جاتا تھا کہ وہ اسے زبانی یاد بھی کرلیں۔ یوں اُس وقت ایک حد تک قرآن مجید کے حفظ کے ذریعے سے بھی اس کی حفاظت کا کام لیا گیا، لیکن اس کی وجہ حالات کی یہ مجبوری اور عربوں کی عادت کے مطابق تھا۔ چناں چہ عرب کے لوگ اپنی عادت کے مطابق قرآن مجید کو یاد کر لیتے تھے جیسے وہ خطبا اور شعرا کے کلام اور اپنے نسب نامے زبانی یاد کر لیتے تھے۔
رسول اللہ ﷺ کے دور میں قرآن مجید کا حافظ یا قاری ہونے کا مطلب قرآن مجید کا عالم ہونا تھا۔ حفظ کا یہ مفہوم حافظ الحدیث کی اصطلاح میں آج بھی زندہ ہے۔ کوئی یہ تصور نہیں کر سکتا کہ حافظ الحدیث ایسا شخص بھی ہوسکتا ہے جس کو احادیث کی ایک بڑی تعداد تو یاد ہو لیکن ان کا مطلب و مفہوم معلوم نہ ہو۔ مزید برآں، جس طرح حافظ الحدیث کے مفہوم میں یہ لازمی نہیں کہ اسے تمام احادیث حفظ ہوں، اسی طرح حافظ القرآن کے مفہوم میں بھی یہ لازم نہ تھا کہ اسے اوّل تا آخر سارا قرآن بالترتیب یاد ہو ۔ جو قرآن مجید کا اچھا علم رکھتا تھا وہ حافظ القران ہی سمجھا جاتا تھا۔ قرآن مجید کے حفظ اور حفاظ سے متعلق وارد ہونے والی احادیث میں قرآن مجید کے الفاظ کو اس کے معانی اور مطالب کے ساتھ حفظ کرنا از خود مفہوم تھا۔ تاہم، عجمی قومیں جب اسلام میں داخل ہوئیں تو انھوں نے ان روایات کو قرآن مجید کے الفاظ کو بغیر سمجھے یاد کرنے سے متعلق بھی سمجھ لیا۔ اس قسم کے حفظ کی رسم پھر ایسی چلی کہ پوری مسلم دنیا میں پھیل گئی۔ علما اور قراء نے ہر مدرسے میں ایک شعبہ حفظ قائم کر لیا، بلکہ حفظ کے مستقل مدرسے بن گئے جن کا مقصد وحید قرآن مجید کے ایسے حافظ تیار کرنا تھا جو اس کے معانی اور مفہوم سے ناآشنا تھے۔ بلا سوچے سمجھے حفظِ قرآن اپنے ذوق اور شوق کا ذاتی ذوق اور انتخاب ہو سکتا ہے مگر رسول اللہ ﷺ کے ترغیبی ارشادات کو اس کے ساتھ منسوب کرنا سوئے فہم ہے۔ امت کے وقت، توانائی اور مال کا بڑا حصہ اس میں صرف ہو رہا ہے۔
یہ خیال ایجاد کیا گیا کہ قرآن مجید کا حفظ کرنا معجزہ ہے۔ یہ حقیقتاً درست نہیں۔ قرآن مجید صبح سے لے کر شام تک کا سارا وقت لگا کر اوسطا تین سے چار سال میں حفظ کیا جاتا ہے۔ اتنا وقت اتنی ضخامت کی کسی بھی کتاب کو زبانی یاد کرنے کے لیے کافی ہے، خصوصاً جب الفاظ میں ایک خاص قسم کی موسیقیت اور موزونیت بھی پائی جاتی ہو تو یہ اور بھی سھل ہو جاتا ہے۔ نثر کے مقابلے میں شاعری اسی وجہ سے جلدی اور زیادہ مقدار میں یاد ہو جاتی ہے۔ کتاب اگر اپنی زبان میں ہو تو اس سے بھی کم وقت میں اس کا زبانی یاد کر لینا ممکن ہے۔ قرآن مجید کا حفظ معجزہ تب قرار پا سکتا تھا کہ اگر یہ حفظ کرنے کے بعد یاد رہ پاتا۔ جب کہ امرِ واقعہ یہ ہے کہ چند د ن دہرائی نہ کی جائے تو یہ بھولنا شروع ہو جاتا ہے۔ اسے یاد رکھنے کے لیے مسلسل دہرائی کی محنت کرنا پڑتی ہے، جیسے کسی بھی دوسرے یاد کیے ہوئے کلام کے لیے کرنا پڑتی ہے۔ تاہم، قرآن مجید کے اکثر حفاظ یہ مستقل مزاجی نہیں دکھا پاتے۔ زندگی کی مصروفیات میں قرآن مجید کا حفظ دھندلا جاتا یا بالکل بھول جاتا ہے۔ پچپن اور جوانی میں قرآن مجید کو یاد رکھنے کی یہ مشقت اٹھا بھی لی جائے تو بڑھاپے میں ان حفاظ سے یہ کشٹ نہیں اٹھایا جاتا اور آخری عمر میں وہ حفظ قرآن پورا یا بیشتر بھلا بیٹھتے ہیں۔ خواتین حفاظ کےحفظِ قرآن بھولنے کے عوامل اور بھی زیادہ ہیں۔حیض و نفاس کے دوران میں قرآن مجید کی تلاوت نہ کر سکنے کے وقفے اور چھوٹے چھوٹے گھریلو کام جو ان کو ٹک کر بیٹھنے نہیں دیتے، قران مجید کا حفظ بھولنے کا عمومی سبب بن جاتے ہیں۔
قرآن مجید کے حفظ سے شعبدہ بازی کام بھی بعض حلقوں میں لیا جاتا ہے۔ طلبہ سے متن قرآن کے ساتھ صفحہ نمبر بلکہ آیت نمبر تک یاد کروائے جاتے ہیں۔ پھر بین الاقوامی مقابلوں میں یاداشت کے یہ کارنامے پیش کر کے داد تحسین وصول کی جاتی ہے۔ تاہم، مقابلے کے چند دن بعد ہی یاداشت کا یہ ذخیرہ طلبہ کے ذہن سے محو ہو نے لگتا ہے۔ اس تمام جان کاہی کا قرآن مجید کے کلام و پیام کے ابلاغ سے کوئی تعلق تلاش نہیں کیا جا سکتا۔
حفاظ جب قرآن مجید بھولنے لگتے یا بھول جاتے ہیں تو وہ احادیث ان کے سامنے آ جاتی ہیں جن میں قرآن مجید کو بھلا دینے پر سخت وعیدیں آئی ہیں۔ یہ حفاظ بقیہ عمر اس قصورواری کے احساس میں گزارتے ہیں انھوں نے قرآن مجید بھلا کر سخت گنا ہ کردیا ہے اور ان کا حشر اب برا ہوگا۔ یہ ندامت کے مارے خدا سے معافی مانگتے رہتے یا خود پر غفلت طاری کر کے دین سے بھی بے زار ہو جاتے ہیں۔ لوگ انھیں حافظ سمجھتے ہیں لیکن وہ دل میں شرمندہ رہتے ہیں اور یوں ایک منفی نفسیات کا شکار ہو جاتے ہیں۔
رسول اللہ ﷺ کی طرف سے قرآن مجید بھلا دینے پر وارد ہونے والی وعیدوں کو ان کے درست تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ جن لوگوں سے آپ مخاطب ہو کر یہ فرما رہے تھے وہ قرآن مجید کو رٹا لگا کر یاد نہیں کررہے تھے۔ ان سے یہ کہا جا رہا تھا کہ قرآن مجید سے تعلق پیدا کرلینے کے بعد اگر وہ اسے بھول جائیں گے تو ان سے سخت مواخذہ ہوگا۔ یہ وعیدیں درحقیقت قرآن مجید سے رو گردانی کرنے یا بے اعتنائی برتنے پر وارد ہوئی ہیں نہ کہ قرآن مجید کے الفاظ کو بھول جانے پر۔ جب قرآن مجید کا محض حفظ ہی مقصود نہیں تو یہ وعیدیں محض حفظ کو بھلا دینے سے متعلق کیسے ہو سکتی ہے؟
تاریخ میں یہ کہیں نہیں ملتا کہ صحابہ اور ان کی اولادیں قرآن مجید حفظ کرنے کے لیے کوئی مخصوص وقت لگاتے یا اس کے لیے الگ مدارس کھولتے یا ایک دوسرے سے قرآن مجید زبانی سنتے اور امتحان لیتے کہ کس کو کتنا یاد ہے اور اسی کو حافظ قرار دیتے جسے پورا قرآن بالترتیب یاد ہو۔ قرآن مجید ان کی زندگی کا حصہ اور اس کی تلاوت ان کے روزانہ کے معمولات کا لازمی جزو تھا۔ وہ قرآن مجید کی تلاوت اور مزاولت اتنی کثرت سے کرتے تھے کہ قرآن مجید ان کی زبانوں پر رواں رہتا تھا اور اس کا بہت سا حصہ خود بخود انھیں یاد رہتا تھا۔
ہمارے ہاں یہ تصور پیدا ہوا کہ حفظِ قرآن کے لیے بچپن کی عمر بہتر ہے۔ اسی بنا پر حفظ کے کم عمر طلبہ کی کثرت ہے۔ ستم یہ ہے کہ مدارس میں باقاعدہ حفظِ قرآن کا دورانیہ غیر معمولی طور پر طویل ہے۔ صبح فجر سے رات عشا تک یہ جاری رہتا ہے، جس میں نماز اور کھانے کے وقفوں کے علاوہ عصر سے مغرب تک کا ایک وقفہ دیا جاتا ہے۔ کم سن اور نوجوان بچے اتنا طویل وقت مسلسل بیٹھ کر ایک ایسی کتاب کو حفظ کرنے کی مشقت جھیلتے ہیں جس کے معنی و مفہوم بھی انھیں معلوم نہیں ہوتے۔ پھر یہ سب وہ اپنی خوشی سے نہیں بلکہ اپنے بڑوں کی خوش نودی یا ان کے جبر اور خوف کی وجہ سے کرتے ہیں۔ حفظ کے دوران کیا جانے والا تشدد، رہایشی مدارس میں بچوں کا اپنے گھر سے دوری کا دکھ اور جنسی ہراسانی کا مسئلہ، یہ سب بچے کی نفسیات میں غیر صحت مند رویے تشکیل دیتے ہیں۔ ان غیر صحت مندانہ رویوں کے اثرات سماج میں مختلف صورتوں میں ظاہر ہوتے ہیں۔
بچپن کی عمر بہت کچھ سیکھنے سمجھنے کی ہوتی ہے۔ تمام صلاحیتوں کی پرداخت کی یہی عمر ہوتی ہے۔ مختلف ہنر ابتدائی طور پر اسی عمر میں سکھانا مفید ہوتا ہے۔ مگر عمر کے اس سب سے قیمتی وقت کا ایک متعد بہ حصہ قرآن مجید کے الفاظ کو بلا سمجھے یاد کرانے تک محدود کر دینا مختلف ذہنی صلاحیتوں کی نشوو نما میں رکاوٹ پیدا کرتا ہے۔ تعلیمی نقطہ نظر سے سراسر نامناسب طرزِ عمل ہے۔
تین سے پانچ سال لگا کر بچہ جب حافظ بنتا ہے تو عصری تعلیم کے میدان میں اس کی عمر کے بچے کئی درجے اس سے آگے نکل چکے ہوتے ہیں۔ سکول میں اسے اپنے سے کم عمر بچوں کے ساتھ داخلہ ملتا ہے۔ عمروں کا فرق کمرہ جماعت میں اس کے لیے ایک غیر موافق ماحول پیدا کرتا ہے جو اس کے لیے بدمزگی کا سبب بنتا ہے ۔ دوسری صورت میں ایسے بچوں کو ان کی عمر کے مطابق درجے میں بٹھا تو دیا جاتا ہے لیکن پھر ان سے دہری مشقت کروا کر وقت کے اس نقصان کی تلافی کی کوشش کی جاتی ہے جو حفظ کے دوران میں ہو جاتا ہے۔ تعلیمی استحصال کی ایک صورت یہ بھی ہے۔
مدرسہ کے مختلف قسم کے ماحول میں جہاں مختلف علاقوں اور مختلف عادات اور مختلف عمروں کے بچے ایک ساتھ پڑھتے ہیں،بچہ کی ذہنی ساخت سکول کے دیگر بچوں سے مختلف بن جاتی ہے۔ طبائع اور ذہن کا یہ اختلاف بھی حافظ بچے کو اپنے ماحول سے اجنبی بناتا ہے۔ اسے نئے ماحول سے مطابقت پیدا کرنے کے لیے بہت محنت اور مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔
ایک خیال یہ بھی ایجاد کی گئی ہے حافظ قرآن کا ذہن زیادہ تیز ہوتا ہے۔ اس میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔ کچھ بچے تو قدرتی طور پر زیادہ ذہین ہوتے ہیں اور اسی بنا پر ان کے والدین انھیں حفظ میں ڈال دیتے ہیں۔ یہ بچے دیگر میدانوں میں بھی ذہانت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ تاہم، عام حافظ کا ذہن بس رٹا لگانے میں ماہر ہو جاتا ہے۔ فہمِ کلام کی مشق اس نے پچپن کے اس دور میں نہیں کی ہوتی جب یہ صلاحیتیں پروان چڑھتی ہیں۔ پاکستان میں چوں کہ عصری تعلیمی نظام بھی عمومی طور پر رٹا پر مبنی ہے اس لیے حفاظ یہاں بھی اچھی کارکردگی دکھا پاتے ہیں۔ مگر یہ حقیقت میں کوئی خوبی نہیں۔
موجودہ دور میں جب کہ قرآن مجید کو محفوظ رکھنے، پڑھنے اور آیات اور موضوعات تلاش کرنے کے جدید ترین ذرائع وجود میں آ چکے ہیں تو کوئی وجہ نہیں انسان کےقیمتی وقت کو ایک ایسی مشقت میں لگایا جائے جس کا کوئی مطالبہ دین نے نہیں کیا اورنہ دین کا کوئی مفاد اب اس سے وابستہ ہے۔ تاہم کوئی ذاتی ذوق کی وجہ سےحفظ قرآن کرنا چاہے تو وہ اپنی لیے ایسا کر سکتا ہے، مگر کسی دینی بنیاد پر اس کی ترغیب نہیں دی جا سکتی۔
{إِنْ أُرِيدُ إِلَّا الْإِصْلَاحَ مَا اسْتَطَعْتُ وَمَا تَوْفِيقِي إِلَّا بِاللَّهِ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْهِ أُنِيبُ} [هود: 88]
میں تو صرف اصلاح چاہتا ہوں، جس حد تک کر سکوں۔ اِس کی توفیق مجھے اللہ ہی سے ملے گی۔ میں نے اُسی پر بھروسا کیا ہے اور اُسی کی طرف رجوع کرتا ہوں۔

اس تحریر كو شیئر كریں
Share on facebook
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on email
Dr Irfan Shehzad

Dr Irfan Shehzad

Dr Irfan Shehzad belongs to Rawalpindi, Pakistan. He holds a doctorate in Islamic Studies from National University of Modern Languages (NUML) Islamabad, Pakistan. He is working as a companion to Ghamidi Center of Islamic Learning Dallas, USA. He is an assistant research fellow with Al-Mawird Pakistan. He is the author of the book, “Qanoon-e-Itmam-e-Hujjat awr Us kay Itlaqaat: Janab Javed Ahmad Ghamidi ki Tawzihaat par Aetrazaat awr Ishkalaat ka Jaiza”, published by Almawrid Lahore Pakistan. Dr Irfan Shehzad writes and speaks on religious, social and sociopolitical issues. His articles are published in different scholarly journals including Ishraq, Lahore, Pakistan, Al-Shariah Gujranwala Pakistan and on social media.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *