مڈل کلاس تعلیم یافتہ اشرافیہ کا استبداد

A single king has power to damn a nation.
اشرافیہ صرف حکم ران، جاگیردار، سرمایہ دار اور سیاست دانوں میں منحصر نہیں ہوتی۔ جس گروہ یا طبقے کو سماج میں کسی بھی لحاظ سے طاقت اوراثرورسوخ حاصل ہوجاتا ہے اورعوام کے علیحدہ اپنی ایک شناخت قائم کرلیتا ہے، وہ اشرافیہ ہے۔ طاقت کی نفسیات اس میں وہ تمام خصوصیات پیدا کردیتی ہے جو اشرافیت کا خاصہ ہیں۔ یہ نفسیات خود کو سماج کا کرتا دھرتا ، بلکہ مائی باپ سمجھتی ہے۔ یہ اشرافیہ شفیق ومہربان بھی ہو سکتی ہے مگر عموما گروہی مفادات ہی اس کا طرز عمل طے کرتے ہیں۔ سماج کے کی باگیں اپنے قابو میں رکھنا،احساس برتری پالنا عوام کے حقیقی مسائل سے قطع نظر اپنی سوچی سمجھی گروہی یا طبقاتی ڈگر پر چلانا اور اپنے گروہی اور طبقاتی مفادات کی حفاظت کرنا اس کی نمایاں خصوصیات ہیں۔اشرافیہ کا سماج کے عام آدمی کے ساتھ باہمی احساس کا اشتراک اصلا نہیں ہوتا، ایسا ہونا ایک واقعہ ہوتا ہے۔
روایتی اشرافیہ سے ہت کرتعلیم یافتگان کا طبقہ بھی باہمی مشترکہ اساسات اور احساسات رکھنے والا ایک اشرافیائی گروہ یا طبقہ ہوتا ہے۔ یہ عام طور پر متوسط طبقہ سے تعلق رکھتا ہے اس لیے کہ تعلیم ہمیشہ سے متوسط طبقہ کا مسئلہ رہی ہے۔ اسے ہم مڈل کلاس اشرافیہ کہہ سکتے ہیں۔ تعلیم یافتہ ہونے کا احساس ان میں وہی احساس برتری پیدا کرتا ہے جو کسی بھی اشرافیہ کا خاصہ ہے۔ یہ بھی اپنے سماج اور اس کے عام آدمی کے احساسات، خیالات، ترجیحات اور ضروریات سے اسی طرح کٹے ہوئے ہوتے ہیں جیسے روایتی اشرافیہ اپنے الگ ماحول کی وجہ سے کٹی ہوئی ہوتی ہے۔ سماج اور عوام سے ان کی دوری کا سبب ان کی تعلیم اور مخصوص تعلیمی ماحول بنتا ہے۔
تعلیم جہاں انسان کوسماجی علوم سے جوڑتی اور اس کا بہتر فہم پیدا کرنے کا سبب بنتی ہے، وہاں یہ سماج ناآشنا بنانے میں بھی اپنا کرداربہت موثر طریقے سے ادا کرتی ہے۔ غیر سماجی علوم کے ماہرین تو اکثر سماج نا آشنا پائے ہی جاتے ہیں، سماجی علوم کے ماہرین بھی، جن میں مذھبی علوم کے ماہرین علما و وطلبہ بھی شامل ہیں، سماج ناآشنا اور سماج بیزار رجحانات کے حامل پائے جاتے ہیں ۔ روایتی اشرافیہ سماجی حرکیات سے بہرحال واقف ہوتی ہے مگر یہ تعلیم یافتگان سماجی حرکیات سے بھی نابلد ہوتے ہیں۔
سماج، سماجی حرکیات اور عوامی رجحانات سے ان کی ناخواندگی کے اسباب میں سے ایک یہ ہے کہ تعلیمی ادارے کی چار دیواری میں ان تعلیم کو کتابی علم کی حیثیت میں پڑھنے، برتنے اور اس کے بعد جائے ملازمت کی چار دیواری میں مقید رہنے سے یہ لوگ سماج سے براہ راست تعامل سے محروم اور سماجی حس سے بے بہرہ رہ جاتے ہیں۔ انھیں اس محرومی کا احساس بھی نہیں ہوتا۔ تعلیمی عمل کے دوران عملی کام اور سماجی سروے بھی غیر حقیقی یا نیم حقیقی انداز میں کے جاتے ہیں۔ ان تعلیمی تمام سرگرمیوں کے باوجود یہ سماج کا اصلی چہرہ دیکھنے سے قاصر رہتے ہیں۔
یہ تعلیم یافتگان اپنی ایک الگ دنیا بسالیتے ہیں، جو سماج سے متعلق ہو کر بھی غیر متعلق ہوتی ہے۔ زندگی اور فلسفہ زندگی کے بارے میں ان کے خیالات غیر حقیقی ،نیم حقیقی یا رومانویت پر مبنی ہوتے ہیں، لیکن ان کے لیے یہ خوش نماسچائیاں ہوتی ہیں۔سماج، سیاست، معیشت، مذھب جیسے کثیر الجہات اور پیچیدہ موضوعات پر ان کے خیالات یا توسادہ فکری یا پیچیدہ مفروضوں پر مشمتل ہوتے ہیں ، جن کا پرچار موقع ملنے پر یہ نہایت اعتماد سے کرتے ہیں ۔ رسمی تعلیم سے محروم اور کم تعلیم یافتہ لوگ محض اپنے احساس کم تری کی وجہ سے ان کے پرشکوہ الفاظ اور پر اعتمادی سے خودفریبی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ چنانچہ یہاں انھیں پیروکار میسر آجاتے ہیں۔
بیرون ملک سے تعلیم حاصل کر کے آنے والوں میں یہ مرض دو چند پایا جاتا ہے۔ان کے ادارہ جاتی، کتابی ،دفتری اور مخصوص حلقہ جاتی نظریات نیز ایک دوسرے سماج سے حاصل کردہ اجنبی اقدار، جو ایک الگ تناظر میں پروان چڑھتی ہیں، کو یہ اپنے سماج میں حکمت علمی کے حقیقی مسائل کو مد نظر رکھے بنا نافذ کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ اپنے سماج کے لحاظ سے ان کے غیر متناسب خیالات جب حقیقت اور عمل کی دنیا میں پٹنے لگتے ہیں تو غرور علم پھر بھی انھیں یہ باور نہیں کرنے دیتا ہے کہ شاید وہ ٹڈے کی ٹانگ پر ہاتھی کا خول چڑھا رہے تھے۔ وہ اپنے سماج ہی کو مورد الزام ٹھراتے ہیں جو ان کی قابلیت کو سہار نہیں سکتا۔پالیسی سازی کا منصب ایسے افراد کے ہاتھ آنا سماج اور عوام کے لیےبڑا نقصان دہ ہوتا ہے۔
جمہوریت اور تعلیم کے فروغ کے بعد جب سے یہ مڈل کلاس تعلیم یافتہ اشرافیہ برسراقتدار آئی ہے، تیسری دنیا کے ممالک ان کا تختہ مشق بنے ہوئے ہیں۔ بیسویں صدی کے نصف آخر سے شروع ہونے والا یہ مظہر ان گنت انسانی المیوں کو جنم دے چکا ہے۔ سماج اور سیاست پر مڈل کلاس اشرافیہ کے تجربات کا سلسلہ مسلسل جاری ہیں۔اس سے مستثنا وہ تعلیم یافتہ افراد ہیں جو اپنے سماج سے بھی اچھی طرح واقف تھے۔ ان کے ہاں اسی وجہ سے مثبت نتائج مرتب بھی ہوئے۔
اس مسئلے کی بہتر تفہیم کے لیے قریب کی تاریخ سے ایک مناسبِ حال مثال پیش کی جا تی ہے۔
برطانوی ہند کے عہد میں یوپی کے ایک شہر بنارس میں 1867میں اردو ہندی تنازع ہوا۔ تعلیم یافتگان کے قلم سے ذہن سازی کرنے والی تاریخی کتب نے اسے ایک عوامی واقعہ کے روپ میں پیش کیا ۔ تاثر دیا گیا ہے بنارس کے ہندو مسلم اس پر لڑ پڑے کے عدالت کی دفتری زبا ن اردو یا ہندی میں سے کیا ہونی چاہیے۔ حقیقت مگر سراسر مختلف تھی۔ یہ عدالت کے احاطے میں چند جدید تعلیم یافتہ قانون دانوں کے درمیان پیش آنے والا ایک تنازع تھا۔ عوام کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں تھا۔ مسئلہ زبان کانہیں، رسم الخط کا تھا۔ عوام کے لیے اردو اور ہندی ایک ہی زبان تھی۔ وہ ایک ہی طریقے سے اس میں اپنا ما فی الضمیر ادا کرتے تھے۔ ان کی اکثریت ناخواندہ تھی، انھیں اس سے کیا دل چسپی ہو سکتی تھی کہ ان کی بات عدالت کا محرر کس رسم الخط میں لکھتا ہے۔
اس عوام کی شرح خواندگی کتنی تھی، اس کا اندازہ اس سے لگائیے کہ 1901 کی مردم شماری کے مطابق اتر پردیش، جس کے ایک شہر کی کچہری میں یہ تنازع پیش آیا، کی شرح خواندگی مردوں میں 7.5 فیصد اور خواتین میں 0.2 فیصد تھی۔ اس سےاندازہ کیجیے کہ 1867 میں شرح خواندگی کیا رہی ہوگی۔ یہ مسئلہ عوام نے اٹھایا اور نہ یہ ان کے کسی مسئلے کا کوئی حل تھا، مگر تعلیم یافتگان کا استبداد دیکھیے کہ اسے انھوں نے اپنے اذہان میں پیدا ہونے والے ایک غیر ضروری اور بے بنیاد خیال کو اپنی انا کا مسئلہ بنایا اور پھر اسے عوام کے ذمے لگا دیا۔ اپنے ہم وطنوں کے ساتھ مشترکہ رنگ، نسل، زمین اور ثقافت کے باوجود محض مذھب کے امتیاز سے پیدا ہونے والی شناخت کو پوری ثقافت اور پھر سیاست پر حاوی کرنے کی کوشش میں یہ تعلیم یافتگان امتیازیات کو اجاگر کرنا چاہتے تھے۔ اس کےلیے انھوں نے ایک ہی زبان کو دو مختلف نام اور د و مختلف رسم الخط دیے اور ناخواندہ اور بے خبر عوا م کو مجبور کر دیا کہ ان کے تراشیدہ رستے پر چلیں ، ورنہ ان کی خاموشی ان کے مزعومات کی خاموش حمایت سمجھی جائے گی۔ عوام آخر تک ان خرافات سے لاتعلق رہے، مگر ان کی لاتعلقی ان کی خاموش حمایت تصور کر لی گئی۔ ان تعلیم یافتگان نے وہ اپنے قلم کی سیاہی سے وہ خونی تاریخ لکھی جس ک کہانی نتویس بھی یہ خود تھے، اور ہدایت کار بھی لیکن زندگی کے منچ پر اس کہانی کے المیہ کردار وہی عوام تھے جن کا اس سب سے کچھ لینا دینا نہ تھا۔
سرسید احمد خان اس ارد و ہندی تنازع کے عینی شاہدتھے۔ سر سید مشرق و مغرب دونوں سماجوں اور ان کی علمیات سے واقف تھے۔ وہ انسانی تاریخ کے اس مسلمہ سے بھی واقف تھے کہ طاقت ور تہذیب کا تہذیبی اور علمی نفوذ کمزور تہذیب پر اس کی انفعالیت کے سبب سے ہو کر رہتا ہے۔ اسی وجہ سے وہ اپنے تئیں اس کے مثبت اثرات قبولنے کی تحریک برپا کیے ہوئے تھے، لیکن جانتے تھے کہ منفی اثرات بھی اپنا کام دکھا کر رہتے ہیں۔ انھوں نے بنارس کے اس واقعہ پر ایک نہایت بصیرت افروز تبصرہ کیا، جس میں برصغیر پاک و ہند کی آیندہ کی تمام تاریخ سمٹ آئی ہے۔ یہ تبصرہ وہ کلید مہیا کرتا ہےجس پر پرکھ کر ہم آیندہ کی سیاست کی درست تفہیم کر سکتے ہیں۔ ” سر سید احمد خان نے برطانوی ڈویثنل کمیشن کو اپنے ایک بیان میں کہا کہ ہندو اور مسلم دونوں قوموں کے درمیان فی الحال کوئی جارحیت نہیں پائی جاتی، مگر نام نہاد “تعلیم یافتہ” افراد کی وجہ سے مستقبل میں جارحیت میں بے پناہ اضافہ ہو جائے گا۔ جو زندہ رہا وہ یہ دیکھ لے گا۔”
Sir Syed Ahmad Khan made a statement to the British Divisional Commissioner at Benares:
“At present there is no open hostility between the two communities (Hindus and Muslims), but on account of the so-called “educated” people, it will increase immensely in future. He who lives will see.” (Hector Bolitho, Jinnah Creator of Pakistan, Oxford University Press, p 35)
یہ جارحیت اس تعلیم یافتہ طبقے کی بدولت پیدا ہوئی جو مغربی فکر و فلسفے کے زیر اثر جدیدنظریہ قومیت کے جام چڑھا آیا تھا۔ اسے برصغیر کے عوام کے حقیقی مسائل سے زیادہ اپنا یہ نظریہ عزیز تھا جو مغرب سے مستعار تھا۔ یہ نظریہ سارے زمانے کا فیشن بنا گیا تھا۔ ایک جدید فیشن طرح اس کو اپنانا اپ ٹوڈیٹ ہونے کا تقاضا اور علامت بن گیا تھا۔ اس کی مخالفت جہالت قرار پائی تھی۔ برصغیر کی تعلیم یافتہ اشرافیہ کی یہ انا کا مسئلہ بنا گیا ،جسے انھوں نے پوری قوم کی زندگی اور موت کا مسئلہ بنا دیا۔ عوام کی فطری زندگی پر یہ خود ساختہ موت کسی احساس قربانی کے زیر اثرمسلط بھی نہیں کی گئی، ایسا ہوتا تو وہ اپنی تباہی اور بربادی پر ضمیر کا اطمینان توحاصل کر پاتے۔یہ تعلیم یافتہ اشرافیہ کی آپسی مسابقت میں اپنی جیت اور ہار کی وہی ضد تھی جو بادشاہتوں اور سلاطین کے دور میں انھیں باہم برسر پیکار کراتی لیکن کھیت کھلیان عوام کے تباہ ہوتے، مال و دولت ان کے لٹتے ، عزتیں ان کی پامال ہوتیں۔ عوام چونکہ فطری نہج پر تھے، اس لیے کسی کی حمایت نہیں کرتے تھے۔ دونوں اطراف کے لیے ان کےپاس دشنام اور بد دعائیں تھیں۔ ان کے عوامی شاعر اور لوک داستانیں عوام کا نوحہ پڑھتے اور طالع آزماؤں کو برا بھلا کہتے۔ دور جدید میں یہ فرق پڑا کہ تباہی کے ذمہ دار یہ نئی اشرافیہ مورد طعن بننے کی بجائے محسن قوم کہلائی، کی ہجو یا مذمت کی بجائے ان کے قصیدے پڑھے گئے۔
جس طرح سکندر اعظم کی کشور کشائی کی ہوس ایک فرد ی ذاتی خواہش تھی، جسے اس نے ساری دنیا پر مسلط کرنا چاہا، اسی طرح نئی اشرافیہ کے مفروضات ان کے طبقے کے ذاتی افکار ہیں جو وہ بساط بھر اپنے عوام پر مسلط کر دیتے ہیں۔ عوام کے حقیقی مسائل سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہوتا۔
برصغیر کے عام آدمی کے مسائل کیا تھے؟ اس کا جواب اس سوال میں ہے کہ عام آدمی کے مسائل کیا ہوتے ہیں؟ اپنے ارد گرد کے کسی عام آدمی سے پوچھ لیجیے۔ ہر دور کا عام آدمی، جو کسی اشرافیائی یا نظریاتی گروہ کا حصہ نہیں ہوتا، وہ ہمیشہ ایک جیسا رویہ اور مزاج رکھتا ہے۔ اس کا مطمح نظر ہمیشہ سے ایک ہی رہا ہے۔ اپنے اور اپنے خاندان کی بہبود۔ یہی اس کی اول اور آخر ترجیح ہوتی ہے۔ لیکن اس عام آدمی کو جب کوئی تعلیم یافتہ نظریاتی گروہ کسی نظریے کی خاطر مر نے اور مارنے کو پر عظمت بنا کر پیش کرتا ،اس کی برین واشنگ کرتا ہے تو یہ عام آدمی نہیں رہتا۔ یہ سماج سے کٹ جاتا ہے۔ یہ کسی کا آلہ کار بن جاتا ہے۔ لیکن جیسے ہی یہ تعلیمی و نظریاتی جبر اس سے ہٹایا جاتا ہے وہ پھر سے ایک عام آدمی بن جاتا ہے جو نہ مرنا چاہتا ہے ، نہ مارنا چاہتا ہے۔ وہ خود بھی جینا چاہتا ہے اور دوسرو ں کوبھی جینے دینا چاہتا ہے۔ اس کا مطمح نظر کسی ازم، کسی نظریے کے لیے جان دینا نہیں ہوتا۔
جغرافیائی قومیت ، یعنی ایک جغرافیہ میں رہنے والے مختلف قومیتوں، رنگ، نسل، زبان اور مذھب کے لوگ ایک قوم بن کر رہیں، ان پر حکم رانی ان کے ہم قوم کے علاوہ کوئی نہ کر سکے، یہ مسئلہ عام آدمی کا مسئلہ کبھی تھا ہی نہیں ۔ عام آدمی نے کبھی اس کی پروا نہیں کی کہ اس پر حکم ران گورا ہے یا کالا، مسلم یا ہندو، یہ اس کا مسئلہ کبھی رہا ہی نہ تھا۔ برصغیر کی مختلف ریاستوں میں ہزاروں سالوں میں ہزاروں راجے، مہاراجے، سلاطین گزرے۔ عوام کو اس سے کبھی کوئی غرض نہیں رہی کہ کس بادشاہ کی کس راجے سے لڑائی ہو رہی ہے۔ انھوں نے تو لگان اور ٹیکس ہی دینے تھے، لینے والا چاہے ہندو تھا یا مسلم، ہندوستانی تھا یا باہر سے وارد کوئی عربی یا افغانی۔ لڑائی تو اقتدار کے کھیل میں شریک اشرافیہ کے گروہ آپس میں کرتے تھے۔
بیسویں صدی تک صورت حال یہی تھی۔ پھر جمہوریت آئی تو حاکم کے انتخاب کی طاقت خاندان اورقبیلے کی نسلی و علاقائی طاقت سے نکل کر عوام کی طاقت میں بکھر گئی۔ سیاست کے اس نئے اکھاڑے کے اپنے داؤپیچ تھے روایتی اشرافیہ جس سے ناواقف تھی۔ اب تعلیم یافتہ مڈل کلاس اشرافیہ کو موقع ملا ۔ انھوں نے بھی لیکن روایتی اشرافیہ کی طرح ہی اپنے خطے کے عوام کے حقیقی مسائل کو مخاطب نہیں کیا بلکہ اپنے ہی تخیل کو عوام کا مسئلہ بنانے کی کوششیں کی۔ لیکن تمام تر کوششوں کے باوجودبھی عوام اپنے فطری ایجنڈے سے نہ ہلی۔ کھیت، مزدوری، پیٹ اور علاج، اور سکون ان کا فطری ایجنڈا یہی تھامگر کسی پارٹی کا یہ منشور نہیں تھا۔ چنانچہ ووٹ کا حق عوام جیسے جاہلوں کو دینے کی بجائے، تعلیم یافتہ اشرافیہ کے مفروضات کو سمجھنے والے ایک منتخب طبقے تک محدود کر دیا گیا۔ یہ ٹیکس گزار لوگ تھے۔ یہ کل عوام کا الگ بھگ دس یا بیس فیصد تھے ۔ ان میں سے بھی ووٹ ڈالنے کا کشٹ کتنوں نے کیا ہوگا، اس کا درست اندازہ تو نہیں ، تاہم یہ طے ہے کہ پورے سو فیصد ٹیکس گزاروں نے تو ووٹ نہیں ڈالا ہوگا۔ برصغیر کی قسمت کا فیصلہ ان د، بیس فیصد سے کم طبقے کے ووٹوں سے کیا گیا ۔
اس سب کے لیے جو ایجنڈا ترتیب دیا گیا عام آدمی نے اس میں کبھی دل چسپی نہیں لی۔ یعنی پہلے ہندوستانی قومیت کےنام پر طوفان مچایا گیا۔ بھگت سنگھ اور منگل پانڈے جیسے سینکڑوں نوجوانوں کو قومیت کے ایک خیالی بت پر قربان کروایا گیا۔ مہاتما گاندھی نے عدم تشدد کے فلسفے کے تحت اس کے لیے قربانیاں مانگ لیں، ۔ قومیت کے اس غیر حقیقی بت میں مذھبی قومیت کے بت کا اضافہ کرتے ہوئے مسلم لیگ اس کی عبادت کی دعوت دے ڈالی۔ اس بات کے چرنوں پر قربان ہونے کے لیے عوام کا طبقہ پھر بھی انکاری رہا۔ چنانچہ تعلیمی درس گاہوں کا رخ کیا گیا۔ نوجوانوں کو بتایا گیا کہ تعلیم یافتگان کے ہاں آج کل قومیت کا فلسفہ فیشن میں ہے۔ اس کو عملی جامہ پہنانے کے لیے آپ کی قربانی درکار ہے۔ وہ تیار ہوگئے یہ پوچھے بنا کہ ان کے مستقبل کی فلاح و بہبود کی ضمانت اس میں کہاں ہے؟
سب سے زیادہ جوش و خروش بنگال تعلیم یافتگان اور ان کے زیر اثر نوجوانوں نے دکھایا۔ قومی سطح پر قتل و غارت اور جانوں کی قربانی کی روایت بھی وہیں سے شروع ہوئی جب قائد اعظم نے یوم راست کا اعلان کیا۔ قتل و غارت کا یہ محرک تقسیم ہند کی عظیم قتل و غارت گری پر منتج ہوا۔ تعلیم یافتہ طبقے کا تخیل عوام پر قہر بن کر ٹوٹا۔ ان کے گھر بار لٹ گئے، کروڑوں لوگ نقل مکانی پر مجبور ہوئے، خاندان تقسیم ہوگئے۔ اب یہاں رک کر یہ سوال پوچھا جائے ان لٹنے مرنے والوں میں سے کتنوں نے ووٹ ڈالا تھا؟ بلکہ زیادہ درست سوال یہ نہیں، بلکہ یہ ہے کہ ان میں سے کتنوں کو ووٹ ڈالنے کا حق تھا؟ تعلیم یافتہ تاریخ نویسوں نے ایک ظلم اور کیا۔ تعلیم یافتہ مڈل کلاس اشرافیہ کے ہاتھوں عوام پر ٹوٹنے والی اس قیامت کو عوام کی قربانیوں کا عنوان دے دیاگیا ۔ یہ کسی قربانی تھی جسے دینے کو وہ تیار نہ تھے۔ یہ وہ تھے جنھیں پروا ہی نہیں تھی کہ تقسیم کیا ہو رہا ہے اور کیوں ہو رہا ہے، ان کے بارے میں کہا گیا کہ انھوں نے جانیں دے کر ملک بنایا۔ ستم ظریفی دیکھیےکہ انھوں نے یہ ملک بنایا تھا تو اس ملک میں آنے کو تیار کیوں نہ تھے جب تک انھیں مار مار ہجرت کرنے پر مجبور نہ کر دیا گیا؟ قومیت کے فلسفے کے نشے میں مبتلا سیاسی کارکنوں اور بلوائیوں کے مطابق ہندوؤن کا وطن بھارت اور مسلمانوں پا کستان بنا دیا گیا اب انھیں وہاں چلے جانا چاہے۔ لیکن عام آدمی چاہے وہ ادھر کا تھا یا ادھر کا، اس کا وطن نظریات میں نہیں، زمین پر تھا۔ اس کی زمین ہی اسکا وطن تھا جہاں وہ پیدا ہوا تھا۔ جسے وہ کسی قیمت پر چھوڑنے پر تیار نہ تھا مگر نظریاتی کارکنوں نے قیامت کھڑی کر دی۔ اور دونوں طرف کے عوام کو اپنے بنائے ہوئے نظریاتی قفس میں دھکیل دیا۔
سرسید کے تبصرے پر واپس جائیے اور دیکھیے کہ آزادی اور تقسیم کی تحریکوں کی حقیقت اس کے سوا اور کچھ نہ تھی کہ تعلیم یافتہ مڈل کلاس نے مغربی فلسفہ قومیت کا مفروضہ عوام کا مسئلہ بنا دیا جب کہ ان کے حقیقی مسائل کچھ اور تھے جو آج بھی حل ویسے ہی موجود ہیں جیسے پہلے تھے۔
عام آدمی سیاست کو کس نظر سے دیکھتا ہے، یہ سمجھنا ہوتو اپنے ارد گرد آج کے عام آدمی کی سیاسی سمجھ بوجھ اور سیاسی جماعتوں کے منشور میں اس کی دل چسپی کا اندازہ لگا کر لیجیے۔ انھیں تو جماعتوں کے منشور کا علم ہی نہیں ہوتا۔آج بھی ملک کی بڑی اکثریت کو اس سے غرض نہیں کہ حکومت کس پارٹی کی آتی ہے یا ملک پر فوجی حاکم بلا استحقاق آ گیا ہے۔ عوام کبھی سڑک پر نہیں آتے۔ سڑکوں پر آنے والے عام آدمی کے نمایندہ نہیں ہوتے۔ یہ اپنی اپنی پارٹی کے کارکن ہوتے ہیں اور عوام کی عظیم اکثریت کے مقابلے میں ایک اقلیت کے نمایندہ ہوتے ہیں۔ عوام کی یہ اقلیت بھی مذھبی اور سیاسی تعلیم یافتہ اشرافیہ کی تعلیمی برین واشنگ کا شکار ہوتےہیں۔ وہ اس طرح کہ ان میں سے کسی کا یجنڈا عوامی ایجنڈا نہیں ہوتا۔ ان کی اپنی ترجیحات ہوتی ہیں جس کی افادیت اور اہمیت پر وہ ایک اقلیتی گروہ کو قائل کر لیتے ہیں۔ لیکن حقیقی عام آدمی جس پر سیاست اور سماج میں آنے والا تغیر براہ راست اثر انداز ہونا ہے، اس سے کوئی پوچھتا ہی نہیں۔
عوام کا یہ گروہ غیر منظم ہوتا ہے۔ یہ اپنی ریڑھی اور اپنی مل چلانا چاہتا ہے، اپنےخاندان کو ترقی کرتا دیکھنا چاہتا ہے۔ اس سے مگر کوئی کچھ نہین پوچھتا۔ جنگ یہ نہیں کرتا، تقسیم یہ نہیں ہونا چاہتا، کسی گروہ کے خلاف یہ نہیں لڑتا، مگر تمام جنگیں، سیاست کی تما م گرما گرمی اسی کے نام سے ہوتی ہے اور اسی کے خرچے پر ہوتی ہے۔ بلکہ اسی کے خون سے وہ لکیرین کھینچی جاتی ہیں جس کو کھینچنے سے اگر اس سے پوچھا جائے تو انکار کردیتا ہے۔
جمہوریت کے آنے سے یہ ہوا کہ اب حقیقتا عام آدمی کو ووٹ کا حق مل گیا ہے۔ انسانیت کی تاریخ میں یہ پہلی دفعہ ہوا ہے کہ عام آدمی اپن ایجنڈا نافذ کروا سکتا ہے۔ جمہوریت اپنا حقیقی پھل تب دے گی جب عوام کی عظیم اکثریت بلکہ سارے عوام ووٹ ڈالیں۔ وہ ووٹ اپنے مفادات کو دیکھ کر ڈالیں اسی جماعت کو ووٹ ڈالین جو نظریاتی نہ ہو، بلکہ حقیقی مسائل کی بنیاد پر اپنا منشور مرتب کرے۔وہ عام آدمی اسی کو ووٹ دے۔ یہ جماعتین اس پر مجبور ہوںگی کہ اپنے ایجنڈے نظریاتی کی بجائے حقیقت پر استوار کریں۔ وہی دین عام آدمی کی جیت کی دن ہوگا جب تعلیم یافتہ اشرافیہ اس کو نہیں، وہ تعیم یافتہ اشرافیہ کو لیڈ کر ے گا۔
سما ج کا رخ متعین کرنے کا اختیار اگر عام آدمی کو حقیقتا مل جائے، جو جمہوریت کی بنا پر ممکن ہے، تو یہ یقینی ہے کہ وہ کبھی جارحیت، جنگ، اور کسی نظریاتی استبداد کو سماج پر مسلط نہیں ہونے دے گا۔ وہ اسے ہی حکم ران بنائے گا اسے ہی حکم ران باقی رکھے گا جو اس کے حقیقی، زندہ مسائل کا حل پیش کرےگا نہ کہ اس کو کے لیے نت نئے مسائل پیدا کرے گا۔

اس تحریر كو شیئر كریں
Share on facebook
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on email
Dr Irfan Shehzad

Dr Irfan Shehzad

Dr Irfan Shehzad belongs to Rawalpindi, Pakistan. He holds a doctorate in Islamic Studies from National University of Modern Languages (NUML) Islamabad, Pakistan. He is working as a companion to Ghamidi Center of Islamic Learning Dallas, USA. He is an assistant research fellow with Al-Mawird Pakistan. He is the author of the book, “Qanoon-e-Itmam-e-Hujjat awr Us kay Itlaqaat: Janab Javed Ahmad Ghamidi ki Tawzihaat par Aetrazaat awr Ishkalaat ka Jaiza”, published by Almawrid Lahore Pakistan. Dr Irfan Shehzad writes and speaks on religious, social and sociopolitical issues. His articles are published in different scholarly journals including Ishraq, Lahore, Pakistan, Al-Shariah Gujranwala Pakistan and on social media.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *