انڈیا اور پاکستان کے عام انسان

انڈیا کا انتہا پسند پاکستان کے انتہا پسند کی مانند ہے اور پاکستان کا نارمل انسان انڈیا کے نارمل انسان کی طرح ہے۔ نارمل انسان خبر نہیں بنتا حالانکہ وہ غالب ترین اکثریت ہوتا ہے۔ ہر روز ہزاروں نارمل واقعات انھیں کے ہوتے ہیں جو خبر نہیں بنتے۔ میڈیا چند انتہا پسندوں کے چند انتہا پسند واقعات کو اتنا دہراتا

مكمل تحریر پڑھیںََ

زبان کیوں قطعی نہیں ہوتی ؟

“سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے۔” اس مصرع کا بے غبار مطلب اگر آپ کو سمجھ آ رہا ہے تو یہ سادہ فکری ہے۔ اس کو پہلے درج ذیل تنقیحات سے گزار کر مراد سمجھی جائے گی۔ ۔۔۔ سوال یہ ہے کہ جگر میں جہاں کا درد کیسے سما سکتا ہے؟ یہ ممکن نہیں۔ شاعر کا دماغ درست

مكمل تحریر پڑھیںََ

انڈیا اور پاکستان میں اکثریت کی ظلم و زیادتی کے رویے کی بنیادی وجہ

میجورٹی ازم۔ اکثریت کی تعلی اور زیادتی۔ برصغیر میں اس کی بنیاد جداگانہ انتحابات 1909 میں ڈالی گئی جس کے تلخ پھل تقسیم ہند اور اب انڈیا اور پاکستان میں غالب اکثریت کی تعلی اور تعدی کی صورت میں نکلتے نظر آتے ہیں۔ مذہب کو سیاسی رقابت کے لیے استعمال کیا جائے تو نتیجہ سماجی تقسیم تک چلا جاتا ہے۔

مكمل تحریر پڑھیںََ

نظریاتی انسان ایک غیر انسانی کردار

نظریاتی انسان غیر انسانی اور غیر فطری کردار ہوتا ہے۔ ایسا شخص، فرد، سماج، اقدار، ثقافت ہر چیز کے لیے خطرہ ہوتا ہے۔ اس سے بچنا چاہیے، اپنے آدرشوں کے ساتھ اس کی وابستگی کی شدت سے متاثر ہونے کی بجائے، اسے دماغی خلل کی قسم سمجھ کر ترس کھانا چاہیے۔ ایسے غیر انسانی کرداروں کو لیڈر سمجھنے اور بنانے

مكمل تحریر پڑھیںََ

ایمان بالغیب کا راستہ: تسلیم، مشاہدہ یا استدلال

انسان کے پاس حصول علم کے دو ذرائع ہیں: تجربہ و مشاہدہ اور عقلی استدلال۔ عقل، تجربہ و مشاہدہ کے ذریعے سے حاصل ہونے والے معلوم سے نامعلوم پر استدلال کرتی ہے۔ ثابت شدہ کی بنیاد پر غیر ثابت کو استدلال و استنباط کے طریقے سے پہلے مفروض کرتی اور پھر دستیاب شواہد کی بنیاد پر استدلال سے اس کا

مكمل تحریر پڑھیںََ

جملہ بازی اور علم و استدلال کا فرق

جملہ بازی ادب اور شاعری کا میدان ہے، علم کے میدان میں اس کی کوئی اہمیت نہیں، سوائے یہ کہ یہ حسن بیان کا سبب ہے تاہم علم اور استدلال کے ابلاغ میں یہ نقصان دہ بھی ہے، وہ اس طرح کہ الفاظ کی خوبصورتی بعض اوقات دلیل کی کمزوری کو قوت کا ملمع فراہم کرنے کےجرم کا ارتکاب کرتی

مكمل تحریر پڑھیںََ