ایمان بالغیب کا راستہ: تسلیم، مشاہدہ یا استدلال

انسان کے پاس حصول علم کے دو ذرائع ہیں: تجربہ و مشاہدہ اور عقلی استدلال۔ عقل، تجربہ و مشاہدہ کے ذریعے سے حاصل ہونے والے معلوم سے نامعلوم پر استدلال کرتی ہے۔ ثابت شدہ کی بنیاد پر غیر ثابت کو استدلال و استنباط کے طریقے سے پہلے مفروض کرتی اور پھر دستیاب شواہد کی بنیاد پر استدلال سے اس کا اثبات کرتی ہے۔ ممکن ہو تو تجربے اور مشاہدہ سے حاصل شدہ معلومات کی بنیاد پر مستنبط کو تجربے کے ذریعے سے شہود کی سطح پر ثابت بھی کر دکھا دیا جاتا ہے۔
انسان کے پاس حصول علم کےیہی قابل اعتماد ذرائع ہیں۔ چنانچہ نامعلوم کو تجربہ و مشاہدہ کی سہولت کی عدم دستیابی کی صورت میں استقراء اور استنباط کے ذریعے سے استدلال کے طریقے پرثابت کرنا یا کم از کم اس کے امکانِ وجود پر استدلال کرنا ایک مسلمہ علمی طریقہ کار ہے۔
مثلاً جراثیم کا وجود ان کے مشاہدہ سے پہلے ان کے آثار وشواہد کی بنا پر سمجھ لیا گیا تھا۔ بیماریاں جس طرح پھیلتی اور اشیاء اور زخم جس طرح خراب ہوتے تھے، اطبا اور سائنس دان اس پر استدلال کر رہے تھے کہ کوئی زہریلی ہوا یا مواد اس معاملے میں ملوث ہے، جو نمی کی موجودگی میں زیادہ اثر دکھاتا ہے۔ اس کی جستجو نے انھیں بالآخر جراثیم کا مشاہدہ کرا دیا۔
اسی طرح بگ بینگ کا امکانِ وقوع،جس کا مشاہدہ ممکن ہی نہیں کہ وہ ماضی کا واقعہ تھا، کائنات میں پھیلے اس کے شواہد و آثار کی شہادت کی بنا پر سائنس کی دنیا میں ایک قطعی حقیقت کے طور پر تسلیم کر لیا گیا ہے۔ بگ بینگ کے عدم مشاہدہ کی طرح ہی جراثیم کے مشاہدہ کی اہلیت اگر اب تک یا کبھی بھی حاصل نہ ہو سکتی، تو بھی استدلال کے بل بوتے پر ان کے وجود کو تسلیم کرنا ہی عقلی اقتضا تھا۔
ایمان بالغیب کے لیے یہی طریقہ اختیار کیا جاتا ہے۔ تجربہ و مشاہدہ کے ذریعے سے دستیاب معلومات و شواہد کی بنا پر غیب کے بارے میں مذہب کی بتائی گئی معلومات کی بنا پر اس کے امکان وجود کو تسلیم کیا جاتا ہے۔ اس کے لیے دو چیزیں ضروری ہیں:
مذہب کی خبر اپنی مصدر سے قطعی اور مستند استناد رکھتی ہو۔
مذہب کے استدلال میں کوئی علمی جھول نہ ہو۔
مذہب کا مقدمہ پیش کرنے کے لیے ہم نے قرآن کا انتخاب کیا ہے جس کا دعوی ہے کہ یہ خدا کا کلام ہے جو ہمیں غیب کی باتیں بتاتا ہے۔ قرآن کے انتخاب کی وجہ دنیا میں اس کے مصدر (محمد رسول اللہ ﷺ) سے اس کا ناقابل تردید استناد ہے۔ اس وقت الہامی صحائف کا دعوی رکھنے والی کتب میں قرآن کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ دنیا میں اس کے ماخذ اوّل (محمد رسول اللہ ﷺ) سے اس کے صدور سے لے کر مسلمانوں کی نسلوں کو اس کی محفوظ منتقلی ایک تاریخی اور زندہ حقیقت ہے۔ مغرب کے کچھ علاقوں کو چھوڑ کر ساری دنیا کے مسلمانوں کے پاس جو کتاب قرآن مجید کے نام سے موجود ہے اس کے کسی حرف و حرکت میں کسی ادنی اختلاف کے بغیر ان کا اتفاق آنکھوں کے سامنے کھڑی زندہ حقیقت ہے، جو اس کے مسلسل محفوظ انتقال کا حسی شاہد ہے۔ اس کی مسلسل محفوظ منتقلی کے لیے مسلمانوں کے اجتماعی حافظے کو بنیاد بنایا گیا۔ چنانچہ یہ ایک نسل سے دوسری نسل کو بغیر کسی ادنی اختلاف اور تغیر لفظی کے منتقل ہو تا چلا آتا ہے۔ اس حقیقت کا انکار عقل و استدلال سے عاری ہوئے بنا ممکن نہیں۔
ادھرقرآن میں یہ دعوی کیا گیا تھا کہ یہ ہمیشہ محفوظ رہے گا۔ اس لیے اس کی حفاظت کوئی امر اتفاقی نہیں، بلکہ حفاظت کے دعوی کے نتیجے کے طور پر یہ معجزہ انسانی دنیامیں برپا کر کے دکھایا گیا ہے۔ اس دعوی کی صداقت اس کلام کے من جانب اللہ ہونے کے دعوی پر دلالت کرتی اور دعوت توجہ دیتی ہے۔
دوسرے یہ کہ اپنے علمی چیلنجز میں یہ اب تک غلط ثابت نہیں ہوا۔ صدیوں سے یہ اپنے اس چیلنج کے ساتھ موجود ہے کہ اس کے مماثل کوئی کتاب نہیں لائی جا سکے گی، اور ایسا ہی ہے، اس کے مماثل کوئی کلام پیش نہ کیا جاسکا، جسے اہل علم و زبان کی تائید و توثیق حاصل ہو گئی ہو۔ تیسرے یہ کہ اس کی تمام پیشین گوئیاں درست ثابت ہوئیں۔ یہ پیشین گوئیاں غیر مبہم اور ایک سے زائد تاویلات اور احتمالات نہیں رکھتیں۔ بلکہ صاف صاف اپنے مدعا پر دلالت کرتی ہیں۔
چوتھے یہ کہ اس کا دعوی ہے کہ اس میں کوئی اختلاف تلاش نہیں کیا جا سکتا۔ چنانچہ انسانی عقل صدیوں سے اسے محل تنقید و تدبر بنانے کے باوجود اس میں کوئی ایسا اختلاف تلاش کرنے میں اب تک ناکام ہے جسے مسلمہ غلطی یا مسلمہ اختلاف کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہو۔ اب تک جتنے بھی اختلافات کے نکات پیش کیے گئے وہ پیش کاروں کی غلط فہمی کا نتیجہ ہیں۔ کہیں وہ زبان و بیان کی لطافتوں اور اسالیب کو نہیں سمجھ پائے اور کہیں استدلال پر توجہ کرنے سے قاصر رہے اور کہیں تفسیری اقوال کو بنیاد پر معترض ہوئے جس کی کوئی ذمہ داری قرآن پر عائد نہیں ہوتی۔
پانچویں یہ کہ دنیا میں قرآن کو پیش کرنے والے شخص، حضرت محمد ﷺ کےہاں اس قرآن کے طرز بیان اور اس میں دی گئی معلومات کے لیے اخذ و استفادہ اور اس جیسے بیان و تقریر کا کوئی رجحان اس کلام کے ظاہر ہونے سے پہلے نہیں دیکھا گیا۔ آپ کا اپنا کلام قرآن سے بالکل مختلف ہے۔ بغیر کسی پیشگی تربیت اور مشق کے اس کلام کی یک دم پیش کاری ایک غیرانسانی واقعہ ہے، اور اس کی کوئی معقول توجیہ نہ آپ کے ہم عصر کر سکے اور نہ کی جا سکتی ہے۔
قرآن میں پیش کی گئی گزشتہ آسمانی کتب کی معلومات سے اخذ و اکتساب کا کوئی شائبہ بھی قرآن کے نزول سے پہلے آپ کے ہاں نہیں ملتا۔ یکایک آپؐ گزشتہ آسمانی کتب کی معلومات پر مشتمل کلام بیان کر نے لگے۔ یہ بڑی قوت و اعتمادسے گزشتہ آسمانی کتب اور اقوام خصوصاً، بنی اسرائیل کی تاریخ نہ صرف بیان کرتا بلکہ اس پر تبصرے اور تنقید کرتا ہے۔ قرآن مجید کےان تاریخی بیانات میں کوئی غلطی نہیں پائی گئی۔ بلکہ یہ ان کی معلومات میں اضافہ ہی کرتا ہے۔ جن مبینہ غلطیوں کی نشان دہی کی گئی ہے وہ بذات خود غلط ثابت ہو چکی ہیں۔
قرآن انسانی تصانیف کی تمام کمزوریوں سے مبرا ہے۔ یہ دو دہائیوں سے زائد کی مدت میں اجزا کی صورت میں نازل ہوا ہے، لیکن اس میں انسانی علم اور فکر کا ارتقا نہیں ہے۔ اپنے جن مقدمات اور استدلالات اور مضامین کے ساتھ اس نے روز اول سے کلام کیا وہ سب آخر تک یکساں رہے۔ اس میں رسول اللہ ﷺ کے اپنے ذاتی جذبات اور احساسات کی کوئی عکاسی نہیں ہے جن سے بحیثیت بشر آپ خالی نہیں تھے اور جن کا اظہار آپ کے اپنے کلام میں نظر آتا ہے۔ یہ ایک حیرت انگیز وصف ہے جو کسی انسانی تصنیف میں ملنا ناممکن ہے جس کی تدوین برسوں میں ہوئی ہو۔ کسی فلسفی، شاعر، ادیب، مفکر کی تحریریں دیکھیں، اس کےاوائل اور اواخر میں سوچ کا ارتقا صاف نظر آئے گا۔ مگر قرآن میں یہ عنقا ہے۔
مزید یہ کہ قرآن کے الفاظ ہی نہیں، اس کی زبان کو بھی محفوظ کیا گیا۔ یہ واحد زبان ہے جو صدیوں بعد بھی مردہ یا اجنبی نہ ہوسکی۔ زبانوں کے جبری ارتقا میں یہ مظہر ایک استثنا کے طور پر موجود اورعوت فکر دیتا ہے۔
قرآن غیب پر ایمان لانے کا حسی شاہد ہے۔ علم و عقل کی سان پر اسے پرکھا جائے۔ اگر یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ انسانی کلام نہیں تو اس کا یہ دعوی سچا ماننا پڑے گا کہ یہ خدا کا کلام ہے جو اس کا پیش کار ہونے کا دعوی کرتا ہے اور جو کچھ اس میں بیان کیا گیا ہے وہ حقیقت ہے۔ ممکن ہے کسی کو اس میں موجود کوئی بات پسند نہ آئے، مگر اس کے حقائق کا جھٹلانا عقل و استدلال کے لیے ممکن نہیں۔
اس کے یہ سب چیلنجز اور خصوصیات اسے یہ مقام دیتے ہیں کہ مذہب کا مقدمہ اس کی روشنی میں پیش کیا جائے۔
ایمان بالغیب کے معاملے میں قرآن مجید نے استدلال کا وہی طریقہ اختیار کیا ہے، یعنی معلوم شواہد سے استدلال کرتے ہوئے نامعلوم کا اثبات یہ ایک مکمل علمی اور سائنٹیفک منہج ہے۔
ایمان بالغیب ایک عقلی مقدمہ ہے نہ کہ بنا دلیل مان لینے کا نام۔ ایمان بالغیب بن دیکھے تسلیم کرنا ہے، بے سمجھے تسلیم کرنا نہیں۔ مذہب کا بیان یہ ہے کہ ایمان بالغیب، کبھی تجربہ و مشاہدہ کی گرفت میں نہیں آئے گا۔ مشہود اور مجرب ہوتے ہی غیب، غیب نہیں رہ سکتا۔ یہ ہمیشہ استدلال کے دائرے ہی میں رہے گا۔ چنانچہ ایمان بالغیب کو ہم ایمان بالاستدلال یا استدلالی ایمان کہہ سکتے ہیں۔ اس کے مقابل مشاہداتی ایمان کا تقاضا نہ خدا نے کیا ہے اور نہ اس کو جاننے کی کوئی راہ ہی بتائی ہے۔
قرآن مجیدکے مطابق دنیا میں انسان کی تخلیق آزمایش کے اصول پر ہے ۔ استدلال کی بنیاد پر ایمان بالغیب کی فکری آزمایش، آزمایش کی ہمہ گیر اسکیم کا پہلا اور بنیادی مرحلہ ہے۔ خدا اور آخرت پر ایمان اگر تجربہ اور مشاہدہ کی گرفت میں آجائے، تو آزمایش کی اسکیم سرے سے باطل ہو جاتی ہے۔
انسان نے تخلیق کائنات کے کرشمے کی توجیہ میں، خدا جیسی باشعور اور بااختیار ہستی کو منہا کر کے،جو کچھ کہا اور سوچا ہے وہ اس حقیقت سے آگے نہیں بڑھا کہ مخفی نوعیت کی ایسی قوتوں نے اس کائنات کو تخلیق کیا ہے جن میں علم، شعور اور قدرت کی بے پناہ صلاحیت موجود تھی۔ ماضی میں یہ صلاحیت خیالی دیوتاؤں کو سونپ کر یہ تسلیم کیا جاتا تھا کہ انھوں نے یہ سب کارخانہ تشکیل دیا ہے۔ دور حاضر میں یہ اعزاز طبیعی قوانین (Physical Laws) کو دے دیا گیا ہے۔ دیوتاؤں کا وجود تو سراسر تخیل تھا، لیکن طبیعی قوانین سے تخلیق کی کارفرمائی بھی اب تک تخیل سے بڑھ کر کچھ نہیں ہے۔ کائنات کو باشعور دیوتاؤں کی محیر العقول طاقتو ں کا کرشمہ ماننا یا طبیعی قوانین کی بے شعور قوتوں میں ایک ماسٹر مائنڈ یا مربوط و منضبط پروگرام کا وجود بالقوۃ تسلیم کرناایک ہی پوزیشن ہے۔ دیوتاؤں کو خالق تسلیم کرنا اس لحاظ سے پھر بھی بہتر پوزیشن تھی کہ باشعور سے شعور کا صدور باور کیا گیا تھا جب کہ اب بے شعور سے شعور کے صدور کو تسلیم کر کے بے شعوری کا مظاہرہ کیا جاتا ہے۔
بہرحال، دونوں صورتوں میں دنیا میں پائے جانے والے ان گنت کرشموں کے ارتباط میں ایک تخلیق کار، انتظامی صلاحیت رکھنے والے شعور کی موجودگی کو تسلیم کرنا ضروری اور مجبوری ہے۔ یہ تخلیق کار قوت تمام مظاہر کو مسلسل جبری ارتقا سے گزار کر مختلف نتائج برپا کر رہی ہے۔ یہ نتائج متخالف ہیں مگر ایک دوسرے سے موافق اور یہ ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں ورنہ یہ ادھورے اور بے نتیجہ رہ جاتے۔
کائنات کے نظام کی حیرت انگیزی کے باوجود اسے کاملیت نہیں دی گئی۔ یہی اس کےارتقا کا اور تسلسل کا سبب ہے۔ علت و معلول کی بے شعور قوتوں سے برپا ہونے والا ہر واقعہ کائنات کی مربوط کتاب میں ایک باب یا اس کی متعلقہ ذیلی سرخی بن جاتا ہے۔ ہر حادثہ کائنات کے کلی منصوبے کا ایک نتیجہ ہی نہیں، اس مہا منصوبے کا ایک آلہ کار بن کر اس کے فنکشن میں حصہ دار بن جاتا ہے۔ جیسے ایک مزدور جسے معلوم ہو کہ فیکڑی میں اس کی جاب کہاں اور کیا ہے۔ دنیا کسی جاندار کی طرح شعور کے ساتھ اپنے مختلف اجزا اور اعضا میں توازن برقرار رکھنے کی کوشش کرتی نظر آتی ہے؛ مختلف جانوروں کی پیدایش اور ہوا میں موجود مختلف گیسوں اور زمین پر موجود مختلف جانداروں کی تعداد کے تناسب کا برقرار رہنا مشاہدہ کی بات ہے ۔ سیارہ زمین اپنے زخموں کو خود مندمل کرنے کا رجحان اور صلاحیت رکھتا ہے، اوزون کی تہہ فضائی آلودگی سے مسلسل متاثر بھی ہوتی ہے اور بحال بھی ہوتی رہتی ہے۔ مختلف عناصر مل کر اسے مندمل کرتے رہتے ہیں۔ انھیں اس کے مرض کی خبر بھی ہوتی ہے، اس کی تشخیص بھی وہ کر لیتے ہیں اور پھر اس کے علاج کے لیے ان کے پاس سامان بھی موجود ہوتا ہے۔ یہی شعوری کاوشیں انسان کے بدن میں بھی اس کی اپنی شعوری کاوش کے بنا جاری رہتی ہیں۔
کائنات کی بے شعور اور باشعور دونوں طرح کی اشیاء اور مظاہر میں شعور کی کارفرمائی واضح طور پر موجود ہے۔ اپنی حفاظت کے لیے پودے کا کانٹے پیدا کرلینا یا جانور کا پنجے حاصل کر لینا یا انسان کا ہتھیار بنا لینا، سب شعوری منصوبے کی کارفرمائی ہے۔ ایسے ان گنت کرشماتی مظاہر ہیں۔ کائنات کے رجحانات باشعور ہیں جو مفید یا مضر مگر تفصلیی اور پیچیدہ منصوبہ بندی کا نتیجہ ہیں۔ اس مہا منصوبے کی ہر کِل اور ہر پہلو معنویت کے ربط میں بندھا ہوا ہے۔یہ ربط اور معنویت وہ شعور ہے جو کسی منصوبہ ساز باشعور خالق کی خبر دیتاہے۔ عقل سلیم کے لیے اس امکان کو تسلیم کرنا کہ یہ مہا شعوری منصوبہ بے شعور قوتوں کی کارفرمائی ہے، کسی طرح قابل قبول نہیں ہو سکتا۔ یہ اتفاق کسی ایک آدھ واقعہ میں تسلیم کیا جانا بھی مشکل ہے کجا یہ کہ مشاہدہ و تجربے میں آنے والے تمام فطری مظاہر میں یہ شعوری منصوبہ کرشماتی سطح پر کافرمادکھائی دے۔ یہ سب ایک باشعور خالق کے وجود کا ہاتف بن کر پکارتا ہے تو عقل کان لپیٹ نہیں سکتی۔انسانی شعورکائنات میں جاری اس شعور کو ہر جگہ محسوس کرتا ہے جو ہر مظہر کے پردے میں اسے اشارے کرتا ہے اور انسان خالق کی اس شرارت پر مسکرا اٹھتا ہے۔ شعور جب شعور کو محسوس کر لیتا ہے تو اسے نظر انداز نہیں کرسکتا۔
ایمان بالغیب کا عقل و فطرت پر مبنی مقدمہ یہی ہے کہ ایسے شواہد اور آثار کی بنا پر خدا جیسی باشعور اور بااختیار ہستی کو تسلیم کیا جائے جس نے یہ سب برپا کیا۔
قرآن میں متعارف ہونے والے خدا کا ایسا کوئی دعوی نہیں اس نے یہ سب یک دم پیدا کر دیا تھا جسے بعض لوگ خدا ہونے کا لازمی تقاضا سمجھتے ہیں۔ اس کے برعکس اس نے یہ ہمیشہ سے بتایا کہ اس نے یہ سب تدریجاً پیدا کیا۔ چھے ایام میں زمین و آسمان کی تخلیق کا بیان ہمیشہ سے ابراہیمی مذاہب کے الہامی صحائف کا دعوی رہا ہے۔ یہ ایام بھی خدا کے ایام ہیں جن کی طوالت دنیاوی ایام کی نسبت سے بہت طویل ہے۔
ہزارہا صدیوں پر پھیلا ہوا ارتقا کا عمل آج بھی ایک مختصر قسط میں دیکھا جا سکتا ہے۔ ایک قطرے سے انسان کی تخلیق اسی ارتقاکی کہانی کا خلاصہ ہے جس کا مشاہدہ ہمیشہ کیا جا سکتا ہے۔ ایک قطرہ آب سے ایک جیتے جاگتے باشعور انسان کی تخلیق اس قطرہ میں موجود ماسٹر پلان کا نتیجہ ہے جو یقیناً وہ قطرہ اور اس کے اجزا خود مرتب نہیں کر سکتے۔
خدا نے طاقت و صلاحیت رکھتے ہوئے کائنات کو تدریجاً کیوں پیدا کیا؟ اور اب بھی وہ تخلیق میں تدریج کیوں اختیار کرتا ہے؟اس لیے کہ اسے اس طرح کرنے کا بھی اختیا ر ہے اور اس نے اپنے اختیار کا استعمال کیا،اور اس لیے کہ اس میں انسان کی فکر کے لیے سامان زیادہ موجود ہے، اور سب سے بڑھ کر اس لیے کہ اگر وہ ایسا نہ کرے تو غیب کا پردہ ہٹ جائے گا، اور اس نے بتایا ہے کہ یہ وہ نہیں چاہتا۔
قرآن کے خدا نے یہ دعوی بھی کہیں نہیں کیا کہ اس نے ایک کامل کائنات تخلیق کی ہے جس میں نقص نہیں۔ اس کے برعکس اس نے بتایا کہ اس نے یہ سب آزمایش کے لیے تخلیق کیا گیا ہے جو کاملیت کے کسی نظم میں ممکن نہیں ہو سکتاتھا، ورنہ غیب مشہود ہو جاتا۔ تخلیق کے اس ڈیزائن میں در آنے والے نقائص اس کے ماسٹر پلان کا حصہ ہیں تاکہ مختلف نتائج پیدا ہو سکیں اور ارتقا کا سفر جاری رہے۔
ایک طرف انسانی عقل استدلال سےنتائج نکالنے کی خوگر ہے تو دوسری طرف خدا نے اپنی کتاب کو ایمان بالغیب کےشواہد سے استدلالات سے معمور کر دیا ہے:
• انسان کے عام تجربہ و مشاہدہ میں آنےوالے، اس کے ارد گرد بکھرے کرشماتی مظاہر، ان سب میں توافق و معنویت اور مقصدیت کو دیکھ کر اس کی عقل ایک باشعور خالق کے وجود پر استدلال کرتی ہے تو دوسری طرف وحی ایک خدا کی خبر دے کر عقل و فطرت کا یہ تقاضا پورا کرتی نظر آتی ہے۔
• ایک طرف انسانی فطر ت میں خیر و شر اور عدل کا شعور تقاضا کرتا ہے کہ یہاں نظر آنے والی ناانصافی، انصاف کے کسی کامل نظام سے جڑ کر کائنات کی معنویت کو کامل کرے، جس کے لیےایک دوسراعالَم عدل کے اصول پر ہونا ضرور چاہیے تو دوسری طرف وحی ایسے عالم کے برپا ہونے کا یقین دلاتی ہے۔
• اس دوسرے عالم کے برپا ہونے کے امکان پر وحی انسانوں، جانوروں اور پودوں میں باربار اپنے ہی جیسے جاندار پیدا کرنے اور بارش کے ذریعے سے مردہ زمین کے دوبارہ زندہ ہو جانے کے قابل مشاہدہ مظاہر سے استدلال کرتی ہے کہ اسی طرح تمھارا دوبارہ پیدا ہونا بھی ممکنات میں سے ہے۔
• عقل تقاضا کرتی ہے کہ دنیا میں ہر چیز کا جوڑا ہوتا ہے جو ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں،خواہ یہ جوڑا نر اور مادہ کا ہو یا دن اور رات کا۔ لیکن یہ بس ایک دنیا ہے جو اپنے جوڑے کے بغیر نظر آتی ہے اور اسی بنا پر ادھوری لگتی ہے۔ کائنات میں جوڑوں کا وجود یہ تقاضا کرتا ہے کہ دنیا کا جوڑا بھی ہونا چاہیے تاکہ یہ بھی کامل ہو سکے۔ قرآن بتاتا ہے کہ ایسا ہی ہوگا۔ دنیا کے ساتھ آخرت کا جوڑا جڑے گا تو اس کی کامل معنوت ظاہر ہوگی۔ ناانصافی اور ظلم اپنا بدلہ پا کر عدل کا فطری تقاضا پورا کریں گے۔
ان استدلالات کے لیے قرآن مشاہداتی معلومات پر اپنے مقدمات قائم کرتا ہے۔یہ وہ استدلال ہے جس پر مذہب کا مقدمہ کھڑا ہوتا ہے۔ دانش برہانی ہر دور میں اس کے رد میں کائنات کی تخلیق و تشکیل کی وضاحت میں بہت کچھ کہہ چکی، مگر اس غیر فطری تعقل کو انسان کی فطری دانش نے کبھی قبول نہیں کیا، اسی لیے خدا انسان کے ذہن سے کبھی خارج نہیں ہوسکا۔ شعور کی آنکھ کھولتے ہی وہ اپنی توتلی زبان میں پہلا سوال جو کرتا ہے وہ یہی ہوتا ہے کہ ہم اور یہ ساری کائنات کیسے پیدا ہوگئے اور کیوں پید کیے گئے۔ پھر یہ سوال تمام عمر اس کا پیچھا کرتا ہے۔
تمام انسانوں سے عقل و فطرت پر مبنی استدلال کے ان مقدمات پر روز محشر مواخذہ ہوگا۔ مذہب کا یہی عقلی استدلال ہے جس کی طرف رہنمائی مہیا کرنے کے لیے الہامی کتابیں نازل کی گئیں۔ خدا کی طرف سے مذہب کی ان تعلیمات کی تجدید کا آخری واقعہ رسالت محمدی کی صورت میں جزیرہ نمائے عرب میں چھٹی صدی عیسوی میں پیش آیا۔
ایمانیات کو حسی و مشاہداتی سطح پر نہیں دکھایا جاتا، آزمایش کی یہی اسکیم جاری کی گئی تھی، اس لیے مذہب کے منکرین کا اہل مذہب بلکہ پیغمبر سے اس کا مطالبہ کرنا درست نہیں تھا کہ انھیں خدا دکھادیا جائے۔ اس کے برعکس مخاطبین سے مطالبہ یہ رہا کہ ایمان بالغیب کا یہ معاملہ استدلال کے میدان ہی میں طے کیا جائے۔
تاہم، ایک بار انسانوں کے عذر کو ختم کرنے یا بالفاظ دیگر، ان پراتمام حجت کے لیے کچھ ایسےمظاہر بھی برپا کیے گئے ہیں جس سے زندہ خدا کی محسوس مداخلت کا ادراک انسان کرسکے۔ ان میں سے ایک نبیوں اور رسولوں کے مخصوص معجزات تھے جو انھیں خدا کا فرستادہ ثابت کرتے تھے، جیسے موسی علیہ السلام کا عصا اور محمد رسول اللہ ﷺ کا قرآن جس کی نظیر اہل عرب اپنےدعوی فصاحت کے باوجود نہ لا سکے۔ اس کو ایک ایسے شخص نے پیش کیا جو مروجہ علوم سے ناآشنا تھا اور لکھنا پڑھنا بھی نہیں جانتا تھا۔ 23 سال میں مرتب ہونے والی اس کتاب میں انسانی تصنیفی کاوشوں کا کوئی عنصر نہیں ہے۔ اس میں انسانی سوچ کا ارتقا نہیں ہے جو ہر انسانی تصنیف کا خاصہ ہے۔ یہ گزشتہ کتابوں کے تاریخی واقعات بیان کرتا ہے۔ بنی اسرائیل کی تاریخ سناتا ہے، اس پر تبصرے اور تنقید کرتا ہے اورکوئی ضروری تفصیل فروگزاشت نہیں ہونے پاتی۔بلکہ انھیں چیلنج دیتا ہے کہ یہ یہ معلومات ان کی کتاب میں لکھی ہوئی ہیں اور وہ چھپا رہے ہیں۔ اعتماد سے بھرپور یہ دعاوی ایک ایسے شخص ،محمدؐ عربی، کی زبان سے صادر ہوئے جس کا کوئی علمی پس منظر نہیں تھا۔ یہ زندگی، کائنات، موت اور بعد از موت سے متعلق انسانی سوالات کے جواب دیتا ہے اور پورے اعتماد و اختیارسے دیتا ہے۔ اس کی حفاظت کا دعوی پہلے دن سے کیا گیا اورانسانی وسائل کی کم یابی کے باوجود یہ معجزہ دکھا دیا گیا کہ اس کا متن بغیر شک و شبہ کے آج بھی محفوظ ہے۔ اسے تمام مسلمانوں کے اجتماعی حافظے کے ذریعے سے منتقل کیا گیا۔ ان تمام نے اس کی واحد قراءت نسل بعد نسل منتقل کی۔
قرآن کے علاوہ، تمام انسانوں پر خدا کی طرف سےاتمام حجت کے لیے دو مظاہر ایسے برپا کیے گئے جو مسلمہ انسانی تاریخ کا حصہ بن کر ہمارے سامنے تاقیامت حجت قائم کرتے ہیں۔
ان میں سے ایک خدا کے رسولوں سے متعلق وہ تاریخی واقعات ہیں جو بائیبل اور قرآن مجید میں بیان کردہ اس قانون کے تحت پیش کیا گیا ہے کہ خدا کے رسول اپنے مخالفین پر غالب آ کر رہتے ہیں ، ۔ رسول کے دشمن تباہ و رسوا ہو جاتے ہیں اور اس کے مومنین خدا کے اس عذاب سے نجات پا کر کامیاب ہو جاتے ہیں۔ نوح علیہ السلام سے محمد رسول اللہ ﷺ تک یہ قانون ایک ہی مظہر کی تکرار کرتا نظر آتا ہے۔ اس قانون کا آخری مظہر محمد رسول اللہ ﷺ کے ذریعے سے تاریخ کی مکمل روشنی میں جزیرہ نمائے عرب میں برپا کر کے دکھایا گیا۔ محمد رسول اللہ ﷺ نے اپنی بے سروسامانی کے باوجود اپنی دعوتِ نبوت کے پہلے دن سے اپنے مخالفین پر غالب آ جانے کا دعوی کیا جو پورا ہوا۔ اس کا تاریخی ریکارڈ قرآن اور انسانی تاریخ میں مرقوم ہے۔ پہلے دن سے اپنے مخالفین پرغالب آجانے کے دعوی کے ساتھ پورے اطمینان کے ساتھ یہ فتح و کامیابی کوئی ایسا واقعہ نہیں جسے علم و عقل کی سطح پر کسی طرح نظر انداز کیا جا سکے۔
دوسرا مظہر ذریت ابراہیم کا وجود ہے۔ ان میں سے ایک یہود یا بنی اسرائیل ہیں، جن کی تقریبا ساڑھے تین ہزار سالہ تاریخ ہمارے سامنے موجود ہے۔ یہ قوم ان خدائی قوانین کے تحت باربار عروج و زوال سے ہمکنار ہوتی رہی جو ان کی الہامی کتب اور تاریخ میں درج ہیں اور قرآن میں بھی اسی حوالے سے بیان ہوئے ہیں۔ انھیں ان کی قومی زندگی کی ابتدا ہی میں خبردار کیا گیا تھا کہ انھیں خاص مقاصد کے لیے منتخب کر لیا گیا ہے۔ وہ اگر دین کے مطابق ایمان و عمل کے مطلوبہ معیار پر پورا اتریں گے تو آخرت سے پہلے دنیا میں بھی سرفراز ہوں گے اور اگر گناہ اور شرک میں مبتلاہوں گے تو آخرت کے عذاب کے علاوہ دنیا میں بھی رسوا اور برباد ہوں گے۔ ان کی پوری تاریخ اسی حقیقت کی تکرار کی داستان ہے۔ کسی قوم کی تاریخ میں یوں بار بار عروج و زوال برپا نہیں ہوا جیسے ان کے ہاں ہوا اور یہ بالکل منفرد معاملہ ہے۔ پھر قرآن مجید میں ان کے لیے مسیح علیہ السلام کے انکار اور اقدام قتل کی سزا کے نتیجے میں تاقیامت مسیحیوں کے تحت محکومی کااعلان خدا کی طرف سے عائد کردہ اسی سزا کا تسلسل ہے جو انھیں اپنی تاریخ کے مختلف ادوار میں پیش آتی رہیں۔ یہ شاہد تاریخ کی پوری روشنی میں خدا کے بیان کی شہادت بن کر ہماری آنکھوں کے سامنے قائم ہو کر خدا کی حجت تمام کرتا ہے۔
ذریت ابراہیم ہی کی دوسری شاخ بنی اسماعیل ہیں جو بالکل اسی پیڑن پر اپنے دورِ عروج کو پہنچے۔ ان کی مخالف بڑی بڑی قوتین ان کی مختصر سی تعداد کے سامنے تسلیم ہو گئیں۔ ان فتوحات کے برپا ہونے میں انھیں ان کے وقوع سے پہلے کا یقین تھا کیونکہ اس کی خبر انھیں قرآن اور رسول ﷺ کے ذریعےسے پہلے سے دے دی گئی تھی۔
کسی مقدمہ کو ثابت کرنے کے لیے دو چیزیں پیش کی جاتی ہیں: دلائل اور شواہد۔ دلائل کے ساتھ مذکورہ بالا دو شواہد خدا اور اس کے دین کی سچائی کے بارے میں مسلسل اتمام حجت کرتے ہیں۔ خدا پر ایمان لانے کے لیے مذکورہ استدلالات قائم کیے گئے ہیں۔
ان استدلالات کے مقابل مادیت پرستوں کا مطالبہ مشاہدہ حق کا رہا ہے جسے قرآن نے مسترد کر دیا کہ ایمان لانے کی اسکیم استدلالی ہے مشاہداتی نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ منکرین کے مطالبے پر ان کی مرضی کی نشانیاں نہیں دکھائی گئیں کہ مطلوب مشاہدہ کے بعد تو استدلال سے ایمان لانے کی آزمایش ہی ختم ہو جائے گی۔ منکرین غیر معمولی نشانیاں طلب کرتے تھے، مگر خدا انھیں انفس و آفاق اور رسول کے ذریعے سے اس کی فتوحات کی نشانیوں کی طرف ہی متوجہ کرتا رہا کہ ان سے استدلال کرتے ہوئے ایمان لائیں۔ وہ غور کریں تو یہ سب بھی معجزاتی نشانیاں ہی ہیں۔ جو ان کو دیکھ کر ایمان نہیں لا رہے، ایسے بے عقل لوگوں کے مشاہداتی ایمان سے خدا کو کوئی سروکار نہیں۔
انسانوں میں سے صرف انبیا ہیں جنھیں استثنائی طور پر مشاہدہ حق سے نوازا گیا۔ اس استثناکی ضرورت اس وجہ سے تھی کہ انسانوں کو خدائی ہدایت کی ترسیل کرنا تھی اور اس کے لیے کسی انسان ہی کو چننا ضروری تھا تاکہ غیر انسانی ذریعہ کی اجنبیت اس کی قبولیت میں سد راہ نہ ہو۔ دوسری وجہ یہ تھی کہ خود انبیا کو بھی اس کا یقین ہو کہ غیب سے ملنے والی خبریں واقعی خدا کی طرف ہی سے آرہی ہیں۔ اسی رو میں انبیا سے متعلق کسی ضرورت کی وجہ سے غیر انبیا سے بھی غیب کا پردہ ہٹا کر بات کر لی گئی، جیسے ام موسی اور ام عیسی سے، مگر یہ عام کلیہ نہیں بنایا گیا۔ انبیا سے متعلق ہوئے بغیر کسی غیر نبی سے خدا نے کلام نہیں کیا۔اس میں مزید کوئی اسثنا پیدا کرنے کے لیے خود خدا ہی کا بیان درکار ہے جو دستیاب نہیں۔ ان کے علاوہ ایمان بالغیب کی اسکیم کو بلا استثنا سب کے لیے جاری کیا گیا ہے۔
ادھر بعض مسلم حلقوں میں یہ بے بنیاد خیال جڑ پکڑ گیا کہ خدا پر ایمان بنا دلیل کے لانا ضروری ہے۔ ایمان کے لیے دلیل طلب کی جائے اور نہ دی جائے۔ دلیلیں مانگنا شیطانی عقل کا کام ہے۔ یہ خیال متصوفانہ حلقوں سے مسلم ڈسکورس میں آیا۔ تصوف میں خدا کے عشق کے مقابل فلسفیانہ تعقل پسندی کو عقل کے اصطلاحی عنوان سے مطعون کیا جاتا رہا تھا۔ یہ طرز خطاب بالآخر عقل ہی کی مذمت پر منتج ہوا۔ تصوف ہی میں خدا کے وجود کو وجدانی تجربہ و مشاہدہ کی سطح پر جاننے اور تسلیم کرنے کی تخیلاتی روش بھی اپنا لی گئی۔ یوں دلائل کی بجائے مزعومہ موضوعی شواہد ایمان بالغیب کے لیے اصل بنیاد قرار پائے۔
اہل تصوف کا مقدمہ مادہ پرستوں کی طرح یہی تھا کہ مشاہدہ حق کے بناایمان لانا معتبر یا حقیقی ایمان نہیں یا ایمان کا اعلی درجہ نہیں، مگر انھوں نے مشاہدہ حق کی عدم دستیابی کی بنا پر انکار کرنے کی بجائے یہ دعوی صادر کیا کہ وہ حق کا مشاہدہ کر کے ایمان لائے ہیں۔ اس دعوی کی صداقت کے لیے کوئی بنیاد خدا کے بیانات اور اس کی پیش کردہ اسکیم میں موجود نہیں تھی، اس کے برعکس یہاں مطالبہ ایمان بالغیب یعنی استدلالی ایمان ہی کا تھا مگر تصوف کی دنیا میں یہ دعوی بہرحال کر دیا گیا۔ یہاں استدلالی ایمان عوام کا ایمان قرار پایا اور خواص مشاہدہ حق کے ذریعے سے ایمان لانے کےدعوی دار ہوئے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ استدلالی ایمان میں غور و فکر کی محنت زیادہ پڑتی ہے، مشاہدہ تو ایک غبی کے لیے کفایت کرتا ہے۔ اس لحاظ سے استدلالی ایمان والے ہی بہتر اور درست جگہ پر کھڑے ہوتے ہیں۔
مشاہدہ حق کے مدعی چند صوفیا کے علاوہ یہ دعوی ان کے پیروکاروں سمیت دیگر لوگوں کے لیے ایمان بالغیب ہی کا معاملہ رہتا ہے۔ انھیں بھی صوفی کے بھروسے ہی پر اس کے دعوی کی تصدیق کرنی ہوتی ہے۔ مگر نبی کے دعوی کے برعکس یہاں اس کے حقیقی ہونے پر ایسا کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا جا سکتا جو دوسرے کے لیے حجت بن سکے۔ نبی کے دعاوی کی صداقت قرآن اور بائبل کے بیانات اور ان کے دعاوی کے مطابق مشاہداتی نتائج کے برپا ہونے سے ہوتی ہے، مگر صوفیا کے دعاوی کی تصدیق کی کوئی راہ نہیں ہے۔
انسانوں میں مشاہداتی ایمان کا استثنا صرف انبیا کو خدائی ہدایات کی ترسیل کی ضرورت کے تحت دیا گیا تھا، مگر صوفی بغیر ایسی کسی ضرورت کے نبی کے ساتھ اس استثنا میں شراکت کادعوی دار ہے۔
حقیقت کے اعتبار سے مادیت پرست اور اہل تصوف ایک ہی اصول پر قائم ہیں۔ دونوں خدا کی استدلالی ایمان یا ایمان بالغیب کی اسکیم کو مسترد کرتے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ مادیت پرست مشاہدہ حق نہ پا کر خدا پر ایمان نہیں لاتا اور صوفی اپنے زعم میں مشاہدہ حق کی بنا پر اس پر ایمان لاتا ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ ایمان بالغیب تجربہ و مشاہدہ میں آنے والے شواہد سے خدا، آخرت اور ایمانیات کی دیگر اجزا پر استدلال کا معاملہ، بے سمجھی کا کام نہیں ۔ مشاہداتی ایمان کا مطالبہ اور دعوی مذہب کی اسکیم جان لینے کے بعد نہیں جا سکتا۔ یہ ممکن نہیں کہ خدا ایمان بلا غیب کی اپنی اسکیم کے خلاف مشاہدہ حق کی راہ کسی کے لیے کھول دے۔ ایسے دعاوی کے عوارض اور عوامل مذہب سے ہٹ کر نفسیات اور نفسانی علوم میں تلاش کرنے چاہیں۔ خدا پر ایمان لانے کی یہی ایک راہ بتائی گئی ہے۔
البتہ، اتمام حجت کے لیے حسی شواہد کے طور پر قرآن اور ذریت ابراہیم، خصوصا بنی اسرائیل سے متعلق خدائی اسکیم کو ہمارے سامنے مشہود کر دیا گیا ہے۔

اس تحریر كو شیئر كریں
Share on facebook
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on email
Dr Irfan Shehzad

Dr Irfan Shehzad

Dr Irfan Shehzad belongs to Rawalpindi, Pakistan. He holds a doctorate in Islamic Studies from National University of Modern Languages (NUML) Islamabad, Pakistan. He is working as a companion to Ghamidi Center of Islamic Learning Dallas, USA. He is an assistant research fellow with Al-Mawird Pakistan. He is the author of the book, “Qanoon-e-Itmam-e-Hujjat awr Us kay Itlaqaat: Janab Javed Ahmad Ghamidi ki Tawzihaat par Aetrazaat awr Ishkalaat ka Jaiza”, published by Almawrid Lahore Pakistan. Dr Irfan Shehzad writes and speaks on religious, social and sociopolitical issues. His articles are published in different scholarly journals including Ishraq, Lahore, Pakistan, Al-Shariah Gujranwala Pakistan and on social media.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *