مفتی صاحب، مدرسہ البنات اور خفیہ نکاح
ایک دفعہ ہمارے مفتی صاحب نے مدرسۃ البنات کے قیام اعلان فرما دیا۔ لوگ شوق اور عقیدت میں اپنی بچیوں کو مفتی صاحب کی خدمت میں علمِ دین حاصل کرنے کے لیے بھیجنے لگے۔ کچھ دن بعد مفتی صاحب کے نفس پر ‘تقوی’ نے غلبہ پا لیا۔ مدرسہ آنے والی بچیوں میں ایک نو بالغ بچی کا انتخاب کیا۔ اس سے فرمایا کہ مرد کا عورت کو پردے میں بھی پڑھانا مناسب نہیں۔ شیطان کے پاس ہزاروں ہتھکنڈے ہیں گمراہ کرنے کے۔فرمایا کہ کسی شص نے اپنی بہن کو ایک عالم اور ولی کے پاس چھوڑا اور خود اللہ کے دین کے راستے میں چلا گیا۔ شیطان نے اس عالم، صوفی کو اس طرح بہکایا کہ لڑکی کو فارغ نہ رہنے دو، اسےدین کا علم ہی پڑھا دو۔ عالم صاحب نے اسےپردے میں پڑھانا شروع کیا اور دھیرے دھیرے بات یہاں تک پہنچی کہ دونوں میں ناجائز تعلق قائم ہوگیا۔ لڑکی حاملہ ہو گئی۔ اس جرم کے افشا کے ڈر سے عالم صاحب نے لڑکی کو قتل کر دیا۔ لیکن پھر پکڑا گیا۔ عدالت نے سزائے موت دے دی۔ شیطان نے اس سے کہا کہ اگر بچنا چاہتے ہو تومجھے سجدہ کر لو۔ اس نے سجدہ کر دیا۔ اِدھر اس نے سجدہ کیا ادھر اس کا سر تن سے جدا کر دیا گیا۔ اور وہ بے ایمان دنیا سے گیا۔
مفتی صاحب نہیں چاہتے تھے کہ دنیا سے بے ایمان ہو کر رخصت ہوں۔ چنانچہ انہوں نے اس کا یہ حل نکالا کہ نوبالغ کم سن بچی کو اپنے ساتھ غیر علانیہ نکاح پڑھوانے پر آمادہ کر لیا کہ اس طرح پردے کا مسئلہ حل بهی ہو جائے گا اور علم دین کی تعلیم بهی بلا حرج اور بلا حجاب جاری رہے گی۔ نیز شیطان کے کو حیلہ بازی کا موقع بھی نہیں ملے گا۔ مزید احتیاط کے لیے لڑکی کے کم عمر بھائی، جو کہ ان کا ہی شاگرد تھا، کو شرعی مسائل اور تقوی کی مجبوری بتا کر اس نکاح پر آمادہ کر لیا۔ بلکہ اس کا گواہ بنا لیا۔ آخر وہ بالغ تو تھا ہی۔ گواہ کی فقہی شرائط پر پورا اترتا تھا۔
تدریس علم اورتحصیلِ علم میں اب کوئی رکاوٹ نہ تھی۔ معاملہ کچھ عرصہ یوں ہی چلتا رہا کہ پھر نجانے کیسے لڑکی کے گھر والوں کو پتا چل گیا۔ لڑکی کا باپ مفتی صاحب کے پاس آیا اور جھگڑا کیا۔ مفتی صاحب نے فرمایا کہ یہ سب مجھے اپنا دامنِ تقوی بچانے کے لیے کرنا پڑا اور لڑکی کو بھی گناہ سے بچا لیا اور اس کے ساتھ دین کا علم بھی لڑکی کو دیا۔اب بجائے ممنون ہونے کے تم الٹا مجھ پر چڑھائی کر رہے ہو۔ کیسے بے شرم اور احسان نا شناس شخص ہو۔ اگر اتنا ہی برا لگ رہا ہے تولے جاؤ اپنی بیٹی کو، میں تمہاری بیٹی کو طلاق دیتا ہوں ،طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں۔

اس تحریر كو شیئر كریں
Share on facebook
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on email
Dr Irfan Shehzad

Dr Irfan Shehzad

Dr Irfan Shehzad belongs to Rawalpindi, Pakistan. He holds a doctorate in Islamic Studies from National University of Modern Languages (NUML) Islamabad, Pakistan. He is working as a companion to Ghamidi Center of Islamic Learning Dallas, USA. He is an assistant research fellow with Al-Mawird Pakistan. He is the author of the book, “Qanoon-e-Itmam-e-Hujjat awr Us kay Itlaqaat: Janab Javed Ahmad Ghamidi ki Tawzihaat par Aetrazaat awr Ishkalaat ka Jaiza”, published by Almawrid Lahore Pakistan. Dr Irfan Shehzad writes and speaks on religious, social and sociopolitical issues. His articles are published in different scholarly journals including Ishraq, Lahore, Pakistan, Al-Shariah Gujranwala Pakistan and on social media.

One Reply to “مفتی نامہ 4”

  1. “مفتی صاحب نہیں چاہتے تھے کہ دنیا سے بے ایمان ہو کر رخصت ہوں” 😄
    اللہ محفوظ رکھے ایسے لوگوں سے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *