زبان کیوں قطعی نہیں ہوتی ؟

“سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے۔”
اس مصرع کا بے غبار مطلب اگر آپ کو سمجھ آ رہا ہے تو یہ سادہ فکری ہے۔ اس کو پہلے درج ذیل تنقیحات سے گزار کر مراد سمجھی جائے گی۔
۔۔۔
سوال یہ ہے کہ جگر میں جہاں کا درد کیسے سما سکتا ہے؟ یہ ممکن نہیں۔ شاعر کا دماغ درست نہیں یا اس کا مدعا کچھ اور ہے۔
شاید یہاں جگر سے مراد دماغ ہے۔ جگر مجازی معنی میں استعمال ہوا مگر ہمارے پاس یہ جاننے کا کوئی ذریعہ نہیں کہ شاعر نے واقعی اسے مجازی معنی ہی میں استعمال کیا ہے یا حقیقی معنی میں۔
سارے جہان سے مراد ساری کائنات ہے یا یہ یہ ہماری دنیا ؟
اس دنیا کے سارے جاندار مراد ہیں یا صرف انسان اور ان کا درد ؟
ہمارے سے کیا مراد ہے۔ فرد واحد کا افراد کا کوئی مجموعہ ؟
جگر، دوست کے معنی میں بھی آتا ہے۔ کیا جملے کا مطلب یہ ہے کہ سارے جہان کا درد ہمارے کسی دوست میں پایا جاتا ہے ؟
شاعر کیا کہنا چاہتا ہے، اس کی مراد کیا ہے ہم اس کا تعین نہیں کر سکتے۔ اس لیے یہ کلام مبہم اور غیر قطعی ہے۔
۔۔۔
یہ ہے وہ علمیت جو زبان کو غیر قطعی بنانے کے لیے سرزد کی جاتی ہیں۔ اس ” تعقل” کا ہدف قرآن جب بنتا ہے تو قران کی بارے میں فیصلہ دے دیا جاتا ہے کہ اس کی مراد بھی قطعیت سے سمجھ نہیں آ سکتی۔ اس کا لازمی مطلب قرآن کا معطل اور بے فائدہ ہونا ہے ۔ ہر ہر لفظ میں سو طرح کے احتمالات عقل عیار پیدا کر کے دکھا دیتی ہے۔
زبان فہمی کے یہ وہ غیر فطری طریقے ہیں، جنھیں تعقل اور اس تعقل پر تشکیل پا جانے والی روایت کے زور پر منوایا جاتا ہے، یہ محض بے اصل ہیں۔
مصرع کا جو مفہوم اہل زبان کو بلا تردد سمجھ آ گیا تھا وہی زبان فہمی کا فطری طریقہ ہے۔
کلام جس صنف میں ہوتا ہے، اسے اسی صنف کے اصولوں کے تحت سمجھا جاتا ہے۔ یہ کلام فہمی کا یہ ایک مسلمہ اصول ہے۔
ادب پارے پر منطق، فلسفہ، سائنس اور قانون کی زبان کے اصول لاگو کر کے اسے سمجھنا محض مضحکہ خیز عمل ہے۔
قرآن کی زبان کے ساتھ اس طرح کا کھیلواڑ صدیوں سے جاری ہے جو اب روایت بن جانے سے سینیارٹی کی بنیاد پر اپنے مقام کا مطالبہ بھی کرتا ہے۔
قرآن میں تعدد معنی اگر زبان کے مسلمہ اصولوں کی خلاف ورزی اور صنف کلام سے بے اعتنائی کے نتیجے میں پیدا ہوئے ہیں تو ان کی چنداں کوئی حقیقت نہیں۔
کلام فہمی کے مسلمہ اصولوں کی روشنی ہی میں قرآن کو سمجھا جائے گا اور اہل زبان کی طرح اس کا مدعا و مراد پوری طرح واضح ہو کر سامنے آتی ہے جیسے درج بالا مصرع سمجھنے میں اہل زبان کو کوئی وہم لاحق نہیں ہوا۔

اس تحریر كو شیئر كریں
Share on facebook
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on email
Dr Irfan Shehzad

Dr Irfan Shehzad

Dr Irfan Shehzad belongs to Rawalpindi, Pakistan. He holds a doctorate in Islamic Studies from National University of Modern Languages (NUML) Islamabad, Pakistan. He is working as a companion to Ghamidi Center of Islamic Learning Dallas, USA. He is an assistant research fellow with Al-Mawird Pakistan. He is the author of the book, “Qanoon-e-Itmam-e-Hujjat awr Us kay Itlaqaat: Janab Javed Ahmad Ghamidi ki Tawzihaat par Aetrazaat awr Ishkalaat ka Jaiza”, published by Almawrid Lahore Pakistan. Dr Irfan Shehzad writes and speaks on religious, social and sociopolitical issues. His articles are published in different scholarly journals including Ishraq, Lahore, Pakistan, Al-Shariah Gujranwala Pakistan and on social media.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *