سرمایہ دار سے دشمنی، سماج دشمنی ہے

دنیا بھر میں بڑا طبقہ سرمایہ دار سے نفرت کرتا ہے۔ سرمایہ دار سے نفرت، تعلیم یافتہ ، حریت پسند اور غریب کے ہمدرد ہونے کی علامت بھی سمجھی جاتی ہے اور فیشن بھی۔ اس نفرت کی وجہ سرمایہ دار کے استحصالی ہتھکنڈے بھی ہیں اور دولت مند اور کامیاب انسان سے حسد کا مادہ بھی۔ اگر زیادہ درست انداز میں کہا جاہے تو سرمایہ دار سے نفرت کا اصل سبب حسد ہے نہ کہ استحصال سے نفرت۔ استحصال سے نفرت ہوتی تو مزدور کے استحصال سے نفرت بھی اسی شدت سے محسوس کی جاتی جو وہ اپنے کام میں ڈنڈی مار کر اور کرپشن کر کے کرتا ہے۔
استحصال کرنا بد اخلاقی کا معاملہ ہے نہ کہ سرمایہ دارانہ نظام کی خصوصیت۔ استحصال کو طاقت و اختیار کی نفسیات سے جوڑنا چاہیے نہ کہ سرمایہ دار یا سرمایہ داری سے۔ فیکٹری میں اگر ملازم کا استحصال ہوتا ہے تو اسی ملازم کے گھر میں اس کے گھریلو نوکر کا استحصال کیا جاتا ہے اور یہ نوکر اپنی بیوی کا استحصال کرتا ہے۔ جس کا جہاں بس چلتا ہے وہ استحصال کرتا ہے۔ طاقت و اختیار کی نفسیات میں موجود استحصال کےاس مسئلے کو اخلاق اور قانون کی مدد سے درست کرتے رہنا چاہیے۔ اور یہ ہوا بھی ہے۔ سرمایہ دارانہ دنیا میں مزدور کی بہبود، صارف کی فلاح اور سرمایہ دار کے اختیارات کو ریگولر کرنے پر بہت مثبت پیش رفت ہوئی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ سرمایہ دار قوم کا محسن ہوتا ہے۔ دنیا کی تمام رونقین اسی کے دم سے قائم ہیں۔ سرمایہ دار ہی ہے جو اپنے سرمائے اور محنت کے نتائج کو خطرے میں ڈال کر اپنی برتر ذہانت اور حوصلوں کو بدولت ہزاروں لاکھوں افراد کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرتا اور ان کا معیار زندگی بلند کرتا ہے۔ وہ ان کی تسکین طبع کے لیے تفریح کے مواقع مہہا کرتا ہے اور اپنے لیے بھی منافع کماتا ہے۔
قوم کا محسن ہونے کے لیے ضروری نہیں کہ ہر سرمایہ دار منافع کی خواہش ترک کر کے ایدھی بن کر سماج کی خدمت کرے۔ اس کی برتر صلاحیتیں بہرحال اُسی طرح سماج کے لیے مفید ثابت ہو کر معاوضی کی مستحق ہوتی ہیں جیسے ایک ڈاکٹر، انجینئر، وکیل اور کسی بھی ہنر مند کی خدمات سماج کو فائدہ پہنچاتی اور بدلے میں وہ اپنے لیے مالی فوائد حاصل کرتی ہیں۔ منافع خوری کے لیے ذخیرہ اندوزی جیسے منفی ہتھکنڈے استعمال کرنا البتہ غلط ہے، جن کی روک تھام کے لیے حکومت اور قوانین کا نظام قائم کیا گیا ہے۔ اعتراض اگر کسی مخرب الاخلاق یا دینی نکتہ نظر سے ناجائز صنعت یا سرگرمی پر ہے تو وہ اگر مسلّمہ برائی کے زمرے میں آتا ہے تو یہ دنیا میں اچھائی اور برائی کی ازلی کشمکش کا مسئلہ ہے۔ اس مسئلے سے برتنے کے طریقے موجود ہیں۔ اخلاق کی تلقین کے ساتھ قانون کو بھی حرکت میں لا کر اس کے سد باب کی کوشش کا دروازہ کھلا ہے۔ رہا معاملہ دینی دائرے کا ہے تو دین داروں کے لیے اس سے اجتناب برتنا ان کا دینی فریضہ ہے۔ حکومت اگر معترضین کی ہم خیال ہے اور یہ اکثریت کی راے ہے تو عوام کی خواہش پر اس بارے میں قانون سازی بھی کی جا سکتی ہے۔
سرمایہ دار نظام کا عمومی اور فطری مزاج یہ ہے کہ وہ سماج کے افراد کی قوت خرید کو بڑھتا ہوا دیکھنا چاہتا ہے تاکہ اس کی مصنوعات بک سکیں۔ وہ نہیں چاہتا کہ سماج غربت و مفلسی اور تباہی کا شکار ہو۔ چنانچہ سرمایہ دار کو کاروبار پھیلانے کا جتنا موقع ملے گا سماج میں امن کے قیام کے امکانات بڑھتے جائیں گے۔
کرونا ویکسین کی تیاری اور اس کی مفت فراہمی اسی سرمایہ دار کے بل بوتے پر ممکن ہوئی ہے۔ اس کے پیچھے وہی سماج کی فلاح کا محرک کارفرما ہے۔ بڑی کمپنیوں نے اس کے لیے جی کھول کر فنڈز مہیا کیے۔سرمایہ دار کے پاس موقع تھا کہ جو ویکسین اس کے سرمائے سے تیار ہوئی ہے اس پر لوگوں کی مجبوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اتنا منافع کما لیتا جو تاریخ میں کبھی نہ کمایا گیا ہوگا کہ اس بار اس کی صارف پوری دنیا کے لوگ تھے۔ مگر اس نے ایسا نہیں کیا۔ اس کی وجہ انسانی ہمدردی نہ بھی سمجھی جائے تو یہ سرمایہ دارانہ اقدار کا تقاضا تھا کہ اپنے صارف کو وہ اس مشکل سے نکالے تاکہ رکی ہوئی معاشی سرگرمیاں چالو ہوں۔ صارف کا چولہا بھی جلے اور صنعت کا پہیہ بھی۔ یہ سرمایہ دار وہ خون آشام مہاجن نہیں ہے جو اپنے قرض دار کا گھر بار بکوا دیتا یا اسے غلام بنا لیتا تھا۔ یہ سرمایہ دار خود چاہتا ہے کہ صارف کی قوت خرید میں اضافہ ہو، تاکہ اس کے منافع میں بھی اضافہ ہو۔
اجارہ داری سرمایہ دارانہ نظام کا ایک مطعون پہلو سمجھا جاتا ہے، جس میں چھوٹے کاروبای طبقے کی موت ہو جاتی ہے۔ مگر یہ آزادانہ مسابقت کا یہ ایک ناگزیر پہلو ہے۔ صارف کے نقطہ نظر سے دیکھیے تو ایک چھت کے نیچے تمام اشیا کی خریداری، مختلف بازاروں میں خجل خوار ہو کر خریداری کرن سے اسے زیادہ محبوب ہے۔ اس سہولت کاری کو اجارہ داری کانام بھی دیا جاسکتا ہے مگر اس کی افادیت سے صرف نظر نہیں کیا جا سکتا۔ اجارہ داری کے نام پر البتہ غیر معیاری اشیا کی خریداری پر مجبور کرنا یا حد سے زیادہ منافع خور ی کا مظاہرہ حماقت ہوتا ہے۔ یہ خود سرمایہ دار کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے۔ لوگ متبادل تلاش کرنے لگتے ہیں، خریداری کم سے کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ منافع کا گراف گرتے ہی سرمایہ دار کی عقل ٹھکانے آ جاتی ہے اور وہ فورا اپنا طرز عمل درست کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ وہ فطری عامل ہے جو سرمایہ دارانہ نظام کو انسانیت کے لیے واحد انتخاب بنا دیتا ہے۔
سرمایہ دارانہ نظام کا فطری ہونا یوں بھی طے ہے کہ ہر سماج نے اسے خود سے اپنایا ہے جب کہ اسے ختم کرنے یا اس کا متبادل لانے کے لیے نظریاتی محنت کرنا پڑتی ہے جو مصنوعی ہے۔ اور ہر مصنوعی نظریے کی قسمت میں جلد یا بدیر ناکامی لکھی ہوتی ہے۔
سرمایہ دار برینڈ کیوں بناتا ہے؟ تاکہ وہ لوگوں کو اعتماد دلا سکے کہ وہ اپنی مصنوعات کے معیار کے معاملے میں جواب دہی کی نازک زمہ داری کے ساتھ اپنی مصنوعات پیش کر رہا ہے۔ اس کے لیے وہ مستقل قائم رہنے والا معیار پیش کرتا ہے۔ اس اعتماد اور اطمینان کی قیمت وہ وصول کرتا ہے تو یہ غلط کیسے ہو سکتا ہے۔ بغیر ٹیگ کی مصنوعات کے معیار کی کوئی ضمانت دی جا سکتی ہے اور نہ ان کی شکایت کہیں کی جا سکتی ہے۔
برینڈ کے ذریعے سے سرمایہ دار اپنی شہرت کو داؤ پر لگاتا ہے اس لیے معیاری مال پیش کرنا اس کی ضرورت بلکہ مجبوری بن جاتی ہے۔ یہ ممکن ہے کہ اشتہارات کے زور پر وہ غیر معیاری چیز فروخت کرنے کی کوشش بھی کرے مگر اس کے لیے وہ جبر کا راستہ پھر بھی اختیار نہیں کر سکتا۔ صارف کے لیے اپنی عقل کا درست استعمال ہمیشہ سے اس کے اختیار میں ہے۔
سرمایہ داروں میں الگ سے کوئی ایسی برائی نہیں پائی جاتی تو عام لوگوں اور سماج میں نہ پائی جاتی ہو۔ مگر انھیں خاص طور پر ہدف تنقید بنانا، ان کے ساتھ محض سرمایہ دار ہونے کی وجہ نفرت کرنا، ان کے بڑھتے کاروبار پر ریاستی نمائندے چھوڑ کر انھیں زچ کرنا، سفلہ پن ہے۔ یہ صرف سرمایہ دار سے دشمنی ہی نہیں، سماج سے دشمنی ہے جو اس کی پیدا کردہ معاشی سرگرمیوں سے محروم ہو سکتا ہے۔
سرمایہ داروں سے نفرت ایک فیشن ہے۔ اس فیشن کی حقیقت جاننے کے لیے کافی ہے نفرت کے پرچارکوں کو کسی سرمایہ دار اور سوشلسٹ ملک میں جا کر کسب معاش کا اختیار دیا جائے۔ ان کا بے ساختہ انتخاب سرمایہ دار ملک ہوگا۔ ایسے کسی فرد کو کاروبار کرنے کا موقع ملنے پر خود بخود سرمایہ دارانہ محرکات اسے بالکل اسی نہج پر لے آتے ہیں جس کی مخالفت وہ اپنے نظریات کا جزو ایمان سمجھتا ہے۔
بدقسمتی سے ملک عزیز میں ایک طرف سرمایہ داروں سے عمومی نفرت پائی جاتی ہے۔ ان کو قوانین کی جکڑ بندیوں سے ہراساں کیا جاتا ہے، ریاستی اداروں کی مدد سے ان کے حوصلوں کا امتحان لیا جاتا ہے، سرمایہ دارانہ مخالفت پر مبنی پالیسیاں بنا کر ان کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے، تو دوسری طرف ہماری اسٹیبلشمنٹ ہے جو جنگوں کا زمانہ گزر جانے کے بعد بھی اس دور کے رومان سے نکل نہیں پائی جب مال غنیمت اور خراج کے ذریعے سے یہ اپنے محل اور قلعے تعمیر کیا کرتے تھے۔ اب یہ شوق یہ کرائے کی جنگوں سے پورا کرنے تگ و دو میں رہتے ہیں۔ کرائے کی جنگوں کا شوق ہمارے ہی خرچے پر پہلے دہشت اور عدم تحفظ کا سامان پیدا کراتا ہے اور پھر ہماری حفاظت کے نام پر پھر ہم سے مزید خرچہ طلب کیا جاتا ہے۔ اور اس “خدمت” پر وہ خراج تحسین کے طالب بھی ہوتے ہیں۔
سیاست بازی کا شوق انھیں بار بار سیاسی عمل میں مداخلت کرنے پر مجبور کرتا ہے جس سے ملک میں غیر یقینیت کی صورت حال پیدا ہو جاتی ہے کہ معلوم نہیں پڑتا کہ آنے والی حکومت کیا کرے گی، اس کی معاشی پالیسی کیا ہوگی۔ ان حالات میں سرمایہ دار شدید متاثر ہوتا ہے۔ وہ اپناکاروبار محفوظ بنانے کے لیے فکر مند رہتا ہے، نئے پراجیکٹس لگانے کی ہمت نہیں کر پاتا، نئی مارکیٹوں سے روابط پیدا نہیں کر سکتا ۔
تاہم، ایک خوش آئند پہلو یہ ہے کہ جب سے ہماری قومی ادارے نے خود کو سرمایہ داری اور کاروباری سرگرمیوں میں مصروف کر لیا ہے تو امید کی جا سکتی ہے شاید اسی راستے سے ان میں سرمایہ دارانہ نفسیات پروان چڑھے اور دوسروں کی خوشحالی میں یہ اپنی خوشحالی دیکھنے کی معقول نظر پیدا کر لیں۔ وہ یہ جان پائیں کہ اپنے لیے عوام سے ٹیکس وصول کرنے میں اضافہ بھی تبھی ممکن ہے اگر وہ کاروبار اور سرمایہ دار کی حوصلہ افزائی کریں گے۔ عوام کا خون نچوڑ کر ملکی خزانہ نہیں بھرا جاسکتا ہے۔ حکومت اور حکومت گروں سے التماس ہے کہ معاشی سرگرمیوں کو سہولت دیں، یقین رکھیں کہ عوام کی جیبوں کے ساتھ آپ کا خزانہ بھی بھر جائے گا۔

اس تحریر كو شیئر كریں
Share on facebook
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on email
Dr Irfan Shehzad

Dr Irfan Shehzad

Dr Irfan Shehzad belongs to Rawalpindi, Pakistan. He holds a doctorate in Islamic Studies from National University of Modern Languages (NUML) Islamabad, Pakistan. He is working as a companion to Ghamidi Center of Islamic Learning Dallas, USA. He is an assistant research fellow with Al-Mawird Pakistan. He is the author of the book, “Qanoon-e-Itmam-e-Hujjat awr Us kay Itlaqaat: Janab Javed Ahmad Ghamidi ki Tawzihaat par Aetrazaat awr Ishkalaat ka Jaiza”, published by Almawrid Lahore Pakistan. Dr Irfan Shehzad writes and speaks on religious, social and sociopolitical issues. His articles are published in different scholarly journals including Ishraq, Lahore, Pakistan, Al-Shariah Gujranwala Pakistan and on social media.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *