خاتم النبیین کا درست مفہوم

آیت ختم نبوت پر احمدی حضرات کے ملاحظات درج ذیل ہیں:
مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا٘ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَلٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِيّٖنَﵧ وَكَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمًا.
(الاحزاب٣٣: ٤٠) ’’محمد تمھارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں، بلکہ اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں۔ اور اللہ ہر چیز سے با خبر ہے۔‘‘
احمدی حضرات کے ترجمے میں بھی’خاتم‘ کو مہر ہی کے معنی میں لیا گیا ہے:
’’نہ محمد تم میں سے کسی مرد کے باپ تھے نہ ہیں (نہ ہوں گے) لیکن اللہ کے رسول ہیں بلکہ (اس سے بڑھ کر) نبیوں کی مہر ہیں اور اللہ ہر ایک چیز سے خوب آگاہ ہے۔‘‘ (تفسیر صغیر)
اس ترجمے میں قوسین میں محمد رسول اللہ ﷺ کے بارے میں آیندہ کے لیے بھی کسی مرد کے باپ ہونے کے امکان کی نفی کی گئی ہے۔ اس کی دلیل ان کی طرف سے یہ دی جاتی ہے کہ ’مَا کَانَ‘ کے الفاظ عربی زبان میں صرف یہی معنی نہیں دیتے کہ آپ ﷺ صرف اِس وقت کسی مرد کے باپ نہیں، بلکہ یہ معنی بھی دیتے ہیں کہ آیندہ بھی کسی مرد کے باپ نہیں ہوں گے، جیسا کہ قرآن کریم میں آتا ہے: ’كَانَ اللّٰهُ عَزِيْزًا حَكِيْمًا‘ (النساء٤: ١٥٨) ،یعنی اللہ تعالیٰ عزیز و حکیم تھا، ہے اور آیندہ بھی رہے گا۔
آیت کی تشریح میں صاحب ’’تفسیر صغیر‘‘ لکھتے ہیں:
’’ختم نبوت کے یہ معنے ہیں کہ محمد رسول اللہ ﷺ کا مقام سب نبیوں سے افضل ہے۔‘‘
پوری آیت کی تشریح احمدیت میں کچھ یوں کی جاتی ہے:
جب حضرت زید رضی اللہ عنہ کی مطلقہ حضرت زینب سے رسول اللہ ﷺ کے نکاح کا واقعہ پیش آیا تو لوگوں نے باتیں بنائیں۔ اپنے متبنیٰ کی مطلقہ سے شادی عرب کے رواج کے خلاف تھی، کیونکہ وہ اسے بھی حقیقی بہو کی طرح ہی سمجھتے تھے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تم جو سمجھتے ہو کہ زید (رضی اللہ عنہ) محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹے ہیں، یہ غلط ہے۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو کسی بالغ جوان مرد کے باپ ہیں ہی نہیں اور صرف اِس وقت باپ نہیں، بلکہ آیندہ بھی کسی مرد کے باپ نہیں ہوں گے۔ اس اعلان پر قدرتًا لوگوں کے دلوں پر ایک اور شبہ پیدا ہونا تھا کہ مکہ میں تو سورۂ کوثر کے ذریعے سے یہ اعلان کیا گیا تھا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمن تو اولاد نرینہ سے محروم رہیں گے، مگر آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم محروم نہیں رہیں گے، لیکن اب سالہا سال کے بعد مدینہ میں یہ اعلان کیا جاتا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہ تو کسی بالغ مرد کے باپ ہیں نہ آیندہ ہوں گے، تو اس کے یہ معنی ہوئے کہ سورۂ کوثر والی پیشین گوئی (نعوذباللہ) جھوٹی نکلی اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت مشکوک ہے۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:’وَلٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِيّٖنَ‘، یعنی ہمارے اس اعلان سے لوگوں کے دلوں میں یہ شبہ پیدا ہوا ہے، باوجود اس اعلان کے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، بلکہ خاتم النبيين ہیں، یعنی نبیوں کی مہر ہیں۔ پچھلے نبیوں کے لیے بطور زینت ہیں اور آیندہ کوئی شخص نبوت کے مقام پر فائز نہیں ہو سکتا، جب تک کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مہر اس پر نہ لگی ہو۔ ایسا شخص آپ کا روحانی بیٹا ہو گا اور ایک طرف سے ایسے روحانی بیٹوں کے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں پیدا ہونے سے اور دوسری طرف اکابر مکہ کی اولاد کے مسلمان ہو جانے سے یہ ثابت ہو جائے گا کہ سورۂ کوثر میں جو بتایا گیا تھا، وہ ٹھیک تھا۔ ابو جہل، عاص اور ولید کی اولاد ختم کی جائے گی اور وہ اولاد اپنے آپ کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب کر دے گی اور آپ کی روحانی اولاد ہمیشہ جاری رہے گی اور قیامت تک ان میں ایسے مقام پر لوگ فائز ہوتے رہیں گے جس مقام پر کوئی عورت کبھی فائز نہیں ہو سکتی، یعنی نبوت کا مقام، جو صرف مردوں کے لیے مخصوص ہے… پس اگر خاتم النبيين کے یہ معنی کیے جائیں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تم میں سے کسی بالغ مرد کے باپ نہیں، لیکن وہ اللہ کے رسول ہیں اور آیندہ ان کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا تو یہ آیت بالکل بے معنی ہو جاتی ہے اور سیاق و سباق سے اس کا کوئی تعلق نہیں رہتا اور کفار کا وہ اعتراض، جس کا سورۂ کوثر میں ذکر کیا گیا ہے، پختہ ہو جاتا ہے۔
اس بیان میں درج ذیل نکات ہیں:
• ’كَانَ‘ کی خبر حال کے ساتھ مستقبل کے لیے بھی موثر ہے۔ ’’تفسیر صغیر‘‘ کے ترجمے میں بھی اسی کو اختیار کیا گیا ہے۔
• ’لٰكِنْ‘ سے معلوم ہوتا ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ کی ابوّت کی نفی سے پیدا ہونے والے شبہ کہ اولاد نرینہ نہ ہونے کی بنا پر آپ کا نام لیوا کوئی نہ ہوگا، کو ’لٰكِنْ‘ کے بعد کے بیان سے دور کرنا ضروری ہے، چنانچہ اسے آپؐ کی روحانی اولاد کے مفہوم سے دور کیا گیا ہے جو آپ کے نام لیوا ہوں گے اور نبیوں کی شکل میں بھی آتے رہیں گے۔
• ان آنے والے نبیوں پر آپ کی مہر تصدیق لگی ہوگی۔ مہر تصدیق کے لیے نقش پیدا کرتی ہے، جس پر آپ کی نبوت کا پرتو ہوگا، وہ گویاآپ کی طرف سےتصدیق شدہ نبی ہوگا۔
• ’خَاتَم‘ کا لفظ مہر کے ساتھ زینت اور افضلیت کے اضافی مفاہیم بھی رکھتا ہے۔ اسی بنا پر آپ زینت الانبیا اور افضل الانبیا ہیں۔
• ’خَاتَم‘ کے معنی اختتام کمال کے ہیں، نہ کہ مطلق اختتام کے۔ یعنی خاتم النبیین کا مفہوم کمال نبوت کا اختتام ہے، یعنی آپ جیسا کامل درجے کا کوئی اور نبی اب نہیں آئے گا، البتہ آپ سے کم تر درجے کے انبیا آ سکتے ہیں۔ اس پر دلیل یہ دی جاتی ہے کہ خاتم الشعرا اور خاتم الاولیا جیسی تراکیب میں ’خاتم‘ سے مراد آخری نہیں، بلکہ مجازی معنی کے اعتبار سے درجۂ کمال میں آخری فرد مراد لیا جاتا ہے۔
نقد
پہلی بات یہ ہے کہ ’کَانَ‘ کی خبر میں دوام اور استقرار اس کا ایک پہلو ہے جو عام ہے نہ لازم، یعنی اسےہر جگہ لاگو نہیں کیا جا سکتا۔ مثلاً ’كَانَ النَّاسُ اُمَّةً وَّاحِدَةً ‘،’’لوگ ایک ہی امت تھے‘‘(البقرہ٢: 213)، تو کیا اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ ہمیشہ ایک ہی امت رہیں گے؟
دوام و استقرار کا معنی خبر کی خصوصیت کے سبب سےپیدا ہوتا ہے، نہ کہ ’کَانَ‘ کے فعل میں ایسی کوئی خصوصیت ہے۔ اس لیے ختم نبوت والی آیت میں ’مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا٘ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ‘سے یہ نتیجہ اخذ کرنا کہ رسول اللہ ﷺ آیندہ بھی کسی مرد کے باپ نہ ہو سکیں گے، یہ وہم آیت کے الفاظ سے پیدا نہیں ہوتا جس کے تدارک کے لیے رسول اللہﷺ کو روحانی باپ بنانے کا استدلال درست قرار دیا جا سکے۔ چنانچہ اس آیت کے بعد آپ اگر کسی نرینہ اولاد کے باپ بن جاتے اور وہ بلوغت کو بھی پہنچ جاتی تب بھی آیت کے بیان میں فرق نہیں پڑناتھا، کیونکہ مسئلہ زیر بحث میں معترضین کا یہ اعتراض رفع کرنا تھا کہ حضرت زید سمیت آپ کسی مرد کے باپ نہیں، زید کی مطلقہ آپ کی حقیقی بہو نہیں، اس لیے آپ پر بہو سے نکاح کا اعتراض لغو ہے۔ یہ آیت یہ خبر نہیں دے رہی کہ آپ مستقبل میں بھی کسی مرد کے باپ نہ ہوں گے، اس لیے سورۂ کوثر سے منسوب ’اَبْتَر‘ والے طعنے کی تردید کا یہاں کوئی پہلو نہیں نکلتا۔یہ الگ بات ہے کہ آپ کسی مرد کے باپ نہ ہوئے، لیکن اس امر واقعہ کا اس آیت سے کوئی تعلق نہیں۔
حرف استدراک ’لٰكِنْ‘
احمدی حضرات کا حرف استدراک ’لٰكِنْ‘ کی بناپر اس آیت سے یہ مفہوم لینا کہ محمد رسول اللہ کسی مرد کے باپ نہیں، لیکن وہ آنے والے انبیا کے روحانی باپ ہیں، یہ مفہوم لفظاً اور معناً، دونوں طرح لینا ممکن نہیں۔ ’لٰكِنْ‘کے بعد’رَسُوْلَ اللہِ‘ کہا گیا ہے، اسے زبان و بیان کے کسی قاعدے سے “روحانی باپ” کے معنی میں تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ بالفرض محال یہ تسلیم کر بھی لیا جائے کہ ’لٰكِنْ‘ کے بعد رسول اللہ ﷺکی روحانی ابوّت کا ذکر یہاں کسی طرح شامل ہے تو اس لحاظ سے روحانی ذریت کے ذکر سے بھی کسی نئے نبی کے آنے کا مفہوم قطعیت سے بہرحال ثابت نہیں ہوتا۔ روحانی اولاد سے صالح مومنین مراد لینا بھی کفایت کرتا ہے، نبی ہونا ہی کیوں ضروری ہو؟
حرف استدراک ’لٰكِنْ‘ سے پیدا ہونے والے مفہوم کو درست طور پر سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ یہ دیکھا جائے کہ ’لٰكِنْ‘ کے بعد جو مذکور ہوا ہے، اس سے کون سا وہم دور ہوا ہے، نہ کہ یہ’لٰكِنْ‘ سے پہلے کے بیان سے کوئی وہم پیدا کر کے اسے سمجھنے کی کوشش کی جائے۔ احمدی حضرات نے یہاں فہم کلام کا یہی معکوس طریقہ اختیار کیا ہے، اس لیے نتیجہ بھی الٹ نکلا ہے۔ غلط فہمی یہاں یہ پیدا کی جا رہی ہے کہ ’لٰكِنْ‘ سے پہلے ابوّت کے ذکر سے یہ لازم سمجھا گیا ہےکہ ’لٰكِنْ‘ کے بعد جو بیان آ رہا ہے، وہ بھی ابوّت سے متعلق ہی کسی وہم کو دور کرنے کے لیے آیا ہے، حالاں کہ حرف استدراک ’لٰكِنْ‘سے ہرگز یہ ضروری نہیں کہ وہ ایسے کسی وہم کو دور کرنے کے لیے آئے جو ’لٰكِنْ‘ سے پہلے لفظاً موجود ہو۔ یہ اس ذہنی وہم کو دور کرنے کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے جو لفظاً مذکور نہ ہو۔ اس بات کو زبان کے عام استعمال کی مثالوں سے سمجھتے ہیں۔ ایک شخص اپنے دوست سے کہتا ہے:
’’میں آپ کے گھر نہیں آ سکتا، لیکن آپ کے دفتر آ سکتا ہوں۔‘‘
یہاں ’’لیکن‘‘ کے بعد والے بیان سے معلوم ہوا کہ پہلے والے بیان میں یہ وہم تھا کہ اگر میں دوست سے ملنے گھر نہیں جا سکتا تو کیا اس سے ملنے کہیں اور بھی نہیں جا سکتا۔ اس وہم کو ’’لیکن‘‘ کے بعد دور کیا گیا کہ ملنے کےلیے دفتر آ سکتا ہے۔ یہاں لفظوں میں دونوں بار ’’آنے‘‘ کا ذکر آنے سے معاملہ واضح ہوا۔
اب دوسری مثال لیجیے:
’’میں کل تم سے ملنے آیا ، لیکن تم گھر نہیں تھے۔‘‘
یہاں ملنے آنے سے کوئی ایسا وہم پیدا نہیں ہوا جس کا تدارک ’’لیکن‘‘ کے بعد’’ تم گھر نہیں تھے‘‘ سے کیا گیا ہے۔ یہاں ایک ذہنی وہم پیدا ہوا ہے جس کا ذکر لفظوں میں نہیں ہے، مگر کلام کے محل سے متبادر ہو رہا ہے اور وہ یہ کہ آدمی جب دوست سے ملنے اس کے گھر گیا تو خیال یہ تھا کہ وہ گھر ہوگا، لیکن وہ گھر نہیں تھا۔ یہ ’’لیکن‘‘ کے بعد کا بیان ہے جس سے قاری کو اس وہم کا علم ہوا۔
چنانچہ یہ استدلال کوئی اہمیت نہیں رکھتا کہ آیت ختم نبوت میں حرف ’لٰكِنْ‘ سے پہلے رسول اللہ ﷺ کی ابوّت کے ذکر سے یہ لازم آتا ہو کہ ’لٰكِنْ‘ کے بعد کوئی ایسا وہم ہی دور کیا گیا ہے جس کا تعلق ابوّت سے ہی ہے۔ پھر “رسول” کو روحانی باپ کے معنی میں بھی لے لیا جائے، یہ لفظاً ممکن نہیں۔ یہ سب زبان و بیان کے مسلمہ قواعد سے بے نیاز ہو کر ہی کیا جا سکتا تھا۔
دوسری بات یہ کہ’’لیکن‘‘، ’’بلکہ‘‘ کے مفہوم میں بھی استعمال ہوتا ہے جس کا ایک مفہوم’’اس کے برخلاف‘‘ اور دوسرا ’’مزید برآں ‘‘ہوتا ہے۔ پہلے مفہوم کے لحاظ سے حرف استدراک اپنے سے پہلے والے بیان کے برخلاف ایک دوسری بات پیش کرتا ہے۔ مثلاً قرآن مجید میں ارشاد ہے:
مَا كَانَ اِبْرٰهِيْمُ يَهُوْدِيًّا وَّلَا نَصْرَانِيًّا وَّلٰكِنْ كَانَ حَنِيْفًا مُّسْلِمًاﵧ وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ.
(آل عمران٣: ٦٧) ’’ابراہیم نہ یہودی تھا اور نہ نصرانی، بلکہ ایک حنیف مسلم تھا اور وہ اِن مشرکوں میں سے بھی نہیں تھا۔‘‘
’’تفسیر صغیر‘‘ میں بھی یہاں ’لٰكِنْ‘ کا ترجمہ ’’بلکہ‘‘ سے کیا گیا ہے:
’’نہ تو ابراہیم یہودی تھا نہ نصرانی، بلکہ وہ خدا کی طرف جھکا رہنے والا اور فرمان بردار تھا اور مشرکوں میں سے نہ تھا۔‘‘
دوسرے مفہوم کے لحاظ سے ’’بلکہ‘‘ اپنے سے پہلے چلے آ رہے مفہوم کی مزید تائید و تاکید کرتا ہے۔ اس کی مثال قرآن مجید ہی سے یہ ہے:
اُولٰٓئِكَ كَالْاَنْعَامِ بَلْ هُمْ اَضَلُّ.(الاعراف٧: ١٧٩) ’’وہ چوپایوں کی طرح ہیں، بلکہ اُن سے بھی زیادہ بھٹکے ہوئے ہیں۔‘‘
ختم نبوت سے متعلق آیت مذکورہ میں ہم دکھائیں گے کہ ’لٰكِنْ‘ یہاں ’بَلْ‘، یعنی ’’بلکہ‘‘ کے معنی میں آیا ہے اور معطوف اور معطوف علیہ، دونوں جگہ مذکورہ بالا دونوں مفاہیم میں آیا ہے اور یہ ایسے وہم کو دور کر رہا ہے جو ذہنی ہے، لفظاً موجود نہیں۔ یہ سب آیت زیر بحث کے سیاق و سباق سے بالکل واضح ہو جاتا ہے۔
یہ آیت حضرت زید رضی اللہ عنہ، جو کہ آپ ﷺ کے منہ بولے بیٹے تھے، کی مطلقہ سے آپ کے نکاح کے سلسلے میں وارد ہوئی ہے۔ یہ حکم پہلے نازل ہو چکا تھا کہ منہ بولے بیٹے حقیقی بیٹے نہیں ہیں، جس کا صاف مطلب یہ تھا کہ ان کی بیویاں بھی حقیقی بہوئیں نہیں ہیں کہ جن سے نکاح کرنا میں حرام ہو:
مَا جَعَلَ اللّٰهُ لِرَجُلٍ مِّنْ قَلْبَيْنِ فِيْ جَوْفِهٖﵐ وَمَا جَعَلَ اَزْوَاجَكُمُ الّٰٓـِٔيْ تُظٰهِرُوْنَ مِنْهُنَّ اُمَّهٰتِكُمْﵐ وَمَا جَعَلَ اَدْعِيَآءَكُمْ اَبْنَآءَكُمْﵧ ذٰلِكُمْ قَوْلُكُمْ بِاَفْوَاهِكُمْﵧ وَاللّٰهُ يَقُوْلُ الْحَقَّ وَهُوَ يَهْدِي السَّبِيْلَ. اُدْعُوْهُمْ لِاٰبَآئِهِمْ هُوَ اَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰهِﵐ فَاِنْ لَّمْ تَعْلَمُوْ٘ا اٰبَآءَهُمْ فَاِخْوَانُكُمْ فِي الدِّيْنِ وَمَوَالِيْكُمْﵧ وَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ فِيْمَا٘ اَخْطَاْتُمْ بِهٖ ﶫوَلٰكِنْ مَّا تَعَمَّدَتْ قُلُوْبُكُمْﵧ وَكَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا.(الاحزاب ٣٣ :٤ـ٥) ’’اللہ نے کسی شخص کے سینے میں دو دل نہیں رکھے ہیں (کہ ایک ہی وقت میں وہ دو متضاد باتوں کو مانتا رہے)۔ چنانچہ نہ اُس نے تمھاری بیویوں کو جن سے تم ظہار کر بیٹھتے ہو، تمھاری مائیں بنایا ہے اور نہ تمھارے منہ بولے بیٹوں کو تمھارا بیٹا بنا دیا ہے۔ یہ سب تمھارے اپنے منہ کی باتیں ہیں، مگر اللہ حق کہتا ہے اور وہی سیدھی راہ دکھاتا ہے۔ تم منہ بولے بیٹوں کو اُن کے باپوں کی نسبت سے پکارو۔ یہی اللہ کے نزدیک زیادہ قرین انصاف ہے۔ پھر اگر اُن کے باپوں کا تم کو پتا نہ ہو تو وہ تمھارے دینی بھائی اور تمھارے حلیف ہیں۔ تم سے جو غلطی اِس معاملے میں ہوئی ہے، اُس کے لیے توتم پر کوئی گرفت نہیں، لیکن تمھارے دلوں نے جس بات کا ارادہ کر لیا، اُس پر ضرور گرفت ہے۔ اور اللہ بخشنے والا ہے، اُس کی شفقت ابدی ہے۔‘‘
منہ بولے بیٹے کی مطلقہ یا بیوہ سے منہ بولے باپ کا نکاح نہ کرنا عرب کی ایک سماجی رسم، بلکہ بدعت تھی، جو دین ابراہیمی میں لوگوں نے داخل کر دی تھی۔ یہ بدعت محض حکم دینے سے ختم ہوتی نظر نہیں آ رہی تھی۔ ہم جانتے ہیں کہ سماجی اور ثقافتی عادات اتنی آسانی سے نہیں بدلتیں۔ مثلاً برصغیر پاک و ہند میں مسلم بیوہ کے نکاح ثانی کا رواج آج تک ایک مسئلہ ہے، حالاں کہ اس پر نہ صرف قرآن مجید کی نص موجود ہے، بلکہ رسول اللہ ﷺ کا عمل بھی تمام امت کے سامنے ہے۔ چنانچہ یہ ضروری ہوا کہ منہ بولے بیٹے کی مطلقہ یا بیوہ سے منہ بولے باپ کے نکاح کو درست نہ سمجھنے کی اس خود ساختہ رسم کو ختم کرنے کے لیے حکم نازل کرنے کے بعد رسول اللہ ﷺ کے ذریعے سے عملی طور پر بھی اسے ختم کر کے دکھا دیا جائے۔
آیت کے سیاق و سباق سے معلوم ہوتا ہے کہ اس مسئلے کی نزاکت اور سماجی ردعمل کا یہ عالم تھا کہ قرآن مجید میں پہلے سے اس بیان کے باوجود کہ منہ بولے بیٹے حقیقی بیٹے نہیں ہوتے، رسول اللہ ﷺ کو اس نکاح پر لوگوں کی طرف سے باتیں بنانے کی پریشانی لاحق تھی۔ اس پر اللہ نے آپ ﷺ سے فرمایا کہ آپؐ سے پہلے بھی ہم رسولوں سے ایسی خدمات لے چکے ہیں۔ آپؐ کو بھی لوگوں کی باتوں کا اندیشہ نہیں کرنا چاہیے، بلکہ اللہ ہی سے ڈرنا چاہیے جیسے گذشتہ رسول صرف اللہ سے ڈرتے تھے۔ لوگوں کا اعتراض بے بنیاد ہے۔ آپؐ زید رضی اللہ عنہ سمیت کسی مرد کے حقیقی باپ نہیں۔ آپؐ اللہ کے رسول ہیں اور رسولوں سے ایسے کام لیے ہی جاتے ہیں۔ چونکہ آپؐ آخری نبی ہیں، اس لیے یہ کام آپؐ ہی سے کرانا پیش نظر ہے۔
اس مفہوم کوآیت ختم نبوت کے نظم کلام میں دیکھیے:
وَاِذْ تَقُوْلُ لِلَّذِيْ٘ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَيْهِ وَاَنْعَمْتَ عَلَيْهِ اَمْسِكْ عَلَيْكَ زَوْجَكَ وَاتَّقِ اللّٰهَ وَتُخْفِيْ فِيْ نَفْسِكَ مَا اللّٰهُ مُبْدِيْهِ وَتَخْشَي النَّاسَﵐ وَاللّٰهُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشٰىهُﵧ فَلَمَّا قَضٰي زَيْدٌ مِّنْهَا وَطَرًا زَوَّجْنٰكَهَا لِكَيْ لَا يَكُوْنَ عَلَي الْمُؤْمِنِيْنَ حَرَجٌ فِيْ٘ اَزْوَاجِ اَدْعِيَآئِهِمْ اِذَا قَضَوْا مِنْهُنَّ وَطَرًاﵧ وَكَانَ اَمْرُ اللّٰهِ مَفْعُوْلًا. مَا كَانَ عَلَي النَّبِيِّ مِنْ حَرَجٍ فِيْمَا فَرَضَ اللّٰهُ لَهٗﵧ سُنَّةَ اللّٰهِ فِي الَّذِيْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلُﵧ وَكَانَ اَمْرُ اللّٰهِ قَدَرًا مَّقْدُوْرَا. اِۨلَّذِيْنَ يُبَلِّغُوْنَ رِسٰلٰتِ اللّٰهِ وَيَخْشَوْنَهٗ وَلَا يَخْشَوْنَ اَحَدًا اِلَّا اللّٰهَﵧ وَكَفٰي بِاللّٰهِ حَسِيْبًا. مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا٘ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَلٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِيّٖنَﵧ وَكَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمًا.
(الاحزاب ٣٣: ٣٧ ـ ٤٠) ’’(اِنھوں نے یہ فتنہ اُس وقت اٹھایا)، جب تم اُس شخص سے بار بار کہہ رہے تھے جس پر اللہ نے انعام کیا اور تم نے بھی انعام کیا کہ اپنی بیوی کو اپنے پاس روکے رکھو اور اللہ سے ڈرو، اور تم اپنے دل میں وہ بات چھپائے ہوئے تھے جس کو اللہ ظاہر کرنے والا تھا۔ اور تم لوگوں سے ڈر رہے تھے،حالاں کہ اللہ زیادہ حق دار ہے کہ تم اُس سے ڈرو۔ پھر جب زید نے اپنا رشتہ بیوی سے منقطع کر لیا تو ہم نے اُس کو تم سے بیاہ دیا تاکہ مسلمانوں پر اُن کے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں کے معاملے میں کوئی تنگی نہ رہے، جب وہ اپنا رشتہ اُن سے منقطع کر لیں۔ اور خدا کا حکم تو ہو کر ہی رہنا تھا۔نبی کے لیے جو بات اللہ نے ٹھیرا دی ہو، اُس میں اُس پر کوئی تنگی نہیں ہے۔ (اُس کے پیغمبر) جو پہلے گزرے ہیں، اُن کے معاملے میں بھی اللہ کی یہی سنت رہی ہے اور اللہ کا حکم ایک طے شدہ فیصلہ ہوتا ہےوہ جو اللہ کے پیغام پہنچاتے تھے اور اُسی سے ڈرتے تھے اور اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے تھے۔ (لہٰذا تم بھی اُسی سے ڈرو، اے پیغمبر اور مطمئن رہو کہ) حساب کے لیے اللہ کافی ہے(حقیقت یہ ہے کہ) محمد تمھارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں، (اس لیے تمھارا اعتراض محض بے بنیاد ہے)، بلکہ (اس کے برخلاف) اللہ کے رسول اور (مزید برآں) خاتم النبیین ہیں۔ (اِس لیے یہ ذمہ داری اُنھی کو پوری کرنی تھی)، اور اللہ ہر چیز سے با خبر ہے۔‘‘
یہ واضح ہو جاتا ہے کہ آیت زیر بحث میں حرف استدراک ’لٰكِنْ‘ کے ذریعے سے ابوّت سے پیدا ہونے والے کسی وہم کو دور نہیں کیا گیا، بلکہ یہ وہم دور کیا گیا ہے کہ محمدرسول اللہ ﷺ نے اپنے متبنیٰ کی مطلقہ سے نکاح کیوں کیا۔ اس کا جواب یہ دیا گیا کہ محمد ﷺ زید سمیت کسی مرد کے باپ نہیں ہیں کہ ان پر اپنی بہو سے نکاح کا طعن کیا جائے، نہ صرف یہ کہ کسی مرد کے باپ نہیں، اس کے برخلاف ان پر اللہ کا رسول ہونے کی ذمہ داری بھی عائد ہے، اور اس حیثیت سے ایسی اصلاحات کرنا رسولوں کی سنت رہی ہے، مزید برآں یہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ آپ ﷺ آخری نبی ہیں ، اس لیے اس رسم باطل کی جڑ آپ ہی کے ہاتھوں سے کٹنا ضروری ہے۔ یعنی’لٰكِنْ‘ یہاں ’بَلْ‘، یعنی ’’بلکہ‘‘، یعنی’’اس کے برخلاف ‘‘ ،اور پھر ’’مزید برآں‘‘ کے مفہوم میں ہے۔ یہ مفہوم آیت زیربحث کے سیاق و سباق سے واضح ہو جاتا ہے اور خارج سے اس میں کچھ داخل نہیں کرنا پڑتا۔
’’خاتَم‘‘ کا مفہوم
’’خاتَم‘‘ کا لفظ مہر بند، خاتمیت، اور آخری کےمعانی میں مستعمل ہے۔ قرآن مجید میں اس کے تمام مشتقات مہر بندی اور خاتمیت پر دلالت کرتے ہیں۔
خَتَمَ اللّٰهُ عَلٰي قُلُوْبِهِمْ وَعَلٰي سَمْعِهِمْ. (البقرہ٢: ٧) ’’اُن کے دلوں اور کانوں پر اب اللہ نے (اپنے قانون کے مطابق) مہر لگا دی ہے۔‘‘
یعنی، ان کے دلوں پر مہر لگ گئی اب حق بات ان کے دل کے اندر نہیں جا پائے گی۔
اَلْيَوْمَ نَخْتِمُ عَلٰ٘ي اَفْوَاهِهِمْ وَتُكَلِّمُنَا٘ اَيْدِيْهِمْ وَتَشْهَدُ اَرْجُلُهُمْ بِمَا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ.
(یٰس ٣٦: ٦٥) ’’آج ہم اِن کے مونہوں پر مہر لگا دیں گے اور اِن کے ہاتھ ہمیں بتائیں گے اور اِن کے پاؤں شہادت دیں گے جو کچھ یہ کرتے رہے ہیں۔‘‘
یعنی، منہ پر مہر لگ جانے کے بعد ان کا منہ بند ہو جائے گا کوئی بات وہ منہ سے نکال نہ سکیں گے۔
کلام عرب میں ’خاتم البرید‘ (ڈاک کی مہر)، ’خاتم الکتاب‘(کتاب پر مہر) جیسی تراکیب مستعمل ہیں جو یہی مفہوم دیتی ہیں کہ مہر لگنے کے بعد اس میں مزید کسی چیز کے دخول کی گنجایش نہیں ہے۔
دوسرے یہ کہ ’خاتَم‘ کے لفظ میں زینت، افضلیت یا کمال درجہ کے اختتام کا اضافی معنی پیدا کرنے کی کوئی گنجایش نہیں۔ نیز یہاں مہر سے نقش پیدا کرنے کے مفہوم کے استعمال کا بھی کوئی موقع نہیں۔
تیسرے یہ کہ ’خاتَم‘ کا معنی انگوٹھی یا مہر ہے، انگوٹھی کو بھی مہر کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے، اس لیے یہ ایک ہی لفظ دونوںمعنوں کے لیے مستعمل ہو گیا۔ ’خاتَم‘ کا اصل مطلب مہر ہے۔ اس میں زینت کا مفہوم آپ سے آپ شامل نہیں، جب تک کہ زینت کے لیے الگ لفظ اس کے ساتھ نہ لایا جائے جو ’خاتَم‘ کو موصوف قرار دے کر اس کی صفت بنے ۔ جیسے کتاب کہہ دینے سے کوئی کتاب دل چسپ کتاب نہیں بن جاتی، جب تک اس کے دل چسپ ہونے کا مفہوم دینے والا لفظ بطور صفت ساتھ موجود نہ ہو، اسی طرح محض مہر کہنے سے مہر کی زینت بیان نہیں ہو جاتی جب تک اس کی زینت بیان کرنے کے لیے کوئی دوسرا لفظ ساتھ موجود نہ ہو یا پھر اس کے لیے کوئی واضح قرینہ ہو، جیسے ’خاتم المَلِک‘ ،یعنی بادشاہ کی انگوٹھی، جس کا خوب صورت ہونا محل قیاس میں ہے۔ مہر کے لیے تو زینت کا مفہوم ویسے بھی موزوں نہیں، یہ انگوٹھی کے لیے ہی موزوں ہو سکتا تھا، لیکن سیاق و سباق کے لحاظ سے یہاں انگوٹھی کا مفہوم کوئی مناسبت ہی نہیں رکھتا۔ یہی وجہ ہے کہ بشمول احمدی حضرات کے کسی نے بھی ’خاتم’ کا مفہوم انگوٹھی نہیں لیا۔ یعنی یہ کہنےکا کوئی محل نہیں کہ یہ رسول، نبیوں کی انگوٹھی ہیں، اور اس کا مزین ہونا بھی بیان میں نہیں آیا، اس لیے بالاتفاق ’خاتَم‘ سے یہاں ’مہر‘ کے معنی ہی لیے جا سکتے ہیں جس میں زینت کامفہوم شامل نہیں۔
چوتھے یہ کہ مہر میں افضلیت کا مفہوم زینت کے مفہوم پر منحصر ہے۔ جب زینت کا مفہوم یہاں مفقود ہے تو افضلیت کا مفہوم بھی موجود نہیں ۔
پانچویں یہ کہ ’خاتَم‘ میں کمال درجہ کے اختتام کا بھی کوئی مفہوم پایا نہیں جاتا۔ یہ مفہوم پیدا کرنے کے لیے جو استدلال کیا جاتا ہے، اس کی حقیقت بھی دیکھ لیجیے:
یہ غلط فہمی ’خاتِم الشعرا ‘ اور ’خاتِم الاولیا ‘ جیسی تراکیب سے پیدا ہوئی ہے۔ استدلال یہ کیا گیا ہے کہ ’خاتِم الشعرا ‘ یا ’خاتِم الاولیا ‘ کا مفہوم آخری شاعر یا آخری ولی نہیں ہوتا ، بلکہ صاحب خطاب کے کمال پر دلالت کا یہ مجازی اسلوب ہے کہ اس جیسا باکمال شاعر یا ولی دوبارہ نہیں آئے گا، لیکن اس سے کم تر درجے کے شاعر آ سکتے ہیں۔ اس استدلال میں غلطی یہ ہوئی ہے کہ یہ ترکیب ’ت‘ کے کسرہ یعنی زیر کے ساتھ مستعمل ہے، فتحہ یعنی زبر کے ساتھ نہیں۔ یعنی یہ ’خاتِم الشعرا‘ اور ’خاتِم الاولیا‘ ہے نہ کہ ’خاتَم الشعرا‘ اور ’خَاتَم الاولیا‘۔ کلامِ عرب میں یہ ترکیب کمال درجہ کے اختتام کے مفہوم میں لفظ ’خَاتَم‘ کے ساتھ مستعمل نہیں ہے، جب کہ قرآن نے لفظ ’خاتَم‘ استعمال کیا ہے۔
میری بساط بھر تلاش و تحقیق کے بعد معلوم یہ ہوا ہے کہ تائے مکسورہ کے ساتھ ’خاتِم الشعراء‘ جیسی تراکیب جو کمال درجہ کے اختتام پر دلالت کرتی ہوں، زمانۂ جاہلیت کے کلام عرب کے اسالیب میں بھی نہیں پائی گئیں۔پورے کلام عرب سے فقط ایک ہی شعر خاتم بفتح’ ت‘ بمعنی اختتام کمال کے مفہوم میں پیش کیا جا سکا ہے اور یہ بھی تیسری صدی ہجری کا ہے:
فُجِعَ القَريضُ بخاتَمِ الشُّعراءِ …
وغَديرِ رَوْضَتِهَا حَبيبِ الطَّائي

یہ شعر حسن بن وہب نے شاعر ابو تما م کے مرثیے کے طور پر کہا۔ ابو تمام کی وفات 228 ہجری میں ہوئی۔ قرآن مجید پر کلام عرب سے استشہاد پیش کرنے کا اصول یہ ہے کہ وہ قرآن مجید سے قبل کے کلام میں ہو اور معروف بھی ہو۔ اختتام کمال کے مفہوم میں یہ ترکیب اوّل تو’ خاتم‘ کی ’ت‘ کے کسرہ کے ساتھ مستعمل ہے، جب کہ قرآن میں یہ تائے مفتوحہ کے ساتھ آئی ہے، دوسرے یہ کہ یہ ترکیب ایجاد بھی قرآن مجید کے بعد ہوئی ہے۔حسن بن وہب کے کلام میں یہ تائے مفتوحہ کے ساتھ پائی گئی ہے تو اس میں دو احتمالات ہیں: ایک یہ کہ یہ کاتب کی خطا ہو سکتی ہے، شاعر نے اسے تائے مکسورہ کے ساتھ ہی برتا ہوگا، دوسرے یہ کہ شاعر نے تائے مفتوحہ کے ساتھ اس کا یہ استعمال قرآن مجید سے متاثر ہوکر کیا ہے۔ مزید یہ کہ تائے مفتوحہ کے ساتھ یہ ترکیب اس مفہوم میں رواج بھی نہیں پا سکی۔ رواج پا بھی جاتی تو بھی قرآن مجیدکے بعد کے دور کی ہونے کی بنا پر یہ قرآن پر استشہاد نہیں بن سکتی۔
احمدی حضرات کی طرف سے پورے ذخیرۂ حدیث میں صرف ایک روایت ہے جس میں ’خاتم‘ بفتح ’ت‘ کو اختتام کمال کے معنی میں پیش کیا جاتا ہے۔ اس روایت میں رسول اللہﷺ کی طرف منسوب کر کے ا ن کے چچا حضرت عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ کو’ خاتَم المھاجرین‘ کہا گیاہے۔ احمدی حضرات کا استدلال یہ ہے کہ ’خاتَم المھاجرین‘ کا مطلب یہ نہیں ہو سکتا کہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے بعد کوئی اور مہاجر نہیں ہو سکتا۔ چنانچہ یہ الفاظ ’أفضل المھاجرین‘ کے معنی میں ہی آئے ہیں۔ روایت ملاحظہ کیجیے:
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى بْنِ شَيْبَةَ الأَنْصَارِيُّ السُّلَمِيُّ، قثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ قَيْسٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَدْرٍ وَمَعَهُ عَمُّهُ الْعَبَّاسُ، قَالَ لَهُ : يَا رَسُولَ اللهِ، لَوْ أَذِنْتَ لِي فَخَرَجْتُ إِلَى مَكَّةَ فَهَاجَرْتُ مِنْهَا، أَوْ قَالَ: فَأُهَاجِرُ مِنْهَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ’’يَا عَمِّ، اطْمَئِنَّ، فَإِنَّكَ خَاتَمُ الْمُهَاجِرِينَ فِي الْهِجْرَةِ، كَمَا أَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ فِي النُّبُوَّةِ‘‘. ’’رسول اللہ ﷺ جب بدرسے واپس تشریف لائے تو آپ کے ساتھ آپ کے چچا حضرت عبا س بھی تھے۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول، اگر آپ مجھے مکہ جانے کی اجازت دیں تو میں وہاں سے ہجرت کر کے آؤں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے چچا، اطمینان رکھیے، آپ خاتم المہاجرین ہیں جیسے میں نبوت میں خاتم النبیین ہوں۔‘‘
سند کے لحاظ سے یہ ایک منفرد اورغریب روایت ہے، یعنی یہ فقط ایک ہی سند سے منقول ہے۔ اس کے راوی اسمٰعیل بن قیس بن سعد بن زید بن ثابت انصاری خزرجی کو محدثین نے ضعیف، منکر الحدیث اور متروک قرار دیا ہے۔ چنانچہ اس روایت سے کوئی استدلال نہیں کیا جا سکتا۔
سند کی غرابت سے قطع نظر، متن کے لحاظ سے دیکھیں تو یہ روایت اُس ہجرت کے خاتمے کا اعلان سنا رہی ہے جسے فتح مکہ سے قبل مسلمانو ں پر فرض قرار دیا گیا تھا۔ یہ معلوم ہے کہ حضرت عباس فتح مکہ سے کچھ ہی وقت پہلے ہجرت کر کے مدینہ آئے تھے۔ اس کے فوراً بعد ہی مکہ فتح ہو گیااور لازمی ہجرت کا حکم بھی ختم ہو گیا تھا۔ گویا حضرت عباس حقیقتاً آخری مہاجر تھے، جنھوں نے فتح مکہ سے کچھ پہلے ہجرت کی تھی۔ چنانچہ اس روایت میں ’خاتم المہاجرین‘ سے بھی حقیقی اختتام ہی مفہوم ہو رہا ہے، نہ کہ ’افضل المہاجرین‘ کا مفہوم۔ ویسے بھی یہ بات معقول معلوم نہیں ہوتی کہ وہ لوگ جنھوں نے اسلام کے شروع کے مشکل دور میں اپنی جان و مال کو خطرے میں ڈال کر ہجرت کی، جہاد اور اس کی مشکلات کا کشٹ اٹھایا، ان کی ہجرت سے اس آخری وقت کی ہجرت کو افضل قرار دے دیا جائے، جب کہ حالات مسلمانوں کے حق میں پلٹ چکے تھے۔
’خاتَم‘ کو افضل کے معنی میں استعمال کرنے کےضمن میں احمدی حضرات کی طرف سے صوفیانہ حلقوں میں مشہورایک اور روایت بھی پیش کی جاتی ہے جس میں حضرت علی بن ابی طالب کو خاتم الاولیا کہا گیا ہے:
أنا خاتم النبیین و أنت، یا علي، خاتم الأولیاء. ’’میں خاتم النبیین ہوں اور تم، اے علی، خاتم الاولیا ہو۔‘‘
یہ روایت موضوع ہے۔ اس سے کوئی استدلال قابل اعتنا ہی نہیں۔
’’خاتم النبیین‘‘ کا مطلب
مرزا صاحب کی طرف سےیہ استدلال بھی پیش کیا گیا کہ آیت ختم نبوت میں خاتَم، یعنی مہر ایسی چیز ہے جو جس چیز پر لگتی ہے، اس پر اپنا نقش پیدا کر دیتی ہے۔ چنانچہ آپ ﷺ کے بعد جو بھی نبی ہوگا، وہ آپ کی مہر تصدیق سے نبی بنے گا۔ یعنی مہر کو Seal کی بجائے Stamp کے معنی میں لیا گیا ہے۔
کلام عرب میں ’خاتم‘ کا لفظ مہر کے معنی میں مستعمل ہے اور آیت زیر بحث میں یہ مہر، یعنی مہر بند کے علاوہ کسی اور معنی کے لیے کسی طرح موزوں نہیں۔ اس مفہوم کو آیت میں ڈالیے تو بالکل بے جوڑ نظر آئے گا۔ یعنی محمد تمھارے مردوں میں کسی کے باپ نہیں، لیکن وہ اللہ کے رسول اور نبیوں کے تصدیق کرنے والے ہیں۔ سوال یہی ہے کہ سیاق و سباق میں نبیوں کی تصدیق کرنے کا کیا محل ہے؟
تاہم، برسبیل تنزل یہ مفہوم تسلیم کر بھی لیا جائے کہ مہر نقش کے لیے اور نقش تصدیق کے لیے ہوتا ہے اور جو بھی نبی ہوا یا ہوگا، وہ آپ ﷺ کی تصدیق سے تسلیم کیا جائے گا تو سوال یہ ہے آپؐ کے بعد آنے والا کوئی نبی اپنی نبوت کی تصدیق کی سند آپؐ سے کیسے لا کر دکھائے گا؟ کیا آپؐ نے اس کا نام پتہ بتایا ہے؟
یہ کہنا کہ وہ شخص سیرت و کردار میں محمدرسول اللہ ﷺکے مشابہ ہوگا اور گویا آپؐ کا نقش ثانی ہوگا، ایک بڑا اور موضوعی دعویٰ ہے۔ جہاں تک مرزا صاحب کی سیرت و کردار کا تعلق ہے تو مناظرہ اور مکالمہ کے وقت ان کے زبان و بیان کی غیر شایستگی، مناظرانہ اسلوب کلام، کسی اتمام حجت کے بنا ہی اپنے مخالفین پر لعنتیں، بددعائیں ، بلکہ بازاری گالیاں، محمدی بیگم کے ساتھ اپنے نکاح کی کوشش میں مخالفت کرنے پر اپنے بیٹے کو عاق کرنے، اپنی پہلی بیوی کو طلاق دینے، اور دباؤ ڈلوانے کے لیےدوسرے بیٹے کی بہو کو طلاق دلوانے جیسے افعال و اخلاق کسی طرح انھیں عام اخلاقیات سے بھی بلند نہیں دکھاتے، چہ جائیکہ ان کے لیےمحمد رسول اللہ ﷺ کے سیرت و کردار کا پرتو ہونے کا دعویٰ کیا جائے!
خبر، جسے عربی میں ’نبأ‘ کہتے ہیں، یہ جس پر خدا کی طرف سے بھی آئے ، اسے لفظی اور اصطلاحی دونوں اعتبار سےنبی کہا جا سکتا ہے۔ لیکن قرآن مجید میں یہ لفظ فقط اصطلاحی معنی میں آیا ہے، یعنی وہ شخص جسے خدا اپنی وحی ہدایت پہنچانے کے لیے چن لے جس کے ذریعے سے انھیں دین اور اخلاق سے متعلق ہدایت دینا مقصود ہو۔ یہی وجہ ہے کہ شہد کی مکھی پر آنے والی فطری وحی یا شیطان کے چیلوں پر شیطانوں کی طرف سے وحی ملنے کی بنا پر شہد کی مکھی یا شیطان کے چیلوں کو نبی اور اس عمل کو نبوت نہیں کہا گیا۔
قرآن مجید میں “نبوت” کا لفظ بھی اپنے لغوی معنی، یعنی کوئی بھی خبر، میں استعمال نہیں کیا گیا۔ یہ خاص مخاطبہ الہی کے لیے استعمال ہوا ہے جو صرف انبیا کے ساتھ پیش آیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ام موسی اور مریم علیھما السلام کے ساتھ مخاطبت کے باوجود انھیں نبی نہیں کہا گیا۔
نبوت کی کوئی اقسام نہیں ہیں۔نبوت بس ایک ہی قسم ہے۔ تشریعی اور غیر تشریعی نبوت کی تقسیم بھی خود ساختہ ہے۔ ہر نبی تابع شریعت نبی ہی ہوتا ہے ۔ صاحب شریعت نبی بھی خود پر نازل کردہ شریعت کا پابند ہوتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جو شریعت نازل کی گئی تھی، اللہ تعالی نے قیامت تک اس کی حفاظت کا ذمہ لے لیاتھا۔ چنانچہ اب مزید کسی شریعت اور صاحب شریعت نبی کی آمد کا سوال ہی نہیں رہا تھا ۔اس کے باوجود بھی اگر ختم نبوت کا اعلان کرنے کی ضرورت محسوس کی گئ تو اس سے لازمی طور پر مراد بغیر نئی شریعت کے انبیا کے سلسلے کا اختتام کا اعلان مقصود ہے، کیونکہ بنی اسرائیل میں یہ روایت موجود تھی کہ وہاں موسی علیہ السلام کے بعد شریعت کے ہوتے ہوئے بھی انبیا کا سلسلہ جاری رہا تھا۔ختم نبوت کے اعلان سے اس امکان کا خاتمہ مقصود ہے کہ شریعت کی موجودگی میں اب مزید انبیا نہیں آئیں گے جیساکہ بنی اسرائیل میں آتے رہے۔
ختم نبوت، یعنی مخاطبہ الہی کے اختتام کا اعلان رسول اللہ ﷺ نے بڑی وضاحت سے درج ذیل روایت میں فرمایا ہے:
لم یبق من النبوة إلا المبشرات. قالوا: وما المبشرات؟ قال: الرؤیا الصالحة. ’’نبوت میں سے کوئی چیز باقی نہیں رہی، صرف بشارت دینے والی باتیں رہ گئی ہیں۔ عرض کیا گیا: وہ بشارت دینے والی باتیں کیا ہیں؟ فرمایا: اچھا خواب۔‘‘
رویا کا اطلاق حالت نیند میں پیش آنے والے قلبی احوال پر ہوتا ہے۔ اسے حالت بیداری پر لاگو منطبق نہیں کیا جا سکتا جب تک کہ کوئی قرینہ ہی اس کی طرف اشارہ کرے۔ جیسے دن میں خواب دیکھنا۔ قرینہ نہ ہو تو اسے حالت نیند پر بیان ہی سمجھا جائے گا۔ یہ زبان کا مسلمہ اصول ہے کہ لفظ کا استعمال جس معنی میں معروف ہو ، اس سے پھیرنے کے لیے قرینہ لفظ کے ساتھ ہی موجود ہونا چاہیے۔ حدیث میں ایسا کوئی قرینہ نہیں، اس لیے اس سے نیند کے احوال ہی مراد ہیں۔
سچا خواب نبوت ہی کا خاصہ نہیں، یہ ہمیشہ سے غیر انبیا کو بھی آتے رہے ہیں۔ قرآن مجید کی سورہ یوسف میں مشرک بادشاہ اور غیر مسلم قیدیوں کو سچے خواب آنا مذکور ہوا ہے۔ رسول اللہ ﷺ اس موقع پر جب کہ آسمانی خبروں کے سلسلے کے خاتمے کااعلان فرما رہے تھے، ساتھ ہی یہ بھی واضح فرما دیا کہ سچے خوابوں کا سلسلہ جو پہلے سے چلا آرہا تھا وہ بہرحال جاری رہےگا۔اس کا نبوت سے کوئی تعلق نہیں۔
یہ خواب کسی کو نبی نہیں بنا سکتے، ان کی حد یہی ہے اور نہ یہ کسی کو کسی نئے نبی کی نبوت پر ایمان لانے کی ترغیب دے سکتے ہیں، کیونکہ وہ حقیقت میں موجودہی نہیں رہی۔ رحمانی خواب اور شیطانی یا نفسانی خواب میں بھی حد امتیاز اور فیصلہ کن اتھارٹی خدا کے کلام کا بتایا ہوا یہی معیارہے ۔ جو خواب وحی کی تصریحات کے خلاف ہو، وہ سچا ہے اور نہ خدا کی طرف سے۔
خلاصہ یہ ہے کہ آیت زیربحث میں لفظ ’’خاتم‘‘ میں زینت، افضلیت، کمال درجہ کے اختتام اور نقش پیدا کرنا کے معانی نہیں پائے جاتے۔ اس کا ایک ہی مفہوم متعین طور پر ثابت ہوتا ہے اور وہ ہے: خاتمیت۔لہٰذا ثابت ہوا ہے کہ سورۂ احزاب کی آیت ختم نبوت، خاتمیت نبوت کے مفہوم میں قطعی اور محکم آیت ہے۔ختم نبوت قرآن مجید سے قبل طے ہو چکا تھا، جسے قرآن مجید نے قطعی طور پر موکد کردیا۔

اس تحریر كو شیئر كریں
Share on facebook
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on email
Dr Irfan Shehzad

Dr Irfan Shehzad

Dr Irfan Shehzad belongs to Rawalpindi, Pakistan. He holds a doctorate in Islamic Studies from National University of Modern Languages (NUML) Islamabad, Pakistan. He is working as a companion to Ghamidi Center of Islamic Learning Dallas, USA. He is an assistant research fellow with Al-Mawird Pakistan. He is the author of the book, “Qanoon-e-Itmam-e-Hujjat awr Us kay Itlaqaat: Janab Javed Ahmad Ghamidi ki Tawzihaat par Aetrazaat awr Ishkalaat ka Jaiza”, published by Almawrid Lahore Pakistan. Dr Irfan Shehzad writes and speaks on religious, social and sociopolitical issues. His articles are published in different scholarly journals including Ishraq, Lahore, Pakistan, Al-Shariah Gujranwala Pakistan and on social media.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *