معرکہ حق و باطل ابلیس کی وجہ سے برپا نہیں ہوا

اللہ تعالی نے ابلیس کے انکار سے پہلے اپنا منصوبہ بتایا تھا کہ وہ زمین میں اپنا خلیفہ بھیج رہا ہے۔ فرشتوں نے ابلیس کے انکار سے پہلے کہا کہ انسان زمین میں فساد مچائے گا۔ کیونکہ آزاد ارادہ کا ایک نتیجہ اس کا غلط استعمال ہے۔ نیز جنات کے بارے میں تجربہ ہو چکا تھا کہ انہوں نے زمین میں فساد برپا کر رکھا اور اب انسان اسی آراد ارادے کے ساتھ زمین پر جا رہا تھا۔
نیکی اور بدی کرنے کی صلاحیت انسان کی فطرت میں پہلے سے ڈال دی گئی تھی:
فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا (91:8)
پھر اُس کی بدی اور نیکی اُسے سجھا دی۔
آدم کو جنت میں عارضی قیام کے لیے رکھا گیا تھا۔ ظاہر ہے کہ جب بھیجنا زمین پر تھا تو جنت کا قیام لازمی طور پر عارضی ہی بنتا ہے۔ اس پر ابلیس کے بیانات بھی دلالت کرتے ہیں، آدم کے بہکانے کے لیے اس نے جنت کے عارضی قیام کو مستقل قیام میں بدلنے کا جھانسا ہی تو دیا تھا:
فَوَسْوَسَ إِلَيْهِ الشَّيْطَانُ قَالَ يَا آدَمُ هَلْ أَدُلُّكَ عَلَىٰ شَجَرَةِ الْخُلْدِ وَمُلْكٍ لَّا يَبْلَىٰ (20:120)
لیکن شیطان نے اُس کو ورغلایا۔ اُس نے کہا: آدم، میں تم کو وہ درخت بتاؤں جس میں ہمیشہ کی زندگی ہے اور اُس بادشاہی کا پتا دوں جس پر کبھی زوال نہ آئے گا؟
وَقَالَ مَا نَهَاكُمَا رَبُّكُمَا عَنْ هَـٰذِهِ الشَّجَرَةِ إِلَّا أَن تَكُونَا مَلَكَيْنِ أَوْ تَكُونَا مِنَ الْخَالِدِينَ (7:20)
پھر شیطان نے اُنھیں بہکایا کہ اُن کی شرم گاہوں میں سے جو چیز اُن سے چھپائی گئی تھی، وہ اُن کے لیے کھول دے۔ اُس نے اُن سے کہا: تمھارے رب نے تمھیں اِس درخت سے صرف اِس وجہ سے روکا ہے کہ کہیں تم فرشتے نہ بن جاؤ یا تمھیں ہمیشہ کی زندگی حاصل نہ ہو جائے۔
خدا نے کچھ مدت بعد انسان کو زمین پر بھیجنا تھا لیکن ابلیس بیچ میں آ گیا اور وقت سے پہلے انسان کو جنت سے نکلوا دیا۔
پھر یہ دیکھیے کہ آدم نے خدا سے معافی مانگی، خدا نے معاف کر دیا، لیکن واپس جنت نہیں بھیجا۔ بلکہ زمین پر ہی بھیجا کیونکہ وقت آ گیا تھا کہ اب وہ جس مقصد کے لیے پیدا کیا گیا ہے، اسے پورا کرنے زمین پر چلا جائے۔
یہ سمجھنا کہ انسان شیطان کے بہکاوے کی وجہ سے زمین پر بھیجا گیا، یہ تاثر دیتا ہے کہ زمین پر اس کا آنا ایک سزا ہے۔ یہ وہ نظریہ ہے جو مسیحیت میں پیدا ہوا اور یہ غلط ہے۔
یہ سوچنا کہ خدا کی آزمایش کی سکیم کے لیے ابلیس کو استعمال کیا گیا خدا کے عدل کے سراسر خلاف ہے۔ ابلیس اپنی آزاد مرضی سے منکر ہوا اور اس معرکہ حق و باطل میں اس نے باطل کا ساتھ دینا کا فیصلہ کیا۔ جس سے بس یہ ہوا کہ انسان کا امتحان مزید سخت ہو گیا جس کے لیے خدا کی طرف سے ہدایت کا اہتمام اور رحمت میں وسعت کر دی گئی۔

اس تحریر كو شیئر كریں
Share on facebook
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on email
Dr Irfan Shehzad

Dr Irfan Shehzad

Dr Irfan Shehzad belongs to Rawalpindi, Pakistan. He holds a doctorate in Islamic Studies from National University of Modern Languages (NUML) Islamabad, Pakistan. He is working as a companion to Ghamidi Center of Islamic Learning Dallas, USA. He is an assistant research fellow with Al-Mawird Pakistan. He is the author of the book, “Qanoon-e-Itmam-e-Hujjat awr Us kay Itlaqaat: Janab Javed Ahmad Ghamidi ki Tawzihaat par Aetrazaat awr Ishkalaat ka Jaiza”, published by Almawrid Lahore Pakistan. Dr Irfan Shehzad writes and speaks on religious, social and sociopolitical issues. His articles are published in different scholarly journals including Ishraq, Lahore, Pakistan, Al-Shariah Gujranwala Pakistan and on social media.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *