کیا زبان قطعی الدلالت نہیں ہو سکتی؟

قطعی الدلالت کی یہ بحث اس کلام کے بارے میں ہے جو قطعی الدلالت کا مدعی ہے اور اس صنف کلام سے تعلق رکھتا ہے جس کا مقصد کلام کی ذو معنویت نہیں ہے، جیسے شاعری اور ادب میں ایہام گوئی اور طنز و توریہ جن میں ذو معنویت کا پہلو پایا جاتا ہے۔

زبان کا قطعی الدلالت ہونا ایک بات ہے۔ کلام کے قطعی الدلالت کے فہم کا دعوی دوسری بات ہے۔ کلام کے قطعی فہم کے دعوی کا عدم، کلام کی دلالت کی حیثیت کو متاثر نہیں کرسکتا۔ جس طرح یہ دعوی نہیں کیا جا سکتا کہ کلام سے متکلم کا وہی مدعا سمجھ لیا گیا ہے جو اس کی مراد تھی، اسی طرح یہ دعوی بھی نہیں کیا جا سکتا کہ متکلم کا مدعا معلوم ہونا ممکن نہیں۔ تاہم، حقیقت کی دنیا میں کلام سے متکلم کا مدعا معلوم ہونے پر ہمہ گیر تعامل  اور اعتماد پایا جاتا ہے۔ حکومتی فرامین، عدالتوں کے فیصلے، علوم کی منتقلی، کتب کے تراجم اور ایک دوسرے کو ہمارے پیغامات سب اسی بھروسے پر جاری  کیے جاتے ہیں کہ کلام سے متکلم کی مراد معلوم ہو جاتی ہے۔ اس میں غلط یا کوتاہ فہمی کم تر پیش آنے والے واقعات ہیں جو یہ کسی عارض یا عوارض کا نتیجہ ہوتے ہیں جنھیں دور کرنے کے بعد کلام کا مدعا واضح ہو جاتا ہے۔ عمومی عوارض یہ ہیں: متکلم زبان پر عبور نہیں رکھتا، اس کا کلام ناقص ہے، قاری زبان پر عبور نہیں رکھتا، کلام کو مکمل طور پر سمجھنے سے قاصر ہے، قاری کا تناظر متکلم کے تناظر سے مختلف ہے، قاری تعصبات کا شکار ہے، قاری قلت تدبر کا مظاہرہ کر رہا ہے، وغیرہ۔ جب ان عوارض کو دور کر لیا جاتا ہے تو کلام وہی مفہوم دیتا ہے جو متکلم کی مراد ہوتی ہے۔ ارسطو، افلاطون، نیوٹن اور آئن سٹائین اسی لیے آج بھی ہمیشہ کی طرح متعلق اور قابل حوالہ ہیں اور رہیں گے۔ یہ تحریر اسی بھروسے پر  لکھی جا رہی ہے کہ میری مراد میرے قاری تک پہنچ سکتی ہے۔

کلام کا مدعا ایک چیز ہے۔ اس کا مصداق دوسری چیز۔ آدم کی پیدایش مٹی سے ہوئی۔ قرآن مجید میں یہ ایک واضح اور قطعی الدلالت کلام ہے۔ اس آدم کا مصداق کون تھا؟ یہ محل اختلاف ہے۔ قرآن کا مدعا آدم کے شخص کا تعین نہیں، آدم کی مٹی سے پیدایش کی اطلاع دینا ہے۔ یہ مدعا قطعی المعنی ہے اور قاری کو بخوبی منتقل ہوا ہے۔ اس کے مصداق کی تعیین کی بحث کلام کے معنی و مدعا سے خارج ہے۔

کلام کا مصداق اس کے اطلاق سے متعین ہوتا ہے۔ بسا اوقات کلام خود بھی متنوع مصداقات کا امکان رکھتا ہے۔ مصداقات کے تنوعات اور تغیرات سے مدعا کی قطعیت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ قطعیت الدلالت سے مراد کلام کا واحد المعنی ہونا ہے جو متکلم کا مدعا اور مراد، لیکن اس سے ایسا جامد معنی مراد نہیں جس کے اطلاقات اور مصداقات متنوع اور متغیر نہیں ہو سکتے۔ ازدیاد معلومات سے مصداقات کے تعینات مختلف یا مزید ہوتے ہیں، کلام کا معنی و مدعا تبدیل نہیں ہوتا۔

دوسری بات یہ کہ کلام کی پیدایش کے بعد لفظ کا ارتقائی سفر کلام کی معنویت پر اثر انداز نہیں ہو سکتا۔ یہ مسلّمہ ہے کہ کسی کلام کی تفہیم میں لفظ کا وہی معنی معتبر ہوگا جو اس کلام کی پیدایش کے وقت مستعمل تھا۔ نیز لفظ کا وہی معنی مراد ہو گا جو جملہ اور سیاق و سباق اس کے لیے طے کریں۔

تیسری بات یہ کہ متکلم کی عدم دستیابی کے باوجود اس کا کلام قطعی اور اس کی وضاحت سے بے بیاز ہو سکتا ہے، بلکہ یہ امر واقعہ ہے کہ ایسا ہی ہے۔ کلام کی تفہیم میں اصل حیثیت قادر الکلامی، کلام کا تناظر اور اس کا سیاق و سباق کی ہے۔ کلام کے ساتھ اگر یہ بھی منتقل ہوئے ہیں تو کلام قطعی الدلالت ہی رہے گا۔ دنیا کے علوم اسی اصول پر منتقل ہوتے آ رہے ہیں۔

تناظر اور سیاق و سباق سے مفہوم تبدیل ہو جاتا ہے۔ جس کلام کو واحد المعنی ہونے پر اصرار ہے، اور اس کا تناظر اور سیاق و سباق بھی کلام کے ساتھ موجود ہونا چاہیے، ایسے کلام کو اس کے قاریوں کے تناظر کے اختلاف اور سیاق و سباق کو نظر اندز کرنے کی غلطی سے غیر قطعی یا محتمل الوجوہ قرار نہیں دیا جا سکتا ہے، بلکہ قاری کے تناظر کو درست کرنے اور سیاق و سباق معلوم کرنے پر اصرار کیا جائے گا، جس کے تحت متکلم نے کلام کیا ہے۔

کلام کے تناظر اور سیاق و سباق کی کارفرمائی کا یہ عالم ہے کہ کلام یا جملے میں کوئی کمزور لفظ یا ترکیب بھی آ جائے تو متکلم کی مراد اور مدعا  کے قطعیت سے بیان ہونے میں ممد و معاون ہو جاتے ہیں۔

قرآن کے معاملے میں سیاق و سباق کی اہمیت یوں بھی مسلّم ہے کہ اسے ترتیب نزول سے ہٹ کر ایک نئی ترتیب سے مرتب کرنے کا اہتمام کیا گیا۔ یہ نئی نظم و ترتیب اگر اہم نہ ہوتے تو اس اہتمام کی کوئی ضرورت نہ تھی۔ اور اس اہتمام کے بعد اس کو نظرانداز کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔

چوتھی بات یہ کہ کلام کی صنف کو مد نظر رکھے بغیر اس پر کسی دوسری صنف کے اصول زبان کا اطلاق محض غلط اور غلط فہمی پیدا کرنے کا باعث ہے۔ یہ کلام کا نہیں، قاری کے طرزِ فہم کا نقص ہے۔ جیسے شاعری یا کسی ادبی نثر کو قانون یا سائنس کی زبان سے سمجھنا غلط طرز فہم ہے، اسی طرح ہماری علمی روایت میں قرآن فہمی کے عمل میں صریح  طور پر یہ غلط اصول برتے گئے کہ قرآن مجید کے ادب پارہ کو منطق اور قانون کی لگی بندھی زبان سے سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے، اسے اس کے تناظر اور سیاق و سباق سے کاٹ کر سمجھا گیا۔ اسے شان نزول اور غیر متعلق احادیث کی رو سے سمجھا گیا۔ یہی معاملہ اب سائنس کی زبان سے  قرآن کو سمجھنے میں برتا جا رہا ہے اور پھر ان غلط فہمیوں پر اعتراضات کیے جا رہے ہیں۔ سب کلام سے باہر کے خارجی ذرائع کی کارفرمائی ہے، متن کلام ان غلط فہمیوں سے بری ہے۔

پانچویں بات یہ کہ کسی حکم یا بیان کی علت اگر بیان میں آ گئی ہے تو اب یہ کلام اور قطعی الدلالت کی بحث ہے۔ لیکن کسی حکم یا بیان کی علت یا سبب، بیان میں نہیں آیا تو اب اسے معلوم کرنا محل قیاس و اجتہاد ہے۔ اب یہ زبان کی نہیں، عقل کے دائرے کی بحث ہے اور یہ اجتہاد و قیاس وہ ہے جو زبان پر مبنی نہیں، عقلیت پر مبنی ہے۔ چنانچہ علت کی تعیین میں اختلاف ہو تو عقلی ہوگا، یہ مصداق کی تعیین کی طرح ہی زبان کے مدعا سے خارج ہے، اس کی بنا پر کلام کو غیر قطعی نہیں کہا جاسکتا۔ مثلاً نکاح میں مہر کی علت اگر قرآن نے بیان کر دی ہوتی تو اس کی تفہیم زبان کے دائرے میں  کی جاتی۔ یہ چونکہ بیان میں نہیں آئی اس لیے اب یہ ہمارے طے کرنے کی چیز ہے اور اس میں اختلاف عقلی معاملہ ہے، نہ کہ زبان کا ۔

کسی معیاری کتاب کی تفہیم میں پیدا ہونے والے اختلافات کو حل کرنے کا ایک ہی طریقہ انسان کو معلوم ہےاور وہ اس کتاب کے متن سے مختلف مفاہیم کا موازنہ کر کے درست مدعا تک پہنچنا ہے۔ قرآن کے معاملے میں  بھی یہی طریقہ اختیار کیا جائے گا۔  قرآن کی کسی عبارت کی تفہیم میں جب بھی اختلاف ہوگا، اسی کے متن کی کسوٹی پر، اس کی صنف کلام کے اصول زبان کی روشنی میں، اس کے تناظرات اور سیاق سباق کے حوالے سے اس کا مفہوم طے کیا جائے گا۔

مثالیں

سورج مشرق سے طلوع ہوتا ہے۔ ایک قطعی الدلالت جملہ ہے۔ اب یہ سائنسی حقیقت کہ سورج طلوع نہیں ہوتا، بلکہ زمین اس کے لیے اپنا زاویہ تبدیل کر کے خود اس کی روشنی کے سامنے آتی ہے، اس جملے میں متکلم کے مدعا کو تبدیل نہیں کرتی کہ سورج کے ہماری آنکھوں کے سامنے روشن ہونے کو بتانا مقصود ہے۔ البتہ سائنس کی کتاب میں اگر یہ لکھا ہو کہ  سورج زمین کے گرد گھومتا ہے تو یہاں متکلم کا مدعا ہی ایک سائنسی حقیقت کا بیان ہے، چنانچہ درست تر معلومات کی روشنی میں اس کے کلام کی تغلیط ہو جائے گی۔

مصرع “سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے” شاعری میں جو مفہوم دے رہا ہے وہ اہل زبان کے نزدیک واضح اور قطعی ہے۔ اب اگر یہاں یہ کہا جائے کہ یہ ممکن نہیں کہ سارے جہاں کا درد کسی ایک جگہ سما سکے اور یہ کہ جگر کا کام درد سنبھالنا نہیں بلکہ خون پیدا کرنا ہے، تو یہ سائنس اور منطق کی زبان کو شعر و ادب کی زبان پر لاگو کرنا ہے جو نامعقول  طرز فہم قرار پائے گا۔

قرآن میں بیان ہوا ہے کہ “جب تک کہ بیوہ عورتیں اپنے شوہروں سے نکاح کر لیں”۔۔ یہ کہنا کہ جن سے نکاح نہیں ہوا وہ شوہر نہیں ہیں اور جن سے نکاح ہو جائے ان سے نکاح نہیں کیا جاتا، منطق ہے جسے محاورے کی زبان پر لاگو کرنا ناسمجھی ہے۔

قرآن مجید میں آیت شوری میں شوری (مشاورت) کا ایک معنی ہے، اور ایک اس کے اطلاقات یا مصداقات ہیں۔ یہ مشاورت قبائلی دور میں قبائل کے سرداروں کے درمیان ہو یا جمہوری دور میں مملکت کے ہر فرد سے کی جارہی ہو، شوری ہی کہلائےگی۔ یہ معنی یا مراد میں تغیر نہیں، اطلاق اور مصداق میں تغیر ہے جو کلام کے مدعا سے خارج ہے۔

سورہ لقمان کے آخری آیت میں مفسرین کی یہ غلط فہمی برسوں قائم رہی کہ یہاں پانچ چیزوں کو علم خدواندی کے اختصاص کے طور پر بیان کیا گیا کہ انھیں خدا کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ جب کہ خود قرآن کے بیان میں ایسا نہیں تھا۔ ان پانچ میں سے صرف تین سے متعلق یہ دعوی تھا کہ انھیں خدا کے سوا کوئی نہیں جان سکتا۔ اور انھیں آج بھی کوئی نہیں جانتا۔ باقی دو: بارش اور رحم مادر میں کیا ہے، کے بارے میں یہ دعوی نہیں کیا گیا تھا۔ وہاں الفاظ اور اسلوب کلام بدل گیا ہے۔ آیت کے الفاظ پر غور کیجیے:

إِنَّ اللَّهَ عِندَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ ۖ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَّاذَا تَكْسِبُ غَدًا ۖ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ ۚ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ (لقمان، 31: 34)

اُس گھڑی کا علم اللہ ہی کے پاس ہے۔ وہی بارش برساتا ہے اور جانتا ہے جو کچھ رحموں میں ہوتا ہے۔ کوئی نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کمائے گا اور کوئی نہیں جانتا کہ کس سرزمین میں مرے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ ہی علیم و خبیر ہے۔

خط کشدہ الفاظ میں صرف یہ کہا گیا ہے کہ وہی بارش برساتا ہے اور جانتا ہے جو کچھ رحموں میں ہوتا ہے۔ دیگر دعاوی کے برعکس یہاں یہ نہیں کہا گیا کہ کوئی نہیں جانتا کہ بارش کب برسے گی اور کوئی نہیں جانتا کہ رحموں میں کیا ہے۔

زبان کی غیر قطعیت کی یہ بحث  کیوں پیدا ہوئی ؟

میری نظر میں اس بحث کے پیدا ہونے کی بڑی وجہ اس سوفسطائی طرز فکر کی یہ خامی ہے کہ یہ مستثنیات سے کلیات پیدا کرتا ہے۔ یوں وہ زبان ہی نہیں بلکہ تمام بدیہات کا انکار کر دیتا ہے۔ مثلا  ایسا بھی ہوتا ہے کہ انسان کسی دماغی خلل کی بنا پر فریب نظر کا شکار ہو کر اپنے داخلی خیالات کی دنیا کو حقیقی سمجھ لیتا ہے جب کہ معروض میں اس کا کوئی وجود نہیں ہوتا، یا حواس کبھی دھوکا کھا جاتے ہیں اور غلط معلومات دماغ کو فراہم کر دیتے ہیں، مگر ان استثنائی واقعات کی بنا پر اَن گنت انسانوں کے ذاتی اور باہمی تجربات کے تسلسل سے پیدا ہونے والے یقینی نتائج  جو ہر بار ایک ہی نتیجہ دیتے ہیں، کو بھی غیر قطعی قرار دینا محض انتہا درجے کی مبالغہ آرائی اور خلاف حقیقت ہے۔ یہی معاملہ زبان کا ہے۔ کلام کی تفہیم عوارض لاحق ہونے سے بعض اوقات کلام کے مختلف مفاہیم سامنے آتے ہیں۔ یہاں عارض کو مستقل باور کرانے کی کوشش کی جاتی ہے اور کلام کو مستقلا غیر قطعی تصور کر لیا جاتا ہے، جب کہ حقیقت میں ایسا نہیں ہوتا۔

زبان و کلام کو غیر قطعی باور کروانے کے لیے خود زبان ہی کا استعمال اس  مفروضے کا داخلی مناقشہ ہے۔ چنانچہ ایسے کسی مضمون کی حامل تحریر و بیان جس میں زبان و بیان کو غیر قطعی باور کروایا گیا ہو خود اس کے متکلم کے اصول کے مطابق کبھی پیش ہی نہیں کرنا چاہیے کیونکہ زبان میں یہ صلاحیت نہیں کہ وہ اس کا منشا و مدعا قطعیت سے منتقل کر سکے۔

زبان اور بدیہات کی غیر قطعیت کا فلسفہ یا نظریہ حقائق کے خلاف، غیر فطری اور غیر عقلی بنیادوں پر تشکیل پایا ہے۔ علم و عمل کی دنیا اپنے اقدامات سے ہر لمحہ اس کی تغلیط کرتی ہے۔

اس تحریر كو شیئر كریں
Share on facebook
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on email
Dr Irfan Shehzad

Dr Irfan Shehzad

Dr Irfan Shehzad belongs to Rawalpindi, Pakistan. He holds a doctorate in Islamic Studies from National University of Modern Languages (NUML) Islamabad, Pakistan. He is working as a companion to Ghamidi Center of Islamic Learning Dallas, USA. He is an assistant research fellow with Al-Mawird Pakistan. He is the author of the book, “Qanoon-e-Itmam-e-Hujjat awr Us kay Itlaqaat: Janab Javed Ahmad Ghamidi ki Tawzihaat par Aetrazaat awr Ishkalaat ka Jaiza”, published by Almawrid Lahore Pakistan. Dr Irfan Shehzad writes and speaks on religious, social and sociopolitical issues. His articles are published in different scholarly journals including Ishraq, Lahore, Pakistan, Al-Shariah Gujranwala Pakistan and on social media.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *