سیاست بازی عوام کی کہانی نہیں ہوتی۔

جس طرح پہلے زمانے میں دو قوموں کے درمیان جنگوں کی وجہ بادشاہوں کے امنگیں ہوا کرتی تھیں، عوام کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں ہوتا تھا مگر مورخین غلط طورپر ان کے انفرادی یا گروہی مفاداتی اقدامات کو قوموں کی طرف منسوب کر دیتے ہیں، جیسے عربوں یا افغانیوں نے ہندستان پر حملے کیے اور ہندوستان کی اقوام نے دفاع کیا وغیرہ، یہ جنگیں محض بادشاہوں کے درمیان ہوتی تھیں، یہی معاملہ آل انڈیا مسلم لیگ اور کانگریس کے درمیان تھا۔ اقتدار میں شراکت کا جھگڑا ان دونوں کا تھا، اس جھگڑے کو لے کر چلنے والے ان کے کارکنان تھے، یہ لوگ عوام سے پوچھ کر ان کے نمائندے نہیں بنے تھے۔ عوام کو تو ووٹ کا حق ہی نہیں تھا۔ ووٹ کا حق ٹیکس گزاروں اور صاحبان جائیداد کو تھا اور ان کی تعداد آج بھی کم ہے، اس دور میں وہ کتنے رہے ہوں گے اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ ان کی راے عوام اور سماج کی رائے اور ان کے برتاؤ عوام اور سماج کے برتاؤ کیوں کر ہو سکتے ہیں۔ لیکن چونکہ سیاست کے اکھاڑے کے کھلاڑی یہی تھے، اس لیے خبر ان کی بنتی تھی، تاریخ ان کی لکھی گئی اور سماج کو ان کے فیصلے اسی طرح بھگتنے پڑے جیسے بادشاہوں کے فیصلے اس دور کے عوام کو بھگتنے پڑتے تھے۔
تقسیم ہند کی سیاست ہرگز عوامی سیاست نہیں تھی، یہ سیاسی لیڈروں اور ان کے کارکنان کی آپسی جنگ تھی جس کا خمیازہ عوام کو بھگتنا پڑا اور اب تک وہ اسے بھگت رہے ہیں۔
آج کی نسلوں کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ تاریخ اور نصاب میں جو مواد انھیں پڑھایا جا تا ہے یہ ان کی کہانی نہیں، نہ ان کی یا ان کے آبا کی کرنی ہے۔ وہ اب بھی اس کے وارث بننے سے انکار کر دیں۔
جمہوریت کے دور میں ممکن ہو گیا ہے کھیت، فیکڑی میں کام کرنے والے ایک ایک فرد کی راے سیاست اور حکومت میں موثر ہو سکے۔ انھیں سیاسی گروہی وابستگی سے پہلے اپنی، اپنی علاقے اور اپنے سماج کے مفاد کو مد نظر رکھ کر ووٹ کا استعمال کرنا ہوگا۔
بیانیے اب عوام سے حکمران کو پہنچنے چاہییں نہ کہ لیڈروں کے دماغوں میں پیدا ہوئے خیالات ان کے آدرش بنیں۔ ہرگز نہیں۔ نظریاتی سیاست کو خود پر مکمل طور پر حرام قرار دے دینا چاہیے۔ سیاست و حکومت سراسر دنیوی مفادات کے تحفظ کے لیے ہونی چاہیے۔ انھیں کسی آدرش، کسی نظرے پر ہرگز قربان نہیں کرنا چاہیے۔
جدوجہد محض سماجی اور مادی استحصال کے خلاف کرنی چاہیے۔ اور اس کے لیے بھی جان دینے کی ضرورت نہیں، اب ایسے ادارےاور ذرائع ابلاغ وجود میں آ چکے ہیں کہ ان کے ذریعے سے آپ راے عامہ ہموار کر کے اہل سیاست و حکومت کو اپنی بولی بولنے پر مجبور کرسکتے ہیں۔ تاہم حق کہنے پر ہی کوئی پابندی عائد ہو تو اسے جان دے کر بھی قبول نہیں کرنا چاہیے۔

اس تحریر كو شیئر كریں
Share on facebook
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on email
Dr Irfan Shehzad

Dr Irfan Shehzad

Dr Irfan Shehzad belongs to Rawalpindi, Pakistan. He holds a doctorate in Islamic Studies from National University of Modern Languages (NUML) Islamabad, Pakistan. He is working as a companion to Ghamidi Center of Islamic Learning Dallas, USA. He is an assistant research fellow with Al-Mawird Pakistan. He is the author of the book, “Qanoon-e-Itmam-e-Hujjat awr Us kay Itlaqaat: Janab Javed Ahmad Ghamidi ki Tawzihaat par Aetrazaat awr Ishkalaat ka Jaiza”, published by Almawrid Lahore Pakistan. Dr Irfan Shehzad writes and speaks on religious, social and sociopolitical issues. His articles are published in different scholarly journals including Ishraq, Lahore, Pakistan, Al-Shariah Gujranwala Pakistan and on social media.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *