Poetry

اتنا سوچ لو جاناں

اتنا سوچ لو جاناں پریم کی چتاؤں میں زندہ جلنا پڑتا ہے اتنا سوچ لو جاناں ایسا کرنا پڑتا ہے خواب تم نے دیکھے ہیں منزلوں کو دوری پر منزلوں سے پہلے ہی راستے میں مجبوری بے شمار اندیشے خوا ب توڑ دیتے ہیں جن کو اپنا کہتے ہیں ساتھ چھوڑ دیتے ہیں وہ، انا کی دیواریں اس طرح اٹھاتے…

Read more

اپسرا (دم رخصت)

اپسرا کی اداس آنکھوں میں درد صدیوں کے یوں اترآئے جیسے صحرا کی پیاس مرجائے۔ ٹوٹے تاروں کی کرچیاں بکھریں زخمی آنکھوں نے مُوند لیں پلکیں خالی ہاتھوں سے پونچھ کرآنسو وہ اٹھی سوگوارقدموں سے۔ خالی آنکھوں سے دیکھتی مجھ کو میرے خیمے کو الوداع کہتی دوروہ آسمان میں ڈوب گئی بے نشاں نقش اس ہونٹوں کے خالی ہاتھوں پہ…

Read more

جو زندگی میں تم ہو

یہ زندگی کبھی جو مفلس کی بے کسی تھی دنیا کی بے حسی پر اک زندہ خود کشی تھی بجھتے ہوئے سے شعلوں میں جھلملاتی آنکھیں خاموش پڑتی آہیں ٹوٹے ہوئے سے سپنے ہارا ہوا جنوں تھا اتنے بڑے جہاں میں اک آشنا نہیں تھا اور ہو چلا یقیں تھا کوئی آشنا نہ ہوگا سود و زیاں کی دنیا میں…

Read more

اپسرا

میں تو سمجھا تھا زندگی کا سفر اب کسی موڑ پر نہ خم ہوگا اپنے صحرا میں اب گلستاں ہے اب نہ کوئی نقش پا بہم ہوگا علم کی سنگلاخ وادی میں اب نہ کوئی اپسرا ہی اترے گی اپنے اس پرسکون ساحل سے اب نہ کوئی موج آ کے الجھے گی موج پر اپنی موج میں آئی اپسرا، آسماں…

Read more