وفاقی اکائیوں کا علیحدگی کا حق

ریاست کےوفاق کی تشکیل میں مختلف علاقائی اکائیوں کی شمولیت ان کی رضامندی سے ہوتی ہے۔ رضامندی کا یہ اصول بالبداہت تقاضا کرتا ہے کہ وفاقی اکائیوں میں کسی وجہ سے رضامندی باقی نہ رہے تو انھیں وفاق سے علیحدہ ہونے کا حق بھی حاصل ہو۔
دنیا کے مہذب ممالک نے اس حق کو تسلیم کیا ۔ ان کے ہاں کسی وفاقی اکائی کی طرف سے علیحدگی یا تقسیم کے سنجیدہ مطالبے پر ریفرنڈم کرا لیاجاتا ہے اور مسئلہ اپنے منطقی انجام کو پہنچ جاتا ہے۔ بعض اوقات معلوم ہوتا ہے کہ علیحدگی کی بلند آہنگ آوازیں اکثریت کی نمائندگی نہیں کرتیں تھیں، جیسا کہ سکاٹ لینڈ کے معاملے میں ہوا، جہاں انگلینڈسے علیحدگی کی تحریک دہائیوں سے موجود رہی مگر جب وہاں ریفرنڈم کرایا گیا تو اکثریت نے وفاق کے ساتھ رہنے کے حق میں ووٹ دیا۔ اگر انھیں یہ حق نہ دیا جاتا اور ریاست علیحدگی پسند اقلیت کو کسی قانونی جواز کے بل بوتے پر دبانے کے لیےطاقت کااستعمال کرتی تو ممکن تھا کہ علیحدگی پسند اقلیت کی مظلومیت از خود علیحدگی کا جواز بن کر اکثریت کو بھی متاثر کرتی۔
بد قسمتی سے پاکستان اور بھارت جیسے تیسری دنیا کے ممالک اپنے وفاق میں شامل اکائیوں کو یہ حق دینے پر تیار نہیں۔ یہ ریاستیں اپنی رضامندی سے ان کے وفاق کا حصہ بننے والی اکائیوں پر حق ملکیت جتاتی ہیں او اس کے زعم میں ان کی فلاح و بہبود سے لاپروا ہیں، بلکہ ان کا بد ترین استحصال کرنےکا حوصلہ رکھتی ہیں۔ اس استحصال کے ردعمل میں جب وفاق سے علیحدگی کی سوچ پیدا ہوتی ہے تو اسے ریاست سے غداری کا عنوان دے کر بالجبر ختم کرنے کا آئینی اور قانونی جواز بھی پیدا کر لیتی ہیں۔ تامل ناڈو، بنگال، کشمیر اور بلوچستان میں انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں کی مثالیں فرد کے اسی فطری حق کو غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دینے کا نتیجہ بن کر انسانی المیوں کی صورت میں ہمارے سامنے ہیں۔
اس مسئلے کی تفہیم میاں بیوی کے درمیان حق طلاق و خلع کی مثال سے کرنا مناسب ہوگا۔ مرد و عورت کے درمیان آزادمرضی سے قائم ہونے والے رشتہء نکاح میں طلاق اور خلع کا حق اس رشتے میں وہ توازن پیدا کرتا ہے جو ایک فریق کو دوسرے کے حد تحمل سے زائد استحصال سے روکنے اور ساتھ نبھانے کی خواہش کی صورت میں فریق غالب کو دوسرےفریق کی خوش نودی حاصل کرنے پر آمادہ اور مجبور کرتا ہے۔ ایسا اگر نہ ہوتو فریق غالب کو کمزور فریق کے استحصال کا لامحدود اختیار حاصل ہو جاتا ہے، جب کہ اُس کا اچھا سلوک اُس کی عنایت سمجھی جاتی ہے ، اسےکمزور فریق کا حق نہیں سمجھا جاتا۔
بعض مذاہب اور معاشروں میں صدیوں تک میاں بیوی کے درمیان تفریق کی ہر صورت کی نفی کی گئی۔ اس کا نتیجہ مرد کے لا محدوداختیارات اور عورت کے بدترین استحصال کی صورت میں نکلا۔ ہندومت میں ستی کی رسم اسی کی یاد گار ہے۔ تاہم،انسانی فطرت عقل عام کی روشنی میں اپنے مطالبات کے لیے کام کرتی رہی یہاں تک کہ مذاہب کا جبرٹوٹا اوررشتہ نکاح کو عدم رضامندی کی صورت میں آخری چارہ کار کے طو ر پرختم کرنے کا فطری حق بیشتر مذاھب اور معاشروں میں تسلیم کر لیا گیا۔
اسلام کے ہاں البتہ، یہ مسئلہ پیدا ہی نہیں ہوا۔ وہ ہمیشہ سے اس فطری حق کو تسلیم کرتا تھا کہ جو تعلق رضامندی سے قائم ہوا ہے وہ رضامندی سے ہی برقرار رہے تو ٹھیک ورنہ اس کاختم ہو جانا بہتر ہے۔
یہی معاملہ وفاق اور اس میں شامل علاقائی اکائیوں کا ہے۔ان کے درمیان اپنی مرضی سے قائم ہونے والے بندھن کو عدم رضامندی کی صورت میں ختم کرنے کا انتخاب نہ دینا وہی صدیوں پرانی فرسودہ سوچ ہے جو کسی صورت میاں بیوی کو علیحدگی کا حق دینے کو تیار نہ تھی۔ یہ ریاست کو استحصال کا لائسنس دینے کے مترادف ہے۔ ریاست “نان نفقہ” نہ دے کر بھی سمجھتی ہے کہ محروم علاقے کو ریاست کی زیادتیوں کے ردعمل میں ایک مجبور بیوی کی طرح صبر کرنا چاہیے، علیحدگی کا مطالبہ بہرحال جرم ہے کیونکہ ریاست کا مذھب (آئین) یہ حق نہیں دیتا۔
اس کے برعکس اگر آئین میں وفاقی اکائیوں کو علیحدہ ہو جانے کا حق دیا جائے، اور ادھر ریاست یہ بھی چاہتی ہو کہ اس کی کوئی اکائی وفاق سے علیحدہ نہ ہو تو ریاست کے لیے اس کی خوش نودی حاصل کرنا ضروری ہو جائے گا۔ اس لیے یہ کہنا بجا ہوگا کہ استحصال اور محرومیوں کےشکار صوبوں اور علاقوں کے لیے اپنے حقوق کے حصول کا راستہ وفاق سے علیحدگی کے حق کوآئینی حق کے طورپر تسلیم کروانے میں ہے۔ ایسا جب ہو جائے گا توریاست ان کے حقوق طشت میں رکھ کر انھیں پیش کرنے پر مجبور ہو جائےگی۔
اہل علم و قلم اور قومی سیاسی قائدین کو چاہیے کہ وفاق کی اکائیوں کے وفاق سے علیحدگی کے حق کو تسلیم کروانے کے لیے آئین میں قابل عمل طریقہ کار متعارف کروائیں ۔ ا س سے وفاق اور اس کی اکائیوں میں حقوق و فرائض کی کشمکش پرامن طریقے سے نتیجہ خیز ہونے کی راہ ہموار ہو جائے گی۔ کسی کو حقوق کے حصول کے لیے ہتھیار اٹھانا پڑیں گے نہ خونی احتجاج کرنا پڑیں گے اور نہ ریاست ان مطالبات کو دبانے کے لیے جبریہ ہتھکنڈے بروئے کار لانے کا سوچے گی۔

اس تحریر كو شیئر كریں
Share on facebook
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on email
Dr Irfan Shehzad

Dr Irfan Shehzad

Dr Irfan Shehzad belongs to Rawalpindi, Pakistan. He holds a doctorate in Islamic Studies from National University of Modern Languages (NUML) Islamabad, Pakistan. He is working as a companion to Ghamidi Center of Islamic Learning Dallas, USA. He is an assistant research fellow with Al-Mawird Pakistan. He is the author of the book, “Qanoon-e-Itmam-e-Hujjat awr Us kay Itlaqaat: Janab Javed Ahmad Ghamidi ki Tawzihaat par Aetrazaat awr Ishkalaat ka Jaiza”, published by Almawrid Lahore Pakistan. Dr Irfan Shehzad writes and speaks on religious, social and sociopolitical issues. His articles are published in different scholarly journals including Ishraq, Lahore, Pakistan, Al-Shariah Gujranwala Pakistan and on social media.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *