اٹھتے ہیں حجاب آخر قسط 6

متصوفین
دیوبندیت سے نکلنے سے پہلے میں نے دیوبندیت سے پیدا ہونے والی خشک زاہدی کا علاج تصوف میں ڈھونڈنے کی اک تھوڑی سی کوشش بھی کی۔ متصوفین نے مجھے کبھی متاثر نہیں کیا۔ وجد وحال اور محیر العقول قسم کی کہانیوں سے مجھے کبھی دلچسپی پیدا نہ ہو سکی۔ جو چیز میری عقل و فہم مخاطب بنائے بغیر مجھ پر قبضہ کرنا چاہے وہ مجھے قبول نہیں تھی۔
اہل بیعت کے علم اور کردار میں ایسی کوئی نمایاں یا مختلف بات مجھے کبھی نظر نہ آئی جو تصوف کا نتیجہ قرار دی جا سکتی تھی۔ وہ بھی ہی، اتنے ہی اچھے اور برے نظر آئے جتنا غیر متصوفین۔ پھر بھی ایک کوشش کی۔ اسلام آباد میں جناب قیصر صاحب اور ان کے بعد مولانا تقی عثمانی صاحب سے خط و کتابت کے ذریعے اصلاحی تعلق قائم کیا۔ ایک یا ڈیڑھ برس یہ تعلق رہنے کے بعد محسوس ہوا کہ خطوط کے ذریعے اصلاح کا طریقہ بالکل بے فائدہ ہے۔ خط میں اپنی اچھائیاں لکھ دیں تو دعائیں مل جاتیں، برائیاں لکھ دیں تو نصیحت، یہ سب تو میرا اپنا ضمیر بھی کرتا تھا۔
ایک صاحب کے پاس گئے جن بارے میں معلوم ہوا کہ صاحب نسبت ہیں۔ میں نے ان سے پوچھا کہ میں اپنے تزکیے کے لیے بیعت تو کرنا چاہتا ہوں، لیکن مجھے یہ کیسے معلوم ہو کہ آپ میں وہ قابلیت ہے کہ آپ کی بیعت کی جائے؟ جواب بڑا شان دار تھا۔ فرمایا کہ رسول للہ ﷺ کو حضرت ابو بکر نے بلا سوال، بلا دلیل مانا تھا۔ آپ کو بھی بلا حیل و حجت مجھے اپنا مرشد ماننا ہوگا۔ اس پر ہم نے ان سے رخصت لی اور باہر آ گئے۔ پھر دوبارہ اس راہ پر قدم نہیں رکھا۔

اس تحریر كو شیئر كریں
Share on facebook
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on email
Dr Irfan Shehzad

Dr Irfan Shehzad

Dr Irfan Shehzad belongs to Rawalpindi, Pakistan. He holds a doctorate in Islamic Studies from National University of Modern Languages (NUML) Islamabad, Pakistan. He is working as a companion to Ghamidi Center of Islamic Learning Dallas, USA. He is an assistant research fellow with Al-Mawird Pakistan. He is the author of the book, “Qanoon-e-Itmam-e-Hujjat awr Us kay Itlaqaat: Janab Javed Ahmad Ghamidi ki Tawzihaat par Aetrazaat awr Ishkalaat ka Jaiza”, published by Almawrid Lahore Pakistan. Dr Irfan Shehzad writes and speaks on religious, social and sociopolitical issues. His articles are published in different scholarly journals including Ishraq, Lahore, Pakistan, Al-Shariah Gujranwala Pakistan and on social media.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *