دیوبندیت
میرے علمی سفر میں دیوبندیت میں میرا تعارف ایک مضبوط علمی روایت سے ہوا، جو کافی متاثر کن لگی۔ عقائد جو عام طور پر عام لوگوں کو بتائیں جاتے ہیں وہ کافی حد تک معقول اور سادہ ہیں۔ عقائد کے بارےمیں اکابرین کی متنازع قسم کی باتیں اور عبارتیں البتہ نتھار کر بتائی جاتی ہیں یا بتائی ہی نہیں جاتیں، اس لیے عام دیوبندی عامی اور عالم معقول عقائد ہی کے حامل ہوتے ہیں۔
دیوبند میں بڑی علمی شخصیات پیدا ہوئیں، یہ ان کی بڑی خوش قسمتی رہی، لیکن شخصیت پرستی کی دیرینہ بیماری کی وجہ سے یہ ان کی بڑی بد قسمتی بھی بن گئی۔ ان بڑی شخصیات کی گھنی چھاؤں تلےانفرادیت اور تحقیق کی جستجو گھٹ کر مر گئی۔ بڑی شخصیات عملاًنبوت کے درجے پر فائز کر دیا گیا ہے، جن سے غلطی کا صدور نہیں ہوتا، جن کا ہر فرمان درست اور حرفِ آخر ہے، جن سے اختلاف کفر اگر نہیں تو گمراہی ضرور ہے۔ اسلاف کے فرمان کے آگے کوئی نئی بات کہنے کی جسارت نہیں کرنی چاہیے ۔ ایسا کرنا اپنے لیے گمراہی کا دروازہ کھولنے کے مترادف ہے۔
البتہ خود اکابرین میں جب آپس میں اختلاف ہوا تو انتخاب کی مجبوری سے پیروکاروں کو کسی ایک کو غلط کہ کر دوسرے کو چننا پڑا۔ مگر یہ چناؤ بھی کسی تحقیق پر نہیں بلکہ فکری اور مدرسی وابستگی پر مبنی تھا، اور اگر کہیں ایسا نہیں کیا گیا، اگر کسی نے اپنے ضمیر اور تحقیق کی آواز پر کان دھرا تو اس پر نمک حرامی کا الزام آیا کہ کھاتے تو اس مدرسے کا ہو اور ساتھ دوسرے کا دیتے ہو۔ یعنی کوئی علم و دلیل کی بنا پر اپنا مسلک تو کیا اپنے مدرسے کا مشرب تک نہیں بدل سکتا۔
یہاں بھی آزاد سوال اٹھانا خود پر گمراہی کا فتوی لگوانا ہے۔ سوال اٹھانے سے پہلے، یہ یقین دہانی کروانا ضروری ہے کہ جو جواب بھی دیا جائے گا، اسے تسلیم کیا جائے گا۔
مدارس کے نصاب میں منھج تحقیق کا مضمون شامل نہیں۔ اس لیے نہ صرف یہ تحقیق سے نابلد ہوتے ہیں، بلکہ تحقیق نہ کرنے کے جواز بھی دیتے ہیں، کہ سب کچھ اسلاف کر چکے ہیں، سرچ پر ریسرچ کی کیا ضرورت ہے، ہمارے لیے ان کی اقتداء ہی کافی ہے۔ فقہ کی پہلی کتاب ہی سے بتا دیا جاتا ہے کہ مجتہد مطلق، خدا نے ایک بار پیدا کرنے کے بعد بند کر دیے ہیں۔ ‘تجربہ’ بتاتا ہے کہ یہ مطلق اجتہاد کی صلاحیت صدیوں سے مفقود ہے۔ اسی طرح مجتہد فی المذھب گزرچکے، اب ان کی بھی کوئی ضرورت نہیں رہی، اب صرف ناقلین چاہییں جو فقہاٰ کی کی کتب سے پیش آمدہ مسائل کے حل کے لیے نقول پیش کر سکیں۔ یہ بات، ابتدائی درجے کی کتاب، نور الایضاح کی کسی شرح میں لکھی ہوئی ہے۔ یعنی اڑنے سے پہلے ہی نئے پرندوں کو حدِ پرواز بتا دی جاتی ہے۔
اب اس تعلمی نظام سے صرف ناقلین اگر نہ پیدا ہوں تو حیرت ہوتی، اگر اس سب کے باوجود کوئی تحقیق کی جسارت کرے اور اس پر تنقید و تبرا نہ ہوتا، تو حیرت ہوتی۔ اس تقلیدی ذہنیت کا اندازہ اس بات سے لگایے کہ مولانا تقی عثمانی صاحب جیسے بڑے عالم نے جب چند فقہی معاملات میں اجتہاد سے کام لینے کی جسارت کرتے ہوئے فقہ حنفی کے دائرے سے پاؤں باہر نکالنے کی جرات کر ڈالی تو قدم واپس لانے مشکل ہو گئے، ان کے ساتھ فقہی اور علمی اختلاف کو محض اختلاف نہیں رہنے دیا گیا، معاملہ کردار کشی تک جا پہنچا۔ مولانا کے خلاف فتوی بازی اور اور پراپیگنڈا کی مہم چلائی گئی، اور اس میں ضروری علمی اور عام انسانی اخلاقیات تک کی پاسداری بھی نہیں کی گئی۔
دوسری مثال مولانا زاہد الراشدی کی ہے، جنھیں نشان عبرت بنایا گیا۔ مولانا کٹر دیوبندی ہیں۔ کسی ایک مسئلے میں بھی وہ دیوبند سے الگ نہیں تھے، لیکن ان کا قصور صرف یہ تھا مولانا اپنے بیٹے مولانا عمار خان ناصر سمیت کسی بھی دوسرے کے لیے اپنی آزاد رائے رکھنے کے قائل تھے اور اس بنا پر گمراہی اور تکفیر کے فتوے دینے سے اجتناب کرتے تھے، محض اپنی وسیع النظری کی پالیسی کی وجہ سے انہیں دیوبندیت سے نہ صرف خارج قرار دیےجانے کی زور دار مہم چلائی گئی بلکہ وفاق المدارس نے ان کے مدرسہ، نصرۃ العلوم کے طلبہ کے نتائج دو بار روک کر مولانا کو اپنی وسیع النظری کی پالیسی سے تائب ہونے کے لیے دباؤ ڈالا گیا۔ آخر معاملہ عدالت میں لے جانے کی دھمکی پر ‘اہل حق’ کے دل ‘پسیجے’ اور مدارس کے طلبہ کا مسقبل داؤ پر لگنے سے بچ سکا۔
نوشیروان نے کہا تھا کہ اگر بادشاہ کسی باغ سے ایک سیب بغیر دام دییے توڑ لے تو اس کی فوج پورا باغ اجاڑ دے گی۔ یہاں بھی یہی ہوا ہے کہ بڑوں کے اس طرزِ عمل سے شہ پا کر، چھوٹوں نے ایک خلقت پر محض علمی اختلافات کی بنا پر زبان طعن و تشنیع دراز کر رکھی ہے۔ کسی اہل علم کی عزت محفوظ نہیں، لمحوں میں غیرت دین کے نام پر مخالف کی ناموس کی دھجیاں اڑا دی جاتیں ہیں، اور اس پر مستزاد یہ کہ ایسے دریدہ دہن اپنے حلقوں میں نمایاں اور امتیازی مقام کے مستحق بھی ٹھہرتے ہیں، اور بڑوں سے شاباشی بھی پاتے ہیں۔ ایسوں کی مالی کرپشن ہو یا اخلاقی، سب سے صرف نظر کر لیا جاتا ہے، لیکن اگر انہیں میں سے کوئی علمی اختلاف کر بیٹھے تو اس کو خارج از دیوبندیت قرار دینے کے لیے بڑے سے لے کر چھوٹے تک سب سرگرم ہو جاتے ہیں۔ کاش جو غیرت و حساسیت اپنے مسلک کے لیے دکھائی جاتی ہے ویسی ہی عام اخلاقیات کے بھی دکھائی جاتی تو آج اتنے بے شمار مدارس، فضلاء، علماء اور بے شمار مذھبی جماعتوں کے ہوتے ہوئے سماج میں دینی فضا اتنی مکدر نہ ہوتی۔
دنیا کے ہر میدان میں ایک سے بڑھ کر ایک اہل علم و فن مسلسل چلا آ رہا ہے۔ یہ ضرب المثل بن گئی ہے کہ ریکارڈ ٹوٹنے کے لیے بنتے ہیں۔ ریکارد کا مقرر ہو جانا، نئے حوصلہ مندوں کے جذبوں اور قوتوں کو مہمیز دینے کے کام آتا ہے، وہ پہلوں سے زیادہ کارکردگی دکھا کر ریکارڈ توڑتے ہیں، اور پھر ان کے بعد آنے والے ان کے ریکارڈ توڑتے ہیں اور یوں خدا کی شان
کل یوم ھو فی شان
کے مظاہر آئے دن ہمارے سامنے آتے ہیں۔ لیکن یہاں الٹا یہ بتایا جاتا ہے کہ ایک بار جو ریکارڈ بن گیا وہ اب اٹوٹ ہے۔ تم اپنے اسلاف کی خاک پا ہو، وہ ثریا ہیں جس تک تم پہنچ ہی نہیں سکتے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر کیا وجہ ہے وہ فیاض خدا جو دنیا کے ہر علم و فن کے شعبے میں ایک سے بڑھ کر ایک صلاحیت پیدا کر رہا ہے وہ اپنے دین کے لیے اپنے اس اصول کے خلاف کم سے کم تر صلاحیت پیدا کرتا جا رہا ہے؟ سچ تو یہ ہے کہ یہ محض اپنی کاہلی کو جواز بخشنے اور کم اہلیت رکھنے والے مسند نشینوں کا فریب ہے تاکہ کوئی برتر صلاحیت کا حامل ان کی مسند نہ چھین لے۔ یہ بہانے اس لیے تراشے گئے ہیں تاکہ تقلید کی سہل پسندی کے ذریعے تحقیق کی وادی خار زار میں اپنے قلب و جگر لہو لہان کرنے کی مشقت سے بچا جا سکے۔ اس روش نے نہ صرف قدیم اسلاف کو بت بنا دیا، بلکہ موجود اکابرین کی پاپائیت کے قیام کی وجہ بھی یہی بنی۔
آج کے دور میں جب کہ علم اور معلومات کے ذرائع پہلے سے کئی سو گنا ترقی یافتہ ہو چکے ہیں، اس پر یہ کہنا کیسے درست ہو سکتا ہے کہ اب پہلے سے بہتر علما اور محققین پیدا نہیں ہو سکتے۔ ایسا اگر نہیں ہو رہا تو گویا اساتذہ اپنی نالائقی کا اعتراف ثبوت کے ساتھ کر رہے ہیں کہ وہ ان وسائل کو بروئے کار لا کر بہتر علما پیدا نہیں کر پا رہے ہیں۔ جب کسی عالم کے دنیا سے رخصت ہو جانے کے بعد اس کا خلا تاقیامت نہ بھرے جانے کا اعلان کیا جاتا ہے تو دراصل یہ اپنی نااہلی کا اعتراف کیا جاتا ہے کہ ہم اتنی محنت کے لیے تیار نہیں کہ اس کا نعم البدل مہیا کر سکیں۔ یہ صورت حال اگر دنیا کے معاملات میں ہوتی تو ہم آج بھی گدھے اور گھوڑوں پر ہی سوار ہوتے، موبائل فون اور انٹرنیٹ کی بجائے، آج بھی کسی قاصد کی منتیں کر رہے ہوتے کہ ہمارے خط چار چھ ماہ کے اندر اندر دوسرے شہر یا ملک میں پہنچا کر ہم پر احسان کرو۔
دیوبند کا حق ہونا خیال ہی نہیں، عقیدہ ہے۔ ہمارے ایک مفتی صاحب نے نمازِ استقسا پڑھائی تو دعا میں بھی علمائے دیوبند کا واسطہ دے کر بارش کی دعا کی۔ لطف کی بات یہ کہ نماز کے بعد چند قطرے برس ہی پڑے تھے، لیکن یہ بھی سچ ہے کہ اس کی پیشن گوئی محکمہ موسمیات ایک دن پہلے کر چکا تھا۔ علمائے دیوبند حق پر ہی ہوں گے مگر اس کا اعتراف اپنے پیروکاروں کو کرانے کے لیے کوئی تقابلی مطالعہ نہیں کرایا جاتا۔ اس عقیدے کو اپنانے کے لیے ان کے مدرسے کا نمک کھا لینا کافی ہے۔
قرآن پاک پر براہ راست غور و فکر کی ضرورت اور اہمیت کا احساس یہاں کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں پایا جاتا۔ اس بات کا اندازہ اس سے لگائیے کہ مولانا تقی عثمانی صاحب جیسے متبحر عالم نے جب علوم القران لکھی تو اس میں سوائے سبعۃ احرف والی روایت کے تناظر میں اپنا نظریہ پیش کرنے اور اہل مغرب کے چند اعتراضات کے جواب دینے کے، پوری کتاب میں اپنی کوئی رائے نہیں دے سکے۔ حتی کہ قرآن کی بلاغت کے بیان میں جو تین چار مثالیں انہوں نے فراہم کیں وہ بھی اسلاف کی کتب سے نقل فرمائیں۔ مولانا نے کہیں یہ نہیں لکھا کہ ان کو بھی قرآن کی بلاغت نے کسی جگہ متاثر کیا ہو!
دیوبندیت میں سارا زور فقہ پر ہے، وہی منتہائے علوم و فنون ہے۔ قرآن ہو یا حدیث سب اصول فقہ کی روشنی میں سمجھا جاتا ہے، جب کہ خود اصول فقہ، یونان کے زبان و علوم کے مخصوص فلسفوں کے تحت تشکیل پائی تھی۔ اسی وجہ سے قرآن و حدیث کے تفقہ میں عجیب و غریب مباحث پیدا کر دیے گئے، جو قرآن و حدیث میں عجیب کج فہمیوں کا باعث بنے ہیں۔
عوام کو اپنے ساتھ جوڑے رکھنے کے لیے یہ حضرات درس قرآن کا اکثر اہتمام کرتے ہیں، لیکن قرآن مجید کو چونکہ درس نظامی کے دوران ٹھیک سے سمجھنے کا کوئی موثر اہتمام ہی موجود نہیں، اس لیے ان کے ہاں درس قرآن میں مختلف تفاسیر سے بیان کرنا ہی تدبر فی القرآن کی آخری منزل سجھا جاتا ہے۔
دین کے مطالبات تو بہت کم ہیں، لیکن فقہ یہاں اپنے دائرہ عمل میں سیاست و حکومت سے لے کر بیت الخلاء تک کے معاملات کو اپنے دامن میں سمیٹنے کی دعوی دار ہے۔ فقہی مزاج کے غلبے کا اندازہ اس سے کیا جا سکتا ہے کہ جس طرح فقہی مسائل میں کہا جاتا ہے کہ مثلًا طلاق اور نکاح ہنسی مذاق میں بھی منعقد ہو جاتے ہیں، یعنی ارادے کا کوئی دخل ہی نہیں، یعنی معاملہ محض قانونی پہلو سے دیکھا جاتا ہے، اسی طرح، فضائل کے معاملات کو بھی فقہی نقطہ نظر سے دیکھنے کا چلن ہے۔ مثلا کہا جاتا ہےکہ جو نماز مسواک کر کے پڑھی جائے گی، اس کا اجر بغیر مسواک کی نماز سے 70 گنا زیادہ ہے۔ چانچہ یہاں بتایا جاتا کہ وضو میں اگر مسواک کو فقط دانتوں کے ساتھ معمولی سا مس بھی کر لیا جائے تو یہ فضیلت مل جاتی ہے، کیونکہ یہ قرار دیا جا سکتا ہے کہ مسواک بہرحال کی تو گئی، آپ قسم کھا سکتے ہیں کہ مسواک کی گئی ہے۔ یعنی چاہے دانت گندے رہیں، چاہے منہ میں بدبو موجود ہو، لیکن چونکہ آپ نے ظاہری حکم پر عمل کر لیا کہ مسواک دانتوں کو لگی ہے، اور قانونی طور پر اسے مسواک کرنا ہی کہیں گے، اس لیے اب خدا پر واجب ہو گیا کہ آپ کو اس گندے منہ کے ساتھ بھی ثواب عطا کرے گا۔ گویا خدا بھی کسی دنیوی عدالت کے قاضی کی طرح ہے، جس کے ہاں بس ظاہری طور پر، محض قانونی لحاظ سے فعل کا وقوع ثابت کرنا کافی ہوتا ہے۔ اس سے خدا اور رسول کا مقصد کیا تھا، یہ ثانوی حیثیت اختیار کر جاتا ہے۔
اسی طرح یہ بھی اصرار کیا جاتا ہے کہ دانت صاف کرنے کا ثواب حاصل ہوگا تو مسواک سے ہی حاصل ہوگا، ٹوتھ برش کرنے سے نہیں۔ کیونکہ حدیث میں مسواک کا ذکر آیا ہے ٹوتھ برش نہیں! حقیقت یہ ہے کہ اصل حنفیت کا اپنا یہ مزاج نہیں تھا، احناف حرفیت پسند نہیں تھے، یہ مزاج اہل حدیث اور ظاہریوں کا تھا، یہی اب دیو بند کا منھج ہو گیا ہے۔ ہمارے مفتی صاحب تو ٹوتھ برش کرنے کو کفار سے مشابہت قرار دیتے تھے۔ اتفاق یہ ہوا کہ ایک کار حادثہ میں ان کے جبڑے اور دانت ہل گئے۔ انہیں پھر ٹوتھ پیسٹ ہی کرنا پڑتا تھا۔ اس پر وہ کہتے تھے کہ میرے لیے یہ حالتِ اضطرار ہے، تم لوگ میری پیروی میں ٹوتھ پیسٹ کرنے نہ لگ جانا۔ وہ ہمیشہ اہتمام کرتے کہ کوئی ان کو ٹوتھ پیسٹ کرتے دیکھ نہ لے۔ آخر انہوں نے جمعہ کے خطبے میں وضاحت فرمائی کہ ان کے ٹوتھ پیسٹ کرنے سے جواز نہ پکڑا جائے، یہ ان کی مجبوری ہے۔ کفار سے مشابہت کے فتوی میں تبدیلی نہیں آئی ہے!
یہ وہ مزاج ہے، جو اسی ظاہر پرستی کے ساتھ ان کے ہاں دین کے عمومی مزاج کے بارے میں ان کے رویے کی تشکیل کا سبب بنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نافذ کرنے کا مطلب، چند ظاہری سزاؤں کا قانونی اطلاق ہے۔ لطف کی بات یہ ہے کہ حکومت نے بھی ان کے ساتھ نفاذِ اسلام کے بارے میں وہی رویہ اپنایا ہے جو انہوں نے دین کے ساتھ اپنایا ہے۔ آئین و قانون اور آرڈینینس کی شکل میں ظاہری طور پر،آئینی اور قانونی طور پر اسلام نافذ کر دیا گیا ہے، ملک کا نام اسلامی رکھ دیا گیا ہے، شرعی عدالتیں بن چکی ہیں، اسلامی بیکنگ بھی موجود ہے۔ قانونی اور فقہی طور پر اب کوئی ایسا کام بڑا کام رہ نہیں گیا جو نفاذِ اسلام کے لیے ضرروری ہو، یعنی قانونی اور فقہی طور پر اسلام، ملک میں نافذ ہو چکا ہے۔ لیکن عملًا اور حقیقتًا اسلام کہاں ہے؟ حکومت اور سماج میں کہیں بھی اسلام نہیں ہے سوائے ہماری نمازوں، اذانوں، نکاح و میت جیسے چند انفرادی معاملات میں۔
جس طرح مسواک کے محض دانتوں کو چھو لینے سے دانت اور منہ کی صفائی نہیں ہوتی، اسی طرح محض تنفیذ سے اسلام نہیں آ سکتا تھا۔ اسلام ایک شعوری رویہ کا نام ہے، نہ کہ چند قوانین کی تنفیذ کا۔ یہ علما، پاکستان میں وہی اسلام نافذ کر سکے، جس پر وہ خود عمل پیرا تھے۔ اتنا ہی اسلام لا سکے، جتنا ان کے پاس تھا، ان کے پاس صرف فقہ ہے، صرف قانون ہے، صرف ظاہریت ہے، اور یہ ساری خصوصیات اس نفاذِ اسلام میں اسی درجے، اور اسی کیفیت میں پائی جاتی ہیں جس درجے اور کیفیت میں ان کے ہاں پائی جاتی ہیں۔ جتنا اسلام، ان کے زیرِ انتظام اور زیرِ اختیار مدارس میں پایا جاتا ہے، اتنا ہی ملک میں نافذ کیا جا سکا ہے۔

اس تحریر كو شیئر كریں
Share on facebook
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on email
Dr Irfan Shehzad

Dr Irfan Shehzad

Dr Irfan Shehzad belongs to Rawalpindi, Pakistan. He holds a doctorate in Islamic Studies from National University of Modern Languages (NUML) Islamabad, Pakistan. He is working as a companion to Ghamidi Center of Islamic Learning Dallas, USA. He is an assistant research fellow with Al-Mawird Pakistan. He is the author of the book, “Qanoon-e-Itmam-e-Hujjat awr Us kay Itlaqaat: Janab Javed Ahmad Ghamidi ki Tawzihaat par Aetrazaat awr Ishkalaat ka Jaiza”, published by Almawrid Lahore Pakistan. Dr Irfan Shehzad writes and speaks on religious, social and sociopolitical issues. His articles are published in different scholarly journals including Ishraq, Lahore, Pakistan, Al-Shariah Gujranwala Pakistan and on social media.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *